عسکری تنصیبات پرحملے; دہشتگردوں کو ملٹری کورٹس سے سزائیں دینےکا مطالبہ…9 مئی کے توڑ پھوڑ کے منصوبہ سازوں، حملہ آوروں کو کٹہرے میں لایا جائے گا، آرمی چیف….………………………. کالم..اندر کی بات…کالم نگار….اصغر علی مبارک………………… …….

جناح ہاؤس سمیت عسکری و سول تنصیبات میں توڑ پھوڑ ,جلاؤ گھیراؤ 9 مئی کے واقعات پر تحریک انصاف کے احتجاج میں شریک دہشتگردوں کو ملٹری کورٹس سے سزائیں دینےکا عوامی مطالبہ زورپکڑگیا ہے,کروڑوں محب وطن پاکستانی عوام کا دل ایک سیاسی انتہاپسند جماعت کی ملکہ دشمن کارروائیوں کو دیکھ کر خون کے آنسو رو رہا ہے اور اگر ملٹری کورٹس بنا کر انہیں بغاوت اور ملکی اداروں پر دہشت گردانہ حملوں کے تحت سزائیں نہ دی گئیں تو اس ملک کے اداروں پر سے عوام کااعتماد اٹھ جائے گا اعتماد تو عوام کا پہلے ہی دو دن میں اعلی عدلیہ کے فیصلوں کو دیکھ کر اٹھ چکا ہے دہشت گردی کورٹ آگر سزائیں دے بھی دیں تو ہائیکورٹ سے مجرم باعزت بری قرار دے دیئے جاتے ہیں.ماضی کی مثالیں موجود ہیں اور ابھی دو روز قبل راولپنڈی ہائیکورٹ کے ڈویزنل بینچ نے ایسے واقعات میں سزائیں پانے والے مجرموں کو بری کر دیا جن پر قومی املاک کو نقصان پہنچانے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں قتل کرنے کے سنگین الزامات تھے اور عدالتوں نے کہا معصوم ہیں. قارئین کرام…آئیندہ بھی ایسا ہوگا اب عوام انتی باشعور بے بینچ کی سیاسی وابستگی سے اندازہ لگا سکتے ہیں کیا فیصلہ ھوگا خیال رہے کہ

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلح افواج اپنی تنصیبات کی توقیر اور سلامتی کی مزید خلاف ورزی برداشت نہیں کرے گی اور 9 مئی کے یوم سیاہ کو ہونے والے جلاؤ گھیراؤ کے منصوبہ سازوں، اشتعال دلانے اور حملہ کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر نے کور ہیڈکوارٹرز پشاور کا دورہ کیا اور افسران سے خطاب کیا۔

آئی ایس پی آر نے بتایا کہ آرمی چیف نے قومی سلامتی کو درپیش خطرات کے حوالے سے بات کی۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم امن اور استحکام کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے اور اس عمل کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع نہیں دیا جائے گا‘۔ آرمی چیف کو انسداد دہشت گردی کے لیے جاری کوششوں اور سیکیورٹی کی صورت حال پر بریفنگ دی گئی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے ’دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیت، کارکردگی اور کامیابیوں کو سراہا‘۔

بیان میں کہا گیا کہ ’چیف آف آرمی اسٹاف نے انفارمیشن وارفیئر اور غلط تصور پیدا کرنے کی کوششوں کے چیلنجز کے بارے میں آگاہ کیا‘۔

آئی ایس پی آر نے کہا کہ ’آرمی چیف نے اس بات کو بھی نمایاں کیا کہ دشمن عناصر کی جانب سے مسلح افواج کو نشانہ بنانے کی مذموم کوشش کی جا رہی ہے‘۔

آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے عوام کے تعاون سے اس قسم کی مذموم کوششوں کو ناکام بنانے کا عزم دہرایا۔

قبل ازیں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر کا کور کمانڈر پشاور نے استقبال کیا۔

