متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ خلیفہ بن زید النیہان کا انتقال ..عالم اسلام ایک مخلص راہنما سے محروم ہوگیا. ……. (اندر کی بات ؛کالم نگار؛اصغرعلی مبارک)…. پاکستانی عوام اور حکومت انتہائی قریبی دوست اور ہم مذہب ملک متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ خلیفہ بن زید النیہان کے انتقال پرانتہائی افسردہ ہیںمتحدہ عرب امارات کے صدر شیخ خلیفہ بن زید النیہان انتقال کر گئے۔متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے صدر شیخ خلیفہ بن زید النیہان انتقال کر گئے۔ متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ خلیفہ بن زید کی عمر 73 برس تھی اور وہ 3 نومبر 2004 سے متحدہ عرب امارات کے حکمران تھے۔ اس امر کا اعلان امارات کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’’وام‘‘ نے جمعہ کے روز کیا سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹ پر آئی ایس پی آر کے جاری کردہ تعزیتی پیغام میں مسلح افواج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور تمام فوجی افسران نے تعزیت کا اظہار کرتے ہرئے کہا کہ یو اے ای کے صدر شیخ خلیفہ بن زید النہیان کے افسوسناک انتقال پر دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔ “پاکستان نے ایک عظیم دوست کھو دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی روح کو کو جنت الفردوس میں اعلئ مقام عطافرمائے اور سوگوار خاندان کو یہ ناقابل تلافی نقصان برداشت کرنے کی ہمت دے، آمین…واضح رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ روابط ہیں جس کے تناظر میں گزشتہ سال 30 ستمبر 2021 کو متحدہ عرب امارات کے مسلح افواج کے ڈپٹی سپریم کمانڈر اور ابو ظہبی کے ولی عہد عزت مآب شیخ محمد بن زاید آل نہیان نے پاکستانی افواج کے سربراہ جناب جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی تھی جس میں فوجی اور دفاعی شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا تھا. وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ خلیفہ بن زاید النہیان کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ میں ان کا کہنا تھا کہ ’متحدہ عرب امارات نے ایک دور اندیش رہنما اور پاکستان ایک عظیم دوست سے محروم ہو گیا ہے‘انہوں نے کہا کہ ’ہم متحدہ عرب امارات کی حکومت اور عوام سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں‘۔شیخ خلیفہ بن زید النیہان امت مسلمہ کے ایک مخلص راہنما تھے ۔اتحاد عالم اسلامی کے داعی اور عالم اسلام میں متحدہ عرب امارات کی پہچان تھے۔انکی وفات سے نہ صرف متحدہ عرب امارات بلکہ عالم اسلام ایک مخلص قائد اور رہنما سے محروم ہوگیا ہے ۔ اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نےبھی متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ خلیفہ بن زید النہیان کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا ہے ۔تعزیتی پیغام میں راجہ پرویز اشرف نے تعزیت کا اظہار کرتے ہرئے کہا کہ متحدہ عرب امارات کی ترقی میں شیخ خلیفہ بن زید النہیان کا کردار ناقابل فراموش ہے، ان کے انتقال سے پاکستان مخلص اور بااعتماد دوست سے محروم ہو گیا ہے، شیخ خلیفہ بن زید النہیان پاکستان سے گہری وابستگی رکھتے تھے اور انہوں نے ہمیشہ ہر فورم پر پاکستان کے موقف کی حمایت کی، راجہ پرویز اشرف کا کہناہےکہ
