اور آئینی ترمیم منظور ہوگئی …
( اصغر علی مبارک ) میثاق جمہوریت کا ادھورا خواب مکمل, صدر مملکت کے آئینی ترمیمی بل پر دستخط سے منظور ہوگئی ہے

پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے منظوری کے بعد 26 ویں آئینی ترمیم پر صدر مملکت آصف علی زرداری نےدستخط کردیئے۔صدر مملکت کےدستخط سےاب 26 ویں آئینی ترمیم بل قانون بن گیا ہے۔ ایوان صدر میں 26 آئینی ترمیم پر دستخط کی تقریب میں پارلیمنٹرینز بھی شریک ہوئے۔ صدر مملکت کو فجر کی نماز کے بعدصبح 6 بج 26 ویں آئینی ترمیم پر دستخط کے لیے آئینی ترمیمی بل ایوان صدر بھجوایا گیاتھا، آئینی ترمیمی بل پر دستخط کے لیے ایوان صدر میں صبح ساڑھے 8 بجے شیڈول تقریب کا وقت تبدیل کردیا گیا تھا ،
قبل ازیں اس موقع پر ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ملک میں لوگ انصاف کے لیے ترس رہے ہیں، آج ایک تاریخی دن ہے، قومی یکجہتی اور اتفاق رائے کی شاندار مثال ایک بار پھر قائم ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج آئین میں 26 ویں ترمیم ہوئی ہے، حکومتوں کو گھر بھیجا جاتا تھا، وزرائے اعظم کو گھر بھیجا جاتا تھا، قومی یکجہتی اور اتفاق رائے کی شاندار مثال ایک بار پھر قائم ہوئی ایک پاناما تھا جو ختم ہوگیا اقامہ پر سزا دی گئی، آج میثاق جمہوریت کا ادھورا خواب پایہ تکمیل کو پہنچ گیا، ماضی میں جو ہوا اب کسی وزیراعظم کو گھر نہیں بھیجا جاسکے گا۔ آئینی ترمیم بل کی منظوری پر تمام جماعتوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں، کاش پی ٹی آئی بھی اس میں شامل ہوتی تو بہت اچھا ہوتا۔ وزیراعظم کے خطاب کے بعد اسپیکر نے قومی اسمبلی کا اجلاس بروز منگل شام 5 بجے تک ملتوی کردیا۔ ایوان بالا سینیٹ سے 26ویں آئینی ترمیمی بل کی دو تہائی اکثریت کی منظوری کے بعد ایوان زیریں قومی اسمبلی نے بھی اس کی کثرت رائے سے منظوری دی تھی۔اس موقع پر ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ میثاق جمہوریت کا ادھورا خواب پایہ تکمیل کو پہنچ گیاہے، ماضی میں جو ہوا اب کسی وزیراعظم کو گھر نہیں بھیجا جاسکے گا۔ملک میں لوگ انصاف کے لیے ترس رہے ہیں، آج ایک تاریخی دن ہے، قومی یکجہتی اور اتفاق رائے کی شاندار مثال ایک بار پھر قائم ہوئی ہے۔ آج آئین میں 26 ویں ترمیم ہوئی ہے، حکومتوں کو گھر بھیجا جاتا تھا، وزرائے اعظم کو گھر بھیجا جاتا تھا، قومی یکجہتی اور اتفاق رائے کی شاندار مثال ایک بار پھر قائم ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ آج آئین میں 26ویں ترمیم ہوئی، ایک پاناما تھا جو ختم ہوگیا اقامہ پر سزا دی گئی، آج میثاق جمہوریت کا ادھورا خواب پایہ تکمیل کو پہنچ گیا، ماضی میں جو ہوا اب کسی وزیراعظم کو گھر نہیں بھیجا جاسکے گا۔ آئینی ترمیم بل کی منظوری پر تمام جماعتوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں، کاش پی ٹی آئی بھی اس میں شامل ہوتی تو بہت اچھا ہوتا۔ وزیراعظم کے خطاب کے بعد اسپیکر نے قومی اسمبلی کا اجلاس بروز منگل شام 5 بجے تک ملتوی کردیا۔حکومت کو بل کی منظوری کرانے اور اسے قانون بنانے کے لیے 224 ووٹ درکار تھے۔ حکمران مسلم لیگ (ن) کی قومی اسمبلی میں 111، پیپلزپارٹی کی 69 نشستیں ، ایم کیو ایم پاکستان کی 22، مسلم لیگ (ق) 5، استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کے 4 اراکین ہیں جب کہ مسلم لیگ ضیا، بلوچستان عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی کے ایک ایک رکن ہے۔ جے یو آئی (ف) کے 8 اراکین کی حمایت کے بعد بھی یہ تعداد 219 ہوگی اور حکومت کو دو تہائی اکثریت کے ساتھ آئینی ترمیم پاس کروانے کے لیے مزید 5 ارکان کی ضرورت تھی۔ ترمیم کی شق وار منظوری دی گئی، مبینہ طور پر تحریک انصاف کے حمایت یافتہ 4 آزاد اراکین نے آئینی ترامیم کے حق میں ووٹ دیا، عثمان علی، مبارک زیب خان، ظہورقریشی، اورنگزیب کھچی اور مسلم لیگ (ق) کے چوہدری الیاس نے ترامیم کےحق میں ووٹ دیا۔ حکمران اتحاد کے 215 میں سے 213 ارکان نے ووٹ کیا، عادل بازئی کے علاوہ حکمران اتحاد کے تمام اراکین نے ووٹ دیا، اجلاس کی صدارت کے باعث اسپیکر قومی اسمبلی نے اپنا ووٹ نہیں دیا، جے یو آئی (ف) کے 8 ارکان نے ووٹ دیا۔بعد ازاں اسپیکر ایاز صادق نے کہا کہ 26 ویں آئینی ترمیم کے حق میں 225 ووٹ دیئے گئے۔ ترمیم کی منظوری کے بعد وزیر اعظم شہاز شریف نے ایوان میں مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات کی، شہباز شریف نے ایوان میں موجود بیرسٹر گوہر اور اسد قیصر سے بھی ملاقات کی۔ اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ترمیم پیش کرنے کی تحریک پیش کی، قبل ازیں اجلاس کے دوران وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 26 ویں آئینی ترمیم کی تحریک پیش کی، اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2006 میں میثاق جمہوریت کا معاہدہ ہوا، اس معاہدے کے بہت سارے نکات پر عمل ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ بازو دبا کے 19 ویں ترمیم کروائی گئی، ہم نے 8 صفر سے کچھ تعیناتیاں ریجیکٹ کی گئی، ہماری سفارشات کو پرے پھینکا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آئینی ترمیم میں وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری سمیت سب نے کام کیا، خورشید شاہ نے خصوصی کمیٹی کی سربراہی کی، میں تمام اتحادیوں کا شکریہ ادا کروں گا، مولانا فضل الرحمٰن کا کردار بھی قابل تحسین رہا۔ اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ 26 ویں آئینی ترمیم سینیٹ نے دو تہائی اکثریت سے منظور کی۔ اجلاس کے دوران مولانا فضل الرحمٰن قومی اسمبلی میں پہنچے جہاں انہوں نے نواز شریف سے مصافحہ کیا۔ وزیر قانون نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ تین سینئر موسٹ ججز میں سے پارلیمانی کمیٹی چیف جسٹس کی نامزدگی کرے گی، کچھ ترامیم جے یو آئی کی طرف سے پیش کی گئیں، ان ترامیم کو حکومتی اتحاد نے سینیٹ میں سپورٹ کیا، آرٹیکل 81 میں کچھ ترامیم کی گئیں۔ تین3موسٹ ججزمیں سے پارلیمانی کمیٹی چیف جسٹس کی نامزدگی کرےگی، کچھ ترامیم جے یو آئی کی طرف سے پیش کی گئیں، ان ترامیم کو حکومتی اتحاد نے سینیٹ میں سپورٹ کیا، وزیر قانون کی جانب سے 26 ویں آئینی ترمیم کی تحریک پیش کیے جانے کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی نے اجلاس کو کچھ دیر کے لیے ملتوی کیا۔
قبل ازیں ملکی ایوان بالا (سینیٹ) نے دوتہائی اکثریت سے 26 ویں آئینی ترمیم منظور کی تھی۔ سینیٹ میں آئینی ترامیم کے حق میں 65 اور مخالفت میں 4 ووٹ آئے، حکومت کے 58، جمعیت علمائے اسلام کے 5 اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے 2 ووٹ آئے۔ ترمیم کی شق وار منظوری کے دوران پی ٹی آئی، سنی اتحاد کونسل اور ایم ڈبلیو ایم کے ارکان ایوان سے چلے گئے تھےبعد ازاں اسپیکر ایازصادق کی صدارت میں قومی اسمبلی کااجلاس دوبارہ شروع ہوا، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا کہ آئینی ترمیم کی منظوری میں سب سے زیادہ کردار فضل الرحمٰن کا ہے، سیاست میں آصف زرداری کے بعد مولانا فضل الرحمٰن کو مانتا ہوں، مولانا فضل الرحمٰن کا اہم کردار ہے یہ تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ بل میں سب سے زیادہ میری محنت نہیں، مولانا فضل الرحمٰن کی ہے، میثاق جمہوریت پر محترمہ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف نے دستخط کیے، بے شک اپوزیشن اس بل کو ووٹ نہ دیں یہ ان کا حق ہے، ہمارے بھائی ووٹ دیں یا نہیں ان کی بھی سیاسی کامیابی ہے، 18 ویں ترمیم کے وقت آئین سے آمر کے کالے قوانین نکالے۔ 18 ویں ترمیم میں وفاق کے وسائل صوبوں کے ساتھ شیئر کیے گئے، اس طرح آج عدالت کے اختیارات کو بھی برابری کی سطح پر لارہے ہیں۔ کیا ہم بھول چکے ہیں کہ عدالت کیا تاریخ کیا ہے، ہماری عدالت کا جمہوریت، آئین کا تحفظ اور آمریت کا راستہ روکنا تھا، ڈکٹیٹرشپ کی کامیابی میں صف اول کا کردار تو عدالت کارہا ہے۔ جنرل (ر) مشرف نے ملک پر راج کیا تو ان کو اجازت عدالت نے دی، یونیفارم میں صدر کا الیکشن لڑنے کی اجازت بھی عدالت نے دی، ڈکٹیٹرشپ کی کامیابی میں صف اول کا کردار تو عدالت کا رہا اپوزیشن کے دوست کالے سانپ کی بات کررہے ہیں، میری نظر میں اس آئین کے لیے کالا سانپ افتخار چوہدری والا لعنت ہے، آپ ہماری وزیر اعظم کو انصاف نہ دلا سکے، ہم نے عدم اعتماد کو جائز طریقہ سمجھا، عدالت غیر آئینی طریقے سے ہم سے اختیار چھینتی ہے، قائد اعظم محمد علی جناح نے آئینی عدالت کی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک وزیراعظم کو خط نہ لکھنے پر فارغ کردیا گیا، کالے سانپ نے ایک نہیں کئی وزرائے اعظم کو فارغ کرایا، جسٹس دراب پٹیل پی سی او کا حلف لیتا تو چیف جسٹس بنتا، جسٹس دراب پٹیل نے بھی آئینی عدالت کی تجویز دی۔