خیال رہے کہ آئی ایس پی آر نے 10 مئی کو جاری بیان میں پٌاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد احتجاج کے دوران فوجی املاک کو نشانے بنائے جانے پر ’9 مئی کو سیاہ‘ باب قرار دیا تھا۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ ’چیئرمین پی ٹی آئی کو نیب اعلامیے کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ سے قانون کے مطابق حراست میں لیا گیا، اس گرفتاری کے فوراً بعد ایک منظم طریقے سے فوج کی املاک اور تنصیبات پر حملے کرائے گئے اور فوج مخالف نعرے بازی کروائی گئی‘۔

آئی ایس پی آر نے کہا تھا کہ ’9 مئی کا دن ایک سیاہ باب کی طرح یاد رکھا جائے گا‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ایک طرف تو یہ شر پسند عناصر عوامی جذبات کو اپنے محدود اور خود غرض مقاصد کی تکمیل کے لیے بھرپور طور پر ابھارتے ہیں اور دوسری طرف لوگوں کی آنکھوں میں دھول ڈالتے ہوئے ملک کے لیے فوج کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتے نہیں تھکتے جو کہ دوغلے پن کی مثال ہے‘۔

بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ ’جو کام ملک کے ابدی دشمن 75 سال نہ کرسکے وہ اقتدار کی ہوس میں مبتلا ایک سیاسی لبادہ اوڑھے ہوئے گروہ نے کر دکھایا ہے‘۔

فوج نے بتایا تھا کہ ’فوج نے انتہائی تحمل، بردباری اور برداشت کا مظاہرہ کیا اور اپنی ساکھ کی بھی پرواہ نہ کرتے ہوئے ملک کے وسیع تر مفاد میں انتہائی صبر اور برداشت سے کام لیا‘۔

آئی ایس پی آر نے کہا تھا کہ ’جو سہولت کار، منصوبہ ساز اور سیاسی بلوائی ان کارروائیوں میں ملوث ہیں ان کی شناخت کر لی گئی ہے اور ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی اور یہ تمام شر پسند عناصر اب نتائج کے خود ذمہ دار ہوں گے‘۔

اس حوالے مزید کہا گیا تھا کہ ’فوج بشمول تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے، فوجی اور ریاستی تنصیبات اور املاک پر کسی بھی مزید حملے کی صورت میں شدید ردعمل دیا جائے گا جس کی مکمل ذمہ داری اسی ٹولے پر ہوگی جو پاکستان کو خانہ جنگی میں دھکیلنا چاہتا ہے‘۔

بیان میں واضح کیا گیا تھا کہ ’کسی کو بھی عوام کو اکسانے اور قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جاسکتی‘۔

دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے لاہور میں پاکستان سیف سٹی اتھارٹی کے دورے کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کور کمانڈر ہاؤس کو مکمل طور پر راکھ میں تبدیل کر دیا گیا، اگلے 72 گھنٹوں میں تمام مجرم، منصوبہ ساز، اکسانے والے اور حملہ آور گرفتار ہونے چاہئیں اور ان کے خلاف قانون کے مطابق مقدمات درج ہوں۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف کاکہنا دھشت گردی کی عدالتوں میں سماعت ھوگی مگر یہ صرف وقت اور پیسہ کا ضیاع ہوگا پاکستان کے قانون میں ملٹری تنصیبات پر حملوں پر سویلین کے خلاف بھی کورٹ مارشل کیا جاسکتا اتحادی حکومت کے وزیراعظم محمد شہباز شریف کو دہشت گردی کی عدالتوں میں سماعت کےبجائے ملٹری کورٹس میں سماعت پر رکاوٹ نہیں بننا چاہیےاحتجاج کے دوران فوجی املاک کو نقصان پہنچانے کے الزام میں گرفتار افراد کےخلاف فوجی ایکٹ کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے۔‘ فوجی چھاؤنیوں میں کیے گئے جرم کی نوعیت پر منحصر ہے کہ فوج اپنے قوانین کے تحت کارروائی کرتی ہے یا پولیس سول قوانین کے تحت۔ فوج کے پاس یہ اختیار موجود ہے کہ وہ اپنی تنصیبات میں کیے گئے جرائم کی تحقیقات اور ٹرائل خود کرنے کی درخواست کر سکتی ہے۔‘ پاکستان آرمی ایکٹ 1952 میں ان جرائم کا حوالہ دیا گیا ہے جن کا ٹرائل اس ایکٹ کے تحت اس صورت میں ہوتا ہے جب ان جرائم کا ارتکاب فوجی اہلکار کریں۔ تاہم اسی ایکٹ کے اطلاق کے حوالے سے کچھ شقوں میں یہ قانون بعض صورتوں میں عام شہریوں پر بھی نافذ ہوتا ہے۔ فوجی ایکٹ کے تحت کارروائی کی صورت میں ملزم کے خلاف ہونے والی عدالتی کاروائی کو فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کہا جاتا ہے جبکہ یہ فوجی عدالت جی ایچ کیو ایجوٹنٹ جنرل برانچ کے زیر نگرانی کام کرتی ہے۔ اس عدالت کا صدر ایک حاضر سروس (عموماً لفٹیننٹ کرنل رینک) فوجی افسر ہوتا ہے، استغاثہ کے وکیل بھی فوجی افسر ہوتے ہیں۔ خیال رہے کہ ایجوٹنٹ جنرل برانچ میں قانونی ڈگری رکھنے والے افسران ان عدالتی کارروائیوں کا حصہ بنتے ہیں۔ یہاں ملزمان کو وکیل رکھنے کا حق دیا جاتا ہے۔ اگر کوئی ملزم پرائیویٹ وکیل رکھنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو فوجی افسر ان کی وکالت کرتے ہیں، انھیں ’فرینڈ آف دی ایکیوزڈ‘ کہا جاتا ہے۔خیال رہے کہ یہاں ہونے والی کارروائی کے بعد ملزم اپیل کا حق رکھتا ہے۔9 مئی کے واقعات کو سیاسی اختلاف کا جھاڑو پھیر کر ایک طرف نہیں کیاجاسکتا ان واقعات کی ذمہ داری عمران خان کو لینا پڑے گی۔عمران خان کو دیکھ کرعدالت عظمیٰ کا چیف جسٹس کہے دیکھ کرخوشی ہوئی، کہا آپ کو دیکھ کر اچھا لگا، یہ پاکستان کی تاریخ کا سیاہ باب تھا، پاک فوج نے پٌاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد احتجاج کے دوران فوجی املاک کو نشانے بنائے جانے پر ’9 مئی کو سیاہ‘ باب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ منظم طریقے سے فوجی تنصیبات پر حملے کرائے گئے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا کہ ’چیئرمین پی ٹی آئی کو نیب اعلامیے کے مطابق کل اسلام آباد ہائی کورٹ سے قانون کے مطابق حراست میں لیا گیا، اس گرفتاری کے فوراً بعد ایک منظم طریقے سے فوج کی املاک اور تنصیبات پر حملے کرائے گئے اور فوج مخالف نعرے بازی کروائی گئی‘۔

آئی ایس پی آر نے بتایا کہ ’9 مئی کا دن ایک سیاہ باب کی طرح یاد رکھا جائے گا‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ایک طرف تو یہ شر پسند عناصر عوامی جذبات کو اپنے محدود اور خود غرض مقاصد کی تکمیل کے لیے بھرپور طور پر ابھارتے ہیں اور دوسری طرف لوگوں کی آنکھوں میں دھول ڈالتے ہوئے ملک کے لیے فوج کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتے نہیں تھکتے جو کہ دوغلے پن کی مثال ہے‘۔
بیان میں کہا گیا کہ ’جو کام ملک کے ابدی دشمن 75 سال نہ کرسکے وہ اقتدار کی ہوس میں مبتلا ایک سیاسی لبادہ اوڑھے ہوئے گروہ نے کر دکھایا ہے‘۔’فوج نے انتہائی تحمل، بردباری اور برداشت کا مظاہرہ کیا اور اپنی ساکھ کی بھی پرواہ نہ کرتے ہوئے ملک کے وسیع تر مفاد میں انتہائی صبر اور برداشت سے کام لیا‘۔ ’مذموم منصوبہ بندی کےتحت پیدا کی گئی اس صورت حال سے یہ گھناؤنی کوشش کی گئی کہ فوج اپنا فوری ردعمل دے جس کو اپنے مذموم سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکے‘-بیان میں مزید بتایا گیا کہ ’آرمی کے میچور ردعمل نے اس سازش کو ناکام بنا دیا، ہمیں اچھی طرح علم ہے کہ اس کے پیچھے پارٹی کے چند شرپسند قیادت کے احکامات، ہدایات اور مکمل پیشی منصوبہ بندی تھی اور ہے‘۔

