مکہ معاہدہ ;پاکستان اور سعودی عرب کی توثیق; مکہ دفاعی معاہدے کا مکمل اردو ترجمہ
(اصغر علی مبارک)
پاکستان اور سعودی عرب نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کا عمل مکمل کر لیا ہے.
مکہ دفاعی معاہدے کا مکمل اردو ترجمہ

جمہوریہ ترکی کی حکومت، اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حکومت اور مملکت سعودی عرب کی حکومت (جنہیں آگے چل کر انفرادی طور پر ’’فریق‘‘، مجموعی طور پر ’’فریقین‘‘ یا ’’بنیادی فریقین‘‘ کہا جائے گا)؛
خودمختاری کے باہمی احترام، اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں، بین الاقوامی قانون اور متعلقہ ملکی قوانین کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے، اور دفاعی شراکت داری سے متعلق پہلے سے موجود تعاون، رابطہ کاری اور انضمام کے طریقہ کار کو ایک مشترکہ دفاعی معاہدے میں تبدیل کرنے پر اتفاق کرتے ہوئے؛
اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ فریقین کے درمیان مشترکہ مفادات کی بنیاد پر تعلقات کو مزید فروغ دیا جائے گا۔ اس تعاون میں مسلح افواج کی باہمی مطابقت، تیاری اور مؤثریت کو بہتر بنانا شامل ہوگا، تاکہ فریقین اور ان کے عوام کے درمیان دوستی اور برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
فریقین ایک دوسرے کے داخلی معاملات میں عدم مداخلت، خودمختاری کی مساوات، علاقائی سالمیت اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحدوں کے ناقابلِ تنسیخ ہونے کے اصولوں کی اہمیت کی توثیق کرتے ہیں۔ وہ اس امر کا بھی اعلان کرتے ہیں کہ کسی فریق کی آزادی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے خلاف مسلح حملے کی صورت میں باہمی مدد کے ضروری اقدامات کرنا ناگزیر ہے۔
فریقین عالمی اور علاقائی امن، استحکام اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق مشترکہ کوششوں اور رابطہ کاری کی اہمیت تسلیم کرتے ہیں۔
فریقین دہشت گردی کے خلاف جنگ میں متعلقہ اداروں کے درمیان موجودہ تعاون کو مزید گہرا کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں۔
وہ بین الاقوامی امور پر مشترکہ مؤقف اختیار کرنے کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی تنظیموں میں باہمی تعاون کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔
فریقین دفاع اور دفاعی صنعت کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کی ضرورت کو تسلیم کرتے ہوئے درج ذیل امور پر اتفاق کرتے ہیں۔
شق 1: آزادی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا تحفظ
فریقین ایک دوسرے کی آزادی، خودمختاری، علاقائی سالمیت اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحدوں کے ناقابلِ تنسیخ ہونے کو یقینی بنانے اور ان کے تحفظ کے لیے تعاون کریں گے۔
اگر کسی بھی فریق کی علاقائی سالمیت، خودمختاری یا بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحدوں کو خطرہ لاحق ہو یا انہیں نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو تو تمام فریق اس خطرے یا خدشے کو ختم کرنے کے لیے تمام ضروری ذرائع استعمال کریں گے۔
