ملک بھر میں بجلی کی صورتحال بہتر کی جائے،نگران وزیراعظم جسٹس(ر) ناصرالملک کی ہدایت
اسلام آباد : رپورٹ ؛اصغر علی مبارک سےjust
نگران وزیراعظم جسٹس(ر) ناصرالملک نے وزارت توانائی کو نقصانات میں تخفیف کرنے کے لیے اقدامات اٹھانے کی ہدایات کردی تا کہ ملک میں مجموعی طور پربجلی کے نظام کو بہتر بنا کر توانائی سیکٹر کو مستحکم کیا جاسکے۔وزیراعظم ہاؤس میں وزارت توانائی کی جانب سے نگراں وزیراعظم کو ملک میں بجلی کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی، بریفنگ میں سیکریٹری پاور ڈویژن، پاکستان الیکٹرک پاور کمپنی اور نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی کے مینیجنگ ڈائریکٹرز سمیت دیگر اعلیٰ حکام نےشرکت کی۔ . سیکریٹری پاور ڈویژن نے بریفنگ میں توانائی سیکٹر کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا، جس میں پیداوار ترسیل اور ملک میں بجلی کی تقسیم کا طریقہ کار شامل ہے، اس ضمن میں وزیراعظم کو ملک میں توانائی کی طلب میں اضافے اور رسد کی صورتحال سے بھی آگاہ کیا گیا.بریفنگ میں بتایا گیا کہ سال 2013 میں 18 ہزار 7سو 53 میگا واٹ کی پیداوار کے مقابلے میں اب بجلی کی پیداوار 28 ہزار 7 سو 4 میگا واٹ ہوچکی ہے، جبکہ موسمیاتی صورتحال کے باعث پانی کی کمی کی وجہ سے مئی 2018 میں ہائیڈل پاور کی پیداوار 3 ہزار 90 میگاواٹ رہی جو سال 2015 میں 6 ہزار 3 سو 33 میگا واٹ تھی۔اس بارے میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ توانائی کے شعبے میں موجود مسائل سے نبرد آزما ہونے کے لیے وفاق کی جانب سے صوبائی حکومتوں سے مکمل انتظامی معاونت حاصل کی جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں ایک جامع اور موثر پلان ترتیب دیاجانا چاہیے جس سے آئندہ انتخابات کے نتیجے میں بننے والی حکومت کے لیے توانائی بحران سے نکلنے اور توانائی کے شعبے کو بہتر بنانے کے لیے مدد مل سکے۔اس ضمن میں وزیراعظم کو یہ بھی بتایا گیا کہ ماہ رمضان کے پیش نظر گزشتہ کابینہ کے لوڈ مینیجمنٹ کے پلان پر سختی سے عملدرآمد کیا جارہا ہے۔اس حوالے سے ان انتظامی اور تکنیکی مسائل کا تذکرہ بھی کیا گیا جس کا نتیجہ سسٹم میں درپیش مشکلات اور بجلی چوری کی صورت میں نکلتا ہے۔16 مئی کو ملک کے کئی حصوں میں ہونے والے بجلی کے بریک ڈاؤن سے متعلق تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں نشاندہی کی ہے کہ747 میگاواٹ کے گدو پاور پلانٹ کے سوئچ یارڈ میں پیدا ہونے والی خرابی کے باعث ملک میں بجلی کی پیداوار دیگر پلانٹ بھی ٹرپ کرگئے تھے، جس میں 12 سو میگا واٹ کا حویلی بہادر شاہ (جنگ) کا پلانٹ بھی شامل تھا۔جس کے نتیجے میں پورے پنجاب اور خیبر پختونخوا اور سندھ اور بلوچستان کے کچھ علاقوں میں کئی گھنٹوں تک بجلی کی فراہمی معظل رہی۔میڈیا رپورٹ کےمطابق رواں سال بجلی کے سب سے بڑے بریک ڈاؤن کی تحقیقاتی رپورٹ کمیٹی کی جانب سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت ختم ہونے سے چند دن قبل وزیر توانائی کو ارسال کردی گئی تھی، تاہم سابق حکومت نے عوام کے سامنے نہ لانے کا فیصلہ کرتے ہوئے اسے سربہ مہر کردیا تھا۔توانائی سیکٹر کے سرکاری ذرائع کے مطابق بریک ڈاؤن کی تحقیقات کے دوران کمیٹی کو یہ بات معلوم ہوئی کہ اصل میں خرابی گدو 747 کے سوئچ یارڈ میں ہوئی جس کے نتیجے میں دیگر سرکاری کمپنیوں کے پاور پلانٹ بھی ٹرپ کر گئے۔مذکورہ خرابی کے نتیجے میں سسٹم سے محض 30 سیکنڈ کے مختصر دورانیے میں 2800 میگا واٹ بجلی غائب ہوگئی، جس کے باعث ملک کے شمالی علاقے ترسیل کے نظام میں جنوبی علاقوں سے کٹ گئے، اور دیگر تقسیم کار کمپنیاں مزید پلانٹس کوٹرپ ہونے سے بچانے کے لیے طویل لوڈ شیڈنگ کرنے پر مجبور ہوگئی تھیں۔