ورلڈکپ; پاکستان مخالف بینرز, پاکستانی کھلاڑیوں کے خلاف غیر شائستہ طرز عمل انگلش ٹیم کی کامیابی, پاکستان کا سیمی فائنل تک پہنچنے کا سفر مزید مشکل … اصغر علی مبارک ۔۔کا ۔۔کالم۔.
ورلڈکپ میں انگلینڈ کی بھارت کے خلاف جیت کے بعد اب پاکستان کے لیے ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں جگہ بنانا مزید مشکل ہوگیاہے۔ پاکستان کو اب میگا ایونٹ کے سیمی فائنل میں رسائی پانے کے لیے بنگلہ دیش کے خلاف کامیابی حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ یہ دعا بھی مانگنی ہوگی کہ انگلینڈ کو نیوزی لینڈ کے خلاف اپنے آخری لیگ میچ میں شکست کا سامنا کرناپڑے کیوں کہ اس صورت میں رن ریٹ سرفراز الیون کے آڑے نہیں آئے گا ۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ انگلش ٹیم 1992 کے بعد سے آج تک بھارت کو ورلڈکپ کے کسی میچ میں شکست نہیں دے سکی تھی۔ ورلڈکپ سیمی فائنل میں پہنچنے کی دوڑ مزید دلچسپ ہوتی جا رہی ہے۔ ورلڈکپ میں اس وقت تین ٹیمیں آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور بھارت سیمی فائنل تک پہنچ چکی ہیں۔جبکہ چوتھی ٹیم کیلئے پاکستان، انگلینڈ اور بنگلہ دیش کے درمیان مقابلہ ہے پاکستانی دفتر خارجہ نے پاکستان۔افغانستان ورلڈ کپ کرکٹ میچ کے موقع پر پاکستان مخالف بینرز لہرانے اور شائقین کے ایک گروپ کی طرف سے پاکستانی کھلاڑیوں کے خلاف غیر شائستہ طرز عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ دفتر خارجہ نے جاری بیاں میں معاملہ کو انتہائی تشویش کا باعث معاملہ قرار دیا۔
دفتر خارجہ نے کہا کہ ایسے گھٹیا پراپیگنڈے کے لئے کھیل کے میدانوں کا استعمال کرنا قابل قبول نہیںہے، ہم کھیلوں اورقانون نافذ کرنے تمام متعلقہ اداروں سے معاملہ کی باریک بینی سے تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی توقع کرتے ہیں۔ دفتر خارجہ نے کہا کہ معاملہ کو سفارتی ذرائع سے بھی اٹھایا جائے گا۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے بعض شائقین کی طرف سے پاکستانی حامی تماشائیوں پر ہلڑ بازی اور ان سے ہاتھا پائی اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
ورلڈ کپ میں قومی ٹیم کیساتھ کم سیکیورٹی پر پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی )نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی )سے شکایت کرتے ہوئے ٹیم کی سیکیورٹی بڑھانے کا مطالبہ کردیا ہے ۔افغانستان کیخلاف میچ کے بعد کچھ افغان شائقین کے غصیلے انداز میں میدان میں آنے پر پاکستانی کرکٹ کھلاڑی خوف کا شکار ہوگئے تھے ‘جس پر سیکیورٹی حکام نے صورتحال کو سنبھالا اور عماد وسیم کے ساتھ وہاب ریاض کو بحفاظت ڈریسنگ پہنچایا۔