آئی ایس پی آر نے بتایا کہ ’جو سہولت کار، منصوبہ ساز اور سیاسی بلوائی ان کارروائیوں میں ملوث ہیں ان کی شناخت کر لی گئی ہے اور ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی اور یہ تمام شر پسند عناصر اب نتائج کے خود ذمہ دار ہوں گے‘۔ ’فوج بشمول تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے، فوجی اور ریاستی تنصیبات اور املاک پر کسی بھی مزید حملے کی صورت میں شدید ردعمل دیا جائے گا جس کی مکمل ذمہ داری اسی ٹولے پر ہوگی جو پاکستان کو خانہ جنگی میں دھکیلنا چاہتا ہے‘۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ ’کسی کو بھی عوام کو اکسانے اور قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جاسکتی‘۔
پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ
’’پاکستان میں مارشل لاء کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ فوج آرمی چیف کی قیادت میں متحد ہے۔ پاک فوج میں کسی نے استعفیٰ نہیں دیا۔‘‘اندرونی اور بیرونی پروپیگنڈوں کے باوجود فوج متحد ہےاور رہے گی۔
جنرل عاصم منیر اور سینیئر فوجی قیادت دل و جان سے جمہوریت کو سپورٹ کرتی ہے اور کرتی رہے گی مارشل لا کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے,جنرل عاصم منیر اور سینیئر فوجی قیادت دل و جان سے جمہوریت کو سپورٹ کرتی ہے اور کرتی رہے گی مارشل لا کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے,ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ آرمی چیف سمیت پوری عسکری قیادت کا جمہوریت پر یقین ہے۔ پاک فوج متحد ہے اور متحد رہے گی,ترجمان پاک فوج نے ملک میں مارشل لا کی افواہوں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ مارشل لا کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ وزیراعظم شہبازشریف کا عمران خان کی آرمی چیف سے متعلق ’الزام تراشی‘ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ عمران خان کا بیان پاک فوج کے خلاف ان کی گھٹیا ذہنیت کا ایک اور ثبوت ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز عمران خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے میں گفتگو کرتے ہوئے اپنی گرفتاری کا الزام آرمی چیف پر عائد کردیا تھا۔وقفے کے دوران بی بی سی کی نامہ نگار کیرولین ڈیوس نے جب ان سے اس تاثر کے بارے میں سوال کیا گیا کہ سیکیورٹی ایجنسیاں ان کے خلاف ہیں جبکہ عدلیہ ان کی حمایت کر رہی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’یہ سیکیورٹی ایجنسیاں نہیں ہیں، یہ ایک آدمی ہے، آرمی چیف‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’فوج میں جمہوریت نہیں ہے، جو کچھ ہو رہا ہے اس سے فوج کو بدنام کیا جا رہا ہے‘۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ ’وہ (آرمی چیف) پریشان ہیں کہ اگر میں اقتدار میں آیا تو میں انہیں ڈی نوٹیفائی کر دوں گا، جس پر میں نے انہیں پیغام بھیجنے کی پوری کوشش کی ہے کہ میں ایسا نہیں کروں گا‘۔