عسکری اداروں کے خلاف جنگ” ایبسلوٹلی ناٹ” ناقابل قبول …………… کالم..اندر کی بات…کالم نگار….اصغر علی مبارک.…………….عسکری اور ریاستی اداروں کے خلاف جنگ” ایبسلوٹی ناٹ ‘ قطعی طور پر قابل قبول نہیں ۔9 مئی کو فوجی تنصیبات پر حملہ پاکستان کی سالمیت اور وجود پر حملہ تھا۔ پاکستانی قوم کور کمانڈر ہاؤس، میانوالی ایئر بیس اور جی ایچ کیو پر ہونے والے حملے اور سیالکوٹ میموریل پر بھارتی حملے میں فرق نہیں سمجھتی۔ فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے والوں کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے گا جو پاکستان کے قانون کے مطابق پاکستان کے دشمنوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ فوج کی تنصیبات اور عوامی اثاثوں پر حملہ کرنے والے دہشت گرد کسی رعایت کے مستحق نہیں، 9 مئی کو پی ٹی آئی کے شرپسندوں نے ریڈ لائن کراس کی تھی، قانون شکن عناصر کے خلاف قانون کے تحت سخت کارروائی کی جائے اور اس سلسلے میں کوئی رعایت نہ برتی جائے۔ پاکستان میں کسی بھی فرد، ادارے یا گروہ کو اس بات کی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ ریاست کے خلاف اٹھ کر کھڑا ہو جائے اور ریاست اور اس کے اداروں کو کمزور کرنے یا نقصان پہنچانے کے لیے ایسے اقدامات کرے جنھیں بغاوت کے سوا کوئی اور نام نہیں دیا جاسکتا۔ پاکستان میں کچھ عرصے سے ریاستی اداروں کے خلاف ایک گھناونی مہم چلائی گئی جس سے صرف ان اداروں ہی نہیں بلکہ ریاست اورپاکستانی عوام کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ ..9 مئی کا دن قومی سانحہ تھا، اس دن جو ہوا ، سوچی سمجھی سازش تھی ۔عمران خان سازش کا ماسٹر مائنڈ ہے۔ پی ٹی آئی قیادت نے مسلح جتھوں کے ذریعے قومی تنصیبات پر حملہ کیا۔ ازلی دشمن سے بھی وہ نہیں ہوا جو عمران خان نے کر دکھایا۔ ریڈیو پاکستان کو جلایا گیا، اس کی ساری تاریخ تباہ کر دی۔شہدا اور غازیوں کی یادگاروں کو جلا دیا گیا۔ پولیس اور رینجرز کو ڈنڈے مارے گئے۔ ویڈیو ز میں اہداف دکھائے گئے ،کارکنان نے قومی پرچم کو بھی نذرآتش کیا، حملہ آوروں کے منہ پر تحریک انصاف کے پرچم اور ماسک تھے۔ طلوع پاکستان کا اعلان کرنیوالے ادارے کو جلایا گیا۔ ایمبولینسز سے مریضوں کو نکال کر جلایا گیا، تمام پر تشدد واقعات کا ماسٹر مائنڈ عمران کان ہے۔۔ یہ کسی بھی طرح احتجاج نہیں تھا۔ زمان پارک میں پوری منصوبہ بندی کی گئی۔ بتایا گیا ہےکہ ۔پولیس 9 مئی کو فوجی تنصیبات پر پی ٹی آئی کے حملوں کی تحقیقات کررہی ہے۔ پولیس نے زیادہ تر حملہ آوروں کو واٹس ایپ گروپ کے ذریعے شناخت کرکے پکڑا۔ذرائع کے مطابق واٹس ایپ گروپ کے ذریعے ہی پی ٹی آئی رہنماؤں کے شرپسند عناصر سے رابطے بھی سامنے آئے ہیں۔9 مئی کو پورے پاکستان میں چھوٹے بڑے شہروں میں باہر نکلنے والے افراد کی کل تعداد 44937 تھی۔ سب سے زیادہ افراد لاہور میں نکلے جن کی تعداد چار مقامات پر سات ہزار سے زائد رہی۔ دہشت گردی میں ملوث افراد کی کل تعداد 16028 تھی۔ دہشت گردوں کا کنٹرول 19 مختلف مقامات سے 54 مختلف لوگوں کے ہاتھ میں تھا۔ تمام دہشت گرد کارروائیوں کو کنٹرول کرنے والے یہ تمام افراد 6 مرکزی افراد کو لمحہ بہ لمحہ رپورٹ دے رہے تھے۔ یہ چھ مرکزی افراد ایک سابق ائرفورس کے اہلکار کے ذریعے تمام رپورٹ کسی مخصوص شخص تک پہنچا رہے تھے۔ 16028 دہشت گردوں میں سے سی سی ٹی وی وڈیوز ، تصاویر اور دیگر ذرائع سے 13934 افراد کی شناخت کرلی گئی ہے۔ ان 13934 افراد میں سے اب تک ملک بھر سے 8911 افراد گرفتار ہو چکے ہیں۔ جی ایچ کیو ، کور کمانڈر ہاؤس ، میانوالی اور فیصل آباد میں حملہ آور مسلح دہشت گردوں کے بیک اپ کے ساتھ تھے اور ان میں زیادہ تر ٹی ٹی پی سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد تھے۔میانوالی میں دو سو سے زائد جدید اسلحہ سے لیس دہشت گردوں نے حملہ کیا اور ان کو مسلسل ہدایات مل رہی تھیں کہ کسی بھی طرح دیواریں توڑ کر اندر داخل ہوں اور یارڈ میں کھڑے پاک فضائیہ کے تمام طیاروں کو آگ لگائیں۔ تین سوزوکی گاڑیوں میں پٹرول کے ڈرم اس مقصد کے لیے ساتھ لائے گئے تھے۔ سکیورٹی ایجنسیوں کے مطابق باقی ماندہ دہشت گردوں کو بھی اگلے 48 گھنٹوں میں گرفتار کر لیا جائے گا۔ بتایا گیا ہےکہ مبینہ طور پر ریاست پاکستان اور افواج پاکستان پر اس منظم حملے کی سہولت کاری میں سپریم کورٹ، لاہور ہائی کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے کچھ جج طے شدہ منصوبے کا حصہ تھے۔ سول و ملٹری بیوروکریسی میں سے بھی متعدد افراد کی شناخت اور گرفتاری مکمل ہو چکی ہے۔ دو میڈیا چینل کلی اور تین میڈیا چینل جزوی طور پر سہولت کاری میں براہ راست ملوث رہے۔ 39 یوٹیوبر ، 13 ٹی وی اینکر/ صحافی کھلے عام اور 29 ڈھکے چھپے الفاظ میں ان کی حوصلہ افزائی اور دفاع کر رہے تھے۔ ٹوئٹر پر 427 ہینڈلز اور 800 روبوٹ سے اس دہشت گردی کی حوصلہ افزائی کی جا رہی تھی اور افواج پاکستان پر حملے کیے جارہے تھے۔ 96 فیصد ریٹویٹس خود کار مشینی طریقہ سے پیشگی ادائیگی کے بعد حاصل کی گئیں۔ فیس بک پر 1380 اکاؤنٹ ملک دشمنی اور عداوت میں حد سے گزر رہے تھے۔ اہم بات یہ ہے کہ ان میں سے نصف سے زائد براہ راست انڈیا، یورپ اور امریکہ سے کنٹرول ہو رہی تھی۔اس ساری کاروائی کا سرغنہ ایک خاتون کے ذریعے سے یہ رپورٹ پولیس لائنز میں موجود عمران خان کو ایک سرکاری ملازم کے فون پر دیتا رہا۔ عمران خان نے اس ساری دہشت گردی پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا ، اور منصوبہ کے سرغنہ کو شاباشی کا پیغام بھیجا اہم بات یہ ہے کہ اس خاتون کا کوڈ نام “اعظم سواتی” رکھا گیا۔ یاد رہے کہ اسی اعظم سواتی کے ذریعے سپریم کورٹ کے جج کے ساتھ بات کرکے اگلا تمام منصوبہ بشمول رہائی اور اسلام آباد ہائی کورٹ سے لامتناعی ضمانتوں کا منصوبہ طے کیا گیا اوربعد ازاں اس پر عمل کیا گیا۔ اس تمام کاروائی کے تمام ثبوت اور ریکارڈنگز قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے اکھٹے کرلیے ہیں اور مناسب وقت اور مناسب فورم پر قوم کے سامنے لائے جائیں گے۔