شق 2: ایک ملک پر حملہ، تمام ممالک پر حملہ تصور ہوگا
کسی ایک فریق کے خلاف بیرونی طور پر ہونے والے مسلح حملے کو تمام فریقوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔
اگر کسی ایک فریق پر کسی دوسرے ملک یا ممالک کے گروہ کی جانب سے مسلح حملہ یا فوجی جارحیت کی جاتی ہے تو دیگر فریق فوری طور پر حملے کا شکار ہونے والے فریق کی مدد کریں گے اور باہمی امداد کے وہ تمام ذرائع بروئے کار لائیں گے جو وہ ایک دوسرے کو فراہم کر سکتے ہیں۔
اس مقصد کے لیے، اور اقوام متحدہ کے منشور کی شق 51 کے تحت تسلیم شدہ حقِ دفاع پر عمل درآمد ممکن بنانے کے لیے، فریقین مطلوبہ امداد کا معروضی جائزہ لینے کے بعد فراہم کی جانے والی مدد کی نوعیت اور دائرۂ کار کا تعین کریں گے۔
فریقین اپنے دستیاب وسائل کی حدود میں رہتے ہوئے تعاون کریں گے، جس میں فوجی ذرائع اور صلاحیتیں بھی شامل ہوں گی۔
شق 3: دفاع، دفاعی صنعت اور سلامتی میں تعاون
شق 2 کے مطابق فریقین دفاع، دفاعی صنعت اور سلامتی کے شعبوں میں قریبی تعاون کریں گے، اپنی مسلح افواج کے درمیان تعلقات کو فروغ دیں گے اور دفاعی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے باہمی طور پر طے شدہ سرگرمیاں انجام دیں گے۔
شق 4: بین الاقوامی سلامتی پر مشاورت
فریقین بین الاقوامی سلامتی کے معاملات پر باقاعدگی سے مشاورت کریں گے۔
وہ اپنے اہم مفادات اور قومی سلامتی کے تحفظ اور قومی سلامتی کو لاحق خطرات ختم کرنے کے لیے مشترکہ جائزوں کی بنیاد پر انفرادی اور مشترکہ اقدامات تیار کرنے میں ایک دوسرے کی مسلسل اور مؤثر مدد کریں گے اور تعاون کریں گے۔
شق 5: دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششیں
فریقین دہشت گردی کی تمام شکلوں اور مظاہر کے خلاف موجودہ تعاون اور مشترکہ کوششوں کو مضبوط بنائیں گے، جن میں عملی اور آپریشنل سطح پر تعاون بھی شامل ہوگا۔
اس تعاون کا مقصد ایسی دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہے جو علاقائی اور بین الاقوامی استحکام اور سلامتی پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔
شق 6: فوجی تربیت، مشقیں اور اہلکاروں کا تبادلہ
امن اور جنگ، دونوں حالات میں، فریقین دفاعی اداروں کے اہلکاروں کے باہمی تبادلے، مشترکہ تربیتی پروگراموں اور فوجی مشقوں کی حوصلہ افزائی کریں گے۔
وہ ایسی تعیناتیوں اور سرگرمیوں کو بھی فروغ دیں گے جن کا مقصد فریقین کی مسلح افواج کے درمیان باہمی مطابقت بڑھانا اور ان کی دفاعی صلاحیتوں کو بہتر بنانا ہو۔
شق 7: دفاعی صنعت اور ٹیکنالوجی میں اشتراک
اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے فریقین باہمی اتفاق کی بنیاد پر دفاعی صنعت سے متعلق اداروں کے درمیان ٹیکنالوجی کے تبادلے، مشترکہ تکنیکی ترقی، مشترکہ پیداوار اور دفاعی صنعتی تنظیموں کے مابین تعاون کی حمایت کریں گے۔
اس تعاون کے اہم شعبے درج ذیل ہوں گے:
الف۔ دفاعی شعبے میں مشترکہ پیداوار کی حوصلہ افزائی۔
ب۔ ایسی ٹیکنالوجیز کے لیے مشترکہ تحقیق اور ترقی کے منصوبوں کے ذریعے دفاعی جدت کو فروغ دینا جن کے لیے خصوصی مہارت درکار ہو۔
