عمران خان کی رہائی پر پی ڈی ایم کا احتجاج کا اعلان…. …… کالم..اندر کی بات…کالم نگار….اصغر علی مبارک…………………… …اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کی 2 ہفتوں کیلئے درخواست عبوری ضمانت منظور کر لی۔ جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ فوجداری کیس کا ٹرائل روک دیا ہےچیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ توشہ خانہ فوجداری کیس کی کارروائی تاحکم ثانی معطل رہے گی سپریم کورٹ آف پاکستان نے قومی احتساب بیور (نیب) ترامیم کیس سماعت کےلیے مقرر کردیا۔عمران خان کی دائر درخواست پر سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ 16 مئی کو سماعت کرے گا۔ علاوہ ازیں 14 مئی کو پنجاب میں انتخابات کے فیصلے پر نظرثانی درخواست بھی 15 مئی کو سماعت کیلئے مقرر کردی گئی,

پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ عدالت مجرم کو تحفظ دے رہی ہے، عمران خان کو غبن کے کیس میں گرفتارکیاگیا، عدالت نے غبن کو بھی

پاکستان مسلم لیگ ن کی سینئر نائب صدر اور مرکزی چیف آرگنائزر مریم نواز نے کہا ہے کہ چیف جسٹس صاحب! آپ اب عدلیہ ہی نہیں، آئین و قانون نظام انصاف اور ملکی سلامتی کے لئے خطرہ بن چکے ہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک بیان میں مسلم لیگ ن کی سینئر نائب صدر نے لکھا کہ چیف جسٹس ہونے کا مطلب ریاست کو اس شخص کی غلامی میں دینا نہیں جس نے اپنے پالتو غنڈوں کے ذریعے قومی وقار اور ملکی دفاع کی ہر علامت کو جلا کر راکھ کردیا۔

عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسے شخص کو کسی بھی مقدمے میں گرفتاری سے روکنا، اسے شاہی مہمان بنا کر رکھنا، اس کے نخرے اٹھانا ہر پاکستانی کے علاوہ ان شہیدوں اور غازیوں کی توہین ہے جن کی ہر نشانی پر حملہ کیا گیا۔

مریم نواز نے کہا کہ چیف جسٹس صاحب! آپ اب عدلیہ ہی نہیں، آئین و قانون نظام انصاف اور ملکی سلامتی کے لئے خطرہ بن چکے ہیں۔ ملکی تقدیر سے کھیلنے والے ایک دہشتگر کے سہولت کار بننے کے بعد آپ اپنا وقار کھو چکے ہیں- آپ اپنی کرسی کو عمران کی سیاست کے لیے استعمال کر رہے ہیں تو اب سیاسی رد عمل کے لئے تیار رہیں۔

چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ فتنہ گرفتاری کے ڈر سے عدالت میں چھپا بیٹھا ہے۔ اگر عدالت سے گرفتار کرنا غلط ہے تو کیا ایک مجرم کو عدالت کو اپنی پناہ گاہ بنانے کی اجازت دینا بھی کوئی نیا قانون ہے؟ اس دہرے معیار پر شرم آتی ہے۔

