مشرقِ وسطیٰ میں امن کوششیں: وزیراعظم پاکستان کا دورہ سعودی عرب
( اصغر علی مبارک)
امریکہ اور ایران کے مابین جنگ کے خاتمے، مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن کے قیام اور علاقائی استحکام کے لیے پاکستان اور سعودی عرب نے سرگرم سفارتی کوششوں کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔عالمی سیاست کے افق اور خصوصاً مشرقِ وسطیٰ کے خطے سے دیرینہ جنگی بادلوں کے چھٹنے اور مستقل امن کی دستک سنائی دینے لگی ہے۔ امریکہ اور ایران کے مابین جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے خاتمے، خطے میں مستقل امن کے قیام اور علاقائی استحکام کے لیے پاکستان اور سعودی عرب نے ایک بار پھر فرنٹ لائن پر آ کر انتہائی سرگرم اور فیصلہ کن سفارتی کوششوں کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق، وزیراعظم شہباز شریف 8 اگست 2026 تک سعودی عرب کے انتہائی اہم اور تزویراتی سرکاری دورے پر ریاض میں موجود ہیں، جہاں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سمیت پاکستان کا اعلیٰ سطح کا عسکری و سیاسی وفد ان کے ہمراہ ہے۔ سعودی عرب کی آفیشل نیوز ایجنسی (ایس پی اے) اور وزارتِ خارجہ کے مطابق، اس اہم ترین دورے کا بنیادی مقصد مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ نازک صورتحال، خطے میں مستقل امن کے قیام، اور امریکہ ایران کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو تیز کرنا ہے۔اس نازک وقت میں ہونے والے اس فیصلہ کن دورے کے دوران دونوں اسلامی ممالک کی اعلیٰ قیادت کے مابین درج ذیل تین بنیادی تزویراتی نکات پر تفصیلی مشاورت کی جا رہی ہے جس میں پہلے نمبر پر مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی، خصوصاً امریکہ ایران تنازع اور دیگر فوجی محاذ آرائیوں کو فوری طور پر روکنے اور پائیدار جنگ بندی کے لیے ایک جامع سفارتی حکمتِ عمل پر گہرائی سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ دوسرے نمبر پر پاکستان اور سعودی عرب کے مابین روایتی، تاریخی اور برادرانہ تعلقات کو موجودہ چیلنجز کے تناظر میں اگلی سطح پر لے جانے کے لیے دفاعی، سیاسی اور سکیورٹی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر مکمل اتفاق کیا گیا جبکہ تیسرے بنیادی نکتے کے تحت مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ نازک اور بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر دونوں ممالک کی جانب سے بین الاقوامی فورمز پر یکساں موقف اپنانے اور تمام علاقائی چیلنجز کے پائیدار حل تلاش کرنے پر غور کیا گیا۔دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے سعودی عرب کی اعلیٰ ترین قیادت سے ملاقاتیں کیں جو انتہائی خوشگوار، برادرانہ اور تعمیری ماحول میں ہوئیں جس میں پاکستانی وفد نے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور اعلیٰ دفاعی حکام سے تفصیلی ملاقاتیں کیں، جس میں خطے کی مجموعی صورتحال پر برادرانہ مشاورت کی گئی۔ ان اہم ترین ملاقاتوں میں امتِ مسلمہ کے مابین اتحاد، یکجہتی اور علاقائی استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان اور سعودی عرب کے مشترکہ اور تاریخی کردار کی اہمیت پر خصوصی زور دیا گیا اور اس کے ساتھ ہی مشرقِ وسطیٰ کے دیرینہ تنازعات بشمول امریکہ ایران جنگ کے پرامن، منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے دونوں ممالک کی عسکری و سیاسی بصیرت کے تحت ایک جامع اور مشترکہ روڈ میپ پر تفصیلی بات چیت عمل میں لائی گئی۔مشرقِ وسطیٰ کے سیاسی و عسکری مبصرین کے مطابق، دونوں برادر ممالک کی یہ حالیہ مشترکہ پیش رفت اور سفارتی تحرک خطے کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور پاکستان اور سعودی عرب کا ایک پیج پر آنا اس بات کی دلیل ہے کہ امتِ مسلمہ اب بیرونی تنازعات کا ایندھن بننے کے بجائے اپنے فیصلے خود کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے جس کے آنے والے دنوں میں عالمی سیاست پر دور رس، مثبت اور فیصلہ کن نتائج مرتب ہوں گے۔وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہنا ہے کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی اور قیام امن کیلئے متواتر کوششیں کیں جو ہنوز جاری ہیں، جنگ کی وجہ سے ہمارا معاشی ترقی کا سفر رک گیا، پٹرولیم کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں ، مسائل پہاڑ بن کر سامنے کھڑے ہیں لیکن مشکل وقت سے سرخرو ہوکر نکلیں گے، سعودی عرب کے تعاون سے ساڑھے تین ارب ڈالر کا بیرونی قرضہ چکا دیا،