میدان کے اندر اور باہر پاکستان اور افغانستان کے تماشائیوں کے درمیان لڑائی جھگڑے کے واقعات کے بعد صورتحال کشیدہ ہونے پر پاکستانی ٹیم بھی خوفزدہ ہوگئی تھی اس کی وجہ سے پاکستانی کرکٹر کافی دیر تک ڈریسنگ روم میں ہی موجود رہے اضافی سیکیورٹی آنے پر کھلاڑیوں کو باحفاظت بس تک پہنچایا گیا تھا۔
پاکستانی آفیسر نے تمام تر صورتحال سے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل(آئی سی سی )کو آگاہ کیا ‘جس پر آدھے گھنٹے کی میٹنگ ہوئی، بعدازاں آئی سی سی نے یہ مطالبہ منظور کیا کہ پاکستانی ٹیم کیساتھ اضافی پولیس اہلکار تعینات کئے جائیں گے۔
میچ سے قبل بھی تماشائیوں کے درمیان تلخ جملوں کیساتھ ساتھ مار پٹائی کے واقعات سامنے آئے۔ میچ کے دوران صورتحال انتہائی کشیدہ رہی ‘جس کی وجہ سے پاکستانی ٹیم کے سپورٹرز کیساتھ ساتھ کھلاڑی بھی پریشان دکھائی دیے۔اس خطرناک صورتحال پر سیکیورٹی حکام نے 12افغانی تماشائیوں کو حراست میں بھی لیا اور انہیں میدان سے نکالا۔
انگلش ٹیم کی اس کامیابی کے ساتھ ہی پاکستان کا سیمی فائنل تک پہنچنے کا سفر مزید مشکل ہوچکا ہے بنگلہ دیش کو اپنے بقیہ تمام میچز میں فتح حاصل کرنا ہوگی، تب ہی وہ سیمی فائنل تک پہنچ پائے گی۔انگلینڈ کی بھارت کے خلاف جیت کے بعد اب بنگلہ دیش کے لیے ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں جگہ بنانا مزید مشکل ہوگیاہے۔ بنگال ٹائیگرز کو اب میگا ایونٹ کے سیمی فائنل میں رسائی پانے کے لیے اپنے آخری د و میچز میں پاکستان اور بھارت کےخلاف کامیابی حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ یہ دعا بھی مانگنی ہوگی کہ انگلینڈ کو نیوزی لینڈ کے خلاف اپنے آخری لیگ میچ میں شکست کا سامنا کرناپڑے کیوں کہ اس صورت میں وہ سیمی فائنل میں پہنچ جائیں گے . پاکستان کو سیمی فائنل سے باہر رکھنے کیلئے انڈیا جا ن بوجھ کرہارا، سکندر بخت نے دو دن پہلے پیشگوئی کی گئی تھی کہ انڈیا پاکستان کو باہر رکھنے کیلئے انگلینڈ سے ہار جائے گا، یہ درست ثابت ہوئی۔
ورلڈکپ کے 38ویں میچ میں انگلینڈ نے بھارت کو 31رنز سے شکست دی ، ۔338رنزکے ہدف کے تعاقب میں بھارت کا آغاز اچھا نہ تھا اور صرف 8 کے مجموعی سکور پر راہول صفر پر پویلین لوٹ گئے، ابتدائی نقصان کے بعد کپتان کوہلی نے روہت شرمان نے محتاط انداز میں اننگز کو آگے بڑھایا اور 138 رنز کی پارٹنرشپ قائم کی، تاہم ویرات کوہلی 146 کے مجوعے پر چلتے بنے، انہوں نے 66 رنز بنائے۔روہت شرما اپنی25ویں ون ڈے سنچری سکور کرنے کے بعد 102رنز بنا کر آﺅٹ ہوئے، ورلڈکپ کے 38ویں میچ میں پانٹ بھی 32رنز بنا کر پلنکٹ کا شکار بنے جبکہ ہاردک پانڈیا45رنز سکورکرنے کے بعد آﺅٹ ہوئے،روہت شرما ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ کی تاریخ میں تیز ترین 25 سنچریاں بنانے والے بھارت کے دوسرے اور مجموعی طور پر تیسرے بلے باز بن گئے، اس کے ساتھ ساتھ وہ ورلڈ کپ کے ایک ایڈیشن میں تین سنچریاں بنا کر مارک وا، سارو گنگولی اور میتھیو ہیڈ کے ہم پلہ ہو گئے ہیں، انہوں نے انگلینڈ کے خلاف میچ میں شاندار سنچری بنا کر یہ کارنامہ انجام دیا۔