ہم نے کہا کہ عدالتی اصلاحات ہونی چاہیں تو افتخار چوہدری نے اٹھارویں ترمیم پھینک دی، آئینی عدالت کی سوچ آج کی نہیں بلکہ یہ بحث قائد اعظم محمد علی جناح سے شروع ہوئی۔ پی ٹی آئی اور جے یو آئی کے مطالبے پر آئینی عدالت چھوڑ کر آئینی بینچ بنانے جارہے ہیں، افتخار چوہدری کی بلیک میلنگ میں 19 ویں ترمیم منظور کی گئی، آئینی عدالت کی سوچ آج کی نہیں بلکہ یہ بحث قائد اعظم محمد علی جناح سے شروع ہوئی، 2022 میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں بھی آئینی عدالت کی حمایت کی گئی۔رضار بانی نے اُسی کانفرنس میں کہاکہ آئینی عدالت نہیں تو آئینی بینچ دیاجائے، قائداعظم کے دور سے جو سوچ چلی آرہی ہے ہم وہ آج پوری کرنے جارہے ہیں، پوری دنیا میں ایسی مثال نہیں کہ جج جج کو لگائے اور ہٹائے، کہتے ہیں پارلیمان کون ہوتا ہے، ہم عوام کے نمائندے ہیں، 1964 میں بینظیر بھٹو وزیر اعظم تھیں، ان سے برداشت نہیں ہورہا تھا کہ بینظیر جج کی تعیناتی کرے۔ یہ اختیار وزیر اعظم سے چوری کرکے جیب میں رکھا، آئین کے چیمپئنز نے مشرف کے دور میں حلف لیا۔ قائد حزب اختلاف عمر ایوب نے کہا کہ یہ پورا پراسس بدبودار پراسس ہے، آپ آزاد عدلیہ کو ختم کرنے جارہے ہیں، یہ اسمبلی ترمیم کا مینڈیٹ نہیں رکھتی۔ پاکستانی عوام فارم 47 کی حکومت کا مینڈیٹ تسلیم نہیں کرتے، آئینی ترمیم کے ذریعے یہ آزاد عدلیہ کو ختم کرنے جارہے ہیں، اسپیشل کمیٹی کا مقصد پارلیمنٹرین کے حقوق کا تحفظ کرنا تھا، پارلیمنٹیرین کےحقوق کاتحفظ کرنیوالی اس کمیٹی کاغلط استعمال کیاگیا، کیا جلدی تھی کہ رات کو اس وقت اجلاس ہورہا ہے،اسپیکر ایازصادق اور اپوزیشن لیدر عمرایوب میں تکرار ہوئی، اسپیکر ایاز صادق نے کہا کہ صرف آئینی ترمیم پر بات کریں، عمرایوب نے کہا کہ بات کرنا ہمارا حق ہے روکنا برداشت نہیں کریں گے، آئینی ترمیم کا حصہ نہیں بنیں گے، پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ کو ہمیشہ کیلئے محکموم بنایا جائے گا، پاکستان کی آزاد عدلیہ کو حکومتی نمائندگان نے آج جتنی تنقید کا نشانہ بنایا، میاں صاحب نے جو شعر پڑھا اس سے عدلیہ کی توہین کی اس کی مذمت کرتے ہیں، آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ کو ہمیشہ کے لیے محکموم بنایا جائے گا، آج پاکستانی آئینی تاریخ اور عدلیہ کیلئے سیاہ دن ہے، یہ چاہتے ہیں ہر عدالت ان کے ماتحت ہو۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ اس ملک میں سب سے پہلے آئین پر ڈاکہ 1958 میں پڑا، پاکستان میں 1958 میں پہلا آئینی حادثہ ہوا۔ آئین کی بات کرنے والوں کو تاریخ پر نظر ڈالنی چاہیے، آئین کی بات کرنے والوں کو تاریخ پر نظر ڈالنی چاہیے، سیاستدانوں نے بہت سی قربانیاں دی ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ باعزت طریقے سے ریٹائرڈ ہورہے ہیں۔ 