ج۔ فریقین کے ممالک کے اندر ماہرین کے ذریعے متعلقہ اہلکاروں کی تربیت اور فوجی صنعت کی معاونت
د۔ دفاعی صنعت، دفاعی تحقیق و ترقی اور جدت کے شعبوں میں مہارت اور حاصل شدہ تجربات کا تبادلہ۔
ہ۔ تعاون کے دیگر ایسے شعبے جن پر فریقین باہمی اتفاق کریں۔
شق 8: اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا قیام
1۔ کمیٹی کی تشکیل اور ذمہ داریاں
بنیادی فریقین ایک ’’اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی‘‘ قائم کریں گے، جس میں فریقین کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور چیفس آف جنرل اسٹاف شامل ہوں گے۔
کمیٹی کی ذمہ داریوں میں مشترکہ دفاع کے لیے اسٹریٹجک رہنمائی فراہم کرنا، فریقین کے درمیان دفاعی اور سلامتی کے تعاون کو فروغ دینا اور معاہدے پر عمل درآمد کے دوران پیش آنے والی رکاوٹوں کو دور کرنا شامل ہوگا۔
کمیٹی کا اجلاس سال میں دو مرتبہ ہوگا اور اجلاس کی میزبانی باری باری ہر فریق کرے گا۔ اگر ضروری سمجھا گیا تو فریقین کے سربراہان سال میں ایک مرتبہ ملاقات کر سکتے ہیں۔
2۔ ذیلی کمیٹیاں
اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی ضرورت محسوس ہونے پر ذیلی کمیٹیاں قائم کر سکتی ہے۔
3۔ اضافی معاہدے اور پروٹوکول
جہاں ضروری ہو، اس معاہدے میں طے شدہ تعاون کے شعبوں پر عمل درآمد کے لیے فریقین اضافی معاہدوں یا پروٹوکولز پر مذاکرات کریں گے۔
4۔ نئے رکن ممالک کی شمولیت
بنیادی فریقین کے اتفاقِ رائے سے اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کو اختیار حاصل ہوگا کہ وہ اس معاہدے میں دیگر فریقوں کی شمولیت کے طریقہ کار اور اصولوں کا تعین اور منظوری دے۔
5۔ سیکریٹریٹ کا قیام
اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کی معاونت کے لیے مملکت سعودی عرب میں صدر دفتر رکھنے والا ایک سیکریٹریٹ قائم کیا جائے گا۔
سیکریٹریٹ سعودی عرب کے ساتھ اپنے صدر دفتر سے متعلق معاہدہ کرے گا۔ اس کے کام کرنے کے طریقہ کار، تنظیمی ڈھانچے اور قیام سے متعلق اصولوں کا بعد میں بنیادی فریقین کے اتفاقِ رائے سے تعین کیا جائے گا۔
6۔ سیکریٹری جنرل کی تقرری
سیکریٹریٹ کی سربراہی تین سالہ مدت کے لیے مقرر کردہ سیکریٹری جنرل کرے گا۔ یہ عہدہ بنیادی فریقین کے درمیان باری باری دیا جائے گا۔
پہلے سیکریٹری جنرل کا تعلق اسلامی جمہوریہ پاکستان سے ہوگا۔
7۔ موجودہ فوجی کمیٹیوں کا تسلسل
اس شق کی کوئی بھی عبارت فریقین کے درمیان پہلے سے موجود فوجی تعاون کی کمیٹیوں کے کام کو متاثر نہیں کرے گی۔
شق 9: انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ
انٹیلی جنس تعاون کو گہرا کرنے اور اس سلسلے میں ضروری رابطہ کاری کے لیے فریقین باہمی طور پر طے شدہ محفوظ ذرائع کے ذریعے انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ کریں گے۔
اس عمل میں معلومات کی سلامتی، ڈیٹا کے تحفظ اور رازداری کے اصولوں کی پابندی کی جائے گی۔
شق 10: لاجسٹک اور فوجی سازوسامان کی فراہمی
لاجسٹک معاونت کی خدمات کی دستیابی اور باہمی مطابقت سے مشروط، فریقین امن، جنگ اور دیگر ہنگامی حالات میں ایک دوسرے کو لاجسٹک مدد فراہم کریں گے۔
