غیرقانونی فنڈنگ کیس میں جماعت الدعوہ کے سربراہ حافظ سعید کو 31 برس کی سزا…….۔(اندر کی بات ؛کالم نگار؛اصغرعلی مبارک) جماعت الدعوہ کے سربراہ حافظ سعید کو غیر قانونی فنڈنگ کے دو مقدمات میں مجموعی طور پر 31 برس قید کی سزا سنا دی گئی ہےانسداد دہشت گردی عدالت کے جج اعجاز احمد بٹر نے کالعدم جماعت الدعوہ کے سربراہ حافظ سعید کے خلاف غیرقانونی فنڈنگ کے مقدمات کی سماعت کی۔حافظ سعید کی جانب سے ایڈوکیٹ نصیر الدین نئیر عدالت میں پیش ہوئے اور دلائل دیے۔انسداد دہشت گری عدالت کے جج اعجاز بٹر نے ٹرائل مکمل ہونے پر فیصلہ سنایا۔عدالت نے حافظ سعید کو مجموعی طور پر 31 برس قید اور 3 لاکھ 40 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔خیال رہے کہ محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے حافظ سعید اور دیگر کے خلاف مقدمات درج کر رکھے ہیں۔اس سے قبل بھی حافظ سعید اور دیگر کو انسداد دہشت گردی عدالت سے سزائیں ہو چکی ہیں۔سی ٹی ڈی نے جماعت الدعوہ کے رہنماؤں کے خلاف مختلف شہروں میں 41 ایف آئی آر درج کر رکھی ہیں۔اس سے قبل نومبر 2021 میں لاہور ہائی کورٹ نے محکمہ انسداد دہشت گردی کی جانب سے دہشت گردی کی مالی معاونت کے درج کیے گئے مقدموں میں سے ایک میں جماعت الدعوہ کے 6 رہنماؤں کو بری کردیا تھا۔کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 2020 میں سپر ہائی وے پر قائم مسجد کے امام کو کالعدم جماعت الدعوۃ کے لیے فنڈز جمع کرنے پر 25 سال قید کی سزا سنادی تھی۔عدالت نے صوبائی محکمہ تعلیم کو ملیر میں قائم مدرسہ ضبط کرنے اور مسجد کا انتطام سنبھالنے کا بھی حکم دیا تھا، جس سے ملک بھر میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے فنڈز فراہم کرنے کی غرض سے پیسہ اکٹھا کرنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔ انسداد دہشت گردی عدالت نے غیر قانونی فنڈنگ کیس میں کالعدم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کو اس سے قبل مجموعی طور پر ساڑھے 15 سال قید کی سزا سنائی تھی۔لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے دسمبر 2020 میں غیر قانونی فنڈنگ کیس میں کالعدم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کو مجموعی طور پر ساڑھے 15 سال قید کی سزا سنائی تھی۔انسداد دہشت گردی عدالت کے جج اعجاز بٹر نے حافظ سعید پر مجموعی طور پر ایک لاکھ 70 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔جماعت الدعوۃ کے دیگر رہنماؤں حافظ عبدالسلام ، پروفیسر ظفر اقبال، محمد اشرف اور یحییٰ مجاہد کو بھی ساڑھے 15، 15 سال قید اور جرمانہ جبکہ حافظ عبد الرحمٰن مکی کو 6 ماہ قید اور جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی۔انسداد دہشت گردی عدالت نے 12 فروری 2020 کو حافظ سعید اور ملک ظفر اقبال کو 5،5 برس قید کی سزا سنائی تھی۔یاد رہے کہ سی ٹی ڈی نے 2015 میں مذکورہ مجرمان کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے سیکشنز 11-ایف (2)(5)(6)، 11-ایچ(2)، ایچ-آئی، 11-این اور جے-2 کے تحت ایف آئی آر درج کی تھی۔حافظ محمد سعید پاکستان کی مذہبی و فلاحی جماعت جماعت الدعوہ کے بانی امیر ہیں۔ قومی سطح کے معاملات میں رائے عامہ کو ہموار کرنے اور کشمیریوں پر بھارتی مظالم کے خلاف پاکستان میں توانا آواز رکھتے ہیں۔ کشمیر کی آزادی کے لیے چلنے والی کئی تحریکوں کی سربراہی کر رہے ہیں. دفاع پاکستان کونسل میں کلیدی کردار ادا کرچکے ہیں۔ آپ قرآن کے حافظ اور علوم اسلامیہ پر دسترس رکھتے ہیں۔ لاہور کی معروف جامعہ یونیورسٹی آف انجینئری اینڈ ٹیکنالوجی، لاہور (UET) میں شعبہ اسلامیات کے پروفیسر اور سربراہ رہ چکے ہیں۔ لاہور کے چوبرجی چوک میں واقع جامع مسجد القادسیہ میں ماہ رمضان کے دوران میں قرآن مجید کی تفسیر بھی بیان کرتے رہے ہیں۔ آپ ریاض، سعودی عرب کے معروف تعلیمی ادارے کنگ سعود یونی ورسٹی سے عربی ادب میں اعلیٰ تعلیم یافتہ اور گولڈ مڈل کے حامل ہیں۔ سعودی عرب کے معروف عالم دین شیخ عبدالعزیز بن باز کے براہ راست شاگرد بھی ہیں۔ آپ نے سعودی عرب سے واپسی پر 1980ءکے عشرے میں دعوت دین کی بنیاد پر لاہور سے اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔حافظ سعید کی پیدائش 1947ءمیں اس وقت ہوئی جب آپ کا خاندان انڈیا سے ہجرت کرکے پاکستان پہنچا۔ آپ کے آباﺅ اجداد کا تعلق کشمیر سے ہے، تاہم آپ کے باپ دادا مشرقی پنجاب کے شہر انبالہ میں سکونت اختیار کرگئے تھے۔ جہاں سے آپ کے خاندان نے تقسیمِ ہند کے موقع پر مغربی پنجاب کے شہر سرگودھا ہجرت کی۔ ہجرت کے اس سفر میں آپ کے خاندان کے متعدد افراد شہید ہوئے۔ آپ کے والد کمال الدین گجر نے سرگودھا کے گاﺅں سلاں والی میں سکونت اختیار کی اور زمینداری سے وابستہ ہوئے۔ آپ کی والدہ حافظ قرآن اور دین دار خاتون تھیں۔ حافظ سعید سمیت آپ تینوں بھائیوں اور دو بہنوں کو آپ کی والدہ نے دس سال کی عمر سے قبل ہی حافظ قرآن بنا دیا تھا۔حافظ سعید کا بچپن سرگودھا میں گذرا ہے۔ جہاں آپ نے اپنی والدہ سے قرآن حفظ کیا اور گاﺅں کے اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ میٹرک کے بعد مزید تعلیم کے لیے اپنے ماموں اور معروف عالم دین پروفیسر حافظ عبد اللہ بہاولپوری کے پاس بہاولپور چلے گئے۔ وہاں سے واپسی پر آپ نے سرگردھا کالج سے 1968ءمیں ایف اے کا امتحان پاس کیا۔ 1970ءمیں پنجاب یونی ورسٹی لاہور سے بی اے کیا اور 1972ءمیں پنجاب یونی ورسٹی سے ہی ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ بعد ازاں 1974ءمیں پنجاب یونی ورسٹی سے ایم اے کی دوسری ڈگری بھی حاصل کرلی۔حافظ سعید نے پنچاب یونی ورسٹی سے ماسٹر کرنے کے بعد یونی ورسٹی آف انجینئری اینڈ ٹیکنالوجی لاہور کے شعبہ اسلامیات میں بطور لیکچرار تدریسی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ بعد ازاں آپ اعلیٰ تعلیم کے لیے سعودی عرب چلے گئے۔ آپ نے کنگ سعود یونی ورسٹی سے عربی ادب میں پہلی پوزیشن لی اور گولڈ مڈل حاصل کیا۔ سعودی عرب میں سکونت کے دوران میں آپ نے متعدد کبار علمائے کرام کی صحبت پائی اور ان کے شاگرد رہے۔ جن میں سعودی عرب کے معروف عالم دین شیخ عبدالعزیز بن باز رحمة اللہ علیہ سرفہرست ہیں۔حافظ سعید یونی ورسٹی آف انجینئری اینڈ ٹیکنالوجی میں پچیس سال تک شعبہ تدریس سے وابستہ رہے۔ آپ شعبہ اسلامیات کے سربراہ بھی بنے۔ اس دوران میں آپ نے متعدد موضوعات پر تحقیقی کام کیا۔ امام البانی رحمة اللہ علیہ کے ”اعجاز القرآن“ اور صحابی رسول حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے حالات زندگی پر تحقیقی مقالے تحریر کیے۔ اس کے علاوہ قرآن مجید کی سورة التوبہ اور سورة یوسف کی تفاسیر بھی تالیف کرچکے ہیں۔ آپ 1970ءکے عشرے میں ”اسلامی نظریاتی کونسل“ کے رکن بھی بنے۔ آپ نے اس ادارے کے اشتراک سے ”حدود“ پر ایک معلوماتی مقالہ تحریر کیا۔ اس کے علاوہ تعلیم، فکری تصورات اور قومی و بین الاقوامی سطح کے معاملات پر سیکڑوں مضامین پاکستان کے موقر جریدوں اور اخبارات میں لکھ چکے ہیں۔حافظ سعید نے دعوت دین اور رفاہ عامہ کے سلسلے میں ”مرکز الدعوة والارشاد“ کے نام سے 1986ءمیں ادارے کی بنیاد رکھی۔ یہ ادارہ اسی نام سے سعودی عرب میں بھی دعوت و تبلیغ کا کام کر رہا ہے۔ حافظ سعید اس ادارے کی سرگرمیوں سے متاثر تھے۔ سعودی عرب میں سکونت کے دوران میں اس ادارے کا قریب سے مشاہدہ کیا اور پاکستان واپسی پر اسی نام سے دعوت دین کا کام شروع کیا۔ اس سلسلے میں ماہنامہ میگزین ”الدعوة“ کا اجرا بھی کیا۔ مرکز الدعوة والارشاد کے زیراہتمام ملک کے مختلف علاقوں میں مدارس کھولے گئے اور تعلیمی ادارے بنائے گئے۔ حافظ سعید نے ابتدا میں زیادہ توجہ پنجاب کے دیہات پر مرکوز رکھی۔ لاہور کے نواح میں واقع قصبے مریدکے میں قائم ”مرکزطیبہ“ کو دعوتی، تعلیمی و رفاہی سرگرمیوں کا مرکز بنایا۔حافظ سعید کا تعلیم، تدریس، تحقیق اور تبلیغ کے علاوہ دوسرا بڑا کام رفاہ عامہ کے لیے کردار تھا۔ آپ نے سیلاب اور قدرتی آفات کے موقع پر مرکز الدعوة والارشاد کے تحت خدمت خلق کا وسیع پیمانے پر کام کیا۔ 