معاشی بحالی ; آرمی چیف کے سعودی عرب . یو اے ای سے رابطہ….(اندر کی بات ؛کالم نگار؛اصغرعلی مبارک)…………………پاکستان کے آرمی چیف کو جہاں سیلاب اور دفاع قومی سلامتی ودیگر امور میں گزشتہ کئی ھفتوں سے بڑے چیلنجز درپیش ہیں اس کے باوجود وہ ملکی معشیت کی بحالی کیلئے کوشاں نظر آئے انہوں نے پہلے دورہ چین کیا اور پھر سعودی عرب اور یو اے ای کے دورے کیے ان دوروں کامقصد معاشی بحالی ھے جنرل باجوہ کے ملٹری ڈپلومیسی کی دنیا معترف ھے اس تناظر میں انہوں نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے رابطہ کرکے پاکستان اور آئی اہم ایف کے مذاکرات حوالے سے تبادلہ خیال کیامیڈیا رپورٹس کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے حکام سے بات چیت کی ہے۔جنرل باجوہ کی ملٹری ڈپلومیسی کی دنیا میں پہچان ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے حکام سے بات چیت کی ہے۔بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کا قرضہ پروگرام مبینہ طور پر زیر بحث آیا اور پاکستان کے لیے جلد ہی مثبت پیش رفت متوقع ہے۔رپورٹ کے مطابق آرمی چیف نے امریکی نائب وزیر خارجہ وینڈی شرمین سے فون پر رابطہ کیا، امریکا اور پاکستان دونوں کے ذرائع نے پبلی کیشن کے نمائندے وجاہت ایس خان کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انکشاف کیا کیونکہ انہیں اجازت نہیں تھی۔ عوامی طور پر بات کریں.ذرائع نے انکشاف کیا کہ جنرل باجوہ نے وائٹ ہاؤس اور محکمہ خزانہ سے درخواست کی کہ وہ قرض دینے والے پر زور دیں کہ وہ بیل آؤٹ کے عمل کو تیز کرے اور فوری طور پر تقریباً 1.2 بلین ڈالر جاری کرے جو پاکستان کو دوبارہ شروع کیے گئے قرض پروگرام کے تحت ملنے کی توقع ہے۔پاکستان اور آئی ایم ایف نے ملک کی کمزور معیشت کو سہارا دینے کے لیے فنڈز کے اجراء پر عملے کی سطح پر معاہدہ کیا۔ عملے کی سطح کا معاہدہ 1.2 بلین ڈالر کی تقسیم کی راہ ہموار کرے گا، جس کی بورڈ کی منظوری کے بعد اس ماہ متوقع ہے۔عملے کی سطح کا معاہدہ 1.2 بلین ڈالر کی تقسیم کی راہ ہموار کرے گا، جس کی بورڈ کی منظوری کے بعد اس ماہ متوقع ہے۔ آئی ایم ایف) نے مزید کہا کہ بورڈ کی میٹنگ عارضی طور پر اگست کے آخر میں مقرر کی گئی ہے ایک بار جب مناسب مالیاتی یقین دہانیوں کی تصدیق ہو جائے گیآرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے امریکہ سے پاکستان کیلئے قرض کی رقم جلد جاری کرنے کیلئے آئی ایم ایف پر دباؤ ڈالنے کی درخواست کی تھی۔پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے قومی معیشت کو مستحکم کرنے میں مدد کی خاطر انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ سے قرض کی جلد فراہمی میں تعاون کیلئے امریکی نائب وزیر خارجہ وینڈی شرمین سے ٹیلی فون پر رابطہ اپنی غیرمعمولی نوعیت کے سبب قومی سطح پر زیر بحث ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق اس گفتگو میں آرمی چیف نے اپیل کی کہ وائٹ ہاؤس مالیاتی ادارے پر1.2بلین ڈالرکی قسط فوری جاری کرنے کیلئے دباؤڈالے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق آرمی چیف اور امریکی نائب وزیر خارجہ میں یہ رابطہ رواں ہفتے کے آغاز میں ہوا۔ اس معاملے کا پس منظر یہ ہے کہ آئی ایم ایف نے 13جولائی کو قرض کی فراہمی کیلئے پاکستان کے ساتھ اسٹاف لیول منظوری دے دی تھی تاہم قرض کی فراہمی ایگزیکٹو بورڈ کی جانب سے حتمی فیصلے کے بعد عمل میں آنی تھی جبکہ اگلے تین ہفتوں کی چھٹی کے باعث آئی ایم ایف بورڈ کا کوئی اجلاس نہیں ہونا۔ دوسری جانب آئی ایم ایف کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پربتایا کہ پاکستان کیلئے قرض کی منظوری کے اعلان کی کوئی ٹھوس تاریخ طے نہیں کی گئی ہے جبکہ پاکستان کیلئے بہرحال وقت کی بڑی اہمیت ہے کیونکہ گومگو کی صورت حال میںروپیہ ڈالر کے مقابلے میں تیزی سے گر رہا ہے نیز غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 9 بلین ڈالر سے بھی کم رہ گئے ہیں ۔معیشت کی یہ ابتری پچھلے چار سال کے دوران معاشی حکمت عملی میں عدم تسلسل ، کورونا کی عالمی وبااور دیگر اسباب کا نتیجہ ہے۔ معیشت کی بحالی کے آغاز کا معاملہ آئی ایم ایف کے پیکیج کی فراہمی سے جڑا ہوا ہے کیونکہ اس کے بعد ہی دیگر مالیاتی اداروں اور دوست ملکوں سے مالی تعاون مل سکتا ہے ۔