عدلیہ , پارلیمان محاذ آرائی کے دوران توہین پارلیمنٹ بل پیش….. کالم..اندر کی بات…کالم نگار….اصغر علی مبارک……………………

پارلیمان کو اداروں کی ماں تسلیم کیا جاتا ہے لیکن بدقسمتی سے پچھلے چند سالوں اسے کمزور اور بےتوقیرکیا جاتا رہا ہے ۔ یہ درست ہے کہ پارلیمان کو اداروں کی ماں کہا جاتا ہے لیکن کمزور ماں کمزور اولاد کا باعث بنتی ہے، اگر طا قتور ماں ہو گی تو طا قتور اولاد بھی ہو گی۔ عدلیہ , پارلیمان محاذ آرائی کے دوران توہین پارلیمنٹ بل قومی اسمبلی میں ت پیش کردیا گیا ہے جس میں توہین پارلیمنٹ پر 6 ماہ قید اور جرمانے کی سزا تجویز کی گئی ہے۔
پاکستان کی قومی اسمبلی سے آج کل جس قسم کے بیانات اور اقدامات سامنے آ رہے ہیں ان کے بعد عدلیہ اور پارلیمان کے درمیان محاذ آرائی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں پاکستان میں سیاست دانوں کے عدلیہ سے محاذ آرائی تاریخ کا حصہ رہی ہے یہ محاذ آرائی اس حد تک غیر معمولی ہے کہ عمران خان کی جماعت ایک ایسے چیف جسٹس کی حمایت میں ریلیاں نکالنے کا اعلان کر چکی ہے جن کو خود 15 رکنی سپریم کورٹ میں تقسیم اور اختلافات کا سامنا ہے۔۔ وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پارلیمان کے استحقاق اور آئینی اختیارکا ہرصورت تحفظ کریں گے، پارلیمنٹ اپنے دائرے میں رہ کراپنا حق منوائے گی۔ جبکہ خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ ’ہم وزیر اعظم کی قربانی نہیں دیں گے‘ ۔ اسطرح شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ ’عدالت چیف جسٹس کو بلا کر پوچھے انھوں نے ہمارا ریکارڈ کیوں مانگا‘ سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کا کہنا ہے کہ’میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہاؤس کی بالادستی پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں ہو گا‘ ۔ سوال یہ ہے کہ ایک سال قبل اسی سپریم کورٹ کے حکم نے موجودہ قومی اسمبلی کو تحلیل ہونے سے بچایا جس کے نتیجے میں تحریک انصاف حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی اور پی ڈی ایم اتحادی برسراقتدار آئے تو پھر اتنے قلیل عرصے میں حالات اس نہج تک کیسے پہنچے کہ اب قومی اسمبلی میں چیف جسٹس کو طلب کرنے کے مطالبے تک کیے جا رہے ہیں۔ کچھ ہی عرصہ قبل حکومت نے سپریم کورٹ میں دو جونیئر ججز کی تقرری کی منظوری بھی دی جس کے بارے میں حال ہی میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بیان دیا کہ یہ تعیناتی چیف جسٹس سے تناؤ کو کم کرنے کے لیے ایک سمجھوتہ تھا۔پنجاب میں الیکشن کے انعقاد پر عدالتی ازخود نوٹس کے بعد تناؤ کم ہونے کے بجائے بڑھتا چلا گیا۔ پہلے خود حکومت میں شامل جماعتوں نے سپریم کورٹ کے بینچ پر اعتراضات کیے تو بعد میں عدالتی بینچ میں شامل ججوں کے الگ ہونے پر سپریم کورٹ کے اندر کی تقسیم واضح ہونا شروع ہوئی۔سپریم کورٹ نے چند ایسے فیصلے کیے جن پر حکومت ناراض ہے۔ انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا طریقہ کار بھی صحیح نہیں رہا لیکن تین چار واقعات کی وجہ سے معاملات خراب ہوئے۔اب یہ محاذ آرائی کیا شکل اختیار کرے گی اور دونوں میں سے کس کو پیچھے ہٹنا پڑے گا؟اس بات کا امکان موجود ہے کہ سپریم کورٹ وزیر اعظم یا کابینہ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کر سکتی ہے اور اسی لیے قومی اسمبلی اپنی طاقت دکھا رہی ہے۔ وہ عدالت کو باور کرانا چاہتے ہیں کہ ہم چپ نہیں رہیں گے۔‘ معاملہ الیکشن کی تاریخ دینے سے شروع ہوا تھاالیکشن کمیشن نے نظر ثانی کی درخواست دائر کی، جس سے سپریم کورٹ کو ایک راستہ مل گیا ہے کہ الیکشن کے فیصلے پر دوبارہ غور کیا جا سکتا ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے نظر ثانی کی درخواست نے چیف جسٹس کو یہ موقع دیا کہ وہ اپنے فیصلے پر غور کریں اور ایسا فیصلہ دیں جس سے یہ تنازع ختم ہو۔ اب دو راستے ہیں، یا تو فیصلے پر نظر ثانی کر لیں یا فل کورٹ بنا لیں۔بظاہر فل کورٹ کے لیے لگتا ہے چیف جسٹس کو اکثریت حاصل ہے۔ اس طرح کسی کی بے توقیری بھی نہیں ہو گی۔
اسی تقسیم کا ایک اور ثبوت اس وقت سامنے آیا جب سپریم کورٹ کے دوسرے سینیئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس کے ازخود نوٹس اختیارات پر سوال اٹھایا جس کو بنیاد بناتے ہوئے حکومت نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل متعارف کروایا۔