1990ءکے عشرے میں فلاحی کام کا دائرہ کار وسیع ہونے پر آپ نے ”مرکز الدعوة الارشاد“ کو ”جماعة الدعوة“ میں بدل دیا۔ اس دوران میں آپ کے احباب اور رضاکاروں کا دائرہ بھی وسیع ہو گیا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب افغانستان میں سوویت یونین کی شکست کے بعد کشمیریوں نے علم جہاد بلند کر دیا تھا۔ حافظ سعید مظلوم کشمیریوں کے لیے شروع دن سے آواز بلند کرتے رہے ہیں اور ان کی اخلاقی و سیاسی مدد کے قائل ہیں۔ ان ایام میں مقبوضہ کشمیر میں سرگرم جہادی تنظیم ”لشکر طیبہ“ وجود میں آچکی تھی۔ یہ تنظیم 1993ءسے مقبوضہ کشمیر میں فعال ہے اور قابض بھارتی افواج کے اہداف کو نشانہ بنا رہی ہے۔ وقت کے ساتھ اس تنظیم کی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔ پاکستان میں جماعة الدعوة کے امیر حافظ سعید کے کشمیر کاز سے جڑے رہنے کے باعث اور جماعة الدعوة و لشکر طیبہ کا اہل حدیث مکتب فکر سے تعلق ہونے کی بنا پر ان دونوں تنظیموں کو ایک ہی خیال کیا جانے لگا۔ اسی نسبت سے پاکستان میں حافظ سعید لشکرطیبہ کے امیر معروف ہوئے۔ حالانکہ حافظ سعید کبھی لشکر طیبہ کی امارت پر فائز نہیں ہوئے۔ آپ جماعة الدعوة کے امیر ہی رہے ہیں۔ دسمبر2001ءمیں بھارت کے پارلیمنٹ ہاﺅس پر مسلح حملے کے بعد جب جنوری2002ءمیں پاکستان نے لشکر طیبہ اور جیش محمد کو کالعدم قرار دیا۔ اس سے قبل دسمبر2001ءمیں ہی حافظ سعید نے لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران میں لشکر طیبہ سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا تھا۔ بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس چوہدری اعجاز احمد نے بھی نومبر2002ءمیں اپنے فیصلے میں جماعة الدعوة اور لشکر طیبہ کو دو الگ تنظیمیں قرار دیا تھا اور حافظ سعید کا کشمیری جہادی تنظیم لشکر طیبہ سے تعلق ثابت نہ ہونے کی تصدیق کی تھی۔حافظ سعید کا ادارہ مرکز الدعوة و الارشاد اور بعد ازاں جماعة الدعوة کے سماجی کردار کا ایک اہم پہلو دکھی انسانیت کی خدمت ہے۔ آپ نے بلا امتیاز رنگ و نسل و مذہب ہر ضرورت مند کی خدمت کو اپنا شعار بنایا۔ رفاہی سرگرمیوں میں اضافے کی خاطر حافظ سعید نے اول ادارہ ”خدمت خلق جماعة الدعوة“ کی بنیاد رکھی۔ اکتوبر2005ءمیں آزاد کشمیر اور صوبہ خیبر پختون خوا کے ہزارہ ڈویژن میں ہولناک زلزلے کے بعد حافظ سعید کے ادارہ خدمت خلق جماعة الدعوة نے متاثر کن کردار کیا تھا۔ جسے نہ صرف حکومتی سطح پر پزیرائی ملی، بلکہ اقوام متحدہ نے بھی جماعة الدعوة کے رفاہی کردار کا اعتراف کرتے ہوئے ادارے کے اعزاز میں اعترافی سرٹیفیکیٹ جاری کیا تھا۔ اُس وقت کے آرمی چیف اور صدرِ پاکستان جنرل (ر) پرویز مشرف اپنے میڈیا انٹرویوز میں متعدد مرتبہ 2005ءکے تباہ کن زلزلے میں جماعة الدعوة کے رفاہی کردار کو سراہ چکے ہیں۔ بعد ازاں جماعة الدعوة نے اپنے فلاحی نیٹ ورک میں مزید توسیع کرتے ہوئے ”فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن“ کی بنیاد رکھی۔ جس نے سوات آپریشن 2009ءکے موقع پر بے گھر متاثرین کی مدد کے لیے بڑھ چڑھ حصہ لیا۔ 2010ءمیں ملک میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے موقع پر فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن نے خدمت خلق کی نئی مثالیں قائم کر دیں۔ متاثرین کو کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے علاوہ تیار خوراک، ادویات، میڈیکل کیمپنگ اور خشک راشن کی تقسیم وسیع پیمانے پر کی گئی۔ بعد میں خیبر پختون خوا، پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے بعض اضلاع میں آنے والے پے درپے سیلابوں میں بھی فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن کے رضاکاروں نے حافظ سعید کی ہدایات پر متاثرین کی بڑھ چڑھ کر امداد کی۔ اسی طرح 2013ءمیں بلوچستان کے اضلاع آواران اور ماشکیل میں آنے والے زلزلوں میں بھی فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن کا کردار مثالی رہا۔ 2015ءکے چترال زلزلے کے علاوہ وزیرستان آپریشن کے متاثرین کی امداد میں بھی حافظ سعید کی فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن پیش پیش رہی۔ سندھ کے صحرا تھرپارکر میں فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن نے وسیع پیمانے پر فلاحی سرگرمیاں سر انجام دیں۔ تھر اور بلوچستان میں پانی کی دستیابی کے لیے فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن کے بنائے گئے واٹر پراجیکٹ کی تعداد 1200 سے زائد ہے۔ حافظ سعید نے اپریل2014ءمیں قحط سالی کے ایام میں تھر کا دورہ بھی کیا تھا۔ جہاں انہوں نے متاثرین میں راشن اور تحائف کی تقسیم کے علاوہ تھرپارکر کے ضلعی صدر مقام مٹھی میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کیا، جس میں تھر کی ہندو برادری نے بھی بڑے پیمانے پر شرکت کی اور ان کے نمائندے نے حافظ سعید کے ادارے کی بلا امتیاز خدمات پر ان کا شکریہ ادا کیا۔حافظ سعید نے قومی سطح کے معاملات میں رائے عامہ کو ہموار کرنے اور ملک کی مذہبی و سیاسی قیادت کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کے لیے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ 2011ءمیں جب امریکا نے افغانستان سے متصل خیبر پختون خوا میں پاکستان کے سلالہ چیک پوسٹ پر حملہ کیا، تو پاکستان کی سیاسی و مذہبی قیادت نے مولانا سمیع الحق کی سربراہی میں ”دفاع پاکستان کونسل“ کی بنیاد رکھی۔ جس میں 40 سے زائد سیاسی و مذہبی جماعتیں شامل تھیں۔ جماعة الدعوة اس کونسل میں اہم اکائی کے طور پر شامل ہوئی۔ دفاع پاکستان کونسل نے افغانستان میں متعین نیٹو افواج کو پاکستان کے راستے سپلائی کی فراہمی کے خلاف پرزور تحریک چلائی۔ لاہور، کراچی، راولپنڈی، پشاور، کوئٹہ اور ملتان سمیت تمام چھوٹے بڑے شہروں میں زبردست جلسے کیے گئے۔ جولائی2012ءمیں لاہور سے اسلام آباد لانگ مارچ بھی کیا گیا۔ اسی طرح کوئٹہ سے چمن بارڈر اور پشاور سے طورخم بارڈر تک مارچ بھی اسی سلسلے کی کڑیاں تھیں۔ ان تمام مہمات میں حافظ سعید اور ان کے ہزاروں کارکنان پیش پیش تھے۔ تجزیہ کاروں نے دفاع پاکستان کونسل کی مہمات میں جماعة الدعوة کے کارکنان کو اس کونسل کی اصل قوت قرار دیا۔ دفاع پاکستان کونسل نے 2012ءمیں اُس وقت کی پیپلز پارٹی کی حکومت کی جانب سے بھارت کو تجارت کے لیے پسندیدہ ملک کا درجہ دینے کے خلاف بھی زبردست تحریک چلائی تھی اور حکومت کو اس فیصلے سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا تھا۔ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں اور کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف بھی دفاع پاکستان کونسل کی مہمات میں حافظ سعید اور جماعة الدعوة کے کارکنان کا اہم کردار رہا ہے۔ اس کے علاوہ حرمت رسولﷺ، حرمت قرآن، تحفظ حرمین شریفین اور تحفظ قبلہ اول کے سلسلے میں ملک بھر میں زبردست مہمات کا سہرا بھی حافظ سعید کے سر جاتا ہے۔حافظ سعید ابتدا میں جمہوری سیاست سے کنارہ کش رہے۔ تاہم 2018ءکے عام انتخاب سے قبل آپ اس نتیجے پر پہنچے کہ پاکستان کے مرکزی دھارے کی سیاست میں شمولیت اختیار کرکے ملک و قوم کے لیے مزید بہتر کردار ادا کیا جاسکتا ہے۔ اس غرض سے اگست2017ءمیں اسلام آباد میں مفسر قرآن سیف اللہ خالد کی صدارت میں ”ملی مسلم لیگ“ کی بنیاد رکھی گئی۔ اس جماعت نے ستمبر2017ءمیں لاہور کے حلقے این اے120 سے ضمنی انتخاب میں پہلی مرتبہ حصہ لیا۔ واضح رہے یہ نشست سابق وزیر اعظم نواز شریف کی پانامہ اسکینڈل کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں میںان کی نااہلی کے باعث خالی ہوئی تھی۔ مذکورہ نشست پر ضمنی انتخاب میں ملی مسلم لیگ کے حمایت یافتہ امیدوار محمد یعقوب شیخ تھے۔ اگرچہ انتخاب کے نتیجے میں ملی مسلم لیگ نشست جیت نہ سکی، تاہم قلیل مدت میں اور وسائل کی کمی کے باوجود زبردست انتخابی مہم چلانے اور پاکستان کی بعض قومی سطح کی جماعتوں کے امیدواروں کو پچھاڑنے پر سیاسی مبصرین اس جماعت کی کارکردگی پر حیران تھے۔ ملی مسلم لیگ نے 2018ءکے عام انتخابات میں ملک بھر سے 260 امیدواروں کومختلف قومی و صوبائی حلقوں سے نامزد کیا تھا۔ یاد رہے الیکشن کمیشن میں بیرونی دباﺅ کی وجہ سے رجسٹریشن سے محرومی کے سبب ملی مسلم لیگ کے حمایت یافتہ امیدوار پہلے سے رجسٹرڈ ”اللہ اکبر تحریک“ کے پلیٹ فارم سے انتخابی میدا ن میں اترے تھے۔ مذکورہ انتخابات میں بھی ملی مسلم لیگ کوئی نشست نکال نہیں سکی، لیکن ان انتخابات میں ساڑھے4 لاکھ سے زائد ووٹ حاصل کرکے ملی مسلم لیگ نے اپنی موجودگی کا احساس دلایا تھا اور اس تاثر کو بھی زائل کیا کہ حافظ سعید اور ان کے کارکنان مرکزی دھارے کی سیاست سے گریزاں ہیں۔حافظ سعید نائن الیون کے بعد پاکستان کی تمام حکومتوں کے ادوار میں رکاوٹوں اور نظربندیوں کا سامنا کرچکے ہیں۔ جس کے خلاف حافظ سعید نے ہمیشہ عدالتوں کا رخ کیا اور سرخرو ہوئے۔ سب سے پہلے پرویز مشرف کے دور میں جنوری 2002ءمیں جب لشکر طیبہ کو کالعدم قرار دیا گیا، تو حافظ سعید کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔ جس پر حافظ سعید نے اپنی نظر بندی لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کردی۔ جسٹس چوہدری اعجاز احمد کی عدالت میں اس کیس کی طویل سماعتیں ہوئیں، جس کے اختتام پر نومبر2002ءمیں لاہور ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا کہ جماعة الدعوة، لشکر طیبہ کا نیا نام نہیں۔ یہ دونوں علاحدہ تنظیمیں ہیں۔ حافظ سعید نے لشکر طیبہ پر پابندی سے قبل ہی دسمبر2001ءمیں لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران میں لشکر طیبہ سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا تھا۔ جب حافظ سعید لشکر طیبہ کا حصہ ہی نہیں تو انہیں کیونکر زیر حراست رکھا جاسکتا ہے؟ اگست2006ءمیں پرویز مشرف ہی کے عہد میں حکومت نے 3ایم پی او کے تحت امن عامہ کے پیش نظر حافظ سعید کو نظر بند کر دیا اور یہ جواز پیش کیا کہ حافظ سعید کی تقریروں سے پاکستان کے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات خراب ہوسکتے ہیں۔ حافظ سعید نے ایک مرتبہ پھر اپنی نظر بندی لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کردی۔ جسٹس محمد اختر شبیر کی عدالت میں کیس کی سماعت ہوئی۔ جس میں حافظ سعید کے وکیل نے موقف اختیار کیا تھا کہ حافظ سعید کی سرگرمیوں سے ہمسایہ ممالک چین، ایران اور افغانستان کو کوئی اعتراض نہیں۔ جہاں تک انڈیا کا تعلق ہے وہ تو آئی ایس آئی کے خلاف بھی الزامات عائد کرتا ہے۔ عدالت نے اس کیس میں قرار دیا کہ کسی شخص کا شعلہ بیان مقرر ہونا نااہلی نہیں قابلیت ہے۔ حافظ سعید کی نظربندی کے حوالے سے حکومت کوئی ایسا مواد پیش نہیں کرسکی، جس سے ثابت ہو کہ حافظ سعید کی سرگرمیوں سے عوام کو خطرہ ہے۔پرویز مشرف کے دور حکومت کے بعد جب پاکستان میں پیپلز پارٹی بر سر اقتدار آئی، تو نومبر2008ءمیں انڈیا کے شہر ممبئی میں ہولناک حملوں کے بعد حافظ سعید کو ان کے رفقا سمیت حراست میں لیا گیا۔ حکومت نے سلامتی کونسل کی قرارداد کی تعمیل میں ملک بھر میں جماعة الدعوة کے خلاف کریک ڈاﺅن بھی کیا او ر متعدد گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں۔ دراصل انڈیا نے ممبئی حملوں کا الزام لشکر طیبہ پر عائد کیا تھا اور حافظ سعید کو ان کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا تھا۔ حافظ سعید اور ان کے رفقا نے حکومت کے اس قدام کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔ جہاں جسٹس اعجاز احمد چوہدری کی سربراہی میں جسٹس حسنات احمد خان اور جسٹس زبدة الحسین پر مشتمل فل بینچ تشکیل دیا گیا۔حافظ سعید اور ان کے رفقا کی جانب سے کیس کی پیروی معروف قانون دان اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ نے کی۔ ہائی کورٹ میں کئی ماہ تک کیس زیر سماعت رہا۔ بالآخر جون2009ءمیں لاہور ہائی کورٹ کے فل بینچ نے فیصلہ دیا کہ جماعة الدعوة کے خلاف ممبئی حملوں، القاعدہ یا کسی دہشت گرد تنظیم سے تعلق کے تمام الزامات بے بنیاد ہیں۔ جماعة الدعوة ملک میں کسی قسم کی دہشت گردی یا غیر قانونی سرگرمی میں ملوث نہیں۔ پاکستان آزاد و خود مختار ملک ہے، محض اقوام متحدہ کی قرارداد کی بنیاد پر کسی شخص کی آزادی سلب نہیں کی جاسکتی، لہٰذا حافظ سعید اور ان کے رفقا کی نظربندی ختم کی جائے۔ ممبئی حملوں میں حافظ سعید کی بریت اور ان کی نظربندی ختم کرنے کے خلاف پنجاب حکومت نے سپریم کورٹ میں نظرثانی کی اپیل دائر کی تھی۔ جہاں جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس رحمت حسین جعفری پر مشتمل فل بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ عدم شواہد کی بنا پر سپریم کورٹ نے بھی لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے پنجاب حکومت کی اپیل مسترد کردی تھی۔جنوری2017ءمیں جب مسلم لیگ (ن) پاکستان میں اقتدار میں تھی، توحافظ سعید نے کشمیری حریت رہنماﺅں کے ہمراہ سال 2017ءکشمیر کے نام کرنے اور یکم فروری سے عشرہ یکجہتی کشمیر منانے کا اعلان کیا۔ بھارت کے پراپیگنڈے پر حکومت نے بیرونی دباﺅ کا شکار ہوکر اقوام متحدہ کی ایک پرانی قرارداد پر عمل درآمد کے بہانے حافظ سعید کو ان کے چار دیگر رفقا کے ہمراہ نظربند کر دیا۔جماعة الدعوة نے حکومت کے اس اقدام کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔ کئی ماہ تک کیس زیر سماعت رہا۔ اس دوران میں حافظ سعید کی نظر بندی کا جائزہ لینے کے لیے ریویو بورڈ بنایا گیا۔ حکومت نے ریویو بورڈ سے حافظ سعید کی نظربندی میں جب دوسری مرتبہ مزید اضافے کی درخواست کی، تو ریویو بورڈ نے دس ماہ کی نظربندی کے بعد اس کی مدت میں مزید اضافے سے انکار کرتے ہوئے حافظ سعید کی رہائی کا حکم جاری کر دیا۔ عدالت نے حکومت سے استفسار کیا تھا کہ اقوام متحدہ نے کشمیر سے متعلق کئی قراردادیں پاس کر رکھی ہیں۔ انڈیا نے ان قراردادوں پر کتنا عمل کیا ہے، جو بھارتی الزامات اور اقوام متحدہ کی قرارداد کی بنیاد پر حافظ سعید کو نظربند کر رہے ہیں؟ حکومتی وکلا ان باتوں کا کوئی جواب نہیں دے سکے تھے۔ مارچ2019ءمیں جب تحریک انصاف پاکستان میں بر سر اقتدار تھی، تو جماعة الدعوة اور اس کے رفاہی نیٹ ورک فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن پر حکومت نے باضابطہ پابندی عائد کردی۔ حکومت کے اس اقدم کو بین الاقوامی مالیاتی امور کے نگران ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) کے پاکستان سے مطالبات کے تناظر میں دیکھا گیا۔ دراصل ایف اے ٹی ایف نے انڈیا کے پراپیگنڈے اور امریکا کے دباﺅ پر جون2018ءمیں پاکستان کو ”گرے لسٹ“ میں شامل کر لیا تھا۔ ایف اے ٹی ایف نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت (Terror Financing)کے سلسلے میں پاکستان کے کردار پر سوالات اٹھائے تھے۔ اس تناظر میں جماعة الدعوة اور اس کے رفاہی نیٹ ورک فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن سمیت دیگر جہادی تنظیموں کے خلاف اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ بصورت دیگر پاکستان پر اقتصادی لحاظ سے ”بلیک لسٹ“ہونے کے خطرات منڈلا رہے تھے۔ پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے مطالبات کی روشنی میں نہ صرف جماعة الدعوة اور اس کے رفاہی نیٹ ورک فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن پر پابندی عائد کی۔ بلکہ ان کے اثاثہ جات مدارس، اسکول، کالج، اسپتال، ڈسپنسری، ایمبولینس سروس سمیت تمام فلاحی اداروں کو سرکاری تحویل میں لے لیا گیا۔ مزید برآں جماعة الدعوة کے امیر حافظ سعید کو بھی جولائی2019ءمیں لاہور سے گوجرانوالہ جاتے ہوئے گرفتار کر لیا گیا اور انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کرنے کے بعد کیمپ جیل لاہور منتقل کر دیا۔حکومت نے حافظ سعید کے علاوہ جماعة الدعوة کے دیگر مرکزی رہنماﺅں کو بھی مختلف وقتوں میں حراست میں لیا۔ جن میں حافظ عبدالرحمن مکی، پروفیسر ظفر اقبال، حافظ عبدالسلام بن محمد، حاجی محمد اشرف اور یحییٰ مجاہد شامل ہیں۔ جماعة الدعوة کے رہنماﺅں پر مختلف مقدمات قائم کیے گئے۔ جن میں مبینہ طور پر دہشت گردی کے لیے چندہ اکٹھا کرنے اور اس کے ذریعے اثاثے قائم کرکے مزید چندہ اکٹھا کرنے کا الزام ہے۔ فروری2020ءمیں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے حافظ سعید کو اسی نوعیت کے دو مختلف مقدمات میں مجموعی طور پر گیارہ سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی۔بعد ازاں نومبر2020ءمیں مزید دو مقدمات میں آپ کو مجموعی طور پر ساڑھے دس سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی گئی۔حافظ سعید نے ہمیشہ اپنی گرفتاری یا جماعة الدعوة پر پابندی کو بھارت کے پراپیگنڈے کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ حافظ سعید کا کہنا ہے کہ بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانیت سوز مظالم ڈھا رہا ہے۔ بھارت کے مظالم کو بے نقاب کرنے اور کشمیر کی آزادی کے لیے میری آواز بھارت کے لیے ناقابل برداشت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت امریکا کے ساتھ مل کر میری جدوجہد کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتا ہے۔ واضح رہے امریکا نے اپریل2012ءمیں حافظ سعید کے سرپر ایک کروڑ (دس ملین) ڈالر انعام کا اعلان کیا تھا۔ جس پرحافظ سعید نے دفاع پاکستان کونسل کے رہنماﺅں کے ہمراہ راولپنڈی میں پریس کانفرنس کے دوران میں امریکی اعلان کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ میں غاروں میں چھپا ہوا نہیں ہوں۔ سر کی قیمت ان کی مقرر کی جاتی ہے جو مفرور ہوں۔ میں پاکستان میں آزادانہ نقل و حرکت کرتا ہوں۔ بعد ازاں امریکا نے حافظ سعید کے سر پر انعامی رقم کو ان کے متعلق معلومات کی فراہمی سے جوڑ دیا تھا۔ امریکا مختلف وقتوں میں حافظ سعید اور ان کی جماعت کے حوالے سے پاکستان سے کارروائی کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔ جولائی2019ءمیں جب حافظ سعید کو حراست میں لیا گیا تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے اس اقدام پر اطمینان کا اظہار کیا تھا۔ علاوہ ازیں بین الاقوامی طور پر حافظ سعید اور ان کی جماعت کو سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر1267 کے تحت پابندی کا سامنا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر دہشت گردوں تنظیموں اور افراد کی فہرست میں سلامتی کونسل کی مذکورہ قرارداد کے تحت جماعة الدعوة اور فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن کا نام امریکا، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے مطالبے پر شامل کیا گیا تھا۔ اس پابندی کی وجہ سے بھی حافظ سعید اور ان کی جماعت کو رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ پاکستان میں جماعة الدعوة اور فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن مارچ2019ءمیں باضابطہ پابندی سے قبل تک محکمہ داخلہ کی زیر نگرانی نیشنل کاﺅنٹر ٹیررازم اتھارٹی (NACTA) کی واچ لسٹ پر رہی ہیں۔ اسی طرح فروری2018ءمیں جب پاکستان میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت تھی، تو صدر مملکت ممنون حسین نے ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعے انسداد دہشت گردی ایکٹ1997ءمیں ترمیم کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے دہشت گرد قرار دیے جانے والی تنظیمیں اور افراد پاکستان میں بھی قابل گرفت ہوں گے۔ اس صدارتی آرڈیننس سے پاکستان میں فعال جماعتوں میں جماعة الدعوة اور فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن سب سے زیادہ متاثر ہوئی تھیں۔ جس کے بعد جماعة الدعوة اور فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن کی املاک کو پنجاب حکومت نے تحویل میں لے لیا تھا۔ جماعة الدعوة نے اس صدارتی آرڈیننس اور اس کے نتیجے میں حکومتی اقدامات کے خلاف اسلام آباد اور لاہور ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی تھی۔ تاہم اکتوبر2018ءمیں صدارتی آرڈیننس کی میعاد مکمل ہو گئی تھی اور اس میں مزید توسیع نہیں کی گئی یا اسے پارلیمنٹ کے ذریعے باضابطہ قانون نہیں بنایا گیا۔ جس پر جماعة الدعوة کی پٹیشن بھی غیر موثر ہو گئی تھی۔ جماعة الدعوة نے اقوام متحدہ میں بھی خود کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے نکالنے کے لیے درخواست دے رکھی ہے۔ دسمبر2008ءمیں حافظ سعید نے اُس وقت کے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بانکی مون کو خط لکھ کر شدید احتجاج بھی کیا تھا۔ اقوام متحدہ میں جماعة الدعوة کا مقدمہ تاحال زیر سماعت ہے اور اس کیس کا نمبر79 ہے، پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے بھی حافظ سعید کی جماعت الدعوۃ کو نہ صرف حافظ سعید سمیت ان کی تنظیم کے دیگر رہنماؤں پر غیر قانونی فنڈنگ کے الزام میں دسمبر 2019 میں فرد جرم عائد کی گئی تھی اور اس موقع پر ملزمان نے صحت جرم سے انکار کرتے ہوئے اپنے خلاف الزامات کو بےبنیاد قرار دیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ یہ الزام عالمی دباؤ کی وجہ سے لگایا گیا ہے۔حافظ محمد سعید سمیت دیگر کے خلاف یہ مقدمہ انسدادِ دہشت گردی کے محکمے نے درج کیا تھا جبکہ انھیں پنجاب کے شہر گوجرانوالہ سے 17 جولائی 2019 کو گرفتار کیا گیا تھا۔پنجاب کے محکمہ انسدادِ دہشت گردی کے مطابق جماعت الدعوۃ، لشکرِ طیبہ اور فلاحِ انسانیت فاؤنڈیشن کے معاملات میں بڑے پیمانے پر تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔ سی ٹی ڈی پنجاب کے مطابق ‘ان تنظیموں نے دہشت گردی کے لیے اکٹھے کیے جانے والے فنڈز سے اثاثے بنائے اور پھر ان اثاثوں کو استعمال کرتے ہوئے دہشت گردی کے لیے مزید فنڈز جمع کیے۔’
سی ٹی ڈی کا مؤقف تھا کہ ان تنظیموں نے یہ اثاثہ جات مختلف غیر سرکاری تنظیموں یا فلاحی اداروں کے نام سے بنائے اور چلائے۔ ایسے فلاحی اداروں میں دعوت الارشاد ٹرسٹ، معاذ بن جبل ٹرسٹ، الانفال ٹرسٹ، الحمد ٹرسٹ اور المدینہ فاؤنڈیشن ٹرسٹ شامل ہیں۔محکمہ انسدادِ دہشتگردی کے مطابق حافظ سعید اور دیگر 12 افراد ‘انسدادِ دہشت گردی کے قانون 1997 کے تحت دہشت گردی کے لیے پیسے جمع کرنے اور منی لانڈرنگ کے مرتکب ٹھہرے ہیں اور ان کے خلاف انسدادِ دہشتگردی کی عدالت میں مقدمات چلائے جائیں گے۔’ 2014 میں امریکہ نے جماعت الدعوۃ کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے مالیاتی پابندیاں عائد کی تھیں۔ امریکی حکام کی جانب سے حافظ سعید کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر ایک کروڑ ڈالر کے انعام کی پیش کش بھی کی گئی تھی پاکستان کے دفترِ خارجہ نے جنوری 2015 میں اعلان کیا تھا کہ جماعت الدعوۃ سمیت ان تمام دہشت گرد تنظیموں کے اثاثوں کو منجمد کیا جا چکا ہے جن پر اقوامِ متحدہ نے پابندی لگائی ہوئی ہے۔ حافظ سعید کو ماضی میں بھی کئی مرتبہ مختلف دورانیوں کے لیے ان کے گھر پر نظربند کیا گیا ہے۔سنہ 2017 میں 31 جنوری کو انھیں لاہور کے جوہر ٹاؤن میں واقع ان کے گھر میں خدشہ نقصِ امن کے تحت نظربند کیا گیا تھا۔مبصرین کے مطابق پاکستان مسلم لیگ نواز کے دور میں یہ کارروائی فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی جانب سے بلیک لسٹ ہونے سے بچنے کے لیے کی گئی تھی۔انھیں 10 ماہ کے بعد نومبر 2017 میں اس وقت رہا کیا گیا تھا جب لاہور ہائی کورٹ نے ان کی نظر بندی میں توسیع کی درخواست مسترد کر دی تھی۔اس سے قبل انھیں نومبر 2008 میں ہونے والے ممبئی حملوں کے بعد بھی دسمبر 2008 میں بھی نظربند کیا گیا تھا جب کہ ان کی جماعت کے دفاتر سربمہر کر دیے گئے تھے۔ انڈیا نے ان حملوں کے لیے حافظ سعید اور ان کی جماعت کو ہی ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔
تاہم اس وقت حکام کی جانب سے ان کارروائیوں کی بنیاد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے ان کی تنظیم پر عائد کی گئی پابندی کو قرار دیا گیا تھا۔کالعدم تنظیموں میں شامل کیا بلکہ ’فلاح انسانیت‘ کو بھی کالعدم قرار دیتے ہوئے ان کے زیر انتظام چلنے والی ایمبولنس گاڑیوں اور ڈسپنسریوں کو بھی بند کر دیا ہے۔خیال رہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستانی حکومت کی طرف سے دہشت گردی تنظیموں کے خلاف موثر کارروائی کرنے اور ان کی فنڈنگ روکنے کے لیے کیے گئے اقدامات پر مکمل اطمینان ظاہر نہیں کیا







