.مارشل آن دی فیلڈ ۔۔جنرل باجوہ بہت شکریہ ……کالم اندر کی بات….:کالم نگار،اصغر علی مبارک. ……………………………آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بہت سے بین الاقوامی اعزازات حاصل کر چکے ہیں۔لیکن ان کی حالیہ عوامی مقبولیت دوسرے تمام اعزازات سے بڑی ہے۔ جتنی شہرت ۔عزت۔ مقبولیت جنرل قمر جاوید باجوہ کے حصہ میں آئی۔وہ کسی اور کے حصہ میں نہیں آئی ھےحالیہ سیلاب سے متاثرہ افراد کی محبت دیدنی تھی عوام انہیں اپنا مسیحا سمجھ کر پاک فوج سے عقیدت کااظہار کر رہے ہیں اور انہیں فیلڈمارشل کے نام سے پکارنے لگ گئے ہیں عوامی سطح یہ اظہارمحبت جنرل باجوہ کےہر سپاہی کےلیے اعزاز سے کم نہیں۔۔صدرپاکستان کو چاہیے کہ عوامی مطالبے پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو مثالی پیشہ ورانہ کارکردگی اور مثبت کردار پر” فیلڈ مارشل” کےاعزازی عہدے سےنوازنہ چاہیے فیلڈ مارشل پاکستان آرمی میں ایک فائیو اسٹار اعزازی رینک ہے جو اسلامی جمہوریہ پاکستان کی طرف سے چیف آف آرمی سٹاف کو ممتاز خدمات کے اعتراف میں دیا جاتا ہے جیسا کہ جنگ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور امن میں جنرل باجوہ نے قیام امن کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ بھی جیتی۔ کیونکہ زمانہ امن ھو یا دہشتگردی کے خلاف جنگ ان کی قومی خدمات کو ہر سطح شاندار انداز میں سراہا جاتا ھے پیشہ ورانہ خدمات سے پرعزم جنرل باجوہ نے سیلاب متاثرین کے ساتھ رہ کے کروڑوں پاکستانیوں کے دل جیت لیےہیں۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ جہاں بھی گئے عوام کا مورال بلند ہو جاتا ہے۔ اس لیےانکا کہنا ہے کہ پاکستانی عوام ہماری ترجیح ہے اور ہم اس مشکل وقت میں ان کی مدد کے لیے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے۔ “ہمارے ملک کے لوگوں کی حفاظت اور بہبود سب سے پہلے آتی ہے اور ہم اس وقت تک آرام نہیں کریں گے جب تک کہ سیلاب سے متاثرہ ہر ایک کو نہ صرف پہنچایا جائے بلکہ اس کی بحالی نہ ہو جائے، چاہے کتنی ہی کوشش کی ضرورت ہو, آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔ آرمی چیف گوٹھ صدوری، لاکھڑا، لسبیلہ میں قائم فلڈ ریلیف اور میڈیکل کیمپ گئے اور سیلاب سے متاثرہ مقامی لوگوں کی خیریت دریافت کی۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے امدادی کارروائیوں میں مصروف فوجیوں سے بھی ملاقات کی اور مصیبت میں گھرے مردوں، خواتین اور بچوں کی خدمت میں ان کی کوششوں کو سراہا اپنے درمیان آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو دیکھ کرسیلاب سے متاثرہ مقامی لوگوں کے جذبات قابل دیدنی تھے, متاثرین نے پاکستان زندہ باد پاک فوج زندہ باد کے نعرے بلند کر خدمت پر معمور پاک فوج کے جوانوں و افسران کے حوصلوں بھی بلند تر کر دیا جس پر آرمی چیف نے کہا کہ آرمی چیف کا کہنا تھا کہ لوگوں کی مدد کرنا ایک عظیم مقصد ہے اور ہمیں اپنی بہترین صلاحیتوں کے مطابق ان کی خدمت کرنے پر فخر محسوس کرنا چاہیے۔علاوہ ازیں خیرپور اور قمبر شہداد کوٹ کے سیلاب متاثرین نے سیلاب کی وجہ مسائل دیافت کرنے پر آرمی چیف کا شکریہ ادا کیا۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سیلاب زدہ علاقوں میں فوجی جوانوں سے ملاقات کی اور مصبیت میں گھیرے لوگوں کی مدد پر ان کے جذبے کوسراہا ہے۔ آئی ایس پی آرکا کہنا ہے کہ آرمی چیف کے وژن کے مطابق پاکستان کےعوام ہماری ترجیح ہیں اور ہم اُس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھیں گے جب تک ہر فرد تک پہنچ کر مدد نہیں کی جاتی۔ آرمی چیف نے پورا دن سیلاب متاثرین کے ساتھ گزارا اور گاؤں جیلانی، خیرپور اور قمبر شہداد کوٹ میں مقامی آبادی کے لیے ریلیف اور میڈیکل کیمپ کا دورہ کیا۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہےکہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریلیف اور ریسکیو آپریشن تقریباَ ختم ہو چکا ہے، اب بحالی کا معاملہ ہے جو بہت سال لےگا، بحالی کے لیے ہمیں پوری قوم کی مدد چاہیے۔آرمی چیف نے سیلاب زدگان کے لیے مدد کی اپیل کرتے ہوئےکہا ہےکہ میں چند دنوں سے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کر رہا ہوں، کل میں نے بلوچستان کے علاقے اوتھل اور بیلا کا دورہ کیا، آج خیر پور سندھ آیا ہوں، یہاں بہت تباہی ہوئی ہے، وفاقی،صوبائی حکومتیں، آرمی، نیوی، ائیرفورس اور فلاحی ادارے ریلیف کی کوشش کر رہے ہیں۔آرمی چیف کا کہنا ہےکہ اس سال سیلاب بہت بڑے پیمانے پر آیا ہے، سیلاب متاثرین کی بحالی میں بہت سال لگ جائیں گے، تمام پاکستانی مخیر حضرات سے اپیل ہے وہ ان مشکل حالات میں اپنے بھائیوں کی مدد کریں، ہم پوری کوشش کر رہے ہیں لیکن وفاقی و صوبائی حکومتوں اور آرمڈ فورسز کے وسائل محدود ہیں، آپ لوگ سامنے آئیں اور جس طرح سے بھی مدد کرنا چاہتے ہیں متاثرین کی مدد کریں۔آرمی چیف کا کہنا ہےکہ بحالی کے لیے ہمیں پوری قوم کی مدد چاہیے، دوست ممالک سے ہم نے اور ہماری حکومت نے درخواست کی ہے، حکومت اور پاکستانی عوام کی جانب سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور دوستوں سے اپیل کرتا ہوں، آگے آئیں اور مشکل حالات میں گِھرے لوگوں کی مدد کریں، یقین ہے ہمیشہ کی طرح ہمارے تارکین وطن پاکستان میں اپنے بھائیوں کو مایوس نہیں کریں گے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہےکہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریلیف اور ریسکیو آپریشن تقریباَ ختم ہو چکا ہے، اب بحالی کا معاملہ ہے جو بہت سال لےگا، بحالی کے لیے ہمیں پوری قوم کی مدد چاہیے۔آرمی چیف نے سیلاب زدگان کے لیے مدد کی اپیل کرتے ہوئےکہا ہےکہ میں چند دنوں سے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کر رہا ہوں، کل میں نے بلوچستان کے علاقے اوتھل اور بیلا کا دورہ کیا، آج خیر پور سندھ آیا ہوں، یہاں بہت تباہی ہوئی ہے، وفاقی،صوبائی حکومتیں، آرمی، نیوی، ائیرفورس اور فلاحی ادارے ریلیف کی کوشش کر رہے ہیں۔آرمی چیف کا کہنا ہےکہ اس سال سیلاب بہت بڑے پیمانے پر آیا ہے، سیلاب متاثرین کی بحالی میں بہت سال لگ جائیں گے، تمام پاکستانی مخیر حضرات سے اپیل ہے وہ ان مشکل حالات میں اپنے بھائیوں کی مدد کریں، ہم پوری کوشش کر رہے ہیں لیکن وفاقی و صوبائی حکومتوں اور آرمڈ فورسز کے وسائل محدود ہیں، آپ لوگ سامنے آئیں اور جس طرح سے بھی مدد کرنا چاہتے ہیں متاثرین کی مدد کریں۔آرمی چیف کا کہنا ہےکہ بحالی کے لیے ہمیں پوری قوم کی مدد چاہیے، دوست ممالک سے ہم نے اور ہماری حکومت نے درخواست کی ہے، حکومت اور پاکستانی عوام کی جانب سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور دوستوں سے اپیل کرتا ہوں، آگے آئیں اور مشکل حالات میں گِھرے لوگوں کی مدد کریں، یقین ہے ہمیشہ کی طرح ہمارے تارکین وطن پاکستان میں اپنے بھائیوں کو مایوس نہیں کریں گے۔ بلوچستان میں 24 گھنٹوں کے دوران بارشوں کے نتیجے میں ہونے والے حادثات میں مزید 6 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کے بعد صوبے میں اموات کی مجموعی تعداد 248 تک پہنچ گئی۔ پرووینشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں بارش اور سیلاب کے نتیجے میں ہونے والے حادثات میں مزید 6 افراد جان کی بازی ہار گئے،24گھنٹوں کے دوران 5 اموات مچ اور ایک چمن میں ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق یکم جون سے اب تک جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 248 ہوگئی۔ سب سے زیادہ 27 ہلاکتیں کوئٹہ ،21لسبیلہ اور 17پشین میں ہوئیں،صوبے میں بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں 106 افراد زخمی ہوچکے ہیں جن میں 57 مرد 13 خواتین اور 36 بچے شامل ہیں۔ سیلابی ریلوں اور بارشوں سے مجموعی طور پر بلوچستان میں 61 ہزار 488 مکانات نقصان کا شکار ہوئے تو وہیں ایک لاکھ 45 ہزار 936 سے زائد مال مویشی سیلابی ریلوں کی نذر ہوگئے ہیں،اب تک مجموعی طور پر دو لاکھ ایکڑ زمین پر کھڑی فصلوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ چیف آف آرمی سٹاف کی ہدایت پر پاکستان آرمی کی طرف سے ملک گیر سطح پر سیلاب زدگان کی امداد کے لیے ریلیف کیمپوں کا قیا م کیا گیا ہے- سیلاب زدہ علاقوں میں پاک فوج کی امدادی سرگرمیوں میں تیزی آگئی ہے، سیلاب متاثرین کے لیے آرمی ریلیف فنڈ بھی قائم کیا گیا ہے تاکہ افسران/اندرونی اداروں سے چندہ اکٹھا کیا جا سکے اور بعد میں مستحق افراد میں تقسیم کیا جا سکے۔متاثرین میں 5487 راشن کے پیکٹ اور 1200 سے زائد خیمے تقسیم کیے گئے ہیں۔آئی ایس پی آر نے بتایا کہ ملک بھر میں 117 ریلیف کیمپ بھی قائم کیے گئے ہیں، آرمی ایئر ڈیفنس کمانڈ ہیڈ کوارٹرز میں فلڈ ریلیف سینٹر قائم کیا گیا ہے، سینٹر کا مقصد فلڈ ریلیف اقدامات کو کوآرڈنیٹ کرنا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق اب تک 25 ہزار سے زائد مریضوں کا علاج کیا جا چکا ہے، آرمی فلڈ ریلیف کورڈینیشن سینٹر قائم کیا گیا ہے، ملک بھر میں امداد کلیکشن پوائنٹس قائم کیے جا رہے ہیں۔ اسی سلسلے کے تحت لاہور ڈویژن میں اب تک 10 مقامات پر امدادی کیمپ عمل پذیر ہو چکے ہیں جن میں فورٹریس سٹیڈیم ، صدر گول چکرکینٹ، ورکشاپ اسٹاپ والٹن روڈ ، ایل ڈی اے سپورٹس کمپلیکس بلاک ڈی ۲ جوہر ٹاؤن ،شیبا پارک وائی بلاک اور شبیر شریف چوک ڈی ایچ اے ،گریٹر اقبال پارک ، قصور نزد ڈی سی آفس ، شیخوپورہ نزد ڈی سی آفس اور گرلز ہائی اسکول چونیاں شامل ہیں جبکہ پاکستان رینجرز پنجاب بھی سیلاب زدگان کی امداد کے لئے لاہور کے مختلف مقامات پر کیمپوں کا قیام کر چکی ہے جن میں غازی روڈ نزد میٹرو، جلو موڑ، ہیر کوٹھی بیدیاں روڈ، کھڈیاں روڈ قصور، آر پی ایس قصوراور آر پی ایس کنگن پور شامل ہیں – پاک فوج نے فلڈ ریلیف کیلئے ہیلپ لائن قائم کر دی، ہیلپ ڈیسک پر یو اے این 1135 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاک فوج نے فلڈ ریلیف کیلئے ہیلپ لائن قائم کر دی، ملک بھر سے آرمی ہیلپ ڈیسک پر یو اے این ڈبل ون تھری فائیو پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔آئی ایس پی آر نے بتایا کہ خیبر پختونخواہ کے لیے بھی آرمی فلڈ ہیلپ لائن قائم کی گئی ہے، خیبر پختونخوا سے ہیلپ لائن یو اے این 1125پررابطہ کیا جاسکتا ہے۔