تاہم اس سے قبل یہ بل باقاعدہ قانون کی شکل اختیار کرتا، سپریم کورٹ نے حکم امتنازع جاری کرتے ہوئے اس پر عملدرآمد روک دیا جسے پارلیمنٹ نے اپنے آئینی اختیارات میں مداخلت قرار دیا۔

معاملہ صرف قانونی اور آئینی بحث تک محدود نہیں رہا بلکہ ن لیگ کی جانب سے سپریم کورٹ کے جسٹس مظاہر اکبر نقوی کے اثاثوں پر سوالات اٹھائے گئے۔اسی تنازعے کے بیچ سوشل میڈیا پر سامنے آنی والی چند مبینہ آڈیوز نے جلتی پر تیل چھڑکنے کا کام کیا۔ ایک آڈیو میں مبینہ طور پر موجودہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی ساس جبکہ ایک اور آڈیو میں مبینہ طور پر سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے کی آواز تھی۔

صرف ایک ہفتہ قبل سپیکر قومی اسمبلی نے سپریم کورٹ کو خط لکھ کر پارلیمانی کارروائی میں عدالتی مداخلت پر شکوہ کیا جس کے بعد گذشتہ روز سپریم کورٹ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر بل پر پارلیمنٹ میں ہونے والی بحث کا ریکارڈ طلب کر لیا۔اس عدالتی ہدایت پر قومی اسمبلی میں باآواز بلند تنقید کی گئی اور ایسی تجاویز سامنے آئیں کہ چیف جسٹس کو بلا کر پوچھا جائے کہ انھوں نے یہ ریکارڈ کیوں مانگا۔ اس تنقید کے جواب میں سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے ایوان کو یقین دلایا کہ ہاؤس کی بالادستی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔دوسری جانب سابق چیف جسٹس کے بیٹے کی مبینہ آڈیو کی تحقیقات پر ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جبکہ چیئرمین پبلک اکاوئنٹس کمیٹی نور عالم خان نے بھی قومی اسمبلی کو بتایا کہ انھوں نے سپریم کورٹ کے ججوں کی تنخواہوں اور مراعات کی تفصیلات کا 10 سالہ ریکارڈ مانگتے ہوئے 16 مئی کو عدالت کے پرنسپل اکاوئنٹنگ افسر کو طلب کیا ہے جن کی عدم پیشی پر وارنٹ گرفتاری جاری کیے جا سکتے ہیں۔توہین پارلیمنٹ سے متعلق بل پیش کردال میں توہین پارلیمنٹ پر 6 ماہ قید اور جرمانے کی سزا تجویز کی گئی ہےاس بل کو چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے قواعد و ضوابط اور استحقاق نے تیار کیا ہے۔ مجوزہ بل کے تحت توہین پارلیمنٹ پر مختلف سزائیں تجویز کی گئی ہیں اور ایوان کی توہین پر 6 ماہ قید اور ایک کروڑ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جاسکیں گی۔
بل میں تجویز دی گئی ہے کہ پارلیمنٹ کی توہین پر کسی بھی حکومتی یا ریاستی عہدیدار کو طلب کیا جا سکے گا اور 24 رکنی پارلیمانی کنٹمپٹ کمیٹی توہین پارلیمنٹ کیسز کی تحقیقات کرے گی۔