تحفظ دیا، عدالت نے کہا عمران کو کسی مقدمے میں گرفتار نہ کیا جائے۔ اندازہ لگایا جائے کہ عدلیہ کہاں کھڑی ہے، کیا یہ رعایت 3 بار وزیراعظم رہنے والے نواز شریف کو ملی؟ اندازہ لگایا جائے کہ عدلیہ کہاں کھڑی ہے، عدالت کے رویے کیخلاف احتجاج کیاجائے گا۔ پی ڈی ایم سربراہ کا کہنا تھا کہ ہم نے فیصلہ کر لیا کہ اب عدالتی رویے کیخلاف احتجاج ہو گا، اپیل کرتا ہوں پوری قوم اسلام آباد کی طرف روانہ ہوجائے، سپریم کورٹ کے باہر دھرنا دیا جائے گا، زبردست احتجاج کیا جائے گا۔ پیرکو عوام سپریم کورٹ کے سامنے جمع ہوں گے، ملک میں غنڈہ گردی ہو رہی ہے، عدالت اس کو تحفظ دے رہی ہے، چیف جسٹس سن لیں! ہم تین دو کا فیصلہ ماننے کو تیار نہیں۔ عمران خان کے لیے سب کچھ داؤ پر لگا دیا گیا ہے، گھی آرام سے ڈبے سے نہیں نکلے گا تو انگلی ٹیڑھی کرنا پڑے گی، ڈنڈے سے بات کرو گے تو ڈنڈے سے جواب دیں گے، مکے سے بات کرو گے تو مکے سے جواب دیں گے۔ پتھر سے بات کرو گے تو پتھر سے جواب دیں گے، سپریم کورٹ ”مدر آف لاء“ ہے “مدر اِن لاء نہیں۔ عمران خان کی عدالت سے رہائی کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے متعلق پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ اور امیر جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں اجلاس ہوا۔ جس میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، وفاقی وزیر احسن اقبال، پیپلز پارٹی شیر پاؤ کے سربراہ آفتاب شیرپاؤ اور بی این پی مینگل کے سربراہ اختر مینگل، جے یو آئی ف کے مولانا عبد الغفورحیدری، اکرم درانی شریک ہوئے جبکہ پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف نے بھی ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔
اجلاس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف احتجاج پر غور کیا گیا جبکہ مولانا نے اپنی پارٹی کے فیصلوں اور سفارشات سے آگاہ کیا۔ سابق وزیراعظم نواز شریف نے پیر کو سپریم کورٹ کے باہر عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ عدالت عظمیٰ کے باہر بڑا احتجاجی مظاہرہ کرنا چاہیے۔.عمران خان کی گرفتاری کے بعد مظاہروں اورتوڑپھوڑ کی لاہورہائیکورٹ میں بھی گونج سنائی گئی، 5 رکنی بینچ نے واقعات پر ناراضی کا اظہار کیا ۔ سابق وزیراعلیٰ پنجاب کیس کی سماعت کےدوران لاہور ہائیکورٹ کے ججز کاریمارکس دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ماضی میں بھی گرفتاریاں ہوئیں کیا یہ کوئی پہلی گرفتاری تھی جس پر اتنا ہنگامہ ہوا۔ سماعت کے دوران لارجربینچ کےسربراہ جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی قیادت کو ذمہ داری کا مظاہر کرنا چاہیے تھا جو ہورہا ہے اس کو روکنا چاہیے تھا۔ کیا یہ کوئی پہلی گرفتاری تھی جس پر اتنا ہنگامہ ہوا۔ جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیے کہ اس ملک میں بےنظیر کو شہید کیا گیا مگر لیڈر شپ نے کردار ادا کیا اس طرح کا ری ایکشن کبھی نہیں دیکھا تھا۔
جسٹس طارق سلیم شیخ نے کہا کہ گزشتہ ایک سال سے ملک میں جو ہو رہا ہے اس پر ہم آنکھیں بند نہیں کر سکتے۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں سپریم کورٹ کے رویئے کو جانبدارانہ قرار دیدیا گیا ہے۔مزید یہ ہےکہ وفاقی کابینہ اجلاس میں چیف جسٹس کے طرزعمل پرشدید تنقید کی گئی ہے۔اتحادیوں نے وزیراعظم سے واضح، دوٹوک اور سخت مؤقف اپنانے پر زوردیاہے۔۔عدلیہ کی جانب سےمسلسل جانبداری،آئین وقانون کی پامالی کامظاہرہ ناقابل قبول ہے۔دوران اجلاس کابینہ ارکان نے کہا تقریریں نہ کی جائیں،عدلیہ کےیکطرفہ کردارپرعملی اقدامات کیےجائیں۔ کابینہ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے شہبازشریف کا کہنا تھا کہ ایک ملزم عدالتی کٹہرے میں آئے اور جج کہے دیکھ کر اچھا لگا، کبھی عدالتی کٹہرے میں کسی جج نے ایسا کہا کہ بطور ملزم آئے اور ملکر اچھا لگا؟ 60 ارب روپے کی کرپشن کا معاملہ ہے، کرپشن معاملے پر کیا کسی نے سوموٹو لیا؟ کرپشن الزامات فیصلہ عدالت میں ہونا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ 9 مئی پاکستان کی تاریخ میں المناک دن تھا،9 مئی سقوط ڈھاکہ کے بعد المناک دن تھا۔ عمران خان دور میں جھوٹے مقدمات میں اپوزیشن رہنماؤں کو جیل بھجوایا گیا، نوازشریف اپنی بیٹی کے ساتھ عدالتوں میں پیش ہوتے رہے، بیٹے سے تنخواہ نہ لینے کو جوازبناکر نوازشریف کو سزا دے دی گئی۔ وطن عزیز مشکل حالات سے گزر رہا ہے، جو چیلنجز ورثے میں ملے اُس سے نمٹنے کی کوشش کررہے ہیں۔ سیلاب کی تباہ کاریاں ہوں یا مہنگائی کا طوفان، سب کا مقابلہ کررہے ہیں۔