عمران خان نے کہا کہ ’یہ سب براہ راست اس کے حکم سے ہو رہا ہے، وہ وہی ہے جو اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ اگر میں جیت گیا تو اسے ڈی نوٹیفائی کر دیا جائے گا‘۔وزیراعظم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ بیان 9 مئی کے المناک واقعات کے ماسٹر مائنڈ کا اعتراف جرم ہے، یہ وہی ذہنیت ہے جس نے محب وطن آرمی افسران پر اپنے قتل کے جھوٹے الزامات لگائے، سائیفر اور بیرونی سازش کی جھوٹی کہانیاں گھڑیں، یہ ملک دشمنی اور دہشت گردوں کے ماسٹر مائنڈ کے اصل عزائم کا اظہار ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ عمران خان کا بیان اعتراف ہے کہ 9 مئی کو جو کچھ ہوا وہ عمران خان کے کہنے پر ہوا، بیان ثبوت ہے کہ شہدا اور غازیوں کی یادگاروں کی بے حرمتی اور حساس تنصیبات اور عمارتوں پر حملے کے پیچھے منصوبہ بندی عمران خان کی تھی۔ جنرل سید عاصم منیر سے عمران خان کو تکلیف یہ ہے کہ وہ بطور ڈی جی آئی ایس آئی عمران خان، ان کی اہلیہ، فرح گوگی اور پی ٹی آئی کی سینیئر قیادت کی بدترین کرپشن سے آگاہ ہیں۔وزیراعظم کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا کہ آرمی کے انتہائی ڈیکوریٹڈ، رینک اینڈ فائل میں ہردلعزیز اور میرٹ پر آرمی چیف بننے والے جنرل سید عاصم منیر کے خلاف ہرزہ سرائی بدنیتی کے سوا کچھ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ شمشیر اعزاز اور حافظ قرآن ایماندار آرمی چیف سے عمران خان خوفزدہ ہیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے والی بہادر فوج کے سپہ سالار کے خلاف اس نوعیت کی گھٹیا گفتگو دہشت گردوں کی حمایت ہے، پوری قوم مسلح افواج اور آرمی چیف کے ساتھ کھڑی ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے کورکمانڈر ہاؤس تاریخی جناح ہاؤس لاہور پر حملے میں ملوث دہشت گردوں کو 72 گھنٹوں میں گرفتارکرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے واقعات میں ملوث افراد کو قانون کے مطابق سزا دی جائےگی، دہشت گردی کی منصوبہ بندی کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی ہوگی، قانون اپنے آہنی ہاتھوں سے ان لوگوں کو اپنی گرفت میں لےگا۔خیال رہے کہ 9 مئی کو شرپسندوں نے جناح ہاؤس لاہور (کور کمانڈر لاہور کی رہائش گاہ) پر حملہ کرکے اسے تباہ کردیا تھا اور سامان لوٹنے کے بعد اسے آگ لگادی تھی، حملہ آوروں نے قائداعظم محمد علی جناح کا پیانو ، رائٹنگ ٹیبل ڈیسک اور تلوار بھی جلا ڈالی تھی، یہ نوادرات بانی پاکستان نے حکومت پاکستان کو عطیہ کی تھیں اوربطور قومی ورثہ یہاں محفوظ تھیں۔لاہور میں سیف سٹی اتھارٹی کے دورے کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نےکہا کہ اس طرح کا کوئی کام پاکستانی نہیں سوچ سکتا، یہ بد ترین حرکت کرنے والوں کو آئین اور قانون میں درج سزائیں دی جائیں گی، کورکمانڈر ہاؤس تاریخی جناح ہاؤس جل چکا ہے اور مکمل طور پر تباہ ہوگیا، ان واقعات پرپوری قوم غمگین ہے۔