نواز شریف کے چوتھی بار وزیراعظم بننے کے امکانات روشن؟……
(اصغر علی مبارک )نواز شریف کے چوتھی بار وزیراعظم بننے کے امکانات روشن……
(اصغر علی مبارک )
.برطانوی نشریاتی ادارے نے اپنی تجزیاتی رپورٹ میں بتایا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف چوتھی بار وزیر اعظم بنتے دکھائی دے رہے ہیں۔ نواز شریف کو بادشاہ قرار دیتے ہوئے لکھا کہ 8 فروری کو ہونے والے انتخابات میں وہ نمایاں طور پر جیتنے والوں میں نظر آتے ہیں۔
اگر ان کی جماعت برتری لیتی ہے تو وہ چوتھی بار وزیر اعظم بنیں گے اور ابھی تک کے حالات سے وہ واضح برتری کے ساتھ جیتتے دکھائی دیتے ہیں۔ رپورٹ میں نواز شریف کو سابق وزیر اعظم عمران خان کا روایتی حریف بھی قرار دیا گیا اور بتایا گیا کہ 2013 کے بعد جب نواز شریف تیسری بار وزیر اعظم بنے تو عمران خان کی وجہ سے ہی انہیں مدت مکمل کرنے سے قبل ہی وزارت عظمیٰ سے ہٹایا گیا۔
پاکستانی سیاست کے لیے یہ ایک خوش آئند بات ہے کہ مرکز
میں کولیشن گورنمنٹ بننے جا رہی ہےجبکہ باقی چاروں صوبوں میں سرکردہ جماعتوں کی حکومت اتفاق رائے سے بنے گی، دوسری طرف یہ بات بالکل واضح ہے کہ پی پی پی پی اور پی ایم ایل این آنے والے دس سال کے لیے قوم کی قیادت کرنے کے لیے تیار ہیں ، اس مقصد کے لیے ایک کمیٹی اجلاس کےسائیڈ لائن پر کام کر رہی ہے، میں خود اصغر علی مبارک نے اپنے چھوٹے بھائی ایڈووکیٹ عظمت علی مبارک اور بہنوں ایڈووکیٹ مس عظمیٰ مبارک ,ایڈووکیٹ مس طاہرہ بانو مبارک کے ساتھ حالیہ عام انتخابات میں حصہ لیا اور محسوس کیا کہ یہ بہترین آزادانہ انتخابات میں سے ایک تھے کیونکہ میں سال 2002 کے انتخاباتNA-54، NA-55، NA-60، NA-61 NA-62 اور NA-56 سے الیکشن لڑتا رہا ہوں
مذہبی سیاسی جماعتوں نے الیکشن میں دھاندلی کاالزام لگایا ہے اوریہ کہ الیکشن شفاف نہیں تھے, میں کہہ سکتا ہوں کہ پریشر گروپ نما یہ تانگہ پارٹیاں اس الیکشن کومتنازعہ بنانےکی کوشش کر رہی ہیں ,جمیعت اسلامی , پی ٹی آئی اور دیگر تانگہ پارٹیاں احتجاج کے لیے جا رہی ہیں, اس سلسلے میں انہوں نے الیکشن کمیشن کے خلاف دھرنے کا اعلان بھی کیا, پاکستان کے ووٹ ڈالنے کی عمر کم از کم 25 سال ہونی چاہئیے۔ تمام جماعتوں کو اس حوالے سے سنجیدگی سے سوچنا چاہیئے اور قانون سازی کریں۔ ورنہ یہ ٹِک ٹاک جنریشن ٹِک ٹاک بھائیوں کو بھی قومی اسمبلی میں پہنچا دے گی, میچیور لوگ ووٹ ڈالیں گے توملک کی خدمت ہوگی, ماضی میں پاکستان کے تین مرتبہ وزیرِ اعظم رہنے والے نواز شریف گذشتہ برس ہی لندن سے خود ساختہ جلاوطنِی کاٹ کر اپنے ملک لوٹے ہیں لیکن اب وہ واضح طور پر انتخابات جیتنے والی شخصیت کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔ حالیہ دور میں پچھلی تین دہائیوں سے پاکستانی سیاست پر راج کرنے والے نواز شریف کے دوبارہ اقتدار کے اتنے قریب پہنچ جانے کا تصور شاید کچھ ہی لوگوں نے کیا ہوگا۔ نواز شریفکی وزارتِ اعظمیٰ کا آخری دور کرپشن کیس میں سزا پر ختم ہوا تھا اور اس سے قبل انھیں 1999 میں فوجی بغاوت کے نتیجے میں وزیرِ اعظم کے منصب سے ہٹایا گیا تھا۔ نواز شریف ایک بار پھر ڈرامائی طریقے سے ملک کی پارلیمانی سیاست میں کامیابی سے واپس آئے ہیں۔ تھنک ٹینک وِلسن سینٹر کے جنوبی ایشیا وِنگ کے ڈائریکٹر مائیکل کوگلمین کہتے ہیں کہ ’نواز شریف ملک کے اگلے وزیرِ اعظم بننے کے لیے مرکزی امیدوار ہیں۔ اس لیے نہیں کہ وہ بہت مقبول ہیں بلکہ اس لیے کیونکہ انھوں نے اپنے پتّے صحیح کھیلے ہیں۔‘ نواز شریف کے حریف اور ماضیِ قریب میں فوج کی حمایت رکھنے والے سابق وزیرِ اعظم عمران خان اب جیل میں ہیں اور ان کی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کو ملک بھر میں مختلف پابندیوں اور رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ اقتدار سے متعدد بار نکالے جانے کے باوجود نواز شریف دوبارہ ملک کے طاقتور ترین عہدے کی طرف جانے واے راستے ڈھونڈنے میں مہارت رکھتے ہیں اور وہ ایسا ماضی میں بھی کرتے رہے ہیں۔ انھیں 1999 میں دوسری مرتبہ سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی فوجی بغاوت کے نتیجے میں وزیرِ اعظم ہاؤس سے نکالا گیا تھا۔ لیکن وہ 2013 میں تیسری مرتبہ پھر انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے وزیرِ اعظم بن گئے۔ وہ پاکستان کی سیاست میں ایک تاریخی لمحہ اس لیے تھا کیونکہ ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ ایک منتخب حکومت سے دوسری منتخب حکومت کو جمہوری طریقے سے اقتدار کی منتقلی ہوئی ہو۔لیکن نواز شریف کا تیسرا دورِ اقتدار دُشواریوں سے بھرا رہا۔ ان کی حکومت کی ابتدا اسلام آباد میں تقریباً چھ مہینے جاری رہنے والے دھرنے سے ہوئی اور اس کا اختتام عدالت میں کرپشن کیس پر ہوا۔ اسی مقدمے کی بنیاد پر نواز شریف کو جولائی 2017 میں نااہل قرار دیا گیا۔ اس کے بعد نواز شریف نے پاکستان کے وزیرِ اعظم کی حیثیت سے استعفیٰ دے دیا۔ جولائی 2018 میں پاکستان کی ایک عدالت نے انھیں کرپشن کیس میں قصوروار قرار دیا اور انھیں 10 سال قید کی سزا سُنا دی گئی۔ لیکن دو مہینے بعد ایک اپیل کے نتیجے میں عدالت نے مقدمے کا فیصلہ ہونے تک ان کی سزا معطل کر دی۔ دسمبر 2018 میں انھیں کرپشن کے ایک اور مقدمے میں سات سال کی سزا ہوئی۔ اس کے بعد نواز شریف علاج کے لیے برطانیہ جانے کے لیے ضمانت کے لیے جدوجہد کرتے ہوئے نظر آئے۔ بالآخر 2019 میں انھیں ضمانت مل گئی جس کے بعد انھیں لندن جانے کی اجازت دی گئی۔ نواز شریف لندن میں اکتوبر میں اپنی پاکستان واپسی تک مقیم رہے۔ اپنی غیرموجودگی میں بھی نواز شریف پچھلے 35 سالوں میں پاکستانی سیاست میں ایک بھاری بھرکم اور مرکزی شخصیت رہے ہیں۔نواز شریف 1997 میں دوسری مرتبہ انتخابات میں اکثریت حاصل کرکے پاکستان کے وزیرِ اعظم بنے اور ایسا لگا کہ ملک کے تمام اداروں پر ان کی گرفت مضبوط ہو رہی ہے لیکن ان اداروں میں فوج شامل نہیں تھی۔
دوسرے دورِ حکومت میں پارلیمنٹ میں اپوزیشن کے ہاتھوں تنگ نواز شریف نے ایک ایسی آئینی ترمیم منظور کروانی کی کوشش بھی کی جس کے نتیجے میں ملک میں شرعی قانون نافذ ہوجاتا۔نواز شریف نے ملک میں طاقت کے مرکزوں کو بھی چیلنج کرنے کی کوشش کی 1999 میں سابق فوجی آمر پرویز مشرف کے ہاتھوں نواز شریف اقتدار سے محروم ہوئے نتیجے میں نواز شریف گرفتار ہوئے اور انھیں طیارہ ہائی جیکنگ اور دہشتگردی کے مقدمے میں عمر قید کی سزا سُنا دی گئی۔ انھیں کرپشن کے مقدمے میں بھی سزا ہوئی اور انھیں تاحیات نااہل بھی قرار دیا گیا۔نواز شریف کی پاکستان کی سیاست سے بے دخلی ان کی 2007 میں فوج کے ساتھ ڈیل کے بعد ملک واپسی کی صورت میں ختم ہوئی۔پاکستان واپسی کے بعد انھوں نے برداشت سے اپوزیشن میں اپنا وقت گزارا۔ ان کی جماعت ن لیگ 2008 کے انتخابات میں پارلیمنٹ مِیں تقریباً 25 فیصد نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوئی۔2013 کے انتخابات سے قبل یہ پیش گوئی کی گئی تھی کہ ملک کے اگلے وزیراعظم نواز شریف ہی ہوں گے لیکن اس جیت کے پیمانے نے سب کو حیران کر دیا۔ ان کو اب پنجاب میں سابق کرکٹر عمران خان کی جماعت کی طرف سے چیلنج کا سامنا تھا اور یہی عمران خان 2018 میں پاکستان کے وزیرِ اعظم بنے۔ نواز شریف جب 2013 میں ملک کے وزیراعظم بنے تو عمران خان کی جماعت نے تقریباً چھ مہینوں تک اسلام آباد کا محاصرہ کیے رکھا۔ پاکستان تحریکِ انصاف نے ن لیگ پر الیکشن میں دھاندلی کا الزام لگایا تھا۔نواز شریف نے اپنے تیسرے دورِ اقتدار میں وعدہ کیا تھا کہ وہ پاکستان کو ‘ایشین ٹائیگر’ بنا دیں گے، ملک کو نیا انفراسٹکچر دیں گے اور ‘کرپشن کو برداشت نہیں کریں گے۔‘ لیکن پاکستان کو درپیش مشکلات بڑھتی رہیں اور چین اور پاکستان اقتصادی راہداری کے علاوہ کوئی بھی پروجیکٹ کامیاب ہوتا دکھانی نہیں دیا۔ 2016 میں پانامہ پیپرز لیک کے نتیجے میں نواز شریف پر کرپشن کے الزامات عائد ہوئے اور انھیں سپریم کورٹ کی جانب سے تحقیقات کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ الزامات نواز شریف کے خاندان کی ملکیت میں موجود لندن میں فلیٹس کے حوالے سے تھے۔ سوالات اٹھائے گئے کہ ان اپارٹمنٹس کو خریدنے کے لیے پیسے کہاں سے آئے؟ نواز شریف نے تمام الزامات کو مسترد کیا اور دعویٰ کیا کہ انھیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔تاہم چھ جولائی 2018 میں انھیں ان کی غیرموجودگی میں کرپشن کے مقدمے میں 10 سال قید کی سزا سُنائی گئی۔ جب انھیں سزا سُنائی گئی تو وہ لندن میں اپنی بیمار اہلیہ کے پاس موجود تھے۔
نواز شریف کے ساتھ ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو بھی سزا سُنائی گئی تھی۔نواز شریف نے سزائیں سنائے جانے کے بعد لندن میں رہنے کا فیصلہ کیا کیونکہ پاکستان میں ان کے حریف عمران خان حکومت کر رہے تھے۔ لیکن عمران خان کا دورِ حکومت بھی طلاطم خیز رہا اور2022 میں عمران خان کو پارلیمنٹ میں عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے وزیرِ اعظم کی کرسی سے ہٹا دیا گیا اور پھر نواز شریف کی پارٹی ن لیگ کے لیے اقتدار کی راہ ہموار ہوئی جس کی قیادت ان کے چھوٹے بھائی شہباز شریف کر رہے تھے۔ عمران خان کے زوال کے بعد سے ہی قسمت کی دیوی ن لیگ پر مہربان نظر آئی اور نواز شریف کی جانب سے بھی سیاسی سرگرمیوں کی رفتار بڑھا دی گئی۔ وہ 2023 میں پاکستان واپس آئے اور اسے ایک تاریخی واپسی سے تعبیر کیا گيا۔ اس کے بعد کے ایام میں وہ اپنے خلاف جاری تمام قانونی مقدمات کو ختم کروانے میں کامیاب رہے۔ نواز شریف انتخابات جیتےہیں لیکن پارٹی مکمل اکثریت نہیں ہر چیز نواز شریف کے وزیر اعظم بننے کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ پاکستان اس وقت ایک مشکل دور سے گزر رہا ہے اور نواز شریف نے اپنے آپ کو تجربہ کار امیدوار کے طور پر پیش کیا ہے نواز شریف کے پاس تین بار وزیرِ اعظم کہ عہدے پر فائز رہنے کا تجربہ ہے۔ وہ پاکستان کی معیشت کو استحکام دینے اور اس کی ’کشتی کی سمت درست‘ کرنے کا وعدہ کر رہے ہیں ,نواز شریف کے حامیوں کو امید ہے کہ ملک کو استحکام ملے گا ,نواز شریف کو آگے بہت سے چیلنجز کا سامنا ہوگا اور اس میں معاشی بحران سرِفہرست ہے نواز شریف مشکل میں نظر آ رہے ہیں کیونکہ ان کے بھائی کی قیادت میں ان کی جماعت گذشتہ حکومت میں سینیئر پارٹنر تھی جس کو بہت سی ایسی معاشی پالیسیاں نافذ کرنا پڑھیں جس کا اثر ملک کے عوام پر اچھا نہیں پڑا, انھیں وطن واپسی کے بعد بہت زیادہ قانونی ریلیف ملا ہے اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ فوج کےقریب ہو گئے ہیں۔ پاکستان کی فوج نے کبھی کسی سیاسی رہنما کو ترجیح نہیں دی ہے۔ پاکستان کی فوج نے یہ موقف اپنایا ہے کہ وہ ملکی سیاست میں مداخلت نہیں کرتی۔ افواج پاکستان نے ملک میں الیکشن کے مجموعی طور پر پُر امن انعقاد پر قوم کو مبار کباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن پاکستانی عوام کی امنگوں کو پورا کرنے کی راہ ہموار کرے گا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ( آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاک فوج کو الیکشن عمل میں سکیورٹی کی فراہمی میں کلیدی کردار پر فخر ہے۔ پاک فوج نے دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مل کر ذمہ داریاں ادا کیں۔ پاک فوج نے آئین کے مطابق اپنی ذمہ داریاں ادا کیں,آئی ایس پی آر نے بتایا کہ 1 لاکھ 37 ہزار جوان تقریباً 6 ہزار حساس پولنگ اسٹیشنز پر جبکہ 7 ہزار 800 جوان کوئیک رسپانس فورس کے طور پر تعینات تھے، عوام کے لیے محفوظ ماحول کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ کے پی، بلوچستان میں 51 دہشتگرد حملوں کا مقصد الیکشن عمل کو سبوتاژ کرنا تھا، ان حملوں میں 10 سکیورٹی اہلکاروں سمیت 12 افراد شہید، 39 زخمی ہوئے۔ آئی ایس پی آر نے کہا کہ فوجی جوانوں نے مؤثر طریقے سے ملک بھر میں امن و سلامتی کو یقینی بنایا، یہ اپنے شہریوں کے جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے سکیورٹی ایجنسیوں کے غیر متز لزل عزم کا اظہار ہے۔متعدد آپریشنز میں 5 دہشت گرد بھی مارے گئے، جمہوری عمل کے تحفظ کے لیے مسلح افواج سے مل کر کام کرنے پر قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے شکر گزار ہیں، ہمیں پوری امید ہے کہ ہماری قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔مید ہے یہ الیکشن پاکستان میں جمہوریت کو مزید مضبوط کرنے کےلیے اہم ہو گا،الیکشن پاکستانی عوام کی امنگوں کو پورا کرنے کی راہ ہموار کرے گا،مسلح افواج ملک میں امن و سلامتی برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔واضح رہے کہ ملک میں عام انتخابات میں کروڑوں افراد نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ پاکستان میں عام انتخابات پر امریکا، برطانیہ، اقوام متحدہ کے ردعمل پر ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ کا کہنا تھا کہ پاکستان نے عام انتخابات پُرامن اور کامیابی کے ساتھ منعقد کیے۔ عام انتخابات سے متعلق بعض ممالک اور تنظیموں کے بیانات کو دیکھا ہے، انتخابی مشق نے ظاہر کیا ہے کہ بہت سے مبصرین کے خدشات غلط تھے۔ ملک بھر میں انٹرنیٹ کی بندش نہیں تھی، پولنگ کے دن دہشتگردی سے بچنے کے لیے صرف موبائل سروس کو معطل رکھا، غیرملکی اسپانسر شدہ دہشت گردی کے نتیجے میں سنگین سیکیورٹی خطرات سے نمٹا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ بیانات لاکھوں پاکستانیوں کے ووٹ کےحق کے آزادانہ استعمال کو تسلیم نہیں کر رہے، بیانات ناقابل تردید حقیقت کو نظر انداز کرتے ہیں۔ پاکستانیوں نے عام انتخابات پر امن اور کامیابی کے ساتھ منعقد کیے، بعض بیانات انتخابی عمل کی پیچیدگی کو مدنظر نہیں رکھتے، بیانات لاکھوں پاکستان کے ووٹ کے حق کے آزادانہ اور پرجوش استعمال کو تسلیم نہیں کر رہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ مستحکم جمہوری معاشرے کی تعمیر کے عزم کے تحت انتخابات کا انعقاد کیا، انتخابی مشق نےظاہرکیاکہ بہت سےمبصرین کےخدشات غلط تھے، پاکستان ایک متحرک جمہوری نظام کی تعمیر کے لیے کام جاری رکھے گا۔ واضح رہے کہ ملک بھر میں 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات پر ردعمل دیتے ہوئے امریکی محکمہ خارجہ نے پاکستان میں ’انتخابی عمل میں مداخلت کے الزامات پر تشویش کا اظہار کیا۔ ترجمان اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میتھو ملر نے ایک بیان میں کہا تھا کہ 8 فروری کو ہونے والے پاکستان کے انتخابات میں لاکھوں پاکستانیوں نے ووٹ ڈالا،الیکشن کے اس عمل میں خواتین، مذہبی اور نسلی اقلیتی گروپوں کے ارکان اور نوجوانوں کی ریکارڈ تعداد رجسٹرڈ تھی، ہم پاکستان میں اس جمہوری عمل کو سراہتے ہیں، ہم انتخابی تشدد، انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں پر پابندیوں کی مذمت کرتے ہیں، جس میں میڈیا ورکرز پر حملے، انٹرنیٹ اور ٹیلی کمیونیکیشن سروسز تک رسائی میں پابندیاں شامل ہیں۔ ’مداخلت یا فراڈ کے الزامات کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں۔ میتھیو ملر کا مزید کہنا تھا کہ ہم غیرضروری پابندیوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستان میں انتخابی عمل میں مداخلت کے الزامات پر فکر مند ہیں،انتخابات کے عمل میں مداخلت یا دھوکہ دہی کے دعوؤں کی مکمل چھان بین ہونی چاہیے، امریکہ اگلی پاکستانی حکومت کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہے، ہم پاکستان کے جمہوری اداروں کو مضبوط بنانے، یو ایس پاکستان گرین الائنس فریم ورک کے لئے پرعزم ہیں، ہم اپنے سکیورٹی تعاون کو مضبوط بنانے اور تحفظ اور سلامتی کا ماحول بہتر بنانے کے لیے بھی پرعزم ہیں۔برطانوی وزیر خارجہ نے بھی انتخابات میں شفافیت سے متعلق تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ افسوس ہے تمام جماعتوں کو باضابطہ طور پر حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی۔ سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتریس کی جانب سے بھی پاکستان میں عام انتخابات کے روز موبائل سروسز کی معطلی اور پُرتشدد واقعات پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔پاکستان میں ہونے والے عام انتخابات میں بڑے ٹرن آؤٹ کو یورپی یونین نے خوش آئند قراردیدیا۔ یورپی یونین کا کہنا ہے کہ خواتین اور اقلیتوں کا بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنا خوش آئند ہے،کثیر تعداد میں ووٹ ڈالنا جمہوریت کی مضبوطی اور پاکستانی عوام کے جمہوری نظام پر اعتماد کا اظہار ہے،یورپی یونین اس عمل کو خوش آئند قرار دیتا ہے تمام متعلقہ اداروں کو انتخابی عمل سے متعلق تحفظات اور شکایات کو حل کرنے کی ضرورت ہے ،یورپی یونین سیاسی آگاہی، آزاد میڈیا اور جمہوری اقدار کو فروغ دینے پر زور دیتا ہے ۔