شہبازشریف کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ پچھلی حکومت نے معاہدہ توڑا، آئی ایم ایف شرائط کو پورا کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ پی ٹی آئی کی لیڈر شپ نے پاکستان کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے میں گھناونا کردار ادا کیا۔ یاد رہےکہکیس کی سماعت جسٹس میاں گل حسن اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔ معزز جج نے ریمارکس دیے کہ ہم عمران خان کو دو ہفتے کیلئے عبوری ضمانت دے رہے ہیں، بشری بی بی کی انکوائری رپورٹ نہ ملنے کی درخواست پر بھی نیب کو نوٹس جاری کردیے گیے۔

عدالت نے آئندہ سماعت پر نیب کو تیاری کے ساتھ معاونت کی ہدایت کرتے ہوئے درخواست کی سماعت دو ہفتوں تک ملتوی کردی۔ ڈپٹی پراسیکیوٹرجنرل نیب سردارمظفر عمران خان درخواست کی مخالف کی۔

دوران سماعت عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے حفاظتی ضمانت کی درخواست پر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ہم ضمانت کی درخواست دائر کر رہے تھے جب گرفتاری ہوئی۔خواجہ حارث نے کہا کہ نیب ترمیمی ایکٹ کے تحت انکوائری رپورٹ شیئر کرنا لازم ہے، انکوائری رپورٹ دی جاتی تو ہم اسے چیلنج بھی کرتے۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کا استفسار کیا کہ انکوائری رپورٹ آپ کو دی ہی نہیں گئی؟ خواجہ حارث نے جواب دیا کہ گرفتاری سے پہلے تک کوئی انکوائری رپورٹ نہیں دی گئی۔

عدالت نے استفسار کیا کہ یہ انکوائری انویسٹی گیشن میں تبدیل کب ہوئی؟ خواجہ حارث نے جواب دیا کہ نیب کے مطابق 28 اپریل کو انکوائری انویسٹی گیشن میں تبدیل کی گئی۔اس سے قبل ایک گھنٹے کی تاخیر کے بعد ہائی کورٹ کے کمرہ نمبر 2 میں جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز پر مشتمل بینچ نے سماعت کا آغاز کیا تھا ، جس میں بعد ازاں جمعہ کا وقفہ کر دیا گیا تھا۔

اسی اثنا میں کمرہ عدالت میں موجود ایک وکیل نے عمران خان کے حق میں نعرے لگائے جس پر جسٹس میاں گل حسن نے برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ ایسے کیسے سماعت کر سکتے ہیں، عدالت کی تکریم بہت ضروری ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو القادر قادر ٹرسٹ کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے احاطے سے ہونے والی گرفتاری کوغیر قانونی قرار دیتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دیدیا۔

پاکستان تحریک انصاف کی رہائی کی درخواست پرچیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس محمد علی مظہراورجسٹس اطہرمن اللہ پر مشتمل سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

پی ٹی آئی کی طرف سے سینئروکیل حامد خان دلائل دینے سپریم کورٹ پہنچے،گزشتہ روز پی ٹی آئی چیئرمین کی گرفتاری کیخلاف درخواست دائرکی گئی تھی۔

دن بھرکی سماعت کے دوران سپریم کورٹ آف پاکستان نے حکم دیا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان کو ساڑھے چار بجے عدالت میں پیش کیا جائے،عدالت عظمیٰ کے حکم کے بعد عمران خان کو تاخیر سے پہنچایا گیا، انہیں سخت سکیورٹی میں عدالت لایا گیا تھا ۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان نے عمران خان سے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کو سننا چاہتے ہیں۔

