عامر لیاقت پر انبیاء کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرنے پر اسلام آباد کے سیکٹر جی-6 مسجد کے امام کی شکایت پر آبپارہ تھانے میں مقدمہ درج
رپورٹ ؛اصغر علی مبارک سے

اسلام آباد: متنازع ٹی وی اینکر ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کے خلاف مبینہ طور پر انبیاء کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرنے پر مقدمہ درج کرلیا گیا۔اسلام آباد کے سیکٹر جی-6 میں قائم مسجد کے امام کی شکایت پر آبپارہ تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا۔جس پروگرام کے حوالے سے شکایت درج کروائی گئی ہے وہ 5 جون کو ٹی وی پروگرام ’سحری عامر‘ کے نام سے نشر ہوا تھا۔ایف آئی آر کے مطابق مقدمہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 295 اے (جان بوجھ کر مذہبی جذبات اُبھارنے کی کوشش کرنا) اور 295 سی (نبی سے متعلق توہین آمیز گفتگو کرنا) کے تحت درج کیا گیا۔جب پولیس آفیسر سے سوال کیا گیا کہ پروگرام کراچی سے نشر ہوا تھا لیکن مقدمہ اسلام آباد میں کیوں درج کیا گیا؟ تو آفیسر نے بتایا کہ مذکورہ ٹی وی چینل کا صدر دفتر وفاقی دارالحکومت میں قائم ہے۔اس سے قبل مذکورہ پروگرام میں قابل اعتراض گفتگو کرنے پر پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے26 مئ 2018کو عامر لیاقت پر 30 روز کی پابندی عائد کی تھی۔پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے نجی ٹی بول کے پروگرام ‘رمضان میں بول’ اور ‘ ایسا نہیں چلے گا’ پر پابندی عائد کی ۔پیمرا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق 24 مئی کو رمضان میں بول نامی پروگرام میں میزبان عامر لیاقت حسین نے سیگمنٹ عالم کے بول میں ایسے ریمارکس بولے جن پر یہ ایکشن لیا گیا۔اس پروگرام میں میزبان نے گجرات، بھارت سے ایک ویڈیو کال لی جس میں کالر نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت پر سوالات کیے۔یہ مواد براہ راست، بغیر ایڈٹ کیے اور کسی تاخیر کے بغیر نشر کیا گیا۔اس موقع پر میزبان نے دانستہ طور پر ایسے جملے کہے جس سے لوگوں کی دل آزاری ہوئی-نوٹیفکشن کے مطابق میزبان نے یہ سب کچھ ریٹنگ اور ویورشپ کے حصول کے لیے غیر ضروری ڈرامہ کے ساتھ کرتے ہوئے مذہب کا استعمال کیا، جس سے مختلف فرقوں اور عوام کے جذبات کو ٹھیس پہنچی۔یہ سب کرنے کے بعد میزبان تو شو چھوڑ گئے مگر لائیو پروگرام میں مہمان عالم دین کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔اس کے مدنظر پیمرا نے بول نیوز کو ‘رمضان میں بول’ اور ایسا نہیں چلے گا’ نشر کرنے یا دوبارہ نشر کرنے پر تاحکم ثانی پابندی عائد کردی ہے۔واضح رہے کہ عامر لیاقت حسین کے پروگرامز پر ماضی میں بھی کئی بار پابندی عائد کی جاچکی ہے۔2016 میں ان کے پروگرام انعام گھر پر روز کی عارضی پابندی ‘خودکشی کے مناظر’ دکھانے پر عائد کی گئی۔اسی طرح بول نیوز پر بھی ان کے پروگرام ایسا نہیں چلے گا، پر کئی بار پابندی لگائی گئی۔30 مئ 2018کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے اینکرپرسن عامر لیاقت حسین پر پابندی عائد کرنے والے پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے فیصلے کو معطل کرتے ہوئے انہیں ٹیلی ویژن پر آنے کی اجازت دی۔عدالتِ عالیہ نے ریگولیٹر کا ایک حکم نامہ برقرار رکھتے ہوئے بول ٹی وی پر عامر لیاقت حسین کے شو پر پابندی برقرار رکھنے کی ہدایت کی۔واضح رہے کہ 25 مئی کو پیمرا نے عامر لیاقت حسین اور ان کے پروگرام پر مذہبی معاملات میں ’غیر ضروری صورتحال‘ پیدا کرنے کے الزام میں 30 روز کی پابندی عائد کی تھی۔پیمرا نے نہ صرف عامر لیاقت حسین کو کسی بھی ٹیلی ویژن چینل پر آنے سے روک دیا تھا بلکہ انہیں بول ٹی وی پر کسی بھی پروگرام کا میزبان بننے سے بھی روک دیا تھا۔پیمرا کے مطابق بول ٹی وی پر نشر ہونے والے پروگرام میں میزبان عامر لیاقت حسین نے گجرات، بھارت سے ایک ویڈیو کال لی جس میں کالر نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کے حوالے سے نامناسب سوالات کیے اور یہ مواد براہ راست، بغیر ایڈٹ کیے اور کسی تاخیر کے بغیر نشر کیا گیا۔نوٹیفکیشن کے مطابق میزبان نے ریٹنگ اور ویورشپ کے حصول کے لیے غیر ضروری ڈرامہ کرتے ہوئے مذہب کا استعمال کیا، جس سے مختلف متکبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کے جذبات کو ٹھیس پہنچی۔یہ سب کرنے کے بعد میزبان تو شو چھوڑ گئے مگر لائیو پروگرام میں مہمان عالم دین کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔علاوہ ازیں پیمرا کا کہنا تھا کہ اگلے روز اس حساس معاملے پر تحمل برتنے کے بجائے اینکر پرسن مذہبی عقائد پر تنقید کرتے رہے۔اس کو مدنظر رکھتے ہوئے پیمرا نے بول نیوز کو ‘رمضان میں بول’ اور ایسا نہیں چلے گا’ نشر کرنے یا دوبارہ نشر کرنے پر تاحکم ثانی پابندی عائد کردی۔بعدِ ازاں عامر لیاقت حسین نے پیمرا کے حکم نامے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جس کی سماعت جسٹس میاں گل اورنگزیب نے کی۔جسٹس میاں گل اورنگزیب نے پیمرا کے حکم نامے کو معطل کرتے ہوئے کہا کہ ریگولیٹر کے پاس اینکرپرسن پر پابندی کا اختیار نہیں ہے بلکہ اس کے پاس صرف مخصوص مواد کو نشر کرنے سے روکنے کا اختیار ہے۔بعدِ ازاں عدالت عالیہ نے عامر لیاقت حسین سے متعلق پیمرا کے فیصلے کو معطل کردیا جبