نیشنل پریس کلب اسلام آباد ; “اپنا کماؤ” (Apna Kamao) کے سربراہ ملک وقار احمد کا صحافیوں کے لیے بڑا تربیتی پروگرام

(رپورٹ: اصغر علی مبارک ) نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں صحافیوں کے لیے این پی سی (NPC) ‘موجو’ (MOJO) 30 روزہ جدید آئی ٹی ورکشاپ کامیابی سے مکمل، ‘اپنا کماؤ’ پروگرام کے سربراہ ملک وقار سعید، ٹرینر عاطف خان کا بدلتے ہوئے ڈیجیٹل دور کے تقاضوں کے عین مطابق صحافیوں کو بااختیار بنانے کاعزم,
‘(NPC/MOJO) خصوصی آئی ٹی ٹریننگ ورکشاپ کا مقصد پریس کلب کے ممبران کو جدید ترین تکنیکی اور ڈیجیٹل ہنر سکھا کر ان کے لیے روزگار کے نئے اور متبادل مواقع پیدا کرنا ہے۔ آئی ٹی ٹریننگ ورکشاپ میں آئی ٹی سیکٹر کے ماہرین نے صحافیوں کو ڈیجیٹل دنیا کے جدید ترین رجحانات پر خصوصی عملی تربیت دی۔
نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں منعقدہ میڈیا بریفنگ کے دوران “اپنا کماؤ” (Apna Kamao) کے بانی اور سربراہ ملک وقار احمد نے ملک بھر کے صحافیوں، میڈیا نمائندگان اور نوجوانوں کو جدید ترین ڈیجیٹل تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک بڑے تربیتی پروگرام کا باقاعدہ اعلان کیا ,
ملک وقار احمد کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں روایتی صحافت اور روزگار کے طریقے تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں، اور اگر ہمارے میڈیا پرسنز اور نوجوانوں نے وقت کے ساتھ جدید ترین آئی ٹی اسکلز نہ سیکھیں تو وہ عالمی دوڑ میں پیچھے رہ جائیں گے؛ اسی مقصد کے پیشِ نظر ان کا ادارہ نیشنل پریس کلب کے تعاون سے میڈیا سے وابستہ افراد کو ڈیجیٹل جرنلزم، اسمارٹ کنٹینٹ کری ایشن، جدید آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) ٹولز کے استعمال، ایڈوانس ویڈیو ایڈیٹنگ اور گرافک ڈیزائننگ کی خصوصی تربیت فراہم کرناہے۔ انہوں نے صحافتی برادری کو یقین دہانی کرائی کہ اس اقدام کا مقصد میڈیا ورکرز کی تکینکی صلاحیتوں کو نکھارنا ہے تاکہ وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں مزید احسن طریقے سے نبھانے کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے اضافی آمدن کے ذرائع بھی پیدا کر سکیں۔
ملک وقار احمد نے پریس کلب میں حاضرین کو “اپنا کماؤ” کے مجموعی وژن سے آگاہ کرتے ہوئے مزید بتایا کہ ان کا پلیٹ فارم پہلے ہی ملک گیر سطح پر بے روزگاری کے خاتمے اور نوجوانوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے دن رات کوشاں ہے، جس کے تحت اب تک ہزاروں طلبہ کو فائور (Fiverr) اور اپ ورک (Upwork) پر فری لانسنگ، ای کامرس بزنس اور سوشل میڈیا مارکیٹنگ کے کورسز مکمل طور پر مفت کروائے جا چکے ہیں۔
انہوں نے خواتین کو بااختیار بنانے کے حوالے سے اپنے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ ان کا خصوصی “باہنر بیٹی پروجیکٹ” خواتین کو گھر بیٹھے باوقار اور محفوظ طریقے سے ڈالرز کمانے کے بہترین مواقع فراہم کر رہا ہے، اور اب نیشنل پریس کلب میں میڈیا پرسنز کے لیے بھی خصوصی بیجز کا آغاز کیا جا رہا ہے جہاں تربیت مکمل کرنے والوں کو تصدیق شدہ ڈیجیٹل سرٹیفکیٹس اور فیلڈ میں کام کرنے کے لیے چوبیس گھنٹے لائیو واٹس ایپ کمیونٹی سپورٹ دی جائے گی