مزید کہا گیا کہ پاکستان یورپی یونین کا انتہائی اہم شراکت دار ہے،یورپی یونین پاکستانی حکومت سے تعاون کا خواہاں ہے،یورپی یونین پاکستان کے انسانی حقوق ، گڈ گورننس اور مزدوروں کے حقوق سے متعلق بہتری لانے کو خوش آئند قرار دیتا ہے ای یو امید کرتا ہے اس پر مزید تیزی سے کام کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) نے کہا ہے کہ عام انتخابات کے ابتدائی نتائج کی تیاری اور اعلان میں تاخیر نے انتخابات کے منظم انعقاد کو گہنا دیا، جس سے انتخابی نتائج کی ساکھ پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ فافن نے 8 فروری 2024 کو ملک بھر میں ہونے والے عام انتخابات سے متعلق ابتدائی مشاہدہ رپورٹ جاری کردی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ملک میں ووٹر ٹرن آؤٹ 48.2 فیصد رہا، ملک میں تقریباً 6 کروڑ افراد نے حق رائے دہی کا استعمال کیا، 63 فیصد پولنگ اسٹیشنز پر زیادہ ووٹر تھے۔ 25 حلقوں میں مسترد ووٹوں کا مارجن جیت کے مارجن سے زیادہ تھا، 16 لاکھ بیلٹ پیپرز مسترد ہوئے، گزشتہ انتخابات میں بھی اتنے ہی ووٹ مسترد ہوئے تھے۔ عام انتخابات 2024 کے دوران سیاسی جماعتوں نے اپنا ووٹ بینک قائم رکھا، پیپلزپارٹی، مسلم لیگ (ن) اور تحریک لبیک (ٹی ایل پی) کا ووٹر بڑھا جبکہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا ووٹ بینک مستحکم رہا، حلقہ بندی کے عمل سےبہت سے امیدوار متاثر ہوئے۔ فافن نے ملک بھر میں 5 ہزار 664 مبصرین ملک بھر میں تعینات کیے، 28 فیصد پولنگ اسٹیشنز پر افسران نے فارم 45 کی کاپی مبصرین کو نہیں دی، آر او آفس میں مبصرین کو جانے نہیں دیا گیا، فارم 45 فیصد کی کاپی 29 فیصد پولنگ اسٹیشن کے باہر آوایزں نہیں کی گئی۔ ابتدائی انتخابی نتائج کی تیاری اور اعلان میں الیکشن کمیشن کی جانب سے تاخیر کی جو بھی وجوہات اور وضاحتیں ہوں لیکن اس نے انتخابات کے منظم انعقاد کو گہنا دیا، جس سے انتخابی نتائج کی ساکھ پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ نگران حکومت کی جانب سے انتخابات کے روز موبائل اور انٹرنیٹ سروسز معطل کردی گئیں،سیکیورٹی وجوہات سے قطع نظر اِس اقدام سے الیکشنز ایکٹ 2017 میں ترامیم کے ذریعے انتخابی اصلاحات کے لیے پارلیمنٹ کی برسوں کی کوششوں کو نقصان پہنچا۔ فافن کے مطابق انتخابات میں شفافیت پولنگ اسٹیشنز تک محدود رہی تاہم ریٹرننگ افسر (آر او) کے دفتر میں شفافیت پر سمجھوتا کیا گیا، ریٹرننگ افسر کے دفاتر میں شفافیت پر سوال اٹھ سکتا۔
انتخابات کے انعقاد سے بے یقینی کا دور ختم ہوگیا ہے، اب سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ ملک میں استحکام کو یقینی بنائیں، امیدواروں کی جانب سے شکایات کو الیکشن کمیشن کو جلد حل کرنے کی ضرورت ہے۔ سیکشن 95 کے تحت 14 دن کے اندر اندر الیکشن کے حقیقی نتائج سامنے آنے چاہئیں، انتخابی مہم کے دوران ہونے والے اخراجات کے حوالے سے ہر انتخابی حلقے کی تفصیلات فوری طور پرسامنے آنی چاہئیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ پوسٹل ذرائع سے ڈالے گئے ووٹوں کو حتمی نتائج سے قبل گِن کر تفصیلات میڈیا کے ذریعے نشر کی جانی چاہئیں، فارم 45، 46 اور 48 کو ویب سائٹ پر ڈال کر حقیقی نتائج سے عوام کو آگاہ کرنا چاہیے، فارم 49 کی حتمی نتائج کی فہرستیں فوری طور پر سامنے آنی چاہئیں۔