اس مدد میں ہتھیار، گولہ بارود، ایندھن، اسپیئر پارٹس اور دیگر سازوسامان شامل ہوں گے۔
شق 11: معاہدے کی قانونی حیثیت
بین الاقوامی قانون اور فریقین کے متعلقہ ملکی قوانین کو متاثر کیے بغیر، فریقین اس معاہدے کو اس کی دفعات پر عمل درآمد کے لیے قانونی بنیاد تسلیم کریں گے۔
جہاں ضروری ہو، وہ اضافی قانونی اقدامات بھی تجویز کریں گے۔
شق 12: پہلے سے موجود بین الاقوامی معاہدے
یہ معاہدہ ان حقوق اور ذمہ داریوں کو متاثر نہیں کرے گا جو فریقین کے پہلے سے طے شدہ بین الاقوامی معاہدوں کے تحت انہیں حاصل ہیں یا ان پر عائد ہوتے ہیں۔
شق 13: خفیہ معلومات اور دستاویزات کا تحفظ
1۔ فریقین اس معاہدے کے تحت حاصل ہونے والی خفیہ معلومات اور دستاویزات کی رازداری برقرار رکھیں گے اور اپنے قومی قوانین کی پابندی کریں گے۔
2۔ خفیہ معلومات اور دستاویزات فریقین سے باہر کسی بھی ریاست، کمپنی یا فرد کے ساتھ شیئر نہیں کی جائیں گی۔
3۔ خفیہ معلومات اور دستاویزات تک رسائی صرف ضرورت کی بنیاد پر ان افراد کو دی جائے گی جن کے پاس متعلقہ سطح کی سکیورٹی کلیئرنس موجود ہو۔
شق 14: تنازعات کا حل
اس معاہدے کی تشریح یا اس پر عمل درآمد سے متعلق پیدا ہونے والے کسی بھی تنازع کو فریقین کے درمیان مشاورت اور مذاکرات کے ذریعے دوستانہ طور پر حل کیا جائے گا۔
شق 15: معاہدے میں ترمیم
اس معاہدے میں ترمیم بنیادی فریقین کے درمیان مشاورت اور متفقہ منظوری کے ذریعے کی جا سکتی ہے۔
شق 16: توثیق، نفاذ، مدت اور علیحدگی
1۔ توثیق اور نفاذ
اس معاہدے کی توثیق ہر فریق پر لاگو طریقہ کار کے مطابق کی جائے گی۔ معاہدہ اس تاریخ سے نافذ العمل ہوگا جس روز اس کی توثیق کی آخری دستاویز اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے سیکریٹریٹ میں جمع کرائی جائے گی۔
2۔ معاہدے کی مدت
یہ معاہدہ غیر معینہ مدت تک نافذ رہے گا۔
3۔ معاہدے سے علیحدگی
معاہدے کے نافذ ہونے کے دس سال مکمل ہونے کے بعد کوئی بھی فریق اس سے علیحدگی اختیار کر سکتا ہے، بشرطیکہ وہ سفارتی ذرائع سے دیگر فریقوں کو اپنی علیحدگی کے ارادے کی کم از کم تین ماہ قبل تحریری اطلاع دے۔
4۔ جاری سرگرمیوں اور منصوبوں کا تسلسل
معاہدے کے خاتمے یا کسی فریق کی علیحدگی سے ان سرگرمیوں یا منصوبوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا جن پر فریقین نے خاتمے یا علیحدگی کی تاریخ سے پہلے اتفاق کیا ہو اور جو اس وقت جاری ہوں۔
5۔ خفیہ معلومات کے تحفظ کی ذمہ داری
معاہدے کے خاتمے یا کسی فریق کی علیحدگی کے بعد بھی خفیہ معلومات اور دستاویزات کے تحفظ اور ان کے افشا کو روکنے سے متعلق فریقین کی ذمہ داریاں برقرار رہیں گی۔
دستخط اور مستند زبانیں
اس معاہدے پر ترکی، عربی اور انگریزی زبانوں میں تین اصل نسخوں میں دستخط کیے گئے ہیں۔ تینوں زبانوں کے متن یکساں طور پر مستند تصور ہوں گے۔
تاہم، اگر ان متون کی تشریح میں کوئی اختلاف پیدا ہو تو انگریزی متن کو فوقیت حاصل ہوگی۔
مقامِ دستخط: مکہ مکرمہ