26 ویں ترمیم کا واحد مقصد اس ایوان کے وقار اور عظمت کو بحال کرنا ہے، جسٹس فائز عیسیٰ واحد ہیں جنہوں نے عدلیہ کی عزت بحال کی، سیاستدانوں نے بہت سی قربانیاں دی ہیں، 26 ویں آئینی ترمیم کو سینیٹ نے منظور کیا ہم میثاق جمہوریت کی اصل روح کو بحال کررہے ہیں، بانی پی ٹی آئی اور مولانافضل الرحمان کےبھی میثاق جمہوریت پردستخط ہیں، اس ایوان کی تمام پارٹیوں کے میثاق جمہوریت پر دستخط ہیں، عدلیہ میں 26 لاکھ کیسز زیرالتوا ہیں، دنیا میں 144 ویں نمبر پر ہے، عدلیہ کے 17، 18 لوگ آسمان سے آئے کہ احتساب نہیں ہوسکتا، اتنا آزاد نہیں کرنا چاہیے تھا کہ وہ ہماری آزادی چھین لیں، قید سیاستدان کاٹیں، شہید سیاستدان ہوں، احتساب بھی سیاستدان بھگتیں، ہم اس آئینی ترمیم کے ذریعے ایوان کو بااختیار بنارہے ہیں۔ ترمیم سے17لوگوں سےغیرآئینی طاقت لیکر24کروڑکےنمائندوں کومنتقل کررہےہیں، کیا ایسا ہوسکتا ہے 8 لوگ بیٹھ کر پارلیمان کو یرغمال بنالیں، اداروں کی عزت ان میں بیٹھے شخصیات سے ہوتی ہے، آج عدلیہ کو ڈرائی کلین کیا جارہا ہے تو اس کی بھی وجہ ہے۔ خواجہ آصف کی تقریر کے بعد میاں نواز شریف نے کہا کہ عدلیہ کے ہاتھوں جو دکھ ہم نے اٹھائے ہیں، عدلیہ کے کردار پر شعر ہے، اس کے بعد انہوں نے چند اشعار پڑھے۔ سینیٹ کے بعد 26 ویں آئینی ترمیم کی قومی اسمبلی سے منظوری کیلئے بلائے گئے قومی اسمبلی اجلاس میں خواجہ آصف کے خطاب کے بعد اسپیکر نے مولانا فضل الرحمان کو اظہار خیال کرنے کیلئے دعوت دی لیکن نواز شریف اپنی نشست پر کھڑے ہوگئے اور انہوں نے اسپیکر سے بات کرنے کی اجازت طلب کی۔

اسپیکر سے اجازت ملنے کے بعد نواز شریف نے کہا کہ خواجہ آصف کو ایک شعر دینا چاہتا تھا تا کہ وہ اپنی تقریر کے آخر میں پڑھ کر سناتے لیکن خواجہ آصف اپنی تقریر ختم کر چکے ہیں، مجھے اجازت ہو تو میں پڑھ دیتا ہوں۔

اسپیکر سے اجازت ملنے کے بعد نوازشریف نے کہا کہ جو دکھ ہم نےعدلیہ کے ہاتھوں اٹھائے ہیں، عدلیہ کے کردار پر ایک شعر ہے۔

بعد ازاں نوازشریف نے شعر پڑھ کر سنایا کہ ’ناز و انداز سے کہتے ہیں کہ جینا ہوگا، زہر بھی دیتے ہیں تو پینا ہوگا، جب میں پیتا ہوں تو کہتے ہیں کہ مرتا بھی نہیں، جب میں مرتا ہوں تو کہتے ہیں کہ جینا ہوگا‘۔

شعر مکمل کرنے کے بعد مولانا فضل الرحمان نے مسکراتے ہوئے نواز شریف کی جانب سے پیش کیے گئے شعر میں غلطی کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ نوازشریف کا شعر موقع کی مناسبت سے ضرور ہے لیکن شاعرانہ وزن سے خالی رہ گیا، مولانا کے چٹکلے سے ایوان میں قہقہے لگ گئے۔

