نگران وزیراعظم انوارالحق کی او آئی سی اجلاس میں اسرائیلی جارحیت کی مذمت …
…… اصغر علی مبارک…..نگراں وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ کا کہنا ہے کہ غزہ میں فلسطینیوں کا قتل عام فوری طور پر روکا جائے، غزہ میں فوری طور پر انسانی امداد کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ ریاض میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) اور عرب لیگ کے مشترکہ ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم انوارالحق نے کہا کہ 70 سال پہلے اقوام متحدہ نے قرار داد کے ذریعے مسئلہ فلسطین کو حل کرنے کا فیصلہ کیا۔ غزہ پر اسرائیلی بمباری سے اسپتال، اسکول اور اقوام متحدہ کے دفاتر بھی محفوظ نہیں رہے، سلامتی کونسل پر غزہ میں قتل عام رکوانے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ انوارالحق کاکڑ نے مزید کہا کہ ناانصافی اور فلسطینی شہریوں کا قتل عام مزید تنازعات کو جنم دے گا، پاکستان 1967 کی سرحدوں کے مطابق ریاست فلسطین کے قیام کا حامی ہے، ایسی ریاست فلسطین جس کا دارالحکومت القدس ہو۔ وزیراعظم نے کہا کہ اسرائیل ایک جارح اور قابض ملک ہے، اسرائیل کے جنگی جرائم کو عالمی عدالت انصاف لے جانا چاہیے۔ غزہ کو امداد فراہم کرنے سے متعلق مصر کی کوشش کو سراہتے ہیں۔ غزہ کی صورت حال سے متعلق فوری مذاکرات شروع کرنے چاہئیں، مسئلے کے سیاسی حل کیلئے لازم ہے فلسطین، اسرائیل ڈائیلاگ کیلئے ماحول بنایا جائے۔
نگران وزیراعظم انوارالحق نے او آئی سی اجلاس میں اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی ہے یہ واضح ہونا ضروری ہےکہ پاکستانی قوم اور حکمرانوں کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ قائد اعظم آزاد اور خود مختار فلسطین کے حامی تھے اہل پاکستان کے دل فلسطینی بھائیوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ اپنے اس امتیاز پر اہل پاکستان بجا طور پر فخر کر سکتے ہیں کہ ان کا یہ جذبہ شبنم کی طرح پاک اور فولاد کی طرح مضبوط ہے۔ اہل پاکستان کے اس واضح، دوٹوک اور اٹل موقف کی وجہ سے ناجائز اسرائیلی ریاست پاکستان کو اپنا دشمن قرار دیتی ہے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے غیرمعمولی اجلاس میں شریک رہنماؤں نے غزہ میں حماس کے خلاف جاری اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت کی اور خدشہ ظاہر کیا کہ یہ کشیدگی دوسرے ممالک تک پھیل سکتی ہے۔ پاکستان کے بانیان خصوصاً بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح اور مصور پاکستان علامہ محمد اقبال کے ویژن کی بدولت برصغیر کے مسلمانوں کو آزادی نصیب ہوئی۔ دونوں بزرگ شخصیات صرف برصغیر ہی نہیں دنیا بھر کے مسلمانوں اور اسلام کو درپیش چیلنجوں پر نظر رکھتی تھیں اور ان کی اس دور میں عالمی ایشوز کے بارے میں جو رائے سامنے آئی وہ آج سچ ثابت ہو رہی ہے۔