تاریخ: جمعہ، 7 اگست 2026ء (24 صفر 1448 ہجری) مکہ معاہدہ مشترکہ دفاع اور علاقائی سلامتی کیلئے پاکستان ترکیہ اور سعودی عرب کےعزم کا عکاس ہے، پاکستان اور سعودی عرب نے اس معاہدے کی توثیق کے اپنے مراحل مکمل کرلیے ہیں
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے درمیان 7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں طے پانے والا ایک سہ فریقی دفاعی معاہدہ ہے۔
اہم نکات اور خصوصیات
- فریقین: سعودی عرب، اسلامی جمہوریہ پاکستان اور جمہوریہ ترکیہ۔
- دستخط کی تاریخ: 7 اگست 2026۔
- بنیادی اصول: اس معاہدے کا بنیادی اصول “ایک پر حملہ تینوں پر حملہ” (Collective Defense) تصور کیا گیا ہے، جو علاقائی سلامتی اور مشترکہ دفاعی ڈھانچے کو مضبوط کرتا ہے۔
- نوعیت: یہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا معاہدہ ہے اور کسی تیسرے ملک کے خلاف نہیں ہے۔
- ساخت: اس معاہدے کا متن 16 شقوں پر مشتمل ہے جسے توثیق کے لیے متعلقہ ممالک کے پارلیمانی و قانونی اداروں میں پیش کیا گیا ہے۔
- سیکریٹری جنرل: پاکستان فوج کے سابق جنرل لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود کو اس معاہدے کا پہلا سیکریٹری جنرل مقرر کیا گیا ہے۔
- وسعت: یہ معاہدہ خطے کے دیگر مسلم یا علاقائی ممالک کے لیے بھی کھلا ہے جو باہمی احترام اور پُرامن اصولوں پر کاربند رہنا چاہیں۔ا ہے۔ ‘ایک بیان میں اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ’اس معاہدے کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر بیرونی مسلح حملے کو تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا اور اس کا مقصد خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے جاری کوششوں کو مزید مضبوط بنانا ہے۔‘ ’ایکس‘ پر جاری بیان میں اسحاق ڈار کا مزید کہنا تھا کہ ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے سات اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں مشترکہ طور پر دستخط کیا، جو تینوں ممالک کی قیادت اور عوام کے درمیان برادرانہ تعلقات کی گہرائی کا عکاس ہے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ ’مکہ معاہدہ میں خطے کا کوئی بھی ملک شامل ہو سکتا ہے، جو اس کے بنیادی اصولوں کی پاسداری اور باہمی احترام، تعاون اور پرامن ذرائع سے اختلافات کے حل کے لیے آمادہ ہوں۔‘
دفتر خارجہ نے جمعے کے روز بتایا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کا عمل مکمل کر لیا ہے. ترجمان نے کہا کہ ترکیہ اب بھی سہ فریقی معاہدے کو اپنے ملکی قانونی طریقہ کار کے تحت منظوری کے مراحل سے گزار رہا ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا، ’’پاکستان اور مملکت سعودی عرب توثیق کا عمل پہلے ہی مکمل کر چکے ہیں، جبکہ ترکیہ اپنے ملکی قانونی ڈھانچے کے مطابق ضروری کارروائی کر رہا ہے۔‘‘
یہ تصدیق ایسے وقت سامنے آئی ہے جب انقرہ نے معاہدے کی منظوری کے لیے اسے ترک پارلیمان میں پیش کر دیا ہے، جس کے بعد پہلی بار اس کا متن منظر عام پر آیا ہے۔ اسلام آباد نے تاحال معاہدے کا متن جاری نہیں کیا۔