روہت شرما نے 206 اننگز میں 25 سنچریاں بنا کر سابق جنوبی افریقن بلے باز اے بی ڈی ویلیئرز کو پیچھے چھوڑ دیا جنہوں نے 214 اننگز میں یہ کارنامہ انجام دے رکھا تھا، تیز ترین 25 سنچریاں بنانے کا عالمی اعزاز ہاشم آملہ کے پاس ہے جنہوں نے 151 اننگز میں سنگ میل عبور کیا تھا، کوہلی 162 اننگز میں اعزاز حاصل کر کے دوسرے نمبر پر موجود ہیں۔ اس کے علاوہ شرما نے ورلڈ کپ کے ایک ایڈیشن میں زیادہ سنچریوں کا گنگولی، میتھیو ہیڈن اور مارک وا کو ریکارڈ بھی برابر کر دیا ہے، چاروں بلے بازوں نے یکساں تین، تین سنچریاں بنا رکھی ہیں، سنگاکارا چار سنچریاں بنا کر سرفہرست ہیں۔برمنگھم کے ایجبسٹن گراﺅنڈ میں انگلش ٹیم کے کپتان این مورگن نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا ،انگلینڈ کی جانب سے اننگز کا آغاز جونی بیئرسٹو اور جیسن روئے نے کیا، دونوں اوپنرز نے جارحانہ کھیل کا مظاہرہ کیا اور 160 رنز کی اوپننگ شراکت قائم کی جس کے بعد جیسن روئے 66 رنز بنا کر کلدیپ یادیو کی گیند پر آﺅٹ ہوگئے۔
بیئرسٹو اپنی پہلی ورلڈ کپ سنچری مکمل کرنے کے بعد 111رنز بنا کر محمد شامی کی گیند پر کیچ آﺅٹ ہوئے،کپتان این مورگن بھی ناکام رہے اور محض ایک رن بنا کر شامی کی دوسری وکٹ بنے،جو روٹ اور بین سٹوکس نے چوتھی وکٹ کے لیے70رنز جوڑے جس کے بعد روٹ44رنز بنا کر شامی کا تیسرا شکار بنے،جوز بٹلر8گیندوں پر 20رنز بنا کر شامی کی چوتھی وکٹ بنے،کرس ووکس7رنز بنا کر محمد شامی کا 5واں شکار بنے،سٹوکس79کی شاندار باری کھیلنے کے بعد بمراہ کا شکار بنے، انگلینڈ کی ٹیم مقررہ 50 اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 337 رنز بناسکی۔۔338رنزکے ہدف کے تعاقب میں بھارت کا آغاز اچھا نہ تھا اور صرف 8 کے مجموعی سکور پر راہول صفر پر پویلین لوٹ گئے، ابتدائی نقصان کے بعد کپتان کوہلی نے روہت شرمان نے محتاط انداز میں اننگز کو آگے بڑھایا اور 138 رنز کی پارٹنرشپ قائم کی، تاہم ویرات کوہلی 146 کے مجوعے پر چلتے بنے، انہوں نے 66 رنز بنائے۔
روہت شرما اپنی25ویں ون ڈے سنچری سکور کرنے کے بعد 102رنز بنا کر آﺅٹ ہوئے،پانٹ بھی 32رنز بنا کر پلنکٹ کا شکار بنے جبکہ ہاردک پانڈیا45رنز سکورکرنے کے بعد آﺅٹ ہوئے
افغانستان کو میچ میں شکست دینے کے بعد عماد وسیم نے کہا ہے کہ راشد خان بہت اچھی باولنگ کر رہا تھا اور اگر ہم چانس لیتے تو شائد وکٹ گنوا دیتے لیکن ٹیم نے فیصلہ کیا راشد خان کو وکٹ نہیں دینی ہے اور ہمیں معلوم تھا کہ افغانستان کا ایک باوٴلر بھی کم ہے اور ہم نے اس ہی ایک چیز کو ہی ٹارگٹ کیا۔