اس حوالے سے تجویز دی گئی ہے کہ کمیٹی میں اپوزیشن اور حکومت کے 50، 50 فیصد اراکین کو شامل کیا جائے گا اور کنٹمپٹ کمیٹی شکایات کی رپورٹ پر اسپیکر یا چیئرمین سینیٹ کو سزا تجویز کرے گی۔ اس حوالے سے کہا گیا ہے کہ اسپیکر یا چیئرمین سینیٹ متعلقہ فرد پر سزا کے تعین کا اعلان کرسکیں گے۔قومی اسمبلی میں منگل کو ہونے والے اجلاس میں بل کی تحریک رانا محمد قاسم نون نے پیش کی۔ انکا کہنا تھا کہ پارلیمان کو اداروں کی ماں کہا جاتا ہے.
لیکن بدقسمتی سے کمزور ماں کمزور اولاد کا باعث بنتی ہے،
اگر جری ماں ہو گی توجری اولاد بھی ہو گی۔ان کا کہنا تھا کہ جتنی تضحیک، جتنی بے توقیری اس ایوان کی ہوئی ہے، اس کی آج تک مثال نہیں ملتی، جب ہم اسے اداروں کی ماں کہتے ہیں تو ہمیں اداروں کی روایات کا بھی خیال رکھنا ہے، پارلیمان کی بالادستی ہے، کہنے کی حد تک تو ہے لیکن عملی طور پر نہیں ہے۔ ہم نے آئین کے تحفظ، آئین اور پارلیمنٹ کے دفاع کا حلف اٹھایا ہے لیکن ہم نے یہ بھی دیکھا کہ پہلی حکومت میں اس ایوان میں لعنتیں برسائی گئیں، گالیاں دی گئیں، اتنی بے توقیری پاکستان کی سیاسی اور پارلیمانی تاریخ میں آج تک نہیں دیکھی گئی۔ انکامزید کہا کہ جس کا جو دل چاہتا ہے وہ پارلیمان کو رگڑ دیتا ہے، ہمارا میڈیا ٹرائل ہوتا ہے، بدنیتی پر مبنی مہم چلائی جاتی ہیں، اس تمام صورتحال کو دیکھتے ہوئے ہم کہتے ہیں کہ توہین پارلیمنٹ کا قانون بننا چاہیے کیونکہ اس پارلیمان کی عزت ہوگی تو ہی آئینی اداروں کی عزت ہوگی۔اس کے بعد اس ایوان کی عزت سے کمیٹیوں کو فعال ہونا ہوگا، جب تک کمیٹیاں فعال نہیں ہوں گی، اس وقت تک ایوان مؤثر انداز میں نہیں چل سکتا، جس طرح دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں توہین پارلیمنٹ پر واضح سزا و جزا کا طریقہ کار موجود ہے، اسی طرح یہاں بھی رائج کیا جائے,اس موقع پر اسپیکر نے وزیر برائے پارلیمانی امور شہادت اعوان سے پوچھا کہ کیا وہ اس بل کی مخالفت کریں گے تو انہوں نے کہا کہ قاسم نون نے بہت اچھا بل متعارف کرایا ہے، لیکن بہتر یہ ہو گا کہ اسے ایک دن کے لیے کمیٹی میں بھیجیں اس پر ان کی بھی رائے آجائے اور پھر اس کے بعد پرسوں اس کو قانون سازی کے لیے پیش کریں۔

تاہم قائد حزب اختلاف نے بل کو کمیٹی میں بھیجنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل ہماری عزت کا مسئلہ ہے، یہ اس ایوان کی عزت کا مسئلہ ہے اور اس کو کس وجہ سے کمیٹی میں بھیجیں، جب ہم پر حملہ ہونا ہوتا ہے تو ایک جج تلوار پکڑ کر سب کے سر قلم کر دیتا ہے اور جب ہماری باری آتی ہے اور ہماری عزت کا مسئلہ ہوتا ہے تو ہم خود ہی کمیٹیوں کو تلاش کرنا شروع کر دیتے ہیں۔کسی کمیٹی کی ضرورت نہیں، یہ ہمارے پورے ایوان کی عزت کا مسئلہ ہے اس لیے میں بطور قائد حزب اختلاف قاسم نون صاحب کو مکمل سپورٹ کرتا ہوں، اس لیے مہربانی کریں اور اس بل کے لیے کسی کمیٹی کی ضرورت نہیں۔