انہوں نے نواز شریف کی جانب سے پیش کیے گئے شعر میں غلطی کی نشاندہی اور درستگی کرتے ہوئے کہا کہ دوسرے مصرع میں ’زہر بھی دیتے ہیں تو پینا ہوگا‘ نہیں ہوگا بلکہ درست اس طرح ہوگا کہ’ زہر دیتے ہیں تو کہتے ہیں کہ پینا ہوگا۔‘جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میری تقریر تنقید کے بدلے نہیں تعریف پر مبنی ہوگی، میثاق جمہوریت میں آئینی عدالت کا بھی تذکرہ تھا، میثاق جمہوریت مشکل میں رہنمائی کے لیے ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ آئین مقدم ہوگا میری تقریر تنقید کے بدلے نہیں تعریف پر مبنی ہوگی، سپریم کورٹ کے جج صاحبان کی مدت ملازمت میں اضافہ کردیا جائے۔ جب بات آئین کی آئے تو ہم سب کی نظر میں اس کی حیثیت میثاق ملی کی ہے، آج کی آئینی ترامیم پیش کرنے پر بلاول بھٹو کو بھرپور خراج تحسین پیش کرتا ہوں، میاں نواز شریف اور وزیراعظم شہباز شریف کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹ کے بعد اب ہم 26 ویں ترمیم قومی اسمبلی سے پاس کروانے کی پوزیشن میں ہیں، ملکی استحکام کیلئے آئینی ترمیم کا ساتھ دے رہے ہیںِ، سینیٹ کے بعد اب ہم 26 ویں ترمیم قومی اسمبلی سے پاس کروانے کی پوزیشن میں ہیں، ملکی استحکام کے لیے آئینی ترمیم کا ساتھ دے رہے ہیںِ۔ پاکستان کے عوام کو مسائل سے نجات دلانی ہے، جتنی بھی ترامیم کرلیں لیکن ہمیں اپنی آئینی تاریخ کو بھی دیکھنا ہوگا، قیام پاکستان کے بعد آئین بنانے میں ہمیں 9 سال لگے، ہمیں مہنگائی اور بے روزگار ختم کرنا ہوگی، ایک باختیار، موثر بلدیاتی نظام ہی جمہوریت کو مضبوط بناسکتا ہےواضح رہے کہ اس سےقبل چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت اجلاس میں ملک کے ایوان بالا سینیٹ نے 26ویں آئینی ترمیمی بل 2 تہائی اکثریت سے منظور کیا تھا۔ چیرمین سینیٹ نے کہا تھاکہ سینیٹ کے 65 ارکان نے 26ویں آئینی ترمیمی بل کے حق میں ووٹ دیا جب کہ سینیٹ کے 4ارکان نے 26ویں آئینی ترمیمی بل کے خلاف ووٹ دیا ۔

اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے 26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری پر قوم کو مبارکباد کے پیغام میں کہا کہ آج کا دن ملکی تاریخ میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے، اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ پاکستان کے منتخب نمائندوں نے پاکستان کے آئین میں 26 آئینی ترمیم کا بل منظور کیا ہے آج ملک کے منتخب نمائندوں نے ملکر آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کیلئے اہم سنگ میل عبور کیا ہے، اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کے تمام زعماء خراج تحسین کے مستحق ہیں، جن کی مسلسل محنت اور جدو جہد کے ذریعے 26 آئینی ترامیم کی منظوری کا حصول ممکن ہوا، سردار ایاز صادق نے کہا کہ دونوں ایوانوں سے 26 ویں آئینی ترمیم کی دو تہائی اکثریت سے منظوری پارلیمنٹ کی بڑی کامیابی ہے، تمام سیاسی جماعتوں نے 26 آئینی ترمیم کی منظوری میں کلیدی کردار ادا کیا، اسپیکر نے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، وزیرِ قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، وزیرِداخلہ محسن رضا نقوی، مشیرِ وزیرِ اعظم رانا ثناء اللہ اور وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ کی کوششوں کو سراہا.