افغانستان کی ٹیم نے گزشتہ 5 سالوں میں خود کو بہت بہتر کیاہے اور انہوں نے پاکستان اور بھارت کو ٹف ٹائم دیا۔عماد وسیم نے مین آف دی میچ کا ایوارڈ وصول کرتے ہوئے گفتگو کے دوران کہا کہ جب وہ وکٹ پر کھیلنے کیلئے گئے تو راشد خان بہت بہت اچھی باولنگ کر رہے تھے لیکن ہم جانتے تھے کہ اگر پاکستان 50 اوور پورے کھیل گیا تو جیت جائے گا۔ افغان ٹیم میں گلبدین وہ واحد باوٴلر تھا جسے ٹارگٹ کیا جا سکتا تھا۔ افغانستان کے خلاف میچ میں پاکستان نے عماد وسیم کی 49 رنز کی ناقابل شکست اننگ کی بدولت افغانستان کو 3وکٹوں سے شکست دی۔ ورلڈ کپ کے اہم ترین میچ میں پاکستان نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد افغانستان کو3وکٹوں سے شکست دی ،عماد وسیم نے مشکل صورتحال میں ناقابل شکست 49 رنز بناکر ٹیم کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔.شاندار پرفارمنس پر انہیں میچ آف دی میچ قرار دیا گیا۔اس فتح کے ساتھ ہی پاکستان نے پوائنٹس ٹیبل پر ٹاپ فور ٹیموں میں جگہ بنالی۔
ہدف کے تعاقب میں اوپنر فخر زمان کو مجیب الرحمان نے میچ کی دوسری ہی گیند پر ایل بی ڈبلیو آﺅٹ کردیا۔اننگز کی ابتداءہی میں نقصان اٹھانے کے بعد امام الحق اور نئے آنےوالے بیٹسمین بابر اعظم نے ذمہ دارانہ اور محتاط انداز میں اننگز کو آگے بڑھایا اور ٹیم کا سکور 72 رنز تک پہنچادیا۔
اس موقع پر امام الحق، محمد نبی کی گیند کو کریز سے باہر نکل کر کھیلنے کی کوشش میں 36 رنز بناکر سٹمپ آﺅٹ ہوگئے ۔افغانستان کو ایک اور بڑی کامیابی اس وقت ملی جب محمد نبی نے ان فارم بیٹسمین بابر اعظم کو 45 کے سکور پر کلین بولڈ کردیا،سینئر بیٹسمین محمد حفیظ بھی بے بس نظر آئے اور 35 گیندوں پر 19 رنز بناکر مجیب الرحمان کا شکار ہوگئے،ان فارم بیٹسمین حارث سہیل بھی لمبی اننگز نہ کھیل سکے اور 27 رنز بناکر راشد خان کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوگئے،کپتان سرفراز احمد غیرضروری طور پر دوسرا رن لینے کی کوشش میں اپنی وکٹ گنوابیٹھے، وہ 18 رنز کی اننگز کھیل کر آﺅٹ ہوئے۔
شاداب خان اور عماد وسیم نے ساتویں وکٹ کے لیے50رنز جوڑے جس کے بعد شاداب11رنز بنا کر رن آﺅٹ ہوگئے،افغانستان کا 228 رنز کا ہدف پاکستان نے آخری اوور میں 7 وکٹوں کے نقصان پر پورا کیا۔ اس سے قبل ہیڈنگلے، لیڈز میں افغانستان کی ٹیم نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا ۔افغان بلے بازوں نے میچ کے ابتدائی اوور میں جارحانہ بیٹنگ کی تاہم شاہین شاہ آفریدی نے اپنے پہلے ہی اوور میں افغان اوپنر گلبدین نائب کو آﺅٹ کردیا، جس کے بعد آنے والے کھلاڑی حشمت اللہ شاہیدی پہلی ہی گیند پر پویلین لوٹ گئے،57 کے مجموعے پر اوپنر رحمت شاہ عماد وسیم کی گیند پر بابراعظم کے ہاتھوں کیچ آﺅٹ ہوگئے، انہوں نے 43 گیندوں پر 35 رنز بنائے،اکرام علی خیل اور اصغرافغان نے چوتھی وکٹ کی شراکت میں 64 رنز بناکر ٹیم کو