اسلامی ممالک کے سربراہان سعودی عرب میں اسلامی تعاون تنظیم او آئی سی کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے موجود ہیں متحدہ سفارتی محاذ عرب اور مسلم ریاستوں کی جانب سے سفارتی دباؤ پیدا کرے گا۔ سربراہی اجلاس میں زور دیا گیا کہ غزہ میں اسرائیلی جارحیت کا دائرہ دیگر ممالک تک پھیلنے سے قبل ختم ہو جائے۔عرب لیگ اور اسلامی تعاون تنظیم کا ہنگامی اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہورہا ہے جب 7 اکتوبر کو حماس کے حملوں کے بعد اسرائیل کی غزہ پر فضائی اور زمینی کارروائی کے نتیجے میں 11 ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہوچکے ہیں، جن میں زیادہ تر عام شہری اور سیکڑوں بچے شامل تھے۔ عرب لیگ کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل حسام ذکی نے کہا کہ عرب لیگ کا ہدف یہ طے کرنا ہے کہ عرب ممالک اس جارحیت کو روکنے، فلسطین اور اس کے عوام کی حمایت کرنے، اسرائیلی قبضے کی مذمت کرنے اور اس کے جرائم کے لیے اسے جوابدہ ٹھہرانے کے لیے کیا حکمت عملی اختیار کریں گے۔
رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ کے سرکردہ رہنما سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اجلاس کے آغاز پر کہا کہ میزبان سعودی عرب تصدیق کرتا ہے کہ قابض اسرائیلی حکام ہی فلسطینیوں کے خلاف جرائم کا ذمہ دار ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ خطے میں سلامتی، امن اور استحکام کا واحد راستہ قبضہ، محاصر اور آبادکاری کا خاتمہ ہے۔ مزید یہ کہ ایرانی صدر نے کہا کہ اسلامی ممالک کو غزہ کی صورت حال دیکھتے ہوئے اسرائیلی فوج کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دینی چاہیے۔۔ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے مسلمان ممالک سے مطالبہ کیا کہ اسرائیلی فوج کو دہشت گرد تنظیم قرار دی جائے اور اس حوالے سے غزہ پٹی میں جاری بدترین کارروائیوں کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ جن رکن ممالک کے اسرائیل سے تعلقات ہیں وہ فلسطینیوں کی بہت زیادہ حمایت کریں۔ مزید یہ کہ مصر کے صدر عبدالفتح السیسی نے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے غیرمعمولی اجلاس کے دوران خطاب میں مطالبہ کیا ہے کہ غزہ میں فوری طور پر غیرمشروط جنگ بندی کی جائے۔ غزہ کے لوگوں کو اجتماعی سزا دینا ناقابل قبول ہے اور اس کو حق دفاع یا دیگر دعووں کے ذریعے جائز قرار نہیں دیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں اسرائیلی حملے بند ہونے چاہئیں۔
واضح رہے کہ سربراہی اجلاس میں طیب اردوان نے کہا کہ ہمیں غزہ میں چند گھنٹوں کے وقفے کی ضرورت نہیں ہے اس کے بجائے ہمیں مکمل جنگ بندی کی ضرورت ہے۔ اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری تنازع کا پائیدار حل نکالنے کے لیے بین الاقوامی امن کانفرنس منعقد ہونی چاہیے۔ رجب طیب اردوان نے کہا کہ یروشلم ہماری ریڈ لائن ہے
یہ یاد رہے کہ فلسطین کے صدر محمود عباس نے اسلامی تعاون تنظیم کے غیرمعمولی سربراہی اجلاس میں کہا ہے کہ فلسطینیوں کو غیرمعمولی نسل کشی کا سامنا ہے اور امریکا پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کو غزہ میں جارحیت روکنے کے لیے دباؤ ڈالے۔ محمود عباس نے کہا کہ فلسطینیوں کو اسرائیل کے حملوں کے پیش نظر بین الاقوامی تحفظ کی ضرورت ہے۔حالیہ جنگ میں زندہ بچنے کے لیے غزہ میں زندگی انتہائی مشکل ہے کیونکہ وہاں خوراک کی کمی، پانی کی شدید قلت اور صحت کو بہت سے خطرات لاحق ہیں۔
