..
..میم سے ۔۔۔مولانا مارچ ۔۔۔.میم سے۔ مریم نواز ۔ کالم اندر کی بات”اصغر علی مبارک سے.
...آزادی مارچ دھرنا کے دوران مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر آل پارٹیز کانفرنس جاری تھی کہ اطلاع ملی کہ دھرنا کی حمایت کرنے والی سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی ن لیگ کی نائب صدر مر یم نواز شریف کی درخواست ضمانت منظور ھوگئی ھے اے پی سی میں شرکت کرنے والے راہنماؤں باقاعدہ ن لیگ کی قیادت کو تہنیتی پیغامات بھیجے اور امیدظاہر کی حکومت مخالف تحریک میں تیزی آئے گی اکثریت کا کہنا ہے کہ مریم نواز شریف کو آزادی مارچ دھرنا میں اٹری دینی چاہیے جو انکے سیاسی بصیرت کا امتحان بھی ھے مریم نواز اس قبل بھی جیل میں قید رہیں اور جب انہیں رہا کیا گیا تو چند ماہ کی خاموشی اختیار کرنے کے بعد مریم نواز شریف نے دھواں دھار سیاست سے تحریک انصاف کی قیادت پر سوشل میڈیا کے ٹول ٹویٹر سے بھاری ٹویٹس اور جارحانہ سیاست سے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان کشیدگی کو ختم کیا اور اس دوران چوہدری شوگر ملز کیس میں دوبارہ گرفتار ھونے پر ن لیگ اور پیپلزپارٹی کی قربتوں میں کمی آئی اب دیکھنا یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمان کے آزادی دھرنا میں شریک ھوتی ہیں کہ انہیں وقتی طور پر دھرنے کی سیاست سے دور رہنے کا مشورہ دیا جائےگا دھرنے میں شامل ھر شخص کے منہ پر ایک ھی بحث ھے کہ مریم نواز کی ضمانت تو منظور ھوئی ھے کیا وہ تحریک انصاف کی حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے لیے مولانا فضل الرحمان کا ساتھ دیں گیں کیوں کہ مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ میں شرکت کرنے کا اعلان ان شوہر نام دار کیپٹن صفدر نے اس وقت کیا تھا جب ن لیگ کی جانب سے واضح اعلان نہیں کیا گیا تھا بعد میں میاں نواز شریف نے مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کی کھل کر حمایت کی اور شہباز شریف کو مکمل تعاون کی ہدایت کی۔آزادی مارچ دھرنے میں آل پارٹیز کانفرنس کے دوران شہباز شریف کی کمی کو محسوس کیا گیا جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما بلاول بھٹو زرداری بھی نجی مصروفیات کا بہانہ بنا کر شامل نہ ھوئے۔ دھرنے میں شریک اکثریت کا یہ خیال ہے کہ مریم نواز کی سیاست اور شہباز شریف کی سیاست میں زمین آسمان کا فرق ہے شہباز شریف آصف علی زرداری کی طرز پر مفاہمت کی سیاست کو ترجیح دیتے ہیں اور بہت محتاط انداز میں سیاسی اننگز کو جاری رکھنے میں تو کامیاب ہوگئے ہیں تاہم دوسری جانب پارٹی کارکنوں میں مایوسی پھیل رہی ہے اور نواز شریف کی بیماری کی وجہ سے کارکن کافی پریشان نظر آتے ہیں مریم نواز شریف کی متحرک سیاست سے حکومت کو ٹف ٹائم ملے گا اس میں کوئی شک نہیں آصف زرداری فریال تالپر۔سید خورشید شاہ خواجہ سعد رفیق ۔رانا ثناء اللہ و دیگر نامور شخصیات کی گرفتاریوں سے دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے قائدین اور کارکنوں میں سخت بے چینی ھے نواز شریف کی بیٹی مریم نواز کے بارے میں مشہور ہے کہ مریم نواز شریف کی سیاست میں میاں نواز شریف کی زوردار سیاسی جدوجہد کی جھلک نمایاں نظر آتی ھے مریم نواز کو نواز شریف کا سیاسی جانشین قرار دیا جاتاھے نواز شریف نے مریم نواز کو اس وقت پاکستانی سیاست کی دلدل میں اتارا تھا جب پاناما سکینڈل کی وجہ سے ن لیگ کی قیادت سخت ترین دور سے گزر رہی تھی۔ نواز شریف نے اپنی نااہلی کے فیصلے کے بعد لاہور تک مارچ کیا اور بیٹی مریم کے ساتھ احتساب عدالت کے دوروں میں کھل مخالفین پر تنقید کے اپنے سیاسی لائحہ عمل کا اظہار کیا,مریم نواز نے انگریزی ادب میں جامعہ پنجاب سے ڈگری لی۔ مریم نے ابتدائی طور پر 2012ء میں خاندان کے رفاہی ونگ میں کام کا آغاز کیا، 2012ء میں، مریم نے اپنی سیاست کی طرف آئیںمریم نواز کو پاکستان مسلم لیگ نے پاکستان کے عام انتخابات 2013ء کے دوران میں ضلع لاہور کی انتخابی مہم کا منتظم مقرر کیا۔ وزیر اعظم کے دفتر میں اپنے والد کے تیسرے غیر مسلسل انتخابات کے بعد، مریم کو 22 نومبر 2013ء کو وزیراعظم یوتھ پروگرام کا کرسی نشین مقرر کیا گيا، تاہم عدالت عالیہ لاہور میں اس فیصلے پر درخواست کے بعد مریم نواز نے 13 نومبر 2014ء کو استعفی دے دیا مریم کو نواز شریف کا ظاہری وارث اور مسلم لیگ ن کا نیا رہنما سمجھا جانے لگا6 جولائی 2018ء کو پاکستانی عدالت نے جعلی دستاویزات پیش کرنے اور جرم میں معاونت کے الزام میں 7 سات قید اور 2 ملین پونڈ جرمانے کی سزا سنائی جیل میں قید رہی اور بعدازاں انہیں رہا کیا گیا۔اس عرصہ میں مریم نواز نے کچھ ماہ تک تو خاموشی اختیار کیے رکھی تاہم اس کے بعد انہوں نے دھواں دھار سیاست شروع کی اور ہر سیاسی مسئلے پر ٹویٹس کے ذ ریعے سے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتی تھیں۔مریم نواز کے بھاری تنقید ٹویٹس اور جارحانہ سیاست کے ساتھ ساتھ پییلز پارٹی اور ن لیگ کے درمیان بھی قربتیں بڑھنے لگیں تاہم اسے بریک اس وقت لگی جب مریم نواز کو چوہدری شوگر ملزمیں دوبارہ گرفتار کیا گیا۔مریم نواز کی آج ہونے والی ضمانت سیاسی منظرنامے پر خاصی اہمیت رکھتی ہے۔کیونکہ مولانا فضل الرحمن کا اسلام آباد میں آزادی مارچ جاری ہے۔نواز شریف کی بھی مولانا فضل الرحمن کو خوب حمایت حاصل ہے،اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مریم نواز خاموشی اختیار کریں گی یا ماضی کی طرح ایک بار پھر جارحانہ سیاست اپنائیں گی مریم نواز کی سیاست کے حوالے سے حکمت عملی آئندہ آنے والے دنوں میں واضح ہو گی۔تاہم یہ بات پہلے ہی واضح ہے کہ مریم نواز جارحانہ سیاست پسند کرتی ہیں۔امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ کسی ڈیل نہ ہونے کی صورت میں مریم نواز مولانا فضل الرحمن کے دھرنے میں جا سکت ہیں خیال رہے کہ لاہور ہائی کورٹ میں چوہدری شوگر ملز کیس میں مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کی درخواست ضمانت منظور کرلی گئی ہے. مریم نواز کی جانب سے درخواست دائر کی گئی تھی کہ سروسزہسپتال میں زیرعلاج اپنے والد کی تیماداری کرنا چاہتی ہیں فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا تھا نیب نے خدشہ ظاہرکیا تھا کہ ملزمہ ملک سے فرارہوسکتی ہیں یا غائب بھی ہوسکتی ہیں لہذا ان کی درخواست ضمانت مسترد کی جائے