دوسری جانب پاک فوج نے ملک بھرمیں فلڈریلیف کیمپ قائم کردیے ہیں ، ان سینٹرز پر امدادی اشیاء اکٹھی کرکے متاثرین تک پہنچائی جارہی ہیں۔آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ پاک فوج سیلاب کے متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کررہی ہے جبکہ فوجی جوان متاثرین میں کھانا اور شیلٹرز بھی فراہم کررہے ہیں۔آئی ایس پی آر کے مطابق لاہور ڈویژن میں 10، ملتان میں 11، گوجرانوالہ میں 17 ، بہاولپورمیں7کیمپ قائم کئے گئے ہیں۔ترجمان نے بتایا کہ پنجاب رینجرز نے لاہور، سیالکوٹ، بہاولپور،منڈی بہاالدین ،رحیم یارخان ،فیصل آباد ، سرگودھا ڈویژن میں 6 اور جہلم میں3 فلڈ ریلیف کیمپ قائم کئے۔ آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ خیبرپختونخوا میں ایبٹ آباد اور مانسہرہ میں جبکہ بلوچستان میں 41 آرمی فلڈ ریلیف کیمپ قائم کردیے گئے ہیں وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں موبائل سے فری کال کی سہولت فراہم کر دی گئی۔وزیراعظم شہباز شریف نے چئیرمن پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں زیرو بیلنس پر فری کال کی سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کی تھی۔یہ اقدام عوام کے ریسکیو اور ریلیف کی کوششوں کو بہتر بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ سیلاب سے متاثرہ افراد کو فوری طور پر خیموں یا کم از کم واٹر پروف ترپال فراہم کیے جائیں تاکہ وہ مزید بھیگنے اور سیلاب کے نتیجے میں پھوٹنے والی موزی بیماری سے خود کو محفوظ رکھ سکیں متاثرین کو مچھروں سے بچنے کے نیٹ یا مچھر بھگانے والی یا مچھر کش ادویات چاہییں تاکہ وہ خود کو محفوظ رکھ سکیں سیلاب متاثرین کو اس وقت فوری طور پر تیار یا پکی پکائی خوراک کی ضرورت ہے کیوں کہ ان کے پاس خشک خوراک کو پکانے کا کوئی بندوبست نہیں۔ فوری طور پر سیلاب متاثرین کو ہائیجین کٹس یعنی صابن، تولیے، بالٹیاں اور لوٹوں کی بھی ضرورت ہے دوسری طرف وزیر اعظم شہباز شریف نے بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دورے کے دوران بحالی کے لیے 10 ارب روپے کی گرانٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے میں نے اپنی زندگی میں ایسا تباہ کن سیلاب نہیں دیکھا جس نے چاروں اطراف تباہی مچادی ہے، کئی دیہات صفحہ ہستی سے مٹ گئے، ہزار سے زائد لوگ اللہ کو پیارے ہوگئے۔ وزیر اعظم شہباز شریف سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بچاؤ اور امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے لیے بلوچستان کے ضلع جعفر آباد پہنچے۔بریفنگ کے دوران وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ قلعہ عبداللہ اور قلعہ سیف اللہ میں سیلاب سے بہت نقصان ہوا، 9 لاکھ ایکڑ سے زائد زرعی اراضی کو نقصان پہنچا ہے۔ بلوچستان میں 2 ہزار سے زائد سڑکیں سیلاب سے تباہ ہوچکی ہیں، سیلاب کے باعث 65 ہزار سے زائد گھر گر گئے ہیں جبکہ 26 اگست کو کوئٹہ مکمل طور پر بلیک آؤٹ ہوگیا تھا۔