پوزیشن کو بہتر کیا لیکن اصغر افغان 42 رنز بناکر شاداب خان کی گیند پر کلین بولڈ ہوگئے،اگلے ہی اوور میں عماد وسیم نے اکرام علی خیل کو 24 کے سکور پر پویلین واپس بھیج دیا،محمد نبی 16رنز سکور کرکے وہاب ریاض کی گیند پر کیچ آﺅٹ ہوئے، نجیب اللہ اور سمیع اللہ نے ساتویں وکٹ کے لیے35رنز جوڑے جس کے بعد نجیب اللہ42رنز بنا کر شاہین کی گیند پر بولڈ ہوگئے،راشد خان8رنز بنا کر شاہین کا چوتھا شکار بنے،حامد حسن صرف ایک رن بنا کر وہاب ریاض کا دوسرا شکار بنے،قومی ٹیم کی جانب سے شاہین آفریدی نے 4 ، عماد وسیم اور وہاب ریاض نے 2،2 جب کہ شاداب خان نے ایک وکٹ حاصل کی۔ اب تک ورلڈ کپ کی ناکام ترین الیون میں پاکستان کے حسن علی بھی شامل ہیں ۔ورلڈ کپ میں اب تک کے نتائج پر نظر ڈالیں تو افغانستان، جنوبی افریقہ، سری لنکا اور ویسٹ انڈیز کے پورے سکواڈز ہی مایوسیوں کی منہ بولتی تصویر دکھائی دیتے ہیں، مگر ان سمیت کچھ دیگر ٹیموں کے کھلاڑی ایسے ہیں جو انفرادی طور پر خود سے وابستہ توقعات پر پانی پھیرنے میں پیش پیش دکھائی دیے۔
ایک بھارتی اخبار نے ایسے ہی کھلاڑیوں کی الیون تیار کی ہے جس میں بیٹنگ آرڈر کے حساب سے ٹاپ پر بنگلہ دیش کے سومیا سرکار موجود ہیں، ان کی 6 میچز میں ایوریج صرف 18.50 رہی،وہ میگا ایونٹ سے قبل آئرلینڈ میں منعقدہ ٹرائنگولر سیریز میں اپنی ٹیم کے سب سے زیادہ سکور کرنےوالے بیٹسمین تھے۔
2014 ءمیں ایڈن مارکرم نے جنوبی افریقہ کو انڈر 19 ورلڈ کپ جتوایا تھا مگر سینئر میگا ایونٹ ان کیلئے بھیانک خواب ثابت ہوا، جہاں انھوں نے 5 اننگز میں 21.20 کی اوسط سے 106 رنز بنائے، جس میں زیادہ سکور 45 بنگلہ دیش کےخلاف رہا، انھیں بھارت کے خلاف میچ سے ڈراپ کردیا گیا تھا۔
سری لنکا کو کوشل مینڈ س سے کافی امیدیں وابستہ تھیں مگر انھوں نے 0، 2، 30، 46 اور 23 رنز سکور کرکے اپنی ٹیم کو کافی مایوس کیا، ان فارم اور پاکستان کےخلاف میچ سے قبل ناقابل شکست رہنے والی ٹیم نیوزی لینڈ کی کمزور کڑی وکٹ کیپر ٹام لیتھم ثابت ہوئے،آسٹریلیا کے گلین میکسویل بیٹ اور بال دونوں کے ساتھ اپنی موجودگی کا تاحال احساس نہیں دلاپائے، سری لنکا کے تھیساراپریرا نے بھی انتہائی مایوس کیا،آندرے رسل کو ویسٹ انڈیز کا ورلڈ کپ کیلئے اہم ہتھیار قرار دیا جارہا تھا، گھٹنے کی تکلیف سے دوچار ہوکر ایونٹ سے باہر ہونے سے قبل انھوں نے 3 کوششوں میں صرف 21 رنز بنائے۔
افغانستان کے راشد خان بھی توقعات کے بوجھ تلے دبے دکھائی دیے، باﺅلرز میں بنگلہ دیش کے مشرفی مرتضیٰ اور جنوبی افریقہ کے کگیسوربادا ناکام رہے۔ چیمپئنز ٹرافی کے ہیرو حسن علی نے انتہائی مایوس کیا، بھارت سے میچ میں 84رنز کے عوض ایک وکٹ کے بعد انھیں ڈراپ کردیا گیا، اس سے قبل ان کی باﺅلنگ پرفارمنس 4 اوورز میں 0/39، 10 اوورز میں 0/66 اور 10 ہی اوورز میں 1/67 رہی۔