کیس سننے کے بعد سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابق وزیراعظم کی اسلام آباد ہائیکورٹ کے احاطے میں ہونے والی گرفتاری کو غیر قانونی دیدیا اور انہیں فوری رہا کرنے کا حکم دیدیا گیا۔اسی دوران عدالت کی طرف سے حکم دیا گیا کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین اسلام آباد ہائیکورٹ سے کل رجوع کریں اور آپ کو عدالت عالیہ کا فیصلہ ہر حال ماننا ہو گا۔خیال رہے کہ رہنما پی ٹی آئی فواد چوہدری اور بیرسٹر علی ظفر نے نے عمران خان کی گرفتاری سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کا حکم عدالت عظمیٰ میں چیلنج کیا تھا۔عمران خان کو 9 اپریل کو قومی احتساب بیورو (نیب) نے رینجرز کی مدد سے القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کیا تھا۔عمران خان 7 مقدمات میں ضمانت کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچے تھے جہاں سے رینجرز نے ان کو حراست میں لے لیا تھا، اسلام آباد ہائی کورٹ نے گرفتاری کا نوٹس لیا تھا جس کے فیصلے میں ان کی گرفتاری کو قانون کے مطابق قرار دیا گیا تھا۔نیب کا اصرار تھا کہ عمران خان کی گرفتاری نیب کی جانب سے کی گئی انکوائری اور تفتیش کے قانونی تقاضے پورا کرنے کے بعد کی گئی۔ انکوائری/تفتیش کے عمل کے دوران متعدد نوٹس جاری کیے گئے کیونکہ وہالقادر ٹرسٹ کے ٹرسٹی تھے، تاہم عمران خان یا ان کی اہلیہ کی جانب سے کسی بھی نوٹس کا جواب نہیں دیا گیا۔گرفتاری کے اگلے روز عمران خان کو پولیس لائنز میں منتقل کردہ احتساب عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔
عدالت میں نیب نے ان کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی تاہم عدالت نے انہیں عمران خان کا 8 روزہ ریمانڈ دے دیا تھا۔۔عمران خان کو نیب آرڈیننس 1999 کے سکیشن 9 اے 34 اے، 18 ای، 24 اے کے تحت کارروائی عمل میں لاتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھاعمران خان پر کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز میں ملوث ہونےکا الزام ہے،واضح رہے کہ القادر یونیورسٹی سوہاوہ کے قریب زیر تعمیر یونیورسٹی ہے۔ یہ منصوبہ القادر یونیورسٹی پروجیکٹ ٹرسٹ کا حصہ ہے۔ امانت کا نام خدا کے اسماء القادر میں سے ایک نام سے الہام ہوا ہے جس کا مطلب ہے تمام قابل اور طاقت والا۔ یہ امت مسلمہ کے اخلاقی طور پر راست باز اور فکری طور پر متحرک رہنما پیدا کرنا چاہتا ہے۔ القادر یونیورسٹی کی سنگ بنیاد تقریب میں 5 مئی 2019ء کو سوہاوہ میں میں پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان نے سنگ بنیاد رکھا۔ نیب کا ماننا ہے کہ بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض نے عمران خان اور ان کی اہلیہ کو القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے لیے موضع برکالا، تحصیل سوہاوہ ضلع جہلم میں واقع 458 ایکڑ، 4 مرلے اور 58 مربع فٹ زمین عطیہ کی جس کے بدلے میں مبینہ طور پر عمران خان نے ملک ریاض کو 50 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا تھا۔القادر ٹرسٹ کیس اس ساڑھے چار سو کنال سے زیادہ زمین کے عطیے سے متعلق ہے جو بحریہ ٹاؤن کی جانب سے القادر یونیورسٹی کے لیے دی گئی تھی۔

پی ڈی ایم کی حکومت نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ یہ معاملہ عطیے کا نہیں بلکہ بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض اور عمران خان کی حکومت کے درمیان طے پانے والے ایک خفیہ معاہدے کا نتیجہ ہے اور حکومت کا دعویٰ تھا کہ ‘بحریہ ٹاؤن کی جو 190ملین پاؤنڈ یا 60 ارب روپے کی رقم برطانیہ میں منجمد ہونے کے بعد پاکستانی حکومت کے حوالے کی گئی وہ بحریہ ٹاؤن کراچی کے کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ملک ریاض کے ذمے واجب الادا 460 ارب روپے کی رقم میں ایڈجسٹ کر دی گئی تھی۔’

حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس کے عوض بحریہ ٹاؤن نےمارچ 2021 میں القادر یونیورسٹی ٹرسٹ کو ضلع جہلم کے علاقے سوہاوہ میں 458 کنال اراضی عطیہ کی اور یہ معاہدہ بحریہ ٹاؤن اور عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے درمیان ہوا تھا۔ جس ٹرسٹ کو یہ زمین دی گئی تھی اس کے ٹرسٹیز میں عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے علاوہ تحریکِ انصاف کے رہنما زلفی بخاری اور بابر اعوان شامل تھے تاہم بعدازاں یہ دونوں رہنما اس ٹرسٹ سے علیحدہ ہو گئے تھے۔

جون 2022 میں اتحادی حکومت نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے بحریہ ٹاؤن کے ساتھ معاہدے کے بدلے اربوں روپے کی اراضی سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے نام منتقل کی۔

اس وقت وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد اس خفیہ معاہدے سے متعلق کچھ تفصیلات بھی منظرعام پر لائی گئی تھیں۔ ان دستاویزات پر سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے بطور ٹرسٹی القادر یونیورسٹی پراجیکٹ ٹرسٹ کی جانب سے دستخط موجود تھے۔

قومی احتساب بیورو نے سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کے خلاف القادر یونیورسٹی ٹرسٹ کے نام پر سینکڑوں کنال اراضی سے متعلق انکوائری کو باقاعدہ تحقیقات میں تبدیل کیا گزشتہ سال اکتوبر 2022 میں نیب نے اس معاملے کی تحقیقات شروع کردی تھی۔ نیب دستاویزات کے مطابق 3 دسمبر 2019 کو عمران خان کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں ملک ریاض کو برطانیہ سے ملنے والی 50 ارب روپے کی رقم بالواسطہ طور پر واپس منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ یہ رقم برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) کی جانب سے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سے منی لانڈرنگ کے الزامات پر ضبط کی گئی تھی۔سابق وزیرِاعظم عمران خان نے 26 دسمبر 2019 کو ریئل اسٹیٹ ڈویلپر کے حوالے سے کابینہ کے فیصلے کے چند ہفتوں کے اندر القادر یونیورسٹی پروجیکٹ کے لیے ٹرسٹ رجسٹر کیا تھا جو بعد میں یونیورسٹی کے لیے ڈونر بن گیا۔ نیب کے مطابق ٹرسٹ کی رجسٹریشن سے صرف 3 ہفتے پہلے عمران خان کی کابینہ نے نیشنل کرائم ایجنسی کے ذریعے پاکستان کو ملنے والی رقم واپس ملک ریاض کو بلواسطہ طور پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ نیب راولپنڈی نے اس معاملے میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کا نوٹس لیتے ہوئے نیب آرڈیننس 1999 کے تحت پرویز خٹک، فواد چوہدری اور شیخ رشید سمیت 3 دسمبر 2019 کی کابینہ اجلاس میں موجود تمام ارکان کو علیٰحدہ علیٰحدہ تاریخوں پر طلب کیا تھا۔ نوٹس میں کہا گیا تھا کہ ’اختیارات کے ناجائز استعمال، مالی فائدہ اور مجرمانہ بدیانتی کے الزامات کی انکوائری کے دوران معلوم ہوا ہے کہ بطور کابینہ ممبر آپ نے 3 دسمبر 2019 کو وزیراعظم آفس میں ہونے والے کابینہ اجلاس میں شرکت کی جس میں آئٹم نمبر 2 پر فیصلہ کیا۔اس معاملے پر ایجنڈا آئٹم وزیرِاعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب اور داخلہ شہزاد اکبر نے پیش کیا اور کابینہ سیکرٹری کو ہدایت کی کہ ریکارڈ کو سیل کردیا جائے۔ نوٹس میں پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض کے بیٹے احمد علی ریاض بھی طلب کیا گیا تھا2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے ملک ریاض کے خلاف تحقیقات کیں اور پھر ان تحقیقات کے نتیجے میں ملک ریاض نے ایک تصفیے کے تحت 190 ملین پاؤنڈ کی رقم این سی اے کو جمع کروائی۔این سی اے نے بتایا تھا کہ اس تصفیے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی 190 ملین پاؤنڈز کی رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت ہے جسے پاکستان منتقل کردیا گیا۔ تاہم پاکستان میں پہنچنے پر کابینہ کے ایک فیصلے کے تحت رقم قومی خزانے کے بجائے سپریم کورٹ کے اس اکاؤنٹ تک پہنچی جس میں ملک ریاض بحریہ ٹاؤن کراچی کے مقدمے میں سپریم کورٹ کو 460 ارب روپے کی ایک تصفیے کے ذریعے قسطوں میں ادائیگی کررہے ہیں۔اس طرح نیب کے مطابق ایک ملزم سے ضبط شدہ رقم واپس اسی کو مل گئی جبکہ یہ رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت تھی مگر اسے ملک ریاض کے ذاتی قرض کو پورا کرنے میں خرچ کیا گیا۔اس حوالے سے 2019 میں سابق وزیرِاعظم عمران خان کی سربراہی میں کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا اور معاملے کو حساس قرار دے کر اس حوالے سے ریکارڈ کو بھی سیل کردیا گیا تھا۔جس ٹرسٹ کو یہ زمین دی گئی تھی اس کے ٹرسٹیز میں عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے علاوہ تحریکِ انصاف کے رہنما زلفی بخاری اور بابر اعوان شامل تھے تاہم بعدازاں یہ دونوں رہنما اس ٹرسٹ سے علیحدہ ہو گئے تھے۔جون 2022 میں پاکستان کی اتحادی حکومت نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے بحریہ ٹاؤن کے ساتھ معاہدے کے بدلے اربوں روپے کی اراضی سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے نام منتقل کی۔

