نیا پاکستان دوسروں کیلئے مثال ، ملک میں قانون و میرٹ کی بالادستی، معیشت، انصاف، تعلیم، صحت، ٹیکسیشن کے نظام کی بہتری، ہمہ جہت احتساب، کرپشن کا خاتمہ، ملک بچے گا یا کرپٹ لوگ بچیں گے،وزیراعظم عمران خان کا قوم سے خطاب
اسلام آباد ۔ (خصوصی رپورٹ ؛اصغر علی مبارک سے )WhatsApp Image 2018-08-20 at 7.30.15 AM وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ نئے پاکستان کا تصور رحمدلی کے جذبہ پر مبنی معاشرہ کی تشکیل ہے، دوسروں کیلئے پہلے خود مثال بنوں گا، وزیراعظم ہاؤس استعمال نہیں کروں گا، محض دو کاریں اور دو ملازمین رکھوں گا، وزیراعظم ہاؤس کی گاڑیوں کی نیلامی کی جائے گی، عوامی پیسے کی حفاظت کروں گا، پاکستان کو ایک عظیم اور ترقی یافتہ اسلامی فلاحی ریاست بنانے کیلئے ریاست مدینہ کے اصولوں کو اپنانے کی ضرورت ہے، ملک میں قانون و میرٹ کی بالادستی، معیشت، انصاف، تعلیم، صحت، ٹیکسیشن کے نظام کی بہتری، ہمہ جہت احتساب، کرپشن کے خاتمہ، انسانی وسائل کی ترقی، قرضوں کی بجائے قومی وسائل پر انحصار، سادہ طرز زندگی اختیار کرنے پر خصوصی توجہ مرکوز کریں گے، کرپٹ عناصر میرے دشمن ہیں، ملک بچے گا یا کرپٹ لوگ بچیں گے، کرپٹ عناصر پر ہاتھ ڈالیں گے تو یہ شور مچائیں گے لیکن عوام میرے ساتھ ایک ٹیم کی طرح کھڑے ہوں، غریب اور کمزور طبقات کی فلاح و بہبود اولین ترجیحات میں شامل ہے، پاکستان اﷲ کی خاص نعمت ہے، ہم نے مل کر اس کی حفاظت کرنی ہے، قومی تشکیل کے ذریعے ایسے پاکستان کا خواہاں ہوں جب ملک میں کوئی زکوۃ لینے والا نہیں ملے گا اور ہم دوسرے ممالک کی مدد کریں گے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار اتوار کی شب قوم سے اپنے پہلے خطاب میں کیا۔ عمران خان نے اپنے نشریاتی خطاب میں وزیراعظم ہاؤس کو اعلیٰ درجہ کی یونییورسٹی بنانے کا اعلان کیا۔ انہوں نے پاکستان سے چوری کیا گیا پیسہ واپس لانے جبکہ ادارہ جاتی اصلاحات اور کفایت شعاری کیلئے الگ الگ ٹاسک فورس بنانے کا اعلان کیا۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں قوم کو درپیش مسائل و چیلنجز کا احاطہ اور ان کا حل پیش کیا۔ انہوں نے ملک پر بڑھتے ہوئے قرضوں کے بوجھ سمیت معاشی صورتحال، سادگی اور کفایت شعاری کی اہمیت، حکمراں طبقہ کے طرز زندگی، نئے پاکستان میں نئی سوچ اپنانے کی ضرورت، باہر کی امداد اور قرضوں پر انحصار کی بجائے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے، ایف بی آر، پولیس، صحت، تعلیم، انصاف کے نظام کی بہتری، سول سروس اصلاحات، جوابدہی، ضلعی نظام کے براہ راست انتخاب، روزگار پیدا کرنے، سستے مکانات کی تعمیر، خواتین اور بچوں کیلئے کھیلوں کے پارکس قائم کرنے، نوجوانوں کو ساتھ ملا کر سرسبز اور صاف ستھرا پاکستان بنانے، سیاحت کے فروغ، بلوچستان اور فاٹا کی ابتر صورتحال کی بہتری، غیر ملکی سرمایہ کاری میں سہولت، اوورسیز پاکستانیز کیلئے آسانی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ خارجہ تعلقات بالخصوص پڑوسی ممالک کے ساتھ بہترین روابط استوار کرنے کے بارے میں اپنا وژن پیش کیا۔ وزیراعظم نے قوم کو درپیش صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں اتنے مشکل مالی حالات کبھی نہیں تھے، ملک قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے، 10 سال پہلے یہ قرضہ6 ہزار ارب روپے تھا، 2013ء میں 15 ہزار ارب روپے ہو گیا جبکہ آج یہ قرضہ 28 ہزار ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالت یہ ہے کہ سود ادا کرنے کیلئے ہمیں قرضہ لینا پڑ رہا ہے، روپے پر سارا دباؤ بیرونی قرضوں کی وجہ سے پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان پانچ ملکوں میں سے ہیں جہاں خوراک نہ ملنے پر عورتوں کی صحت متاثر ہوتی ہے، کم غذائیت کی وجہ سے بچے شدید بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں، اپنے بچوں پر خرچ کرنے کیلئے ملک کے پاس پیسہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت وزیراعظم 8 پاکستان کے پاس 524 ملازم ہیں، وزیراعظم ہاؤس 1100 کینال پر محیط ہے، وزیراعظم کی 80 گاڑیاں جبکہ 33 بلٹ پروف ہیں، وزیر اعظم8 کے دوروں پر 65 کروڑ خرچ کئے گئے، وزیراعظم ہاؤس کے سالانہ اخرجات کروڑوں کے ہیں، ڈی سی، کمشنر اور گورنرز بڑے بڑے گھروں میں رہتے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ ایک طرف قوم مقروض اور دوسری صاحب اقتدار کی شاہانہ طرز زندگی ہے، اگر ملک اسی طرح چلتا رہا تو قوم ترقی نہیں کرے گی، ہمیں سوچ اور رہن سہن بدلنا ہو گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں دل میں رحم پیدا کرنا ہوگا، آج وقت ہے کہ ہم اپنی حالت بدلیں۔ عمران خان نے کہا کہ خود کو بدلنے کیلئے سب سے پہلے قانون کی بالادستی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مدینہ کی ریاست کے اصول مغرب نے اپنا لئے، خلفائے راشدین خود کو احتساب کیلئے عوام کے سامنے پیش کرتے تھے، حضرت ابو بکرؓ خلفیہ بنے تو انہوں نے اپنی کپڑے کی دکان بند کر دی تھی، یہاں لوگ اقتدار میں پیسہ بنانے کیلئے آتے ہیں، کوئی اقتدار میں رہ کر پیسہ نہیں بنا سکتا۔ عمران خان نے اعلان کیا کہ وہ 2 ملازم اور 2 گاڑیاں رکھیں گے، وزیراعظم ہاؤس کی گاڑیوں کی نیلامی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اپنے گھر میں رہنا چاہتا ہوں مگر سیکورٹی کا ایشو ہے، گورنر ہاؤسز میں کوئی گورنر نہیں رہے گا۔ انہوں نے وزیراعظم ہاؤس کو اعلیٰ درجہ کی یونییورسٹی بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بیرون ملک سے محققین کو لائیں گے اور معیاری تحقیق ہو گی، صوبوں کے تمام گورنرز اور وزیراعلیٰ بھی سادگی اختیار کریں گے۔ وزیراعظم نے ملکی معیشت اور اداروں کی بہتری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے ایف بی آر کو ٹھیک کرنا ہے، اپنے پیروں پر کھڑا ہونا ہے اور پیسہ اکٹھا کرنا ہے، بڑے بڑے گھروں میں رہنے والے لوگ ٹیکس نہیں دیتے، قرضہ جو دیتا ہے وہ آپ کی آزادی بھی لے لیتا ہے، ہمیں کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلانے کی ضرورت نہیں۔ وزیراعظم نے پاکستان سے چوری کیا گیا پیسہ واپس لانے کیلئے ٹاسک فورس بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو اعتماد دیں گے کہ ان کا ٹیکس ان پر خرچ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کیسا لیڈر ہے جو اپنی دولت باہر رکھتا ہے جبکہ سیاست پاکستان میں کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ باہر پیسہ رکھنے والا سیاستدان باہر سے کنٹرول بھی ہو سکتا ہے، عوام کبھی کسی ایسے لیڈر کو ووٹ نہ دیں جس کا پیسہ اس ملک میں نہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنے خطاب کے آغاز میں کہا کہ میں آج سب سے پہلے اپنے ان سارے کارکنوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے 22 سال پہلے میرے ساتھ اس تحریک اور جہاد کا آغاز کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایک انسان وہ ہوتا ہے جواپنا کیریئر بنانے کیلئے کام کرتا ہے اور دوسرا کسی مقصد یا مشن کی خاطر کام کرتا ہے۔ میرے رول ماڈل نبی کریمؐ اور قائداعظم ہیں۔ نبی کریمؐ نے مدینے کی ریاست قائم کی اور دنیا میں ایک انقلاب لے کر آئے۔ 22 سال پہلے میں سیاست میں آیا تو میرا مقصد یہ تھا کہ ملک کو علامہ اقبالؒ کے اسلامی فلاحی ریاست کے خواب کی تعبیر بناؤں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں دیکھنا ہو گا کہ مدینے کی ریاست کی کیا خوبیاں تھیں جن کی بدولت نبی کریمؐ بٹے ہوئے قبیلوں کو اس قابل بنا دیا کہ انہوں نے دنیا کی امامت کی۔ انہوں نے کہا کہ اس موقع پر آج میں اپنے دو ساتھیوں کو خاص طور پر یاد کرنا چاہتا ہوں جن میں سے ایک احسن رشید ہیں جو اس جدوجہد میں ہمارے ساتھی تھے اور کینسر کی جنگ ہار گئے اور دوسری سلونی بخاری تھیں جنہوں نے ہمارے ساتھ اس جدوجہد کا آغاز کیا تھا لیکن وہ آج بھی ہم میں نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنے ان سارے کارکنوں کو سلام اور خراج تحسین پیش کرتا ہوں جو ایسے مشکل وقت میں ہمارے ساتھ چلے جب لوگ گھروں میں ان کا مذاق اڑاتے تھے کہ وہ تانگہ پارٹی میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں آج سب سے پہلے آپ کے سامنے اور اپنی قوم کے سامنے یہ بات رکھنا چاہتا ہوں کہ آج ہم کدھر ہیں اور ہمیں کس طرح کے چیلنجز درپیش ہیں اور پھر میں بعد میں آپ کو بتاؤں گا کہ اس صورتحال کا حل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے تو قوم کو یہ بات سمجھنی چاہئے کہ پاکستان کی تاریخ میں کبھی اتنے مشکل معاشی حالات نہیں تھے جو آج ہیں۔ آج پاکستان پر جو قرضہ ہے وہ اٹھائیس ہزار ارب روپے ہے، ساٹھ سال کی تاریخ میں قرضہ چھ ہزار ارب روپے تھا جو 2013ء میں چھ ہزار ارب سے 15 ہزار ارب تک پہنچ گیا جو اب بڑھ کر 28 ہزار ارب تک پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دس سالوں میں پاکستان کے قرضے میں بے تحاشا اضافہ ہوا، اس میں سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ پیسہ کدھر گیا۔ ہم قوم کے سامنے لائیں گے۔ دوسری بات جو آپ کو سمجھنی چاہئے وہ یہ ہے کہ آج ہمارے حالات یہ ہیں کہ ہم جو قرضوں کے اوپر سود لیتے رہے ہیں اسے اتارنے کیلئے ہم قرضے لے رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی حکومت کے آخری سال دو ارب ڈالر کا بیرونی قرضہ لیا گیا۔ اب ہر مہینے دو ارب ڈالر کا بیرونی قرضہ لینا پڑ رہا ہے۔ پیپلز پارٹی جب گئی تو ساٹھ ارب ڈالر ہمارا بیرونی قرض تھا آج 95 ارب ڈالر ہے۔ بیرونی قرضے اتنے زیادہ بڑھ گئے ہیں کہ آج روپے پر جو پریشر ہے وہ بیرونی قرضوں کی وجہ سے ہے آج سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ قرضہ کیسے واپس کریں۔ میں اس کا حل بھی بتاؤں گا گھبرانے کی بات نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوسری جانب ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس یعنی جو ہم انسانوں پر خرچ کرتا ہے کی صورتحال ہے۔ ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس وہ ہے جو ایک معاشرہ اپنے انسانوں کے اوپر خرچ کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے ادارے یو این ڈی پی کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں پاکستان ان پانچ ملکوں میں سے ہے جہاں پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کے فوت ہونے کی شرح بہت زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے ان پانچ ملکوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں خواتین کے زچگی کے دوران وفات پانے کی شرح بلند ہے اور اسی طرح ہم ان پانچ ملکوں میں شامل ہوتے ہیں جہاں کم خوراک کی وجہ سے بچوں کی مناسب نشوونما نہیں ہو پاتی۔ انہوں نے کہا کہ جب بچوں کو خوراک پوری نہیں ملتی تو نہ ان کا ذہن پوری طرح بڑھتا ہے نہ قد بڑھتا ہے اور ان کی نشوونما متاثرہوتی ہے۔ انہوں نے اپنی تقریر کے دوران دو ایسے بچوں، جن کو مناسب خوراک مل رہی ہے اور وہ جنہیں نہیں مل رہی، کے دماغ کی تصاویر کا موازنہ پیش کیا اور واضح کیا کہ پاکستان میں 45 فیصد یعنی ہر دوسرے بچے کو پوری غذاء نہیں مل رہی جس کی وجہ سے وہ زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے ہیں اور اکیسویں صدی کی دوڑ میں مقابلہ نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں سوچنا چاہئے کہ ایسے بچوں کے ماں باپ پر کیا گزرتی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس دو راستے ہیں، ایک وہ جس پر ہم چل رہے ہیں یعنی کے ایک مقروض قوم کی حیثیت سے جس کے پاس اپنے بچوں پر خرچ کرنے کیلئے پیسہ نہیں اور اپنے غریب لوگوں اور کسانوں کو ترقی دینے کیلئے پیسہ نہیں اور ہم انہیں روزگار نہیں دے سکتے۔ ہم پر قرضے چڑھتے جا رہے ہیں اور دوسری طرف ایک اور راستہ ہے جس کے بارے میں میں آپ کو آگاہ کرنا چاہتا ہوں کہ جس پر چل کر ہم آگے بڑھ سکتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایک اور چیز جو ہمارے لئے شرمناک ہے وہ پاکستان میں صاحب اقتدار اور حکمران طبقے کا رہن سہن اور طرز زندگی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے 524 ملازمین ہیں، یہ ایک ایسا ملک ہے جو مقروض ہے۔ وزیراعظم کے پاس 80 گاڑیاں ہیں جن میں سے 33 بلٹ پروف ہیں۔ ایک ایک بلٹ پروف گاڑی کی قیمت پانچ کروڑ سے زیادہ ہے، ہیلی کاپٹر اور جہاز اس کے علاوہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ہاؤس گیارہ سو کنال پر مشتمل ہے۔ گورنر ہاؤسز پر قوم کروڑوں خرچ کرتی ہے، ریسٹ ہاؤسز ہیں، چیف منسٹرز ہاؤسز ہیں اور ان میں استعمال ہونے والی گاڑیاں ہیں۔ سیکرٹریوں کے پاس دو دو تین تین گاڑیاں ہیں، کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز بڑے بڑے گھروں میں رہتے ہیں جبکہ ایک طرف قوم مقروض ہے اور اپنے اوپر پیسہ خرچ نہیں کرسکتی۔ انہوں نے کہا کہ صاحب اقتدار لوگ ملک میں ایسے رہتے ہیں جیسے انگریزوں کے دور میں۔ انگریز سے آزادی کے بعد بھی ان کا طرز زندگی نہیں بدلا۔ ہمیں لوگوں کی بنیادی ضروریات کا خیال نہیں جبکہ دوسری طرف ان لوگوں کا رہن سہن دیکھیں۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم نے کروڑوں روپے غیر ملکی دوروں پر خرچ کئے۔ 65 کروڑ روپے ایک وزیراعظم نے بیرونی دوروں پر خرچ کئے۔ یہ 65 کروڑ کدھر گئے اور ان سے کیا حاصل ہوا۔ سپیکر اسمبلی نے 8 کروڑ روپے بیرونی دوروں پر خرچ کئے وہ بیرونی دوروں پر کیا کرنے جاتے ہیں کیا وہ کوئی ملک فتح کرنے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ اپنے ذہنوں میں ڈال لیں کہ ہم نے اپنا رخ نہ بدلا تو ہم تباہی کی طرف جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے کہ وہ اس قوم کی حالت نہیں بدلتا جسے خود اپنی حالت کے بدلنے کا خیال نہ ہو۔ اس لئے ہمیں اپنی سوچ، طور طریقے اور رہن سہن بدلنا پڑے گا اور اپنے دل میں رحم پیدا کرنا پڑے گا کیونکہ ہماری آدھی آبادی دو وقت کی روٹی نہیں کھا سکی۔ 45 فیصد بچے پاکستان کے ایسے بچے ہیں جن کو ہم مناسب غذا نہیں دے سکتے۔ ہمارے سوا دو کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں ان کا کیا بنے گا جبکہ آبادی بڑھتی جا رہی ہے، ہم ان بچوں کو تعلیم نہیں دیں گے تو انہیں روزگار نہیں ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ پانی کا مسئلہ بہت اہم ہے اس کے علاوہ ماحولیاتی آلودگی بھی بہت بڑا مسئلہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا میں گلوبل وارمنگ سے متاثرہ ملکوں میں ساتویں نمبر پر ہے۔ آج وقت ہے کہ ہم اپنی حالت تبدیل کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہم مسلمانوں کے رول ماڈل نبی کریمؐ ہیں۔ نبی کریمؐ نے عربوں کو جو کہ ریگستان میں رہتے اور قبیلوں میں بٹے ہوئے تھے کو ایسی عظیم قوم بنا دیا کہ وہ اس وقت کی بڑی سلطنتوں کے سامنے کھڑے ہو گئے۔ ہمیں غور کرنا چاہئے کہ وہ کیا اصول تھے جن کو اپنا کر کوئی قوم ترقی کی طرف گامزن ہو جاتی ہے۔ مغربی قوموں نے بھی وہی اصول اپنا کر ترقی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی قوم قانون کی بالادستی کے بغیر ترقی نہیں کر سکتی۔ جب تک قانون سب کیلئے ایک برابر نہیں ہو گا کوئی قوم اوپر نہیں اٹھ سکی۔ قانون کمزور کوطاقتور سے تحفظ دینے کیلئے ہوتا ہے۔ نبی کریمؐ کی تعلیمات اور عمل ہماری اس سلسلے میں بہترین رہنمائی کرتا ہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ میری بیٹی بھی چوری کرے گی تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ مسلمانوں کے خلفاء بھی اپنے آپ کو قانون کے سامنے پیش کرتے تھے۔ حضرت علیؓ عدالت میں ایک یہودی شہری سے مقدمہ ہار گئے اس سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ اقلیتیں بھی برابر کی شہری ہیں اور قانون کے سامنے سب انسان برابر ہیں۔ اسلام نے ہمیں زکوٰۃ کا نظام دیا یعنی حیثیت کے مطابق ٹیکس کی ادائیگی۔ انہوں نے کہا کہ مغرب میں پروگریسو ٹیکسیشن کا نظام ہیں، ناروے سویڈن اور ڈنمارک جیسی مہذب قوموں میں پروگریسو طبقہ کے ٹیکس سے تعلیم، صحت، بیروزگاروں کی مدد، عدالتوں میں انہیں وکیل کی فراہمی جیسی سہولیات مہیا کی جاتی ہیں۔ یہ سب وہ چیزیں ہیں جو مدینہ کی ریاست میں موجود تھیں۔ ریاست ٹیکسوں کے پیسوں سے غریبوں اور بیواؤں کی مدد کرتی تھی۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ فرات کے کنارے کتا بھی بھوکا مر جائے تو اس کی ذمہ داری ان پر ہے۔ آج مغرب میں بھی یہی نظام ہے، جانوروں کے حقوق کا بھی وہاں خیال رکھا جاتا ہے۔ جن اصولوں کی بنیاد پر مدینہ کی ریاست کھڑ ی کی گئی وہ میرٹ کے نظام کی بنیاد پر قائم کی گئی تھی جو کہ آج مغرب میں بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خالد بن ولیدؓ نے احد کے میدان میں مسلمانوں کو شکست دی تھی لیکن انہیں میرٹ پر سپہ سالار بنا دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ خلیفہ صادق اور امین تھا اور مغرب نے بھی آج اسی اصول کو اختیار کیا ہے، برطانیہ اور امریکہ میں جھوٹ بولنے پر صدر اور وزیراعظم کو نکالا گیا۔ خلفاء اپنے آپ کو احتساب کیلئے پیش کرتے تھے حضرت عمرؓ جو وقت کے حکمران تھے انہوں نے بھی خود کو قانون سے بالاتر نہیں بلکہ جوابدہ سمجھا۔ مغرب میں بھی لیڈر عوام کو جوابدہ ہوتے ہیں اور بتانا پڑتا ہے کہ پیسہ کہاں سے آیا۔ حضرت ابوبکرؓ نے خلیفہ بن کر اپنا کپڑے کا کاروبار ختم کیا کیونکہ اس سے مفادات کا ٹکراؤ جنم لیتا ہے۔ مغرب میں بھی یہی اصول ہے اور صاحب اقتدار کو بتانا پڑتا ہے کہ اقتدار میں آنے سے پہلے وہ کیا تھا اور اقتدار میں آنے کے بعد کیا بنایا۔ 14 سو سال پہلے یہ قانون بنا کہ اقتدار سے کوئی ذاتی فائدہ نہیں حاصل کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کا شعبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ نبی کریمؐ نے جنگ بدر کے بعد تعلیم کو اولین اہمیت دی اور حکم دیا کہ کفار مکہ میں سے جو بھی قیدی دس لوگوں کو پڑھائے گا اسے آزادی دی جائے گی جبکہ آج ہمارا حال یہ ہے کہ سوا دو کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ جبکہ مغرب والے تعلیم پر کتنا پیسہ خرچ کرتے ہیں ہم نے مدینہ کی ریاست کے اصول چھوڑ دیئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس لئے نہیں بنا تھا کہ ہندوؤں کی جگہ مسلمان آ جائیں بلکہ علامہ اقبالؒ جو گزشتہ کئی صدیوں میں مسلمانوں کے سب سے عظیم ذہن تھے، نے مدینے کی ریاست کی طرز پر مسلمانوں کی مملکت کا خواب دیکھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اپنی زندگی میں میچ جیتنے، ہسپتال نہ بنا سکنے، دو جماعتی نظام کے ہوتے ہوئے تیسری جماعت کے کامیاب نہ ہو سکنے کے حوالے سے بہت کچھ سننا پڑا لیکن میں نے مقابلہ کرنا سیکھا ہے۔ اب پاکستانی قوم نے میری ٹیم بننا ہے، میں مقابلہ کر کے دکھاؤں گا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ وزیراعظم ہاؤس میں نہیں رہیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ملٹری سیکرٹری کے گھر میں رہ رہے ہیں جو تین بیڈ رومز پر مشتمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں صرف دو ملازم اور دو گاڑیاں رکھوں گا۔ میں اپنے گھر میں رہنا چاہتا تھا لیکن بتایا گیا کہ میری جان کو خطرہ ہے اور سیکورٹی کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے زیر استعمال بلٹ پروف گاڑیوں کی نیلامی کی جائے گی، بڑے بڑے بزنس مینوں کو بلایا جائے گا اور یہ گاڑیاں بیچ کر اس کا پیسہ قومی خزانے میں جمع کرایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ گورنر ہاؤسز اور جن صوبوں میں ہمارے وزراء اعلیٰ ہیں وہاں کے وزراء اعلیٰ کے ہاؤسز میں سادگی لائی جائے گی۔ خرچہ کم کیا جائے گا اور عوام کو بتایا جائے گا کہ کتنے خرچے کم کئے گئے ہیں، ہمارا گورنر، گورنر ہاؤس میں نہیں ہرے گا، دانشوروں کی کمیٹی بنائی گئی ہے جو فیصلہ کرے گی کہ ان گورنر ہاؤسز کا کیا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ہاؤس میں اعلیٰ معیار کی یونیورسٹی بنائی جائے گی جس میں تحقیق کا کام ہو گا۔ ٹاپ کلاس اور ایلیٹ کلاس کی یونیورسٹی بنائی جائے گی اور گورنر ہاؤسز کے بارے میں بھی فیصلہ کیا جائے گا کہ ان کو کس طرح سے بہتر استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر عشرت حسین کی سربراہی میں ٹاسک فورس بنائی جائے گی جو کہ بیورو کریسی سمیت ہر شعبے میں جہاں عوام کا پیسہ خرچ ہو رہا ہے شاہانہ رہن سہن کے خاتمے کے حوالے سے اپنی سفارشات دے گی کیونکہ ہم شاہانہ طرز زندگی پر جو پیسہ خرچ کرتے ہیں یہ دراصل ان لوگوں کا حق ہوتا ہے جو تعلیم سے اور دو وقت کی روٹی سے محروم ہیں یا ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے ہیں یا ریاست نے انہیں پیچھے چھوڑ دیا ہے اب ہم نے ان پر خرچ کرنا ہے۔ اس ٹاسک فورس کا مقصد اپنے خرچ کو کم کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ باہر کے ملکوں سے امداد اور قرضے لینا ہماری عادت بن گئی ہے اور ہمیں اس میں عار محسوس نہیں ہوتی۔ کوئی ملک ایسے ترقی نہیں کر سکتا، قرضے مختصر وقت کیلئے اور ہنگامی ضرورت کے تحت لئے جاتے ہیں جس طرح جرمنی اور بعض دوسرے ملکوں نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ قرضے لینے والا ہماری آزادی بھی سلب کر لیتا ہے مجھے برا لگے گا کہ میں دوسرے ملکوں میں جا کر قرضہ مانگوں۔ شوکت خانم کیلئے میں نے اپنے ملک کی سڑکوں پر عوام سے پیسہ مانگا لیکن باہر جا کر قرضہ مانگنے میں مجھے شرم محسوس ہو گی۔ قرض لینے سے قوم کی عزت پر حرف آتا ہے، قومی غیرت نہ ہو تو دنیا عزت نہیں کرتی۔ پاکستانیوں کو علیحدہ لائنوں میں کھڑا کیا جاتا ہے کیونکہ ہم دنیا میں ہاتھ پھیلا کر پھرتے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ قوم کو اپنے پاؤں پر کھڑا کیا جائے گا اور دنیا کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بھکاریوں کی طرح بھیک مانگنے سے عظیم قوم نہیں بنتی۔ انہوں نے کہا کہ بیس کروڑ میں سے صرف آٹھ لاکھ افراد ٹیکس دیتے ہیں، بڑے بڑے گھروں میں رہنے والے اور بڑی بڑی گاڑیاں استعمال کرنے والے ٹیکس نہیں دیں گے تو ملک کیسے چلے گا۔ سب سے پہلے ایف بی آر کو ٹھیک کرنا ہے جس میں کرپشن بہت زیادہ ہے اور عوام کا اس پر اعتماد نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو اعتماد دوں گا کہ ان کا پیسہ درست جگہ پر خرچ ہو رہا ہے، عوام کی ذمہ داری ہے کہ اپنے ملک کی عزت کیلئے ٹیکس دیں کیونکہ ہم نے اپنے لوگوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالات اتنے خراب ہیں کہ کراچی میں لوگ گندے نالے سے چیزیں اٹھاکر کھانے پر مجبور ہوتے ہیں ہمیں اللہ کی رضا کیلئے ٹیکس دینا ہے ، جس طرح ہم زکوٰۃ دیتے ہیں۔ یہ ٹیکس کا پیسہ عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ ہو گا اور ریاست کے پاس عوام پر خرچ کرنے کیلئے پیسہ آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایک ٹاسک فورس بنائی جا رہی ہے تاکہ پاکستان کے چوری ہو کر باہر جانے والے پیسے کو واپس لایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹ ہے کہ ہر سال ایک ہزار ارب روپے چوری ہو کر باہر جاتے ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ایسے لیڈر کو ووٹ نہ دیں جو اپنا سارا پیسہ باہر رکھتا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ ایسا لیڈر قوم سے کیسے وفا داری کر سکتا ہے جس کا اربوں روپیہ باہر پڑا ہو اس لئے عوام ایسی پارٹیوں کو ووٹ نہ دیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی برآمدات بڑھانی ہیں اس سلسلے میں حکومت پوری مدد کرے گی، بزنس مینوں سے ملاقات کی جائے گی تاکہ اس سلسلے میں جو بھی رکاوٹیں ہیں انہیں دور کیا جا سکے۔ سرمایہ کاروں کیلئے ون ونڈو آپریشن کا نظام وضع کیا جائے گا اور اس سلسلے میں وزیراعظم سیکرٹریٹ میں دفتر قائم کیا جائے گا تاکہ سرمایہ کاری کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے۔ چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتیں جو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں ان کیلئے آسانیاں پیدا کی جائیں گی اور ان کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جائے گا۔ اور انہیں سہولتیں فر اہم کی جائیں گی تاکہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ سارے سفارتخانوں کو کل سے پیغام دیں گے کہ بیرون ملک پاکستانی جو بہت بڑا اثاثہ ہیں اور 20 ارب ڈالر کے ترسیلات زر بھیجتے ہیں، کے لئے آسانیاں پیدا کی جائیں گی۔ بیرون ملک پاکستانیوں میں ایسے لوگ بھی ہیں جو جیلوں میں پڑے ہیں۔ ان میں بے گناہ لوگ بھی ہیں سفارتخانوں سے کہوں گا کہ ایسے پاکستانیوں کی مدد کریں اور ان کو بتائیں کہ وہ لاوارث نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سمندر پار پاکستانیوں کو خاص طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ وہ اپنا پیسہ پاکستان لائیں اور پاکستان کے بینکوں میں اپنا پیسہ رکھوائیں۔ ہمارا تجارتی خسارہ اور گیپ بڑھ گیا ہے اور ہمیں ڈا لرز کی ضرورت ہے۔ سمندر پا رپاکستانی بینکوں کے ذریعے اپنا پیسہ بھیجیں۔ مشکل وقت گزارنے کیلئے سمندر پار پاکستانیوں سے مدد کی اپیل کرتا ہوں۔ ہمیں ان کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن کے خاتمے پر ہم نے اپنا پورا زور لگانا ہے کیونکہ کرپشن سے جو پیسہ عوام پر خرچ ہونا ہوتا ہے وہ لوگوں کی جیبوں میں چلا جاتا ہے اور اس سے ادارے بھی تباہ ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں نیب کے چیئرمین سے ملاقات کروں گا اور ان کو جس قسم کی مدد، فنڈز اور امدادی قوت درکار ہو گی وہ فراہم کی جائے گی اور نیب کو طاقتور بنایا جائے گا اور اس سلسلے میں خیبر پختونخوا کی طرح وسل بلؤر ایکٹ بھی لایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن کا جو پیسہ واپس آئے گا اس کا بیس پچیس فیصد نشاندہی کرنے والے کو دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایس ای سی پی کرپٹ لوگوں سے ملا ہوا تھا اسے ٹھیک کیا جائے گا، داخلہ کی وزارت میرے پاس ہے ایف آئی اے کے ذریعے منی لانڈرنگ روکی جائے گی، مافیاز جو پیسہ چوری کر کے لے جا رہے ہیں اسے روکا جائے گا اور خود اس پر نظر رکھوں گا، کرپٹ لوگوں پر ہاتھ ڈالا جائے گا تو وہ شور مچائیں گے ، انہوں نے کہا کہ ڈیپارٹمنٹس اور ایف بی آ رمیں مافیاز بیٹھے ہیں کرپٹ نظام سے پیسہ بنانے والے شور مچائیں گے، سڑکوں پر آئیں گے اور جمہوریت کے خطرے میں ہونے کا شور مچائیں گے لیکن قوم نے میرے ساتھ کھڑے ہونا ہے میں ان کا مقابلہ کر کے دکھاؤں گا۔ انہوں نے کہا کہ عام لو گوں کیلئے انصاف کے نظام کو بہتر بنایا جائے گا اس سلسلے میں چیف جسٹس آف پاکستان سے ملاقات کروں گا، سالہا سال تک کیس چلتے رہتے ہیں، نچلی عدالتوں میں عوام کو انصاف کیلئے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور لوگ اگلے جہان میں چلے جاتے ہیں لیکن ان کے مقدمات کے فیصلے نہیں ہوتے، پشاور ہائیکورٹ میں ہم نے قانون میں بہتری کے ذریعے ایک سال میں سول کیسز کے فیصلوں کو یقینی بنایا۔ اب قومی سطح پر یہ سلسلہ شروع کیا جائے گا۔ ایک سال سے زائد عرصہ کیس کے فیصلے میں نہیں لگنا چاہئے، جرم ہوتا ہے لیکن سزا نہیں ملتی۔ ایسا نظام لائیں گے کہ جلد مقدمات کے فیصلے ہوں۔ چیف جسٹس آف پاکستان سے اس سلسلے میں درخواست کروں گا۔ انہوں نے ایک بیوہ کے کیس کی مثال دی جو اپنے زمین کے کیس کیلئے رل گئی اور اس کے مقدمے کا فیصلہ ہونے میں نہیں آ رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے سیاست شروع کی تو ایک خاتون نے مجھے اپنے خون سے خط لکھا کہ پولیس والے اس کے شوہر کے قتل کے مقدمے میں ان کے ساتھ کیا سلوک کر رہے ہیں اور کس طرح انہیں بری نظروں سے دیکھتے ہیں۔ اس خاتون نے سوال کیا کہ وہ کس کے پاس فریاد لے کر جائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ میرا عزم ہے کہ کمزور طبقے جس کے ساتھ ظلم ہوتا ہے کو انصاف میسر آئے۔ انہوں نے کہا کہ جیلوں میں بھی وکلاء کو بھیجا جائے گا تاکہ وہ وہاں جا کر قیدیوں کی صورتحال کا جائزہ لیں جو خراب حالات میں ہیں اور ان میں سے کئی ایک کا جرم غریب ہونا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی پولیس میں بڑی تبدیلی آئی ہے اور وہ کے پی کے پولیس کے شکر گزار ہیں اور آج ملک میں ہمیں جو کامیابی ملی ہے اس میں کے پی کے کی پولیس میں بہتری کا بڑا کردار ہے۔ ہم نے پولیس کو پروفیشنل کیا اس سلسلے میں اہم کردار ادا کرنے والے سابق آئی جی ناصر درانی کو کہا ہے کہ پنجاب پولیس کو ٹھیک کرنے میں بھی مدد کریں ان کو ایڈوائزری رول دیا جائے گا۔ صوبوں کے معاملات میں براہ راست مداخلت نہیں کر سکتے لیکن سندھ پولیس میں بہتری کیلئے بھی کوشش کریں گے۔ انہوں نے ملک میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قصو رمیں بچوں سے زیادتی کا واقعہ سامنے آیا ، بچوں سے زیادتی کے واقعات پر ہمیں سخت ایکشن لینا ہے اس مقصد کیلئے انسانی حقوق کی وزارت بھی قائم کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری سکولوں میں تعلیم کو بہتر بنایا جائے گا اس کے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ سرکاری سکولوں کا برا حال ہے۔ تنخواہ دار لوگ اپنے بچوں کو پرائیویٹ سکولوں میں بھیجنے پر مجبور ہیں مجھے معلوم ہے کہ تنخواہ دار طبقہ کس طرح دو دو نوکریاں کر کے اور قربانیاں دے کر بچوں کو تعلیم دلوا رہا ہے ہمیں سرکاری سکولوں کا معیار بہتر کرنا ہے۔ اس سلسلے میں ہم نے خیبرپختونخوا میں جو اقدامات کئے ان کے نتیجے میں پرائیویٹ سکولوں سے ڈیڑھ لاکھ بچے سرکاری سکولوں میں منتقل ہوئے۔ پرائیویٹ سکولوں کو دعوت دی جائے گی کہ سرکاری سکولوں میں شام کی شفٹ میں کام کریں سوا دو کروڑ بچے جو سکولوں سے باہر ہیں کو بھی سکولوں میں داخل کیا جائے گا۔ مدرسہ کے بچوں کو بھی پڑھانا ہے۔ مدرسے کے بچوں کو بھی جرنیل، جج، انجینئر اور ڈاکٹر بننا چاہئے اس سلسلے میں ہم اپنی پوری توانائیاں بروئے کار لائیں گے۔ 24 لاکھ بچے جو مدارس میں پڑھتے ہیں ان کا معیار تعلیم بہتر کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے میں خیبر پختونخوا میں بہت کام ہوا، شوکت خانم ہسپتالوں میں نیا سسٹم بنانا آسان تھا لیکن سرکاری ہسپتالوں میں جہاں فرسودہ پرانا نظام چل رہا ہے وہاں اصلاح کرنا بڑا مشکل کام ہے۔ خیبر پختونخوا میں آخری سالوں میں صحت کے شعبوں میں تبدیلی آئی اور اس کیلئے بھی بڑی جدوجہد کرنا پڑی۔ مینجمنٹ سسٹم بدلنے کی ضرورت ہے۔ سرکاری ہسپتالوں کو ٹھیک کرنا ہے، دو صوبوں میں ہماری اپنی حکومت ہے، سندھ میں بھی اس سلسلے میں کوشش کر کے بہتری لائیں گے۔ سارے ملک میں ہیلتھ کارڈ لائیں گے‘ کے پی کے میں ساڑھے پانچ لاکھ تک کی ہیلتھ انشورنس جیسا نظام سارے پاکستان میں لائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کا مسئلہ بہت بڑا اور دیرینہ مسئلہ ہے ، کسی نے اس کے بارے میں نہیں سوچا۔ تیاری کی جاتی تو یہ مسئلہ اتنا سنگین نہ ہوتا۔ کراچی اور دیگر شہروں میں پانی نہیں ہے، ٹینکر مافیا اور لوگ پیسے بنا رہے ہیں، اسلام آباد اور کوئٹہ میں بھی اس طرح کی صورتحال ہے کسی نے بھی اس بارے میں نہیں سوچا۔ ہم پانی کی وزارت قائم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہروں میں پانی کی سپلائی کا نظام بنائیں گے، کسانوں کو بھی پانی بچانے کے نئے طریقوں سے متعارف کرائیں گے، نہروں کی لائننگ کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایک ڈیم بنانا ناگزیر ہے۔ بھاشا ڈیم ہر قیمت پر بنایا جائے گا، پیسہ نہ ہونا کی وجہ سے ڈیم نہیں بن سکا چیف جسٹس نے اس حوالے سے زبردست فیصلہ کیا پوری قوم ملکر ڈیم بنائے گی۔ کسانوں کی مدد کی جائے گی، کسانوں کے پاس پیسہ نہیں ہو گا تو وہ زمین پر کہاں سے لگائیں گے، کسانوں کے خرچے کم اور پیداوار کی قیمت بڑھائیں گے۔ فی ایکڑ پیداوار بڑھانے پر توجہ دی جائے گی، زرعی یونیو رسٹیوں میں تحقیق پر توجہ دیں گے، کسانوں کے لئے زرعی تحقیق پر توجہ ناگزیر ہے۔ ہمارے کسان تحقیق نہ ہونے کی وجہ سے بھارت سے سبزیوں کے بیج لیتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ سول سروس ریفارمز کرنی ہے حکومت پالیسی بنائے گی اور سول سروس اگر صحیح طریقے سے کام نہیں کرے گی تو فائدہ نہیں ہو گا۔ ساٹھ کی دہائی میں ہماری سول سروس ایشیا کی بہترین سول سروس تھی اور دنیا میں اس کی اچھی ساکھ تھی۔ سول سروس کو سیاسی مداخلت سے پاک کیا جائے گا اور میرٹ کو نافذ کیا جائے گا۔ سول سروس میں سیاسی مداخلت نہیں ہونے دیں گے۔ سول سروس کو ملک کیلئے کام کرنا چاہئے، ہم سول سروس کو پوری عزت دیں گے اور ماضی کی طرح مداخلت نہیں کریں گے، لیکن سول سروس سے وابستہ افسران سے کہنا چاہتا ہوں کہ وہ عام آدمی کو عزت دیں اور انہیں وی آئی پی سمجھیں جو دکھے کھاتے پھرتے ہیں انہیں ان کا حق دیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ رائٹ ٹو سروس ایکٹ لایا جائے گا، جس طرح ہم کے پی کے میں لے کر آئے۔ اس کے تحت سزا جزاء کا قانون متعارف کرایا جائے گا۔ ہمارا مقصد عام آدمی کی زندگی کو بہتر بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے پی کے میں ہم پہلی بار بلدیاتی نظام لے کر آئے جس کے تحت نیچے تک اختیارات دیئے گئے اب جہاں جہاں ہماری حکومت ہے وہاں ضلعی ناظم کا براہ راست الیکشن کرائیں گے۔ وزیراعلیٰ کے پاس سارا پیسہ ہوتا تھا، دنیا میں کہیں بھی ارکان اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز نہیں ملتے بلکہ بلدیاتی نظام کے ذریعے پیسے خرچ کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو نوکریاں فراہم کی جائیں گی، ہاؤسنگ کے شعبے میں پچاس لاکھ سستے گھر پانچ سالوں میں تعمیر کئے جائیں گے اس پر ہم بڑا کام کر رہے ہیں اور یہ بڑا چیلنج ہے لیکن اس شعبے سے پچاس سے زائد صنعتیں وابستہ ہیں اور اس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو فنی تربیت سے آراستہ کیا جائے گا اور بلاسود قرضے دیئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کھیلوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی اور نوجوانوں کیلئے گراؤنڈز بنائے جائیں گے۔ گراؤنڈز جہاں پر ہم کھیلا کرتے تھے وہاں پر قبضے ہو گئے۔ اپنے بچوں کیلئے کھیلوں کے گراؤنڈز اور پارکس تعمیر کرنے ہیں یہ ہمارے شہریوں، بچوں اور عورتوں کا حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ درخت لگانے کی مہم شروع کرنی ہے‘ کے پی کے میں ایک ارب درخت لگائے گئے اب ہم نے ملک بھر میں اربوں درخت لگانے ہیں، ماحولیاتی آلودگی کو ختم کرنے کیلئے یہ بہت ضروری ہے۔ ہم نے پا کستان کو سرسبز کرنا ہے۔ نوجوانوں کو ساتھ ملا کر یہ کام کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہوائی آلودگی کو بھی ختم کرنے کیلئے اقدامات کئے جائیں گے جس سے لاہور میں بڑے پیمانے پر ہونے والی آلودگی جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں اس مقصد کیلئے ماحولیات کی وزارت بھی قائم کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہروں کو صاف ستھرا بنایا جائے گا کیونکہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ صفائی نصف ایمان ہے۔ ہم اپنے شہروں اور سمندر کو کچرے سے آلودہ کر رہے ہیں۔ ہم نے اپنے دریا اور ہوا کو صاف کرنا ہے۔ اس کیلئے باہر کی کمپنیوں کی ضرورت ہے ہم خود یہ کام کریں گے اور پاکستان کو پانچ سال بعد ایسا ملک بنائیں گے جیسے یورپی ملک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سیاحت کے بڑے مواقع ہیں اتنے بڑے مواقع دنیا میں کہیں نہیں ہیں ہر سال چار نئے ریزارٹس کھولے جائیں گے اور سمندر کے ساتھ ساحلوں کو ترقی دیں گے تاکہ لوگ اپنے اہل خانہ کے ساتھ وہاں جائیں۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا میں جنگ کی وجہ سے تباہی اور خراب حالات ہیں وہاں معمول کے حالات نہیں ہیں، فاٹا اور کے پی کے کا جلد انضمام کیا جائے گا اور وہاں مقامی حکومتوں کے انتخابات کرائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں حالات خراب ہیں پورا زور لگائیں گے کہ جو لوگ ناراض ہیں اور عسکریت پسند بن چکے ہیں ان کو ساتھ لے کر آئیں۔ اس سلسلے میں اپنی پوری توانائیاں صرف کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب کو صوبہ بننا چاہئے۔ 12 کروڑ کی آبادی پر مشتمل پنجاب پر ٹھیک طریقے سے حکومت نہیں کی جا سکتی۔ کراچی پاکستان کا معاشی کیپٹل ہے کراچی کے حالات اچھے نہیں ہوں گے تو اس کا ملک پر اثر پڑے گا۔ کراچی میں ٹرانسپورٹ کو بہتر کیا جائے گا اور کراچی میں پینے کے پانی اور کچرے کا مسئلہ حل کیا جائے گا۔ نیشنل ایکشن پلان کے بیس نکات تمام سیاسی جماعتوں کا متفقہ فیصلہ تھا۔ اس پر عملدرآمد کرائیں گے‘ دہشت گردی کو ختم کرنا ہے کیونکہ دہشت گردی کے خاتمے تک ملک میں امن اور خوشحالی نہیں آ سکتی۔ وزیراعظم نے ان تمام غیر ملکی رہنماؤں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کو فون کئے۔ انہوں نے کہا کہ ہمسایوں سے تعلقات کو بہتر کیا جائے گا، امن کے قیام تک غربت کا خاتمہ نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا چاہتے ہیں اور اس کا آغاز اس طرح کریں گے کہ سٹریٹ چلڈرن اور بیوہ عورتوں اور معذوروں کی فلاح و بہبود پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کیونکہ انہیں زیادہ مشکل حالات کا سامنا ہے۔ انہوں نے قوم پر زور دیا کہ وہ اپنے دل میں رحم پیدا کرے کیونکہ انسانوں اور جانوروں کے معاشرے میں یہی فرق ہے کہ جانوروں کے معاشرے میں رحم کا تصور نہیں جبکہ انسانی معاشرے کی بنیاد رحم پر ہوتی ہے اور اس میں پیچھے رہ جانے والے طبقے کی فکر کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ان اصولوں کو اپنانا ہو گا جو مدینہ کی ریاست کی بنیاد تھے۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریمؐ نے غیر ملکی طاقتوں سے قرض نہیں مانگے تھے بلکہ اپنے لوگوں کو کھڑا کر دیا تھا اور سارے عرب پر فتح حاصل کرنے کے بعد بھی محلات نہیں بنائے بلکہ سادگی اختیار کی۔ انہوں نے کہا کہ میں سادہ ترین زندگی گزار کر دکھاؤں گا، سیکورٹی کی وجہ سے گارڈز رکھنے پڑتے ہیں، میں عوام کا پیسہ بچاؤں گا اور پچاس فیصد نچلے طبقے پر خرچ کروں گا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ میں کوئی کاروبار نہیں کروں گا جو لوگ پیسہ چوری کر کے ملک سے لے کر جاتے ہیں عوام اس فیصلے کو لانے میں مدد کریں کیونکہ کرپشن سے چوری کیا گیا پیسہ عوام کا پیسہ ہوتا ہے اور عوام کی ذمہ داری ہے کہ ایسے روکیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام ہمارے اوپر چیک رکھیں ہماری ذمہ داری ہے کہ آپ کے پیسے کی حفاظت کریں۔ آپ میری ٹیم بن کر اپنے پیسے کی حفاظت کرنے میں میری مدد کریں۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے ملک کو سب کچھ دیا ہے پاکستان اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے اور ہمیں اس کی حفاظت کرنی ہے اور سرکار کا پیسہ چوری ہونے سے روکنا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے حوالے سے میرا وژن یہ ہے کہ ایک دن آئے گا جب پاکستان میں کوئی زکوٰۃ لینے والا نہیں ہو گا۔ شاید کہ یہ دن میری زندگی میں نہ آئے لیکن ایسا دن ضرور آئے گا کہ ہم دوسرے ملکوں کی مدد کریں گے اور میں ایسا ہی پاکستان دیکھنے کا خواہاں ہوں۔