پاکستان کی پارلیمان اور عوام اس دکھ کی گھڑی می متحدہ عرب امارات کے عوام اور شاہی خاندان کے غم میں برابر کے شریک ہیں، اللہ مرحوم کو اپنی جوار رحمت میں جگہ عطاء فرمائے (آمین) ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی زاہد اکرم درانی نے شیخ خلیفہ بن زید النہیان کے انتقال پر اظہار تعزیت کرتے ہرئے شاہی خاندان اور عرب امارات کی عوام سے دلی ہمدردی کا اظہارکیا۔ وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ نےبھی متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ خلیفہ بن زید النہیان کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا ہے ۔تعزیتی پیغام میں کہا کہ متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ خلیفہ بن زید النہیان کے انتقال سےپاکستان آج ایک باقابل بھروسہ دوست اور بھائی سے محروم ہو گیا ،متحدہ عرب امارات کی ترقی میں شیخ خلیفہ بن زید النہیان کا کردار بے مثالی ہے، وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ نےکہا کہ متحدہ عرب امارات کے عوام اورشیخ خیلفہ بن زید النیان کے خاندان کے سوگ میں برابر کے شریک ہیں۔ اللہُ تعالی مرحوم کو اپنی جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔ درجات بلند کرے۔ شیخ خلیفہ بن زیدہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے عرب دنیا میں ان کا احترام ایک فقہیہ اورقائد کی طرح تھا اسلامی تحریکوں کے قائد ان کے ہاتھوں کو عقیدت سے بوسہ دیتے تھے ۔انہوں نے زندگی بھر اتحاد امت کیلئے کام کیا۔عالم اسلام کے کسی حصہ میں کوئی پریشانی ہوتی تو وہ پریشان ہوجاتے ۔فلسطین کی آزادی کیلئے ان کی جدوجہد ہمیشہ یاد رکھی جائے گی وہ عالم اسلام میں فلسطین,مقبوضہ علاقوں کی آزادی اور مظلوم مسلمانوں کی بات کرتےتھے۔ صدارتی امور کی وزارت نے شیخ خلیفہ بن زاید النہیان کے انتقال کی تصدیق اور متحدہ عرب امارات، عرب اور اسلامی قوم اور دنیا کے لوگوں سے تعزیت کا اظہار کیا۔صدارتی امور کی وزارت نے شیخ خلیفیہ کے انتقال پر ملک بھر میں 40 روزہ سوگ کا اعلان کیا۔ سوگ کا سلسلہ جمعہ کے روز سے شروع ہو گیاہے۔شیخ خلیفہ بن زاید النہیان 3 نومبر 2004 سے متحدہ عرب امارات کے صدر اور ابوظبی کے حکمراں کے طور پر فرائض انجام دے رہے تھے۔وہ اپنے والد مرحوم شیخ زاید بن سلطان النہیان کے جانشین منتخب ہوئے تھے جنہوں نے 1971 میں یونین کے بعد متحدہ عرب امارات کے پہلے صدر کے طور پر خدمات انجام دیں اور ان کا انتقال 2 نومبر 2004 میں ہوا تھا۔۔1948 میں پیدا ہونے والے شیخ خلیفہ، متحدہ عرب امارات کے دوسرے صدر اور امارات ابوظبی کے 16ویں حکمران تھے۔ وہ شیخ زاید کے بڑے بیٹے تھے۔متحدہ عرب امارات کا صدر بننے کے بعد شیخ خلیفہ نے وفاقی حکومت اور ابوظبی دونوں کی بڑی تنظیم نو کی۔ان کے دور حکومت میں متحدہ عرب امارات نے تیزی سے ترقی کی اور یو اے ای کو اپنا گھر کہنے والے لوگوں کے لیے باوقار زندگی کو یقینی بنایاصدر منتخب ہونے کے بعد شیخ خلیفہ نے لیے متوازن اور پائیدار ترقی کے حصول کے لیے متحدہ عرب امارات کی حکومت کے اپنا پہلا اسٹریٹجک منصوبہ شروع کیا، جس میں متحدہ عرب امارات کے شہریوں اور رہائشیوں کی خوشحالی کو مقدم رکھا گیا۔متحدہ عرب امارات کے صدر کی حیثیت سے ان کا بڑا مقصد اپنے والد کے نقش قدم چلتے رہنا تھا اور ایک موقع پر ان کا کہنا تھا کہ والد کی میراث ’خوشحال مستقبل کے لیے ہماری رہنمائی کرتی رہے گی جہاں سلامتی اور استحکام کا راج ہوگا‘۔متحدہ عرب امارات کے رہنماؤں نے گزشتہ سال گولڈن جوبلی تقریبات پر 50 سال کے دوران حاصل کردہ کامیابیوں اوراہم سنگ میلوں کی یاد تازہ کرتے ہوئے ترقی کے ایک نئے دور کےآغاز کا عزم کیا تھا۔