کابینہ کی منظوری کے باوجود پاکستان میں معاہدے کا متن عام نہ کیے جانے سے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا کہ ہر ملک بین الاقوامی معاہدوں کی منظوری اور توثیق کے لیے اپنے آئینی اور قانونی طریقہ کار پر عمل کرتا ہے۔
ترجمان کے مطابق، معاہدے کی توثیق اور اس پر عمل درآمد کے امور تینوں فریقوں کے درمیان زیرِ بحث ہیں، جن میں اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی بھی شامل ہے، جس کا آخری اجلاس 5 اکتوبر کو ہوا تھا۔
ترجمان نے ترک پارلیمان کی جانب سے جاری کردہ معاہدے کے 16 نکاتی متن کی توثیق کرتے ہوئے اس میں غیر اعلانیہ شقوں کی موجودگی کے تاثر کو مسترد کر دیا۔ ترجمان نے کہا، ’’اس میں کوئی خفیہ شقیں نہیں ہیں؛ معاہدے کی دفعات اور شقیں واضح اور صریح ہیں۔‘‘
معاہدے کی شق 2 کے تحت کسی بھی فریق پر بیرونی مسلح حملے کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کو بھی اس شق کے دائرے میں شامل کیے جانے سے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا کہ یہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور اقوام متحدہ کے منشور کی شق 51 سے مطابقت رکھتا ہے۔
ترجمان نے کہا، ’’اس معاہدے کا ہدف کوئی مخصوص ملک نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی قسم کی معاونت کی نوعیت اور دائرۂ کار کا فیصلہ تینوں ممالک حالات کا معروضی جائزہ لینے کے بعد اجتماعی طور پر کریں گے۔
اس حوالے سے مزید سوال پر ترجمان نے معاہدے کی اس شق کی جانب توجہ دلائی جس میں معاہدے کو فعال کرنے کا طریقۂ کار درج ہے۔ ان کے مطابق، اس ضمن میں کوئی بھی فیصلہ تینوں شراکت داروں کی صوابدید پر ہوگا۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان ’’معاہدے کے الفاظ اور روح دونوں سے مکمل طور پر وابستہ ہے۔‘‘ انہوں نے معاہدے کو خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ کا ذریعہ قرار دیا۔ دفتر خارجہ نے کہا کہ ہم ترک پارلیمان میں پیش ہونے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کرتے ہیں، اس کے علاوہ معاہدے کے کوئی خفیہ نکات نہیں ہیں، مکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کا ہر ملک کا اپنا اپنا طریقہ کار ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب اپنا طریقہ کار مکمل کرچکے ہیں، ترکیے اپنی پارلیمنٹ سے اس معاہدے کی توثیق کروا رہا ہے، مکہ دفاعی معاہدے کا جو مسودہ باہر آچکا ہے اس کو تسلیم کر رہے ہیں۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ مشترکہ دفاع ڈیٹرنس اور علاقائی سلامتی کا مظہر ہے، دفاعی معاہدے کی شقیں کسی تیسرے ملک کے خلاف نہیں بلکہ مشترکہ دفاع کیلئے ہیں، کسی بیرونی جارحیت کے تناظر میں تینوں ملک مشترکہ غور و خوص کے بعد فیصلہ کریں گے۔ ترکی کی حکومت کی جانب سے مکہ دفاعی معاہدے کا متن پارلیمان میں جمع کروائے جانے کے بعد معاہدے میں دفاع سے متعلق ایک مخصوص شق ملک کے ذرائع ابلاغ میں بحث کا موضوع بن گئی ہے۔
مکہ دفاعی معاہدے کا یہ متن گذشتہ روز ترک پارلیمان میں جمع کروایا گیا تھا تاکہ اس کی منظوری حاصل کی جا سکے۔ یاد رہے کہ سعودی عرب اور پاکستان نے تاحال اس معاہدے کا کوئی متن یا زیادہ تفصیلات جاری نہیں کی ہیں۔