وزیر پارلیمانی امور مرتضیٰ جاوید عباسی کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر تمام روایات کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے، اس معاملے کو کمیٹی کو بھجوایا جائے اور اس کے بعد پھر اسے اگلی نجی کارروائی کے دن پیش کرکے منظور کرلیا جائے۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور وفاقی وزیر میاں جاوید لطیف نے بھی بل کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ قاسم نون نے جو بات کی ہے وہ پورے ایوان کی بات ہے جبکہ راجا ریاض نے جو بات کی اس پر بھی پورا ایوان متفق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دو تین ہفتوں میں ایسی ایسی سازشیں بے نقاب ہو رہی ہیں، ایسے انکشافات ہو رہے ہیں، سمجھتا تھا کہ اداروں کے اندر ایک طوفان برپا ہوگا کہ ہمارے اداروں کے اندر یہ الزامات کیسے لگے؟ میں سمجھتا تھا کہ وہ سخت احتساب کے لیے کوئی راہ ڈھونڈ رہے ہوں گے مگر ڈھٹائی سے ٹکٹیں بھی تقسیم کر رہے ہیں اور سہولت کاری کا کردار بھی ادا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس جماعت کے جنرل سیکریٹری کہہ رہے تھے کہ وقت آ گیا ہے کہ جو الزامات عمران خان آرمی چیف یا اداروں پر لگا رہے ہیں، بہتر ہو کہ ایک دوسرے کی غلط فہمیاں دور کردیں، اگر ایسا ہے تو پھر کچے کے ڈاکو کو بھی آئی جی کے ساتھ بیٹھ جانا چاہیے۔

میاں جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ مسئلہ یہ ہے کہ کب تک ملک کا نقصان ہوتا رہے گا اور ہم مٹی ڈالتے رہیں گے، بھٹو کو پھانسی ہوگئی تو کہا گیا مٹی پاؤ آگے چلیں، نواز شریف تاحیات نااہل ہوگیا اور کہا گیا مٹی پاؤ آگے چلیں، اس ہاؤس سے اداروں کو روشنی ملتی ہے مگر پھر اس ہاؤس کی عزت و تقدس کیوں پامال ہوتا ہے، کبھی ہمیں بندوق والے اور کبھی ہتھوڑے والے پکڑ لیتے ہیں۔ ایوان نے فیصلہ کیا ہے، رائے دی ہے لہٰذا اس معاملے پر اسٹینڈ لیا جائے، اگر کسٹوڈین اس بات کا اسٹینڈ نہیں لے گا تو کون لے گا؟ کیسے تقدس بحال ہوگا۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا اس موقع پر کہنا تھا کہ تحقیر پارلیمنٹ سے متعلق بہت پہلے قانون سازی کرنی چاہیے تھی، قانون کو منظور کرنے یا مسترد کرنے کا اختیار اس ایوان کے پاس ہے اور اگر ادارے ایک دوسرے کے اختیار میں مداخلت کریں گے تو گڑبڑ ہو گی۔ یہ اتنا اچھا قانون بننے جارہا ہے، اس پر غور کرنا چاہیے، اس کو کمیٹی میں بھیجیں اور اس کو مزید خوبصورت شکل دیں گے، قائمہ کمیٹی میں چیزیں مزید بہتر ہوتی ہیں۔ بعد ازاں توہین پارلیمنٹ بل 2023 ایوان میں متعارف کرا دیا گیا۔ اسپیکر نے بل پیش کرنے کی تحریک منظوری کے لیے ایوان میں پیش کی اور ایوان نے بل پیش کرنے کی اجازت دے دی۔
توہین پارلیمنٹ بل 2023 رانا قاسم نون نے نجی بل کی صورت میں پیش کیا ہے۔
اسپیکر نے بل قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کو مزید غور کے لیے بھیج دیا ہے کمیٹی 7 دن کے اندر اپنی رپورٹ ایوان میں پیش کرے گی,وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پارلیمان کے استحقاق اور آئینی اختیارکا ہرصورت تحفظ کریں گے، پارلیمنٹ اپنے دائرے میں رہ کراپنا حق منوائے گی۔ مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ثاقب نثار نے نوازشریف کو نااہل کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا اور جھوٹے اور بے بنیاد الزامات پر نوازشریف کو نااہل کیا، وہ دن رات سوموٹو کا اختیار استعمال کرتے رہے، انہوں نے عوامی مفاد کے کسی کیس پر سوموٹو نہیں لیا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ثاقب نثار کا ایک ہی مقصد تھا نوازشریف کو ہرانا اور عمران خان کو کامیاب کرنا، ثاقب نثار پی ٹی آئی کے سیاسی ایجنٹ کے طور پر کام کرتے رہے، آڈیو لیکس نے اب تمام کرداروں کو بے نقاب کردیا، ان کے بیٹے کی آڈیو لیک سامنے آئی ہے، کیا اب کوئی شک رہ جاتا ہے کہ سازش ہے کہ کسی طریقے سے دوبارہ عمران خان کو لایا جائے؟
ان کا کہنا تھا کہ ثاقب نثار کے بیٹے کی آڈیو کا معاملہ پارلیمنٹ نے اٹھایا ہے اور ان کے بیٹے کو پارلیمان کی کمیٹی نے طلب کرلیا ہے۔