متحدہ عرب امارات کی مسلح افواج کے میگزین ’نیشن شیلڈ‘ کے لیے جاری کردہ خصوصی پیغامات میں رہنماؤں نے تاریخی اتحاد کی سالگرہ پر نصف صدی کے دوران میں اپنی کامیابی جھلکیاں بیان کی تھیں۔ مرحوم صدرشیخ خلیفہ بن زاید آل نہیان نے اپنے پیغام کہاتھا کہ متحدہ عرب امارات اچھی طرح قائم اقداراوراصولوں کے ٹھوس ماحولیاتی نظام پر مسلسل عمل جاری رکھے گا۔اس میں انسانی سرمائے کو یواے ای کی مستقبل کی حکمت عملی میں مرکزی حیثیت ہے۔مرحوم صدرجمہوریہ نے مزید کہاتھا کہ یہ قانون سازی کا لچکدار مجموعہ ہے جس نے ہماری قوم کوعلم واختراع پر مبنی معیشت، عالمی معیارکی صحت کی دیکھ بھال کے نظام، جدید تعلیمی شعبہ، مربوط جدید بنیادی ڈھانچا،ماحولیاتی پائیداری اور عالمی مسابقت کی درجہ بندی میں قابل رشک حیثیت کے ساتھ ایک مربوط معاشرہ قائم کرنے کے قابل بنایا انھوں نے اپنے بیان میں حالیہ عرصے کے دوران حاصل کردہ اہم سنگ میلوں پرروشنی روشنی ڈالتے یوئےکہا تھا کہ:’’ہم نے خواتین اور نوجوانوں کو بااختیار بنایا ہے اور متنوع معیشت کی ترقی میں ایک طویل سفرطے کیا ہے۔خلا میں ہمارے پہلے اماراتی خلاباز نے قدم رکھا اور ہمارا خلائی مشن امیدتحقیق ایک تاریخی ’’سنگ میل‘‘ ہے جس نے ہماری قوم کو عرب خطے میں اس شعبے میں پہلا اور دنیا بھر میں پانچواں مقام بنا دیا ہے۔انھوں نے کہا تھا کہ ہم نے عرب خطے کا پہلا جوہری پلانٹ لانچ کیا جس نے متحدہ عرب امارات کو قابل تجدید اور صاف توانائی کا علاقائی مرکز بنا دیا۔ ہم نے صلاحیتوں کو برقرار رکھنے اور راغب کرنے کے لیے ایک قومی حکمت عملی اپنائی ہے جس سے خلیج، عرب، اسلامی اور عالمی سطح پر متحدہ عرب امارات کے مقام کو مزید تقویت ملی ہے۔ ’’اذہان کا رابطہ، مستقبل کی تخلیق ‘‘کے موضوع کے تحت ہم خطے کی تاریخ میں پہلی بارایکسپو 2020 دبئی کی میزبانی کررہے ہیں جو دنیا کا سب سے بڑا شو ہے۔ہ ملکی تاریخ کے گذشتہ پچاس سال میں پائیدار ترقی، سیاسی استحکام اور سلامتی، دنیا میں سب سے زیادہ مؤثر حکومت اور نجی شعبے کی ترقی سمیت متعدد کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں جنھوں نے گھریلو معیشت کو متحرک کرنے اور اس کی مسابقت اور پیداواری صلاحیت کو بڑھانے میں نمایاں کردار ادا کیا ان کا کہنا تھا کہ ’’ہم نے دنیا کے سامنے ترقی کی کامیابی سے ایک متاثرکن کہانی متعارف کرائی ہے جس نے ہمارے ملک کو ایک سرکردہ علاقائی اور بین الاقوامی مالیاتی مرکزاور رہنے، کام کرنے، سرمایہ کاری اور سفر کرنے کے لیے ایک مطلوبہ جگہ بنا دیا ہے۔‘‘ان کا کہنا تھا کہ ’’ہم نے ترقی کے ساتھ ساتھ فلاح و بہبود، خدمات کی فضیلت، کارپوریٹ گورننس، تجارتی کھلے پن، معیار زندگی اورانٹرپری نیورشپ کے حوالے سے دوسروں کو پیچھے چھوڑدیا ہے۔ ہم نے کووڈ-19 وبا کے مضمرات کا کامیابی سے سامنا کیا ہے اور جگہ جگہ حفاظتی احتیاطی قدامات کی مکمل تعمیل کا مشاہدہ کرتے ہوئے معمول کی صورت حال بحال کی ہے۔‘‘ان کاکہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات مستقبل کی طرف بڑھ رہا ہے اور بہت سے شعبوں میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے اور روشن مستقبل کی تشکیل کے لیے پرعزم ہے۔ ہمارا ملک اپنی بڑی کامیابیوں سے طاقت اوراعتماد حاصل کرتا ہے ہماری قوم شہیدوں کی قربانیوں کو مشعل راہ کے طور پر دیکھتی ہے جس کا مقصد انسانیت کی تاریخ میں اپنا حصہ ڈالنا اور اس کی معاشی اور ترقی کی کہانی میں ایک نیا باب رقم کرنا ہےکامیابیوں کے اس قابل رشک ٹریک ریکارڈ کی بدولت ہم اپنی تاریخ کے اگلے 50 سال کا ایک جامع، طویل مدت اور سوچے سمجھے تزویراتی وژن کے ساتھ آغاز کررہے ہیں۔