وزیر اعظم نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے پاکستان کی معیشت میکرو لیول پر پائوں پر کھڑی ہوگئی تھی اور ہم گروتھ کی طرف بڑھ رہے تھے لیکن جنگ سے بے تحاشا متاثر ہوئے ہیں اور معاشی بہتری کیلئے ہماری دو سال کی اجتماعی کوششوں کو شدید نقصان پہنچا ہے لیکن یہ ہمارے اختیار سے باہر تھا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ وہ دعاگو ہیں کہ جنگ مستقل بند اور امن قائم ہو تاکہ ہمارا ترقی اور خوشحالی کا سفر پھر سے رواں ہو۔وزیر اعظم نے بتایا کہ پاکستان نے ساڑھے تین ارب ڈالر کے بیرونی قرضے ادا کر دیئے ہیں، فیڈرل ریزروز بھی اپنی جگہ پر ہیں، اس کیلئے ہم سعودی عرب کے حکمران شاہ سلمان بن عبد العزیز السعود اور ولی عہد و وزیر اعظم محمد بن سلمان کے شکر گزار ہیں جنہوں نے ہمارا مسئلہ فوری طور پر حل کیا۔ مسائل کے پہاڑ ہمارے سامنے کھڑے ہیں لیکن جلد حل ہو جائیں گے ۔ امن کیلئے کوششیں ہنوز جاری ہیں، ان میں کمی نہیں آئے گی۔ ہمت باندھے رکھنا اور محنت جاری رکھنا ہوگی ہماری کوششوں کے بہتر نتائج سامنے آئے ہیں ۔طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان آبنائے ہرمز سے متعلق طے پانے والے معاہدے کا خیرمقدم کرتا ہے اور امید رکھتا ہے کہ اس سے تمام متعلقہ فریق اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت مذاکراتی عمل کی طرف واپس آئیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کے معاملے پر خلیجی ممالک کی سفارتی کوششیں اور اسلام آباد کی ثالثی کا عمل الگ الگ نوعیت کے ہیں۔ انہوں نے باب المندب میں تجارتی جہازوں پر حملوں کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان بحری راستوں کی آزادی اور سلامتی کی حمایت کرتا ہے۔وزیراعظم آفس اور ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم کی سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات ہوگی، جس میں پاکستان اور سعودی عرب کے دیرینہ برادرانہ تعلقات، دوطرفہ تعاون، سرمایہ کاری، تزویراتی شراکت داری، خطے کی موجودہ صورتحال، فلسطین، ایران۔امریکا تنازع اور دیگر باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔سعودی حکومت نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ کشیدگی میں کمی کے لیے مذاکرات کا سلسلہ برقرار رکھنا بنیادی اہمیت رکھتا ہے ۔جدہ میں وزرا کے ہفتہ وار اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پُرامن حالات کے قیام کے لیے تمام ممکنہ کوششیں کرنے پر زور دیا،ولی عہد نے امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو سے متعلق بھی کابینہ کو آگاہ کیا۔سعودی ولی عہد نے کشیدگی کم کرنے کے لیے بات چیت کو ترجیح دینے کی ضرورت اور ایک ایسی جنگ بندی کے حصول کے لیے تمام ممکنہ کوششیں کرنے کی اہمیت پر زور دیا جو سفارتی حل کی راہ ہموار کرے ۔کابینہ نے سعودی عرب کی جانب سے شروع کیے گئے کثیرالقومی دفاعی بحری اتحاد میں بڑھتی ہوئی بین الاقوامی حمایت اور شرکت کا بھی خیرمقدم کیا۔واضح رہے سعودی عرب اور 13 دیگر ممالک نے جمعرات کو ایک اتحاد قائم کیا تھا جس کا مقصد مشرقِ وسطیٰ کی اہم بحری گزرگاہوں میں جہاز رانی کا تحفظ کرنا ہے وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ سعودی عرب دوطرفہ تعلقات سے زیادہ امریکا ایران پس پردہ چلنے والی بات چیت ،اس میں پاکستانی کردار اور علاقہ میں امن و استحکام کے حوالہ سے اہم قراردیا جا رہا ہے ،سعودی عرب کی جانب سے امریکا کو ایران پر حملہ سے باز رکھنے کا عمل بھی ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب علاقائی استحکام اور امن کے لئے ڈائیلاگ کے آپشن کو ہی کارگر سمجھتے ہیں اور اس ضمن میں اسلام آباد مفاہمتی معاہدہ کی بحالی نظر آ رہی ہے جو پاکستان کی ثالثی و سفارتی کردار کی جیت ہوگی ،اگر مفاہمتی عمل کی بحالی کے امکانات کا جائزہ لیا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ ایران اور امریکا ایک بڑے تصادم سے گریز چاہتے ہیں کیونکہ ان کے معاشی اور سکیورٹی اخراجات بہت بڑھ چکے ہیں۔