انہوں نے تمام میڈیا ہاؤسز اور پریس کلب کے ارکان سے اپیل کی کہ وہ اس پبلک سروس میسج اور مفت تعلیمی مشن کو ملک کے کونے کونے تک پہنچانے میں اپنا کلیدی کرکردار ادا کریں تاکہ پاکستان کا ہر نوجوان اور ہنر مند طبقہ ڈیجیٹل انقلاب سے بھرپور فائدہ اٹھا سکے۔
نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں جاری “اپنا کماؤ” کے خصوصی تربیتی پروگرام کے دوران معروف میڈیا ٹرینر عاطف خان نے ورکنگ جرنلسٹس اور فیلڈ رپورٹرز کے لیے ایک اہم ورکشاپ کا انعقاد کیا، جس کا مقصد صحافتی برادری کو جدید ترین ڈیجیٹل ٹولز، موبائل کوریج اور اسمارٹ فون رپورٹنگ کے عملی گر سکھانا ہے۔ میڈیا انڈسٹری میں نیوز روم مینجمنٹ کا وسیع تجربہ رکھنے والے عاطف خان نے ٹریننگ سیشنز کے دوران شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “آج کے دور میں ڈیجیٹل میڈیا اور موبائل جرنلزم (MoJo) نے روایتی صحافت کا ڈھانچہ مکمل طور پر بدل دیا ہے، اس لیے اب ہر رپورٹر کے لیے ‘ملٹی فارمیٹ نیوز فائلنگ’ کا ماہر ہونا لازمی ہو چکا ہے۔” انہوں نے واضح کیا کہ اس ایک ماہ کے کورس میں شرکاء کو روایتی نظریات کے بجائے خالصتاً ہینڈز آن (Hands-on) اور عملی مشقوں کے ذریعے فیلڈ سے براہِ راست ایچ ڈی ویڈیو ریکارڈنگ، شور والے ماحول میں فلٹرڈ آڈیو کیپچرنگ، اور جدید ترین مصنوعی ذہانت (AI) ٹولز کا مؤثر استعمال سکھایا جا رہا ہے۔ میڈیا ٹرینر عاطف خان نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ اس کورس کا مقصد صحافیوں کو نہ صرف تکنیکی طور پر مضبوط بنانا ہے بلکہ ڈیجیٹل برانڈنگ، یوٹیوب کنٹینٹ کری ایشن اور فری لانسنگ کے ماڈیولز کے ذریعے انہیں معاشی طور پر خود مختار کرتے ہوئے آن لائن آمدن کے نئے اور جائز مواقع تلاش کرنے کا مکمل فریم ورک بھی فراہم کرنا ہے۔نیشنل پریس کلب (NPC) اسلام آباد کے صدر عبدالرزاق سیال اور سیکرٹری ڈاکٹر فرقان راؤ نے معروف میڈیا ٹرینر عاطف خان کی پیشہ ورانہ خدمات کو زبردست الفاظ میں سراہتے ہوئے کہا ہے کہ عاطف خان جیسے منجھے ہوئے اور تجربہ کار ٹرینر کی موجودگی اس بات کی ضمانت ہے کہ پریس کلب کے ممبران عالمی میڈیا کے بدلتے ہوئے تقاضوں کا مؤثر انداز میں مقابلہ کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عالمی سطح پر صحافت کا پورا ڈھانچہ اس وقت ایک ایسے انقلابی اور تزویراتی موڑ پر کھڑا ہے جہاں پرانے اور روایتی نیوز رومز کا جلال اب دم توڑ رہا ہے اور اسمارٹ فون کی اسکرین پر بکھرتی ہوئی ڈیجیٹل دنیا ابھر رہی ہے؛ اب وہ دور رخصت ہو چکا جب خبر کو عوام تک پہنچانے کے لیے کروڑوں روپے مالیت کے پرنٹنگ پریس یا سیٹلائٹ ڈی ایس این جی (DSNG) گاڑیوں کی ضرورت پڑتی تھی۔ آج ڈیجیٹل میڈیا اور موبائل جرنلزم (MOJO) نے معلومات کی ترسیل کو اس قدر تیز اور جمہوری بنا دیا ہے کہ فیلڈ میں کھڑا ایک واحد رپورٹر اپنے اسمارٹ فون کی بدولت ایک پورے ٹی وی چینل سے زیادہ بااثر اور تیز رفتار ثابت ہو سکتا ہے۔عزمِ نو کا اظہار کرتے ہوئے پریس کلب کی قیادت نے کہا کہ اسی بدلتے ہوئے انداز کو بھانپتے ہوئے نیشنل پریس کلب اسلام آباد نے اپنے ممبران کے لیے ایک ماہ پر مشتمل جس تاریخی ڈیجیٹل میڈیا ٹریننگ پروگرام کا آغاز کیا ہے، وہ پاکستانی صحافت کے روشن مستقبل کا ایک واضح روڈ میپ ہے جس کا بنیادی مقصد صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کو محض نظریاتی باتیں سکھانا نہیں بلکہ انہیں ڈیجیٹل دور کے عملی تقاضوں کے مطابق جدید ترین مہارتوں سے آراستہ کرنا ہے۔
