شہباز شریف کا کہنا تھاکہ ملک میں الیکشن ایک دن ہوں گے اور ایک دن ہی ہونے چاہیے، پنجاب سے متعلق ماضی میں جو غلط تاثر قائم کیاجارہا تھا زائل ہوگیا ہے، پنجاب بڑا بھائی نہیں چاروں صوبے برابر ہیں، اب صرف پنجاب میں الیکشن کراکر پاکستان کے خلاف سازش کی جارہی ہے۔


القادر ٹرسٹ کیس کیا ہے؟

القادر ٹرسٹ کیس عبدالقادر یونیورسٹی کے لئے548 ایکڑ اراضی کی الاٹمنٹ اور عطیہ کئے جانے سے متعلق ہے، اس معاملے کی ابتدا پاکستان کے معروف پراپرٹی ٹائیکون اور بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض حسین کے خاندان پر برطانیہ میں دائر ہونے والے ایک مقدمے سے ہوئی۔

عمران خان کے دورِ حکومت میں بحریہ ٹاؤن کی رقم برطانیہ میں ضبط کی گئی جس کے بعد پاکستان کی وفاقی حکومت اور بحریہ ٹاؤن کے درمیان خفیہ طور پر تصفیہ ہو گیا تھا۔

ان کے بعد نئی بننے والی اتحادی حکومت کی جانب سے الزام عائد کیا گیا تھا کہ بحریہ ٹاؤن نے 50 ارب روپے غیرقانونی طور پر برطانیہ منتقل کیے جنہیں وہاں منجمند کر لیا گیا تھا۔ عمران خان کی حکومت کی جانب سے یہ رقم واپس لانے کے بجائے برطانیہ میں بحریہ ٹاؤن کو ریلیف دیا گیا۔‘

حکومت کا دعویٰ تھا کہ ’بحریہ ٹاؤن کے جو پیسے برطانیہ میں پکڑے گئے وہ سپریم کورٹ کی فیصلے کے بعد واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کر دیے گئے تھے۔‘

جون 2022 میں پاکستان کی اتحادی حکومت نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے بحریہ ٹاؤن کے ساتھ معاہدے کے بدلے اربوں روپے کی اراضی سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے نام منتقل کی۔

اس وقت وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد اس خفیہ معاہدے سے متعلق کچھ تفصیلات بھی منظرعام پر لائی گئی تھیں۔

ان دستاویزات میں اُس وقت کے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب اور ایسٹ ریکوری یونٹ کے سربراہ شہزاد اکبر کا وزیراعظم کو لکھا گیا نوٹ بھی شامل تھا جس کے تحت وزیراعظم عمران خان نے نیشنل کرائم ایجنسی، بحریہ ٹاؤن اور ایسیٹ ریکوری یونٹ کے درمیان خفیہ معاہدے کی منظوری دی گئی۔

حکومت نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ بحریہ ٹاؤن کی ضبط کی گئی رقم پر ریلیف دیتے ہوئے بدلے میں بحریہ ٹاؤن سے اراضی حاصل کی گئی۔ اس حوالے سے حکومت کی جانب سے القادر یونیورسٹی ٹرسٹ کی دستاویزات بھی منظر عام پر لائی گئیں۔

منظرعام پر لائی گئی ان دستاویزات کے مطابق 24 مارچ 2021 کو بحریہ ٹاؤن نے القادر یونیورسٹی ٹرسٹ کو ضلع جہلم سوہاوا میں 458 کنال کی اراضی عطیہ کی۔

عطیہ کی گئی اس اراضی کا معاہدہ بحریہ ٹاؤن اور سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کے درمیان ہوا۔

ان دستاویزات پر سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے بطور ٹرسٹی القادر یونیورسٹی پراجیکٹ ٹرسٹ کی جانب سے دستخط کیے گئے۔