عدالت نے مریم نواز کو ایک ایک کروڑ روپے کے دو مچلکے بھی جمع کروانے کا حکم دیا۔ عدالت نے مریم نواز کا پاسپورٹ جمع کروانے کا حکم دیتے ہوئے انہیں فوری طور پر رہا کرنے کا حکم جاری کر دیا۔۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ پاسپورٹ جمع نہ کروانے کی صورت میں 7 کروڑ روپے زرضمانت جمع کرنا ہو گا۔ یاد رہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے 31 اکتوبر کو مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے کیس کی سماعت یکم نومبر تک ملتوی کی تھی جس کے بعد یکم نومبر کو کیس کی تاریخ میں 4 نومبر بروز پیر تک کی توسیع کر دی گئی تھی ۔
قبل ازیں 31 اکتوبر کو لاہور ہائیکورٹ میں جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کی درخواست ضمانت پر کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت نیب کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ مریم نواز چودھری شوگر ملز کے جعلی اکاؤنٹس چلانے میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہیں۔ نیب قانون کے مطابق اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت کارروائی کرسکتا ہے۔
قومی احتساب بیورو (نیب) کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کا دائرہ اختیار محدود ہے، یہ منی لانڈرنگ کے خلاف تحقیقات نہیں کر سکتا۔ ایس ای سی پی کے پاس چودھری شوگر ملز کے خلاف کوئی شکایت نہیں تھی۔ مسلم لیگ ن کی نائب صدر کے وکیل امجد پرویز ایڈووکیٹ نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ مریم نواز ایک خاتون ہیں؟ کیا آپ انکار کر سکتے ہیں؟ اعظم نذیر تارڑ ایڈووکیٹ نے کہا کہ یہ صرف انفارمیشن دی تھی جس پر وکیل نیب نے کہا کہ نہیں آپ نے خاتون ہونے پر زور دیا تھا، فریال تالپورکو خاتون ہونے کی بنیاد پر ضمانت پر رہائی کی درخواست مسترد ہوئی ہے، فیصلہ موجود ہے۔
تفتیشی افسر نےعدالت کو بتایا کہ مریم نواز اور یوسف عباس کے اکاؤنٹس میں 23 کروڑ روپے منتقل ہوئے ہیں جس کی انہوں نے کوئی وضاحت پیش نہیں کی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ رقم فیصل میمن نے دبئی سے بھیجی تھی جوچودھری شوگر ملز میں منی لانڈرنگ کے لیے استعمال ہوئی۔ نیب کے وکیل کے دلائل پر جسٹس باقر نجفی نے استفسار کیا کہ کیا مریم نواز شریف بھی کسی ریفرنس میں سزا یافتہ ہیں؟ اس پر نیب کے وکیل نے بتایا کہ مریم نواز نیب کے ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا یافتہ ہیں اور انہیں 7 سال قید کی سزا دی گئی لیکن اسلام آباد ہائیکورٹ نے مریم نواز کی سزا معطل کر رکھی ہے۔
جس کے بعد لاہور ہائیکورٹ نے درخواست گزار اور نیب کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد مریم نواز کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ یاد رہے کہ 8 اگست کو قومی احتساب بیورو نے چودھری شوگر ملز کیس میں مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کو کوٹ لکھپت جیل کے باہر سے گرفتار کر کے نیب ہیڈ کوارٹرز منتقل کیا تھا۔ عدالت کی جانب سے مریم نواز کے جسمانی ریمانڈ میں متعدد بار توسیع کی گئی تھی، جس کے بعد ان کا جوڈیشل ریمانڈ دے دیا گیا۔ جبکہ دوسری جانب قومی احتساب بیورو (نیب) نے مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کی ضمانت منظوری کا فیصلہ چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا ہے قومی احتساب بیورو (نیب) چودھری شوگر ملز کیس میں مسلم لیگ ن کی نائب صدر کی ضمانت منظوری کے خلاف سپریم کورٹ جا نے کا اعلان کر دیا ہے مریم نواز کی ضمانت کا فیصلہ آنے کے بعد یہی خیال کیا جا رہا تھا کہ مریم نواز سیاسی سرگرمیوں میں بھرپور طریقے سے نہ صرف حصہ لیں گی بلکہ مولانا کے آزادی مارچ میں بھی مریم نواز کی شرکت کا امکان ظاہر کیا جا رہا تھا ۔