خیال رہے کہ شام کے صدر بشارالاسد نے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ اگر کوئی سیاسی تعلق ہے تو اس کو غزہ میں جاری صورت حال کے پیش نظر ختم کردینا چاہیے۔ بشارالاسد نے او آئی سی-عرب لیگ مشترکہ سربراہی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ اسرائیل سے تعلقات پر نظر ثانی کریں۔ اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے والے عرب لیگ کے ارکان میں متحدہ عرب امرات اور بحرین ہیں، جنہوں نے 2020 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں اسرائیل سے تعلقات قائم کیے تھے۔ اس بات کو یاد رکھیں کہ
نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا ہے کہ پاکستان غزہ پر حملوں کے مکمل خاتمے کے لیے طویل بحث نہیں بلکہ سنجیدہ کارروائی چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ شکار بھی کھیل رہے ہوں تو 21 ویں صدی میں جانوروں کو مارنے کے لیے بھی کچھ اصول و ضوابط کا خیال رکھنا ہوتا ہے، وہاں (غزہ میں) تو معاملہ آپ کے اور میری طرح کے انسانوں کا ہے۔
خیال رہےکہ غزہ کے شہری جہاں اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھا رہے ہیں وہیں ہر ایک کو پناہ اور خوراک کی ضرورت ہے اور کوئی نہیں جانتا کہ کب تک وہ اس طرح کے حالات کا سامنا کرتے رہیں گے۔ فلسطینی شخص کی دہائی دینے کی ویڈیو وائرل ہوگئی ہے۔ غزہ میں پوتے پوتی کی تدفین پر بوڑھے دادا کی دہائی دینے کی ویڈیو سامنے آگئی۔
شہید بچوں کا دادا اپنے پوتی پوتوں کی میتوں سے مخاطب ہو کر یہ کہتا رہا کہ اے میرے بچو جب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے تمہاری ملاقات ہو تو انہیں یہ ضرور بتانا کہ جب غزہ کے فلسطینی مسلمانوں کو ٹکڑے ٹکڑے کیا جا رہا تھا تو آپ کی امت خاموشی سے ہمارا تماشا دیکھتی رہی۔
واضح رہے کہ فلسطینی گروپ اسلامی جہاد نے کہا ہے کہ اسے عرب لیگ اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے ہنگامی اجلاسوں سے کوئی توقع نہیں ہے، انہوں نے تاخیر پر عرب رہنماؤں پر تنقید بھی کی۔
رپورٹ کے مطابق گروپ کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل محمد الہندی نے بیروت میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایسے اجلاسوں سے امیدیں نہیں لگا رہے کیونکہ ہم ان کے نتائج کئی برسوں سے دیکھتے آرہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ کانفرنس اسرائیلی حملے شروع ہونے کے 35 روز بعد منعقد کی جا رہی ہے، اس کے نتائج کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے۔یہ واضح ہونا ضروری ہےکہ او آئی سی کا پہلا سربراہی اجلاس 1969 میں مقبوضہ بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ کو نذر آتش کرنے پر مسلمانوں کے عالمی غصے کے بعد مراکش کے دارالحکومت رباط میں ہوا تاکہ اس واقعے کے نتائج کے حوالے سے فیصلے کیے جا سکیں۔دوسری جنگ عظیم میں قائداعظم نے یہودیوں کو فلسطین میں بسانے کی کوشش کرنے پر امریکہ پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ’’ یہ نہایت ہی بے ایمانی کا فیصلہ ہے اور اس میں انصاف کا خون کیا گیا ہے‘‘