شہباز شریف نے کہا کہ 2010 کا سیلاب بھی بہت بڑا تھا لیکن سیلاب صرف دریائے سندھ اور اس سے ملحقہ علاقوں تک محدود تھا، جبکہ حالیہ سیلاب پورے ملک میں تباہی مچادی ہے اور بلوچستان اور سندھ سب سے زیادہ متاثر ہونے والے صوبے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں بھی بےپناہ بارشیں ہوئیں، جس سے بہت نقصان ہوا، جس سے دیکھتے ہوئے دریا کنارے بنے گھر اور کئی عمارتیں دریا برد ہوگئیں، اب تک ہزار سے زیادہ لوگ جاں بحق ہوچکے ہیں، فصلیں تباہ ہوگئی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ایران، ترکیہ اور یو اے ای کے صدور نے بات چیت کی اور تعاون کی یقین دہانی کرائی، خوشی ہے کہ ترکیہ سے امدادی سامان کے جہاز روانہ ہوچکے ہیں، آج یو اے ای سے بھی امدادی سامان کا جہاز اسلام آباد پہنچے گا، مشکل کی اس گھڑی میں امداد کرنے پر میں دوست ممالک کا شکر گزار ہوں۔برطانیہ نے بھی 15 لاکھ پاؤنڈ امداد دینے کا اعلان کیا، آج پھر مخیر حضرات کو مشکل کی اس گھڑی میں امداد کرنے کی اپیل کرتا ہوں، گزشتہ رات ایک شخص نے 6 کروڑ روپے دیے اور کہا کہ میرا نہیں بتایا جائے، اس کے علاوہ ایک گروپ نے 45 کروڑ روپے دیے، مزید تاجروں کا ایک وفد امداد میں اپنا حصہ ڈالے گا۔ان کا کہنا تھا کہ میں نے اپنی زندگی میں ایسا سیلاب نہیں دیکھا جس نے چاروں اطراف میں تباہی مچادی ہے، کئی دیہات صفحہ ہستی سے مٹ گئے ہیں، ہزار سے زائد لوگ اللہ کو پیارے ہوگئے، ہزاروں زخمی ہوگئے، لاکھوں لوگ بے گھر ہوگئے، ان کے مکان اجڑ گئے، وفاقی حکومت 25 ہزار روپے ہر متاثرہ خاندان کو دے رہی ہے جو 38 ارب روپے بنتے ہیں جنہیں ہم این ڈی ایم اے اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت جاری کریں گے تاکہ ہر حقدار کو یہ رقم ملے اور کسی ناحق کو ملے۔انہوں نے کہا کہ ایک ہفتے میں یہ رقم تقسیم کریں گے جبکہ اس کے نقصانات کا مزید تخمینہ لگایا جائے گا، انہوں نے کہا سیلاب سے سندھ میں بھی بہت تباہی مچائی ہے، فضائی جائزے کے دوران ٹھاٹے مارتا ہوا دریائے سندھ ہر طرف تباہی مچا رہا ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ میں نے وہاں پر 15 ارب روپے کی گرانٹ کا اعلان کیا، انہوں نے کہا میں تمام وزرائے اعلیٰ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں، میری آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی بات ہوئی، کل میری ایئرچیف سے بھی بات ہوئی، میری نیول چیف سے بھی بات ہوئی، اس وقت تک 50 ہزار لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچایا جاچکا ہے، آرمی کی ٹیمییں فیلڈ میں موجود ہیں۔ وزیراعظم نے بلوچستان کے لیے 10 ارب روپے کی گرانٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس رقم کے ذریعے وزیر اعلیٰ، بلوچستان این ڈی ایم اے کے چیئرمین کے ساتھ مل کر متاثرین کی بحالی کے لیے کام کریں گے، مجھے امید ہے کہ یہ رقم ایمانداری کے ساتھ مستحقین تک پہنچائی جائے گی۔وزیر اعظم کا ریلیف فنڈ اکائونٹ آفات سے متاثرہ لوگوں کیلئے عطیات جمع کرنے کرنے کیلئے فعال ہے پاکستان آرمی نے سیلاب زدگان کی مدد کے لیے حکومت کی اجازت کے بعد سیلاب ریلیف ڈونیشن اکاؤنٹ نمبر – 00280100620583 قائم کیا ہے۔اکاؤنٹ کا عنوان – سیلاب متاثرین کے لیے آرمی ریلیف عسکری بینک جی ایچ کیو برانچ ہے.آرمی فلڈ ریلیف ہیلپ لائن قائم کر دی گئی ہے۔ یونیورسل ایکسس نمبر (UAN) 1135 پر مختلف فارمیشنوں میں آرمی ہیلپ ڈیسک تک پہنچا جا سکتا ہے۔خیبرپختونخوا آرمی فلڈ ریلیف ہیلپ ڈیسک کے لیے UAN 1125 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔یکجہتی کے طور پر پاک فوج کے جنرل رینک کے تمام افسران کی ایک ماہ کی تنخواہ سیلاب متاثرین کے لیے عطیہ کر دی گئی ہے