آئی ایم ایف سے یہ معاہدہ نہایت کڑی شرائط پر سابقہ حکومت نے کیا تھا لیکن ان شرائط کو پورا کرنے کے بجائے ان کے برخلاف اقدامات کیے جس کی وجہ سے پیش رفت میں تعطل واقع ہوا۔ موجودہ اتحادی حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنی سیاسی مقبولیت داؤ پر لگاکر ان شرائط کی تکمیل کیلئے بجلی گیس پٹرول کی قیمتوں اور مختلف النوع ٹیکسوں کی شرحوں میںہوشربا اضافوں کی شکل میں مسلسل سخت معاشی فیصلے کیے۔ ان کے نتیجے میں مہنگائی جو پہلے ہی عوام کی کمر توڑے دے رہی تھی بالکل ہی ناقابل برداشت ہوگئی ہے لیکن آئی ایم ایف کے پیکیج کا اجراء منظوری کے اعلان کے باوجود اب تک تشنہ تکمیل ہے۔ ذرائع کے مطابق متعدد سینئر پاکستانی حکام نے گزشتہ ہفتے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک میں امریکہ ور دیگر اہم اسٹیک ہولڈر ممالک کے ذمے داروں سے ملاقات کی تاکہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کے فیصلوں کے وقت کے بارے میں خدشات کی نشاندہی کی جاسکے اور پاکستان کی طرف سے کیے جانیوالے اقدامات پر پاکستان کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے بات چیت کی جائے لیکن ان ملاقاتوں میں پیش رفت نہ ہونے کی وجہ سے آرمی چیف واشنگٹن کی توجہ مبذول کروانے پر مجبور ہوئے۔یہ وہ حالات ہیں جن کے باعث آرمی چیف نے امریکی نائب وزیر خارجہ سے رابطہ کیا۔ بلاشبہ معمول کی صورت حال میں اس نوعیت کے معاملات سیاسی حکومتیں ہی طے کرتی ہیں لیکن غیر معمولی حالات میں غیر معمولی اقدامات ناگزیر ہوجاتے ہیں۔ اس بنا پر آرمی چیف کے اقدام پر نکتہ چینی کا کوئی جواز نہیں ۔ خصوصاً موجودہ اپوزیشن کی جانب سے تو ایسا کوئی اعتراض صریحاً بلاجواز ہے کیونکہ اس کے دور حکومت میں معاشی معاملات میں عسکری قیادت بھرپور تعاون کرتی رہی ہے ۔اس رویے کے برخلاف قوم و ملک سے محبت کاتقاضا ہے کہ قوم کی کشتی کو منجدھار سے نکالنے کی خاطر سیاسی رہنما بھی ذاتی اغراض اور وقتی و گروہی مفادات کو پس پشت ڈال کر اور افہام و تفہیم کا راستہ اختیار کرکے ملک میں سیاسی استحکام کو یقینی بنائیں کیونکہ معیشت کی بحالی میں اصل رکاوٹ سیاسی عدم استحکام ہی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق آرمی چیف نے دوران گفتگو دونوں دوست ممالک کے حکام سے کہا کہ وہ آئی ایم ایف پروگرام کیلئے پاکستان کی مدد کریں۔ کہا جا رہا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے رابطوں سے پاکستان کو جلد اچھی خبریں ملیں گییہ بات ذہن میں رہے کہ کچھ دن قبل آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے امریکی نائب وزیر خارجہ سے بھی رابطہ کرکے درخواست کی تھی کہ امریکہ آئی ایم ایف پر ڈیل کیلئے دبائو ڈالے۔ آرمی چیف نے اس سلسلے میں امریکی نائب وزیر خارجہ وینڈی شرمین سے ٹیلیفون پر گفتگو کی جس میں انہوں نے کہا کہ وائٹ ہاؤس اور محکمہ خزانہ آئی ایم ایف پر پاکستان کیلئے تقریباً ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کی فوری فراہمی کیلئے دباؤ ڈالے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق گفتگو میں وائٹ ہاؤس سے اپیل کی گئی کہ آئی ایم ایف کے 1.2 ارب ڈالر کے قرضے کا پراسس تیز کیا جائے۔ واضح رہے کہ آئی ایم ایف نے 13 جولائی کو پاکستان کے ساتھ ’اسٹاف لیول معاہدے کی منظوری‘ دی تھی۔وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل سمیت وزیراعظم شہباز شریف بھی کئی بار کہہ چکے ہیں کہ آئی ایم ایف کا ایگزیکٹو بورڈ جلد اسٹاف لیول معاہدے کی منظوری دے گا تاہم پاکستان اور آئی ایم ایف کے معاہدے کے باوجود پاکستان کو اب تک قرض کی رقم فراہم نہیں کی گئی ہے۔واضح رہے کہ آئی ایم ایف نے1.2 بلین ڈالر پاکستان کو قرض پروگرام کے تحت دینے کی منظوری دی تھی۔ میڈیا کے مطابق آرمی چیف معاشی بحران سے نکلنے کے لیے اس سے قبل خلیجی اور برادر اسلامی ممالک سعودی عرب، یو اے ای کے علاوہ چین اور دیگر دوست ممالک سے بھی رابطے کرککے ان سے تعاون کی درخواست کرچکے ہیں۔یاد رہے کہ عمران خان حکومت میں آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نیشنل اکنامک کونسل کے ممبر بھی رہے ہیں اور انہوں نے ہمیشہ ملک اورعوام کےمفادات کوسرفہرست رکھا ہے۔