اس وقت قائداعظم نے عربوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اپنے حقوق کے لیے ڈٹ جائیں اورخبردار ایک یہودی کو بھی فلسطین میں داخل نہ ہونے دیں,قائداعظم محمد علی جناحؒ نے15اکتوبر 1937ء کو لکھنو میں مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا یہودیوں کے لیے ایک قومی وطن بنانے کی پالیسی کے بعد اب برطانیہ فلسطین کو دو حصوں میں تقسیم کرنا چاہتا ہےقائدِ اعظمؒ اور آل انڈیا مسلم لیگ ہمیشہ فلسطین کی آزادی کے لیے آواز اٹھاتے رہے- فلسطین کی حمایت میں 1933ء سے 1947ء تک اٹھارہ قراردادیں منظور کی گئیں۔ پورے برصغیر میں آل انڈیا مسلم لیگ باقاعدگی کے ساتھ یومِ فلسطین پر سیاسی سرگرمیوں کا انعقاد کرکے فلسطینی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتی رہی۔ 23 مارچ1940ء کو قرار دادِ لاہور منظور کی گئی جو قرار دادِ پاکستان کہلاتی ہے، اس تاریخی موقع پر بھی فلسطین کے ساتھ یکجہتی کی قرار داد منظور کی گئی۔پی ایل او کا قیام 1964ء میں عمل میں لایا گیا تھا۔ اس کے بنیادی چارٹر میں یہ بات شامل تھی کہ سارا فلسطین (بمع اسرائیل) فلسطینیوں کا ہے اور یہودیوں کا اس پر کوئی حق نہیں۔ اس تنظیم کے عسکری بازو کو فلسطین لبریشن آرمی کانام دیا گیا۔ الفتح کی بنیاد 1957ء میں رکھ دی گئی تھی۔ فلسطینی تنظیموں نے اسرائیل کے خلاف بہت سی گوریلا کارروائیاں کیں۔پی ایل او نے بعدازاں اسرائیل کو ختم کرنے کا نقطہ واپس لیکر ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کو اپنا مقصد بنا لیا۔1974ء میں یاسر عرفات نے فلسطین کے نمائندے کی حیثیت سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کیا۔اقوام متحدہ نے فلسطین کو ایک قوم تسلیم کیا اور ان کے حق خود ارادیت کے لیے کئی قرار دادیں منظور کیں۔دسمبر 1987ء میں حماس کے نام سے ایک ایسی مزاحمتی تحریک سامنے آئی ۔ اگلے سال اس تحریک نے انتفاضہ یعنی مزاحمت شروع کی۔ اس کی مزاحمت کا انداز اچھوتا تھا۔ بچوں،خواتین اور نوجوانوں کے پاس چھوٹے چھوٹے پتھر ہوتے جنھیں وہ اسرائیلی ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں پر پھینکتے۔ ظاہر ہے اس سے ان ٹینکوں کا تو کچھ نہ بگڑتا ، مگر اس سے اس مزاحمت کی مظلومیت ، اس کا برحق ہونا اور اس کا عزم بھر پور طریقے سے ظاہر ہوجاتا۔ تحریک اصلاً عدم تشدد کی تحریک تھی۔ اسی لیے ہمیشہ اس تحریک کے لوگ شہید ہوتے رہےحالیہ جنگ میں زندہ بچنے کے لیے غزہ میں زندگی انتہائی مشکل ہے کیونکہ وہاں خوراک کی کمی، پانی کی شدید قلت اور صحت کو بہت سے خطرات لاحق ہیں۔
غزہ کے شہری جہاں اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھا رہے ہیں وہیں ہر ایک کو پناہ اور خوراک کی ضرورت ہے اور کوئی نہیں جانتا کہ کب تک وہ اس طرح کے حالات کا سامنا کرتے رہیں گےوزارت صحت کا مزید کہنا ہے کہ اسرائیلی بمباری کے باعث غزہ پٹی کے 285 طبی مراکز اور 49 اسپتال ناقابل استعمال ہوگئے۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ غزہ میں اس کی امدادی ایجنسی یو این آر ڈبلیو اے کے کم از کم 98 ارکان اور سول ڈیفنس کے 28 امدادی کارکن مارے گئے ہیں۔اقوام متحدہ کے مطابق ان میں سے 46 صحافی بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔ ‘
7 اکتوبر سے غزہ پٹی پر جاری اسرائیلی وحشیانہ حملوں میں اب تک 11 ہزار 78 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ قابض افواج نے غزہ کی پٹی میں قتل عام اور نسل کشی کی جنگ36 ویں دن جاری ہے۔ دشمن فوج کے نے سینکڑوں مقامات پربمبار کی اور رہائشی مقامات پر شہریوں کے گھروں پر بم گرائے۔