اس وقت وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد اس خفیہ معاہدے سے متعلق کچھ تفصیلات بھی منظرعام پر لائی گئی تھیں۔ ان دستاویزات پر سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے بطور ٹرسٹی القادر یونیورسٹی پراجیکٹ ٹرسٹ کی جانب سے دستخط موجود تھے۔

قومی احتساب بیورو نے سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کے خلاف القادر یونیورسٹی ٹرسٹ کے نام پر سینکڑوں کنال اراضی سے متعلق انکوائری کو باقاعدہ تحقیقات میں تبدیل کیانیب کے حکام اس سے قبل اختیارات کے مبینہ غلط استعمال اور برطانیہ سے موصول ہونے والے جرائم کی رقم کی وصولی کے عمل کی انکوائری کر رہا تھا۔جب معاملہ انویسٹی گیشن کے مرحلے میں آجاتا ہے تو پھر ملزمان سے براہ راست تفتیش کی جاتی ہے اور ضرورت پڑنے پر انھیں پوچھ گچھ کے لیے گرفتار بھی کیا جا سکتا ہے۔ گزشتہ سال وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے عمران خان اور ان کی اہلیہ پر بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض سے ساز باز کر کے بحریہ ٹاؤن کے بدلے القادر ٹرست کی زمین لینے کا الزام عائد کیا تھا۔