ترقی کا یہ سفر آنے والی نسلوں کے روشن مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے فضیلت کے محتاط تعاقب پرمبنی ہے اور وہ اس وقت تک اپنی قوم کو پائیدار اور متحرک معیشت کی بدولت دنیا کے بہترین ممالک میں دیکھیں گے۔‘‘متحدہ عرب امارات درحقیقت سات مملکتوں کے اتحاد کا نام ہے۔ یہ جزیرہ عرب کی مشرقی ساحلی پٹی پر واقع ہے۔امارات کی تاریخ تجارت سے جڑی ہوئی ہے جو 630 میں اس خطے میں داخل ہوئی، اس کا ساحل یورپی جارحیت پسندوں کے زیر قبضہ تھا۔ یہ علاقہ انیسویں صدی میں برطانوی استعمارکے کنٹرول میں رہا، یہاں تک کہ جواہرات اور ہیروں کی کھیپ برآمد ہوئی پھر انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں اسے خود مختاری مل گئی برطانوی استعمار کے خلیج سے دستبرداری کے اعلان کے ساتھ ہی ابو ظہبی ، دبئی ، شارجہ ،عجمان ، ام القواین اور فجیرہ کے حکمرانوں کے مابین یک معاہدہ طے پایا۔ 2 دسمبر 1971 ء کو متحدہ عرب امارات کے نام سے مشہور فیڈریشن کا قیام عمل میں آیا اور اگلے ہی سال میں ساتویں امارت راس الخیمہ نے اس اتحاد میں شمولیت اختیار کی۔حکومت متحدہ عرب امارات دستوری اعتبار سے ایک وفاقی ریاست ہے جس کی تاسیس 1971 میں ہوئی، یہ آئین ریاست کے تمام شہریوں کو مساوی مواقع اور مساوی حقوق دیتا ہے امارات میں حکومت سلیکشن کے پراسس سے گزر کر ہوتی ہے۔ چنانچہ ریاست کے صدر کا انتخاب ان سات امارات کے حکمرانوں کے ذریعے کیا جاتا ہے جو فیڈرل سپریم کونسل تشکیل د یتے ہیں اور ملک کا سیاسی نظام اس آئین پر مبنی ہے جس کا تعین پانچ فیڈرل اتھارٹیز کرتی ہے۔متحدہ عرب امارات کے پرچم کو پہلی بار 2 دسمبر 1971 کو متحدہ عرب امارات کے فیڈریشن کے اعلان کے موقع پر شیخ زید بن سلطان النہیان مرحوم نے لہرایا تھا۔متحدہ عرب امارات کے پرچم میں سبز ، سفید ، سیاہ اور سرخ رنگ ہیں اور یہ تمام رنگ عرب دنیا کے اتحاد کی علامت ہیں ۔متحدہ عرب امارات مکمل طور پر 2 دسمبر 1972 میں قائم ہوا اور 7 امارات سے تشکیل پایا تھا جس کا دارالحکومت ابوظہبی بنایا گیاابوظہبی متحدہ عرب امارات کی سب سے بڑی امارت ہے۔ یہ امارات کا سیاسی، انتظامی اور اقتصاد ی مرکز شمار ہوتا ہے۔ امارت کی مجموعی مصنوعات میں 60 فیصد کے برابر حصہ ابوظہبی کا ہے۔دبئی رقبے کے لحاظ سے اس کا دوسرا نمبر ہے اور یہ ایک بین الاقوامی شہر ہے۔ اسے ماضی میں جوہرۃ العالم ( دنیا کا زیور) کہا جاتا تھا جبکہ اسے لؤلؤۃ الخلیج (خلیج کا موتی) بھی کہا جاتا تھا۔عجمان متحدہ عرب امارات کی سب سے چھوٹی امارت ہے البتہ اس میں پہاڑوں کا ایک سلسلہ ہے جو دوسری امارات سے ممتاز ہے۔راس الخیمہ رقبے کے لحاظ سے اس کا چوتھا نمبر ہے جسے دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے: نخیل اور پرانا راس الخیمہ۔ فجیرہ.خلیج عمان کے مشرقی ساحل پر فجیرہ نظر آتا ہے۔ فجیرہ وادی ہام روڈ پر بھی واقع ہے۔ یہ ایک تجارتی سڑک ہے جو تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کی جاتی رہی ہے۔شارجہ کا رقبہ کے لحاظ تیسرا نمبر ہے، یہ متعدد چھوٹے شہروں پر مشتمل ہے اور امارات میں بہت سے ایسے تعلیمی ادارے موجود ہیں جو نئی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ جس سے امارت میں معاشی ترقی تیز ہو رہی ہے۔ام القوین آبادی کی لحاظ سے سب سے چھوٹی امارت ہے۔ یہ ایک تنگ جزیرہ نما پر قائم کیا گیا تھا جسے خور البدایہ کہا جاتا ہے۔ متحدہ عرب امارات کا اکثر علاقہ صحرا پر مشتمل ہے جس میں ریت کے بڑے بڑے ٹیلے ہیں۔ خلیج عرب کے ساتھ کئی خالی میدانوں ہیں۔ شمال مشرقی علاقوں میں پتھروں کے پہاڑ ہیں۔