ماہرین یہ کہتے نظر آ رہے ہیں کہ حالات اس نہج پر ہیں کہ فریقین سگنل دے رہے ہیں کہ خطے میں استحکام کے لئے جنگ کی بجائے سفارت کاری ضروری ہے اور یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف ریاض کا رخ کر رہے ہیں ،پاکستان اور سعودی عرب کی بنیادی کوشش یہی نظر آتی ہے جیسے بھی ممکن ہو مذاکراتی عمل کی بحالی ممکن بنائی جائے ، زیادہ امکانات تو یہی ہیں کہ وزیراعظم کا دورہ سعودی عرب ، امریکا ایران مفاہمتی عمل کی بحالی تک محدود ہوگا لیکن سعودی عرب سے اپنے دفاعی ،تجارتی اور معاشی تعلقات کی بنا پر کہا جا سکتا ہے کہ اس دورہ کے دوران معاشی تعاون، تیل کی فراہمی اور توانائی کے منصوبے بھی زیر غور آئیں گے ،اطلاعات یہ ہیں کہ سعودی عرب پاکستان کو درپیش معاشی مشکلات کے حوالہ سے پٹرولیم کی مد میں بڑا ریلیف دینے جا رہا ہے ،پاکستان میں سعودی سرمایہ کاری میں بھی پیش رفت کا امکان ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کی قیادت کے درمیان ہونے والی یہ ملاقات دونوں برادر ممالک کے دیرینہ تعلقات کو مزید وسعت دینے اور مشترکہ مفادات کے فروغ کے لیے اہم قرار دی جا رہی ہے۔۔ سعودی وزارت دفاع کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا ہے کہ خطے اور دنیا کو نئے سیکیورٹی خطرات کا سامنا ہے، جن سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے مشترکہ تعاون ناگزیر ہو چکا ہے۔ میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ ہر ملک کو اپنے قومی مفادات کے تحفظ کا مکمل حق حاصل ہے، جبکہ بحیرۂ احمر سے متصل ممالک باہمی رابطے اور تعاون کو مسلسل فروغ دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کثیر القومی بحری دفاعی اتحاد کا بنیادی مقصد بحری سلامتی کو یقینی بنانا اور اہم سمندری راستوں کو محفوظ رکھنا ہے تاکہ خطے میں استحکام برقرار رہے۔
دریں اثنا، سعودی وزارت دفاع نے ریئر ایڈمرل عبداللّٰہ بن سالم کو کثیر القومی بحری دفاعی اتحاد کا نیا کمانڈر مقرر کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے، مذاکرات کے ذریعے تنازعات کے حل اور آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت خطے میں امن کے لیے ایک مؤثر فریم ورک ہے، پاکستان قطر کے ساتھ 22 جون 2026 کے مشترکہ اعلامیے کے مطابق تمام فریقوں پر مذاکرات کی بحالی پر زور دیتا رہے گا۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ تمام تنازعات اور اختلافات کا پائیدار حل صرف مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت خطے میں امن، باہمی احترام اور مشترکہ خوشحالی کے فروغ کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ اس مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کو بعض چیلنجز کا سامنا ہے، تاہم پاکستان تمام متعلقہ فریقوں کو تشدد ختم کرنے اور 22 جون 2026 کے پاک قطر مشترکہ اعلامیے اور مفاہمتی یادداشت کے مطابق تکنیکی سطح کے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی ترغیب دیتا رہے گا۔۔ پاکستان عالمی توانائی کی فراہمی، تجارت، خوراک کے تحفظ اور دیگر اقتصادی شعبوں پر مرتب ہونے والے منفی اثرات سے بخوبی آگاہ ہےاور امید ظاہر کی کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال جلد معمول پر آئے گی اور بحری جہازوں کی محفوظ، آزاد اور بلا تعطل آمدورفت یقینی بنائی جائے گی۔ طاہر اندرابی نے کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی کے دوران پاکستان نے اہم علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مسلسل سفارتی رابطے برقرار رکھے ہیں تاکہ کشیدگی میں کمی، مذاکرات کے فروغ اور تنازعات کے پرامن حل کی راہ ہموار کی جا سکے۔