تاہم اب مسلم لیگ ن کے ذرائع نے اس حوالے سے ہونے والی تمام قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پارٹی قائد نواز شریف کی خرابی صحت کے باعث مریم نواز نے فوری طور پر سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ مریم نواز مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ میں بھی شریک نہیں ہوں گی۔نواز شریف کی صحت میں بہتری آنے تک مریم نواز سیاسی سرگرمیوں سے دور رہیں گی۔ جے یو آئی کی آل پارٹیز کانفرنس نے دھرنا جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے جبکہ مولانا فضل الرحمن نے شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کی عدم شرکت پر ان سے موقف واضح کرنے کا مطالبہ کردیا جلاس میں بلاول بھٹو زرداری اور شہباز شریف کے بجائے ان کی سیاسی جماعتوں کے وفود شریک ہوئے۔ (ن) لیگ کے وفد کی قیادت ایاز صادق نے کی، پیپلز پارٹی کے راجہ پرویز اشرف، نوید قمر، نیئر بخاری اور فرحت اللہ بابر، اے این پی کی طرف سے زاہد خان ، قومی وطن پارٹی کے آفتاب شیرپاؤ اور دیگر سیاسی رہنما اے پی سی میں شریک ہوئے۔
آل پارٹیز کانفرنس میں شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کی عدم شرکت پر مولانا فضل الرحمان نے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی سے اپنی پوزیشن واضح کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیا حکومت کے خلاف احتجاج صرف جے یو آئی کا فیصلہ تھا؟ آپ لوگ ناجائز حکومت سے نجات چاہتے ہیں یا ان کے اقتدار کو طول دینا چاہتے ہیں؟ اگر مشترکہ فیصلہ کرنا ہے تو ہماری جماعت اسمبلیوں سے استعفوں کے لیے بھی تیار ہےاجلاس میں شریک جے یو آئی قیادت اور اپوزیشن جماعتوں نے فیصلہ کیا کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج اور دھرنا جاری رہے گا تاہم اپوزیشن جماعتوں نے یہ بھی کہا کہ مذاکرات کا آپشن اس صورت میں بھی کھلا رہے گا,مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہماری ذمہ داری ہے کہ عوام کی حکمرانی کے لیے ٹھوس اور جامع حکمت عملی بنائیں، موجودہ صورتحال کا تقاضا ہے کہ سب اپنے مفادات کو عوامی مشکلات پر ترجیح نہ دیں، سیاسی جماعتیں اسٹینڈ لیں، جے یو آئی ہراول دستہ ہوگی، عوامی بالادستی چاہتے ہیں تو فیصلے کا یہی وقت ہے، میری جماعت کے ارکان کے استعفے میرے پاس پڑے ہیں۔واضح رہے کہ جے یو آئی نے اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے وزیراعظم کو مستعفی ہونے کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن میں توسیع کردی ہے۔اے پی سی میں آزادی مارچ اور مطالبات کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا تاہم اب اے پی سی اور مذاکرات کی اندرونی کہانی سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے اپوزیشن جماعتوں کو ان ہاؤس (ایوان کے اندر) سے تبدیلی کا اشارہ دیا ہے، پارلیمان میں حکومت کی تبدیلی کی جانب آگے بڑھنے پر بھی مشاورت کی گئی۔ ……….