انہوں نے کہا تھا کہ اسی بحریہ ٹاؤن نے جس کا 50 ارب روپیہ ایڈجسٹ کیا گیا، اس نے 458 کنال کی جگہ کا معاہدہ کیا جس کی مالیت کاغذات میں 93 کروڑ روپے جبکہ اصل قیمت پانچ سے 10 گنا زیادہ ہے اور یہ زمین بحریہ ٹاؤن نے القادر ٹرسٹ کے نام پر منتقل کی، اس زمین کو بحریہ ٹاؤن نے عطیہ کیا اور اس میں ایک طرف دستخط بحریہ ٹاؤن کے عطیہ کنندہ کے ہیں اور دوسری جانب سابق خاتون اول بشریٰ خان کے ہیں، یہ قیمتی اراضی القادر ٹرسٹ کے نام پر منتقل کی گئی جس کے دو ہی ٹرسٹی ہیں جس میں پہلی بشریٰ خان ہیں اور دوسرے سابق وزیر اعظم ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ذرائع سے یہ بات سامنے آئی کہ بحریہ ٹاؤن کی 50 ارب روپے کی رقم انہوں نے برطانیہ منتقل کی اور اسے مروجہ قانون کے تحت منتقل نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے وہ رقم وہاں ٹریس ہو گئی اور برطانوی حکام اور نیشنل کرائم ایجنسی نے اس رقم کو اپنے قبضے میں لے لیا۔وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ برطانوی حکام نے پاکستانی حکام سے رابطہ کر کے انہیں آگاہ کیا کہ یہ رقم غیر قانونی ذرائع سے ہمارے پاس پہنچی ہے اور ہم نے اسے قبضے میں لے لیا،ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ 200 کنال مزید ہے، اس میں 100 کنال اراضی بنی گالا میں ہے اور یہ مسماۃ فرح شہزادی کے نام پر منتقل کی گئی ہے، اس کے علاوہ مارچ 2021 میں مزید 100 کنال اراضی بھی فرح شہزادی کے نام پر منتقل کی گئی، اگست میں مزید 40 کنال اراضی منتقل کی گئی۔ی ٹی آئی کو اس 190ملین پاؤنڈ کا جواب دینا ہے جو ریاست پاکستان کے پیسے تھے،جی ایچ کیو اور کور کمانڈر ہاؤس میں توڑپھوڑ کی کھل کر مذمت کرنی چاہئے، آئی ایس پی آر کا بیان بھی اسی بات کی عکاسی کرتا ہے، جس طرح چند سو لوگ جی ایچ کیو اور کورکمانڈر ہاؤس پہنچ گئے وہ حیران کن ہے سوال ہے پولیس نے ان لوگوں کو کیوں نہیں روکا، آئی ایس پی آر نے کہا ہے ہم نے تحمل کا مظاہرہ کیا لیکن کسی کو گھر جلانے اور توڑپھوڑ کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، ایسا نہیں ہوسکتا کہ لوگ اتنے گھنٹے حساس جگہوں پر موجود رہیں مگر انہیں کوئی نہیں نکالے، پی ٹی آئی کارکنوں کا غصہ اور جذبات اپنی جگہ پر لیکن انہیں سرکاری و نجی املاک کو کسی صورت نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، عمران خان نے عدالت جانے سے قبل ویڈیو بیان میں کہا کہ انہیں کچھ ہوا تو ایک فوجی افسر ذمہ دار ہوگا، اس کے بعد ان کے کارکنوں کا ردعمل اسی طرف آنا تھا،احتجاج کے دوران فوجی املاک کو نقصان پہنچانے کے الزام میں گرفتار افراد کےخلاف فوجی ایکٹ کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے۔‘ فوجی چھاؤنیوں میں کیے گئے جرم کی نوعیت پر منحصر ہے کہ فوج اپنے قوانین کے تحت کارروائی کرتی ہے یا پولیس سول قوانین کے تحت۔ فوج کے پاس یہ اختیار موجود ہے کہ وہ اپنی تنصیبات میں کیے گئے جرائم کی تحقیقات اور ٹرائل خود کرنے کی درخواست کر سکتی ہے۔‘ پاکستان آرمی ایکٹ 1952 میں ان جرائم کا حوالہ دیا گیا ہے جن کا ٹرائل اس ایکٹ کے تحت اس صورت میں ہوتا ہے جب ان جرائم کا ارتکاب فوجی اہلکار کریں۔ تاہم اسی ایکٹ کے اطلاق کے حوالے سے کچھ شقوں میں یہ قانون بعض صورتوں میں عام شہریوں پر بھی نافذ ہوتا ہے۔ فوجی ایکٹ کے تحت کارروائی کی صورت میں ملزم کے خلاف ہونے والی عدالتی کاروائی کو فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کہا جاتا ہے جبکہ یہ فوجی عدالت جی ایچ کیو ایجوٹنٹ جنرل برانچ کے زیر نگرانی کام کرتی ہے۔ اس عدالت کا صدر ایک حاضر سروس (عموماً لفٹیننٹ کرنل رینک) فوجی افسر ہوتا ہے، استغاثہ کے وکیل بھی فوجی افسر ہوتے ہیں۔ خیال رہے کہ ایجوٹنٹ جنرل برانچ میں قانونی ڈگری رکھنے والے افسران ان عدالتی کارروائیوں کا حصہ بنتے ہیں۔ یہاں ملزمان کو وکیل رکھنے کا حق دیا جاتا ہے۔ اگر کوئی ملزم پرائیویٹ وکیل رکھنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو فوجی افسر ان کی وکالت کرتے ہیں، انھیں ’فرینڈ آف دی ایکیوزڈ‘ کہا جاتا ہے۔خیال رہے کہ یہاں ہونے والی کارروائی کے بعد ملزم اپیل کا حق رکھتا ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے وہ کارکنان جنھوں نے فوجی املاک کو نقصان پہنچایا، ان کے خلاف کس قانون کے تحت کارروائی کی جائے گی اور کی بھی جائے گی یا نہیں۔