ریاست پاکستان اور افواج پاکستان پر اس حملے کی منصوبہ بندی 13 مارچ 2023 کو کی گئی۔ افغانستان ، کرم ایجنسی ، مالاکنڈ ، سوات اور ڈیرہ اسماعیل خان سے تربیت یافتہ دہشتگردوں کو 25 اپریل سے پہلے مطلوبہ اہداف تک پہنچایا جا چکا تھا۔ گرفتاری و رہائی محض ایک ڈرامہ تھا تمام منصوبہ پہلے سے طے شدہ تھا اور اس پر “منظم فوجی حملے” کی طرح عملدرآمد کیا گیا۔حملوں کے اگلے دن پورے ملک میں 20 ہزار سے کچھ زائد لوگ نکلے اور ان میں مذکورہ بالا تمام دہشت گرد شامل تھے یعنی شہریوں یا تحریک انصاف کے حامیوں کی تعداد 4 ہزار تھی۔ اور تیسرے دن دہشت گردوں کی اکثریت روپوش ہو گئی اور صرف چند سو افراد نکلے۔ یعنی عملی طور پر مزاحمت دم توڑ چکی تھی,اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے چیف جسٹس نے فوری طور پر عمران خان کو رہا کر دیا تھا۔ ممکنہ طور پر اس سازش میں ملوث سیاسی کرداروں ، اور ججوں کے خلاف آئین کے آرٹیکل چھ اور آرمی ایکٹ کے آرٹیکل 59/60 اور 74 کے تحت کاروائی کی جائے گی۔












یہ معلومات بتا رہی ہیں کہ یہ بغاوت کا مکمل منصوبہ تھا جس میں فوج سے بھی کچھ حاضر سروس اور سابقہ ملازمین عدلیہ سے کچھ سہولت کار جج سول بیوروکریسی میں شامل لوگ اور میڈیا کے چینل بھی شریک کار تھے مگر یہ منصوبہ فیل ہوگیا۔ مزید یہ کہ اس سے پہلے 22مارچ 2023 کو وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے فوج اور اس کے سربراہ کے خلاف بیرون ملک غلیظ مہم کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا تھاکہ آرمی چیف کے خلاف مہم ناقابل برداشت اور اداروں کے خلاف سازش کا تسلسل ہے۔ بیرون ملک محب وطن پاکستانی فارن فنڈڈ مہم کے خلاف آواز بلند کریں۔ وزیر اعظم آفس طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیاتھا کہ بیرون ملک بعض پاکستانیوں کے ذریعے زہریلی سیاست کو پھیلا جارہا ہے۔ بیرون ملک پاکستانی اس سازش کا حصہ نہ بنیں، عمران خان اداروں اور انکے سربراہوں کو اپنی گندی سیاست میں گھسیٹ کر آئین شکنی کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم نے تھا کہ وزیر داخلہ ملک کے اندر اداروں کے خلاف غلیظ مہم چلانے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹیں، پاکستان میں افراتفری، فساد اور بغاوت کو ہوا دینے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائےسابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے تقریباً ایک سال سے اہم ریاستی اداروں اور بالخصوص پاک فوج کے خلاف نفرت انگیز بیان بازی شروع کررکھی تھی افسوس ناک امر ہے کہ جب عمران خان حکومت میں تھے تب وہ یہ کہتے نہیں تھکتے تھے کہ حکومت، فوج اور عدلیہ، انگریزی محاورے کے مطابق، ایک صفحے پر ہیں لیکن جس روز سےعمران خان اقتدار سے محروم ہوئے ہیں وہ مسلسل اداروں کو بے جا تنقید کا نشانہ بنا تےرہے ہیں۔ انھیں اس بات کا بھی قطعاً خیال نہیں تھا کہ ان کے اس رویے سے دشمن ممالک اور عناصر کو فائدہ پہنچ رہا ہے اور دنیا بھر پاکستان تماشا بن رہا ہے۔ کسی سیاسی رہنما اور بالخصوص وزیراعظم پاکستان جیسے عہدے پر فائز رہنے والے شخص کو یہ رویہ ہرگز زیب نہیں دیتا تھا، عمران خان کو چاہیے تھاکہ وہ اپنے اس رویے پر نظر ثانی کرتے اور یہ دیکھتے کہ وہ کون سے ایسے مسائل تھے جن کی وجہ سے وہ اپنی حکومت کو قائم نہیں رکھ پائے تھےعمران خان کے ایما پر سوشل میڈیا پر فوج اور اس کے افسران کے خلاف جو منفی پروپیگنڈا شروع کیا گیا وہ بھی نہایت قبیح رہا کیونکہ اس کی وجہ سے ریاست پاکستان بہت بری طرح متاثر ہوئی ۔ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان شدید معاشی مسائل میں الجھا ہوا تھا اور فوج دہشت گردی کے عفریت پر قابو پانے کے لیے مصروفِ عمل تھی، ایسی کسی بھی حرکت کا ہونا جس سے فوج یا دیگر ریاستی اداروں کا مورال منفی طور پر متاثر ہو نہ صرف قابلِ مذمت بلکہ قابلِ گرفت بھی ہے۔ اس سلسلے کا تاریک ترین پہلو یہ ہے کہ نوجوان نسل کو اس گھناونی مہم میں شریک کر کے انھیں ریاست اور اس کی حفاظت کے ذمہ دار اداروں سے متنفر کیا گیاہے۔ اس کام کی کسی بھی ملک دوست سے تو ہرگز توقع نہیں کی جاسکتی کیونکہ اس سے ملک کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا، البتہ ملک دشمن عناصر کو اس سے خوشی اور تقویت ملی ہے۔ وزیراعظم کی زیر صدارت ایک اجلاس میں بھی بیرونِ ملک اور سوشل میڈیا پر اداروں اور بالخصوص آرمی چیف کے خلاف چلائی جانے والی مہم کی شدید مذمت کی گئی۔ اجلاس نے عدالتی احکامات پر عمل درآمد کرنے والی پولیس اور رینجرز پر عمران خان کے حکم پر حملوں اور تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے ناقابل قبول قرار دیا اور کہا کہ پٹرول بم، ڈنڈوں، غلیلوں، اسلحے اور کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد پر مشتمل متشدد تربیت یافتہ جتھوں کے ذریعے ریاستی اداروں کے افسروں اور اہلکاروں پر لشکر کشی انتہائی تشویش ناک ہے۔ یہ رویہ ہرگز آئینی، قانونی، جمہوری اور سیاسی نہیں۔ ریاستی اداروں کے افسروں اور جوانوں کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس موقع پران کی فرض شناسی کو سراہا گیا اور یہ قرار دیا گیا کہ قانون شکن عناصر کے خلاف قانون کے تحت سخت کارروائی کی جائے اور اس سلسلے میں کوئی رعایت نہ برتی جائے۔ پاکستان میں کسی بھی فرد، ادارے یا گروہ کو اس بات کی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ ریاست کے خلاف اٹھ کر کھڑا ہو جائے اور ریاست اور اس کے اداروں کو کمزور کرنے یا نقصان پہنچانے کے لیے ایسے اقدامات کرے جنھیں بغاوت کے سوا کوئی اور نام نہیں دیا جاسکتا۔ عمران خان اور ان کے ساتھیوں کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ کل کو اگر وہ دوبارہ حکومت میں آتے ہیں تو انھوں نے انھی اداروں کے ساتھ مل کر کام کرنا ہے، لہٰذا انھیں ایسے حالات پیدا نہیں کرنے چاہئیں کہ اداروں سے وابستہ افراد کے دلوں میں ان کے خلاف بیزاری کے جذبات در آئیں۔ یہ ملک ہم سب کا ہے اور پاک فوج اس ملک کی محافظ ہے، اس لیے ہم سب کو اپنی اپنی سطح پر نہ صرف ملک کی بہتری کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے بلکہ اداروں کو مضبوط اور توانا بنانے کے لیے ان کی حمایت بھی کرنی چاہیے تاکہ وہ ملک دشمن عناصر کے خلاف اس اعتماد سے کارروائی کرسکیں کہ پوری قوم ان کے ساتھ ہے۔مزید یہ کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا کہنا ہے کہ فوج اپنی طاقت عوام سے حاصل کرتی ہے۔ فوج اورعوام کے درمیان دراڑ پیدا کرنے کی کوئی بھی کوشش قابل برداشت ہے نہ ہی قابل معافی ہے جبکہ سانحہ 9مئی میں ملوث مجرمان کے خلاف مقدمات آرمی ایکٹ اورآفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ہو رہے ہیں۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل سید عاصم منیر نے دورہ لاہورمیں شہدا کی یادگار پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی۔ آرمی چیف نے جناح ہا¶س اورفوج کی ایک تنصیب کا بھی دورہ کیا، دورے کے موقع پر آرمی چیف کو 9 مئی/ یوم سیاہ کے واقعات پربریفنگ بھی دی گئی۔ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا افسروں اور جوانوں سے خطاب میں کہنا تھا کہ سانحہ 9 مئی میں ملوث مجرمان کے خلاف قانونی کارروائی شروع ہو چکی ہے جبکہ منصوبہ سازوں، اکسانے والوں، حوصلہ افزائی کرنے والوں کے خلاف مقدمات آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ہو رہے ہیں۔ آرمی چیف نے کہا فوج اپنی طاقت عوام سے حاصل کرتی ہے، فوج اور عوام کے درمیان دراڑ پیدا کرنے کی کوئی بھی کوشش قابل برداشت ہے نہ ہی قابل معافی ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے کہا کہ دشمن قوتیں، ان کے حامی جعلی خبروں کے ذریعے انتشار پھیلانے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ دشمن کے ایسے تمام عزائم کو قوم کے تعاون سے ناکام بنایا جائے گا۔ انشاءاللہ….. بعد ازاں آرمی چیف نے سروسز ہسپتال لاہورکا بھی دورہ کیا اور ڈی آئی جی علی ناصر رضوی کی خیریت دریافت کی جو9 مئی کے واقعے میں زخمی ہوئے تھے۔ اس کے بعد آرمی چیف نے قربان لائنز کا بھی دورہ کیا اور پولیس حکام سے ملاقات کی۔ آرمی چیف نے پولیس کے شہداءکو خراج عقیدت پیش کیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل عاصم منیر نے9 مئی کے دن پولیس کی پیشہ ورانہ مہارت اور تحمل کو سراہا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ان کی صلاحیتوں میں اضافے، انٹیلی جنس شیئرنگ اور تربیت کے لئے فوج کے مکمل تعاون کا یقین دلایا یاد رہےکہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد 9 مئی کو پی ٹی آئی کے کارکنوں نے ملک کے مختلف حصوں میں پرتشدد کارروائیاں کیں اور بہت سی سرکاری اور نجی املاک پر حملے کیے۔ انکے زیادہ تراہداف دفاعی عمارتیں، تنصیبات، علامتیں یا یادگاریں تھیں اور ان میں جی ایچ کیو راولپنڈی اور کورکمانڈر کا گھر(جناح ہائوس ) بھی شامل تھا۔ ان حملوں کا پیٹرن اور آڈیوز اور ویڈیولیکس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ حملہ پہلے سے منصوبہ بندی کے ساتھ کیا گیا۔ بعد میں پاکستانی فوج ، وفاقی و صوبائی حکومتوں ، پولیس اور سیکورٹی ایجنسیاں ایک غیر مبہم دعوے کے ساتھ آئیں کہ حملوں کی منصوبہ بندی پہلے سے کی گئی تھی اور اہداف پاکستانی فوج اور دفاعی و سیکورٹی تنصیبات تھیں۔ پنجاب بھر میں 9 مئی اور اس کے بعد سرکاری ونجی اداروں پر حملوں اور جلاؤگھیراؤ پر گرفتار ملزمان کی تعداد 3800 سے زائد ہوگئی۔ پولیس کے مطابق 9 مئی کے واقعات میں ملوث شرپسندوں کی گرفتاری کاسلسلہ جاری ہے،لاہور سے اب تک 2 ہزار کے قریب شرپسندوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے، رات گئے بھی رہنماؤں اور کارکنوں کےگھروں پر چھاپے مارےگئے۔پولیس ذرائع کا کہنا ہےکہ شرپسندوں کی پرتشددکارروائیوں میں 162پولیس افسران اور اہلکار زخمی ہوئے۔ پنجاب بھر میں پولیس کے زیر استعمال97 گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا، تھانوں اور دفاترسمیت22 سرکاری عمارتوں کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔حکام جو ان حملوں کی تحقیقات کررہے ہیں ان کا کہنا ہےکہ انہیں گرفتار شدگان سے موزوں شواہد اور بیانات مل گئے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ حملے پہلے سے کی گئی منصوبہ بندی کے تحت کیے گئے اور فوجی عمارتوں اور علامتوں پر حملے کرنےکا ایک واضح پلان موجود تھا۔ قانون نافذ کرنےوالی ایجنسیوں کے پاس ٹھوس شواہد ہیں جن میں آوازوں کے نوٹس، گفتگو اور ڈیجیٹل کمیونی کیشن کاریکارڈ موجود ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ کیسے پی ٹی آئی کی قیادت نے فوجی تنصیبات بالخصوص جی ایچ کیو اور فوجی تنصیبات اور دیگرسرکاری عمارتوں پر حملوں کی منصوبہ بندی کی اور رابطہ کاری کی ۔ جی ایچ کیو کے علاوہ دیگر حساس فوجی تنصیبات جن پر حملوں کی منصوبہ بندی کی گئی تھی ان میں آئی ایس آئی کا ہیڈکوآرٹر شامل تھا۔ ایسی ہدایات پی ٹی آئی کی دوسرے درجے کی قیادت کی جانب سے کارکنوں کو آرہی تھیں جن میں ایک منصوبہ بند حکمت عملی اور منظم طریقے سے انہیں اکسایا جارہا تھا۔ پنجاب حکومت کے نگران وزیراطلاعات عامر میر نے بھی پرائیویٹ ٹی وی چینلز کو بتایا ہے کہ گوجرانوالہ اور ملتان میں بھی کورکمانڈرز کے گھروں پر بھی حملوں کی ناکام کوششیں کی گئیں۔ ابتدائی دنوں کی خاموشی کے بعد اب پی ٹی آئی کے رہنمائوں نے 9 مئی کے حملوں کی مذمت کرنا شروع کردی ہے۔ وہ اپنے آپ کو ان اقدامات اور اپنی اعلیٰ قیادت سے دور کررہے ہیں حتیٰ کہ خود پی ٹی آئی سے بھی فاصلہ پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن حکام پراعتماد ہیں کہ جس قسم کےشواہد پہلے سے ہی انکےپاس ہیں وہ پارٹی اور اس کی قیادت کےمنصوبہ بندی میں ملوث ہونے، کارکنوں کو اکسانے اور ان کی حوصلہ افزائی کرنے کو ثابت کرنے کےلیے کافی ہیں۔