ترکی کے بڑے نیوز چینل ’این ٹی وی‘ کے مطابق پارلیمان میں جمع کروائے جانے کے بعد اب اس معاہدے کو آئندہ چند روز میں پارلیمان کی خارجہ اُمور سے متعلق کمیٹی کے پاس بھیجے جانے کی توقع ہے۔ سرکاری نشریاتی ادارے ’ٹی آر ٹی ھبر‘ کی جانب سے شائع کیے گئے معاہدے کا مکمل متن کچھ یوں ہے:
شق 1: فریقین ایک دوسرے کی آزادی، خودمختاری، علاقائی سالمیت اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحدوں کے تقدس کے تحفظ اور دفاع کے لیے تعاون کریں گے۔ اگر کسی فریق کی علاقائی سالمیت، خودمختاری یا تسلیم شدہ سرحدوں کو خطرہ لاحق ہو تو فریقین اس خطرے یا نقصان کو ختم کرنے کے لیے تمام ضروری ذرائع استعمال کریں گے۔
شق 2: کسی بھی فریق پر بیرونی مسلح حملہ تمام فریقین پر حملے کے مترادف تصور کیا جائے گا۔ اگر کسی فریق کو کسی ملک یا ممالک کے گروہ کی جانب سے مسلح حملے یا فوجی جارحیت کا سامنا ہو تو دیگر فریق فوری طور پر باہمی امداد کے تمام دستیاب ذرائع استعمال کرتے ہوئے اس کی مدد کریں گے۔ اقوام متحدہ کے منشور کی شق 51 کے تحت تسلیم شدہ حقِ دفاع کے استعمال کے لیے فریقین مطلوبہ امداد کے معروضی جائزے کے بعد فراہم کی جانے والی معاونت کی نوعیت اور دائرہ کار کا تعین کریں گے، اور اپنے دستیاب وسائل بشمول فوجی ذرائع اور صلاحیتوں کی حد تک تعاون کریں گے۔ شق 3: فریقین دفاع، دفاعی صنعت اور سلامتی کے شعبوں میں قریبی تعاون کریں گے، اپنی مسلح افواج کے درمیان تعلقات کو فروغ دیں گے اور دفاعی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے متفقہ سرگرمیاں انجام دیں گے۔
شق 4: فریقین بین الاقوامی سلامتی کے امور پر باقاعدگی سے مشاورت کریں گے۔ اپنے اہم قومی مفادات اور سلامتی کے تحفظ اور قومی سلامتی کو درپیش خطرات کے خاتمے کے لیے فریقین مشترکہ جائزوں کی بنیاد پر انفرادی اور اجتماعی اقدامات کی تیاری میں ایک دوسرے کی مسلسل اور مؤثر معاونت کریں گے۔
شق 5: فریقین دہشت گردی کی ہر شکل اور مظہر کے خلاف موجودہ تعاون اور مشترکہ کوششوں، بشمول عملی تعاون، کو مضبوط بنائیں گے تاکہ علاقائی اور عالمی استحکام و سلامتی کو متاثر کرنے والے خطرات کا مقابلہ کیا جا سکے۔
شق 6: جنگ اور امن دونوں حالات میں اپنی دفاعی صلاحیتوں کے فروغ کے لیے فریقین دفاعی اداروں کے عملے کے باہمی تبادلے، مشترکہ تربیتی پروگراموں اور مشقوں، نیز ایسی تعیناتیوں اور سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کریں گے جو مسلح افواج کے درمیان باہمی ہم آہنگی میں اضافہ کریں۔
شق 7: دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے فریقین باہمی رضامندی کی بنیاد پر دفاعی صنعت میں ٹیکنالوجی کے تبادلے، مشترکہ ترقی، مشترکہ پیداوار اور دفاعی اداروں کے درمیان تعاون کی حمایت کریں گے، جن میں دفاعی پیداوار میں مشترکہ منصوبوں کا فروغ، مہارت پر مبنی ٹیکنالوجیز میں مشترکہ تحقیق و ترقی کے ذریعے دفاعی جدت، ماہرین کے ذریعے انسانی وسائل کی تربیت اور دفاعی صنعت کی معاونت، دفاعی صنعت، تحقیق، ترقی اور جدت کے شعبوں میں تجربات اور مہارت کا تبادلہ اور اور دیگر باہمی متفقہ شعبہ جات شامل ہوں گے۔