ان کا کہنا تھا کہ عمران نیازی اور ان کا جتھا پاکستان کےدشمنوں سے کم نہیں، جوکام شرپسند 75 برس میں نہ کرسکے وہ پی ٹی آئی کےشرپسندوں نےکیا، منصوبہ بندی کے تحت سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا اور شہیدوں اور غازیوں کی یادگاروں کی بے حرمتی کی گئی۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ان شرپسندوں کے خلاف انسداد دہشت گردی عدالتوں میں مقدمات چلائے جائیں، وزیر قانون انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کی تعداد بڑھائیں، شرپسندوں کو سزائیں دینے کے لیے اگر راتوں کو انسداد دہشت گردی کورٹس چلانی پڑیں تو چلائی جائیں، پولیس اور انتظامیہ شرپسندوں کو فی الفور گرفتار کرے، خانہ پری قابل قبول نہیں، تمام شرپسندوں کو بلاتفریق گرفتار کیا جائے، اگلے 72 گھنٹوں میں تمام مجرموں اور حملہ آوروں کو گرفتار کیا جائے۔ پنجاب کی نگراں حکومت نے جناح ہاؤس، لاہور کےکور کمانڈر ہاؤس اور دیگر عسکری تنصیبات پر حملوں, توڑ پھوڑ جلاؤ گھیراؤ کی تحقیقات کیلئے جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ جے آئی ٹی واقعات کی تحقیقات کر کے جامع رپورٹ حکومت کو پیش کرے گی۔ نگراں وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی کا کہنا ہے کہ کسی بھی شرپسندوں کو نہیں چھوڑیں گے، بے گناہ کو پکڑیں گے نہیں۔ محکمہ داخلہ پنجاب نے جناح ہاؤس جلانے میں ملوث افراد کی تصاویر جاری کردیں۔ محکمہ داخلہ پنجاب نے جناح ہاؤس جلانے میں ملوث افراد کی شناخت کرنے والوں کے لیے 2 لاکھ روپے انعام کا بھی اعلان کیا ہے۔ جاری اشتہار میں شہریوں سے اپیل کی گئی ہےکہ جناح ہاؤس جلانے میں ملوث افراد کی نشاندہی کریں اور قانون نافذکرنے والے اداروں کی مدد کریں، شناخت کرانے والے فرد کا نام صیغہ راز میں رکھا جائےگا۔ اس سے قبل محکمہ داخلہ نے واقعے میں ملوث ملزمان کے نام اور شناخت بھی جاری کی تھی۔قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے لاہور کےکور کمانڈر ہاؤس اور دیگر عسکری تنصیبات پر حملوں اور توڑ پھوڑ میں ملوث بیشتر افراد کی شناخت کرلی ہے،۔مشتعل افراد نےعمران خان کی گرفتاری کے بعد کور کمانڈر ہاؤس کو جلانے، توڑ پھوڑ کرنے اور قیمتی اشیاء و دستاویزات چوری کرنے کی پُرتشدد کارروائیوں میں حصہ لیا تھا۔رپورٹ کے مطابق پُرتشدد کارکنان مسلح آتشیں اسلحہ، ڈنڈے، پتھر و پیٹرول بم سے لیس تھے، ان شرپسندوں میں لاہور کے رہائشی دانش منیر، سعود، عدنان اشرف، علی حسن عباس، چوہدری مسعود معراج، علی افتخار، وقاص پرویز، یوسف گلزار اور محمد ارسلان شامل ہیں۔
جن شرپسندوں کی شناخت کی گئی ہے ان میں لودھراں کے محمد تیمور جعفر، پاک پتن کے عامر حمزہ، ملتان کے سجاد سعید اور اوکاڑہ کے علی رضا بھی شامل ہیں۔قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے تمام ملزمان کیخلاف انسداد دہشت گردی کے تحت مقدمات درج کرائے ہیں۔پنجاب کے مختلف شہروں میں ہنگامہ آرائی کے دوران اب تک 1280 سے زائد شرپسندوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے جب کہ پُر تشدد مظاہروں میں 145 سے زائد پولیس افسران اور اہلکار زخمی ہوئے ہیں ۔تاہم لاہور میں 63، راولپنڈی 28 ، فیصل آباد 21 ، اٹک 10 ،گوجرانوالا 13، سیالکوٹ 5 اور میانوالی میں 6 افسران و اہلکار زخمی ہوئے۔

پنجاب پولیس کے زیر استعمال 60 گاڑیوں کو نذر آتش کیا گیا جن میں سے لاہور میں 17، گوجرانولہ 3 ،فیصل آباد 13، سیالکوٹ 5، راولپنڈی 18 ،بھکر 2 اور اٹک میں ایک گاڑی کو نقصان پہنچایا گیا دوسری طرف وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے احتجاج میں ٹرینڈ دہشتگرد شریک تھے۔ یہ عوامی احتجاج نہیں تھا ٹرینڈ دہشتگرد تھے، یہ سب تربیت یافتہ فتنہ پرورلوگ تھے۔ ان کی ایک سال تک ٹریننگ کروائی جاتی رہی ۔ لوگوں کوپٹرول بم بنانے کا طریقہ بتایاجارہاتھا۔ عمران خان کا مقصد ملک میں انارکی پھیلانا ہے۔ یہ کلچراس فتنے نے لوگوں کودیا ۔ رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ کونسا سیاسی ورکر ہے جوایمبولینس سے مریضوں کو نکالے، مویشی منڈی کو لوٹا پھرجانوروں کوآگ لگائی گئی، دفاعی تنصیبات پرحملہ کرنے والا کونسا سیاسی ورکرہوسکتاہے۔ اسکولوں،ایمبولینسز،ریڈیوپاکستان کو جلایاگیا، لوگوں کے گھروں پر حملے کیے گئے۔ وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ جناح ہاؤس لاہور سے کپڑے، بیڈشیٹس تک لوٹ لی گئیں، جناح ہاؤس لاہور سے سوئی تک لوٹ لی گئی، یہ کہتا رہا مجھے گرفتارکیاگیاتوآپ نےکیسےردعمل دیناہے، کونسی سیاسی جماعت کیلئے اتنے بندے ٹرینڈ کرنا مشکل ہے؟ وزیرداخلہ کا کہنا ہے کہ القادرٹرسٹ کےعمران خان اوران کی اہلیہ ٹرسٹی ہیں، عمران خان نے60ارب روپے لوٹے،2ارب فرنٹ مین شہزاد اکبر لےاڑے۔ ایسے شخص کو دیکھ کرچیف جسٹس کہتے ہیں ویلکم، ایسے شخص کوسرکاری رہائش میں مہمان بناکر رکھاجاتاہے، کہاگیا آپ کو دیکھ کربہت خوشی ہوئی۔ وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ 9 مئی کوپنجاب میں221جگہوں پر9مئی کو احتجاج ہوا جبکہ 10 مئی کو 33مقامات پر احتجاج ہوا،9 مئی کو اسلام آباد میں 12 جبکہ 10 مئی کو 11مقام پراحتجاج ہوا، خیبرپختونخوا میں126 مقام پر احتجاج ہوا،عمران خان کی گرفتاری کے بعد مظاہروں اورتوڑپھوڑ کی لاہورہائیکورٹ میں بھی گونج سنائی گئی، 5 رکنی بینچ نے واقعات پر ناراضی کا اظہار کیا ۔ سابق وزیراعلیٰ پنجاب کیس کی سماعت کےدوران لاہور ہائیکورٹ کے ججز کاریمارکس دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ماضی میں بھی گرفتاریاں ہوئیں کیا یہ کوئی پہلی گرفتاری تھی جس پر اتنا ہنگامہ ہوا۔ سماعت کے دوران لارجربینچ کےسربراہ جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی قیادت کو ذمہ داری کا مظاہر کرنا چاہیے تھا جو ہورہا ہے اس کو روکنا چاہیے تھا۔ کیا یہ کوئی پہلی گرفتاری تھی جس پر اتنا ہنگامہ ہوا۔ جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیے کہ اس ملک میں بےنظیر کو شہید کیا گیا مگر لیڈر شپ نے کردار ادا کیا اس طرح کا ری ایکشن کبھی نہیں دیکھا تھا۔
جسٹس طارق سلیم شیخ نے کہا کہ گزشتہ ایک سال سے ملک میں جو ہو رہا ہے اس پر ہم آنکھیں بند نہیں کر سکتے۔