شق 8: بنیادی فریقین ایک ‘سٹریٹیجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی’ قائم کریں گے جس میں وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور سربراہانِ مسلح افواج شامل ہوں گے۔ یہ کمیٹی مشترکہ دفاع کے لیے سٹریٹجک رہنمائی فراہم کرے گی، دفاعی و سلامتی تعاون کو فروغ دے گی اور معاہدے کے نفاذ میں درپیش رکاوٹوں کو دور کرے گی۔ کمیٹی سال میں دو مرتبہ اجلاس منعقد کرے گی اور میزبانی باری باری فریقین کے پاس ہو گی۔ ضرورت پڑنے پر رکن ممالک کے سربراہان سال میں ایک بار ملاقات کر سکیں گے۔
کمیٹی ضرورت پڑنے پر ذیلی کمیٹیاں بھی قائم کر سکے گی۔ معاہدے میں شامل تعاون کے شعبوں پر عمل درآمد کے لیے اضافی معاہدے اور پروٹوکول بھی طے کیے جا سکیں گے۔ دیگر ممالک کی شمولیت سے متعلق اصول و ضوابط کا تعین بھی بنیادی فریقین کے اتفاقِ رائے سے یہی کمیٹی کرے گی۔ اس کمیٹی کے لیے ایک سیکرٹریٹ سعودی عرب میں قائم کیا جائے گا۔ سیکرٹری جنرل کا عہدہ تین سالہ مدت کے لیے بنیادی فریقین کے درمیان باری باری منتقل ہو گا جبکہ پہلے سیکرٹری جنرل کا تعلق پاکستان سے ہو گا۔ شق 9: انٹیلیجنس تعاون کو فروغ دینے اور ضروری رابطہ کاری کے لیے فریقین معلوماتی سلامتی، ڈیٹا کے تحفظ اور رازداری کو مدنظر رکھتے ہوئے محفوظ اور باہمی طور پر متفقہ ذرائع سے انٹیلیجنس معلومات کا تبادلہ کریں گے۔
شق 10: لاجسٹک سہولیات کی دستیابی اور مطابقت کے مطابق فریقین امن، جنگ اور دیگر ہنگامی حالات میں ایک دوسرے کو اسلحہ، گولہ بارود، ایندھن، سپیئر پارٹس اور دیگر سازوسامان سمیت لاجسٹک معاونت فراہم کریں گے۔
شق 11: بین الاقوامی قانون اور فریقین کے ملکی قوانین کو متاثر کیے بغیر فریقین اس معاہدے کو اس کی شقوں کے نفاذ کے لیے قانونی بنیاد تسلیم کریں گے اور ضرورت پڑنے پر اضافی قانونی ضوابط تجویز کریں گے۔
شق 12: یہ معاہدہ فریقین کے ان حقوق اور ذمہ داریوں کو متاثر نہیں کرے گا جو پہلے سے موجود بین الاقوامی معاہدوں سے پیدا ہوتے ہیں۔ شق 13: فریقین معاہدے کے تحت حاصل ہونے والی خفیہ معلومات اور دستاویزات کی رازداری برقرار رکھیں گے اور قومی قوانین کا احترام کریں گے۔ ایسی معلومات کسی ریاست، کمپنی یا فرد کے ساتھ شیئر نہیں کی جائیں گی جو اس معاہدے کا فریق نہ ہو۔ حساس معلومات تک رسائی صرف ‘ضرورت کے مطابق آگاہی’ کے اصول اور مناسب سکیورٹی کلیئرنس رکھنے والے افراد کو دی جائے گی۔
شق 14: معاہدے کی تشریح یا نفاذ سے پیدا ہونے والا کوئی بھی تنازع فریقین کے درمیان مشاورت اور مذاکرات کے ذریعے خوش اسلوبی سے حل کیا جائے گا۔
شق 15: اس معاہدے میں ترمیم بنیادی فریقین کے متفقہ فیصلے اور باہمی مشاورت سے کی جا سکے گی۔
شق 16: یہ معاہدہ ہر فریق کے متعلقہ قانونی طریقہ کار کے مطابق توثیق کے بعد نافذ العمل ہو گا اور اس وقت مؤثر ہو جائے گا جب توثیق کی آخری دستاویز اسٹریٹیجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی کے سیکرٹریٹ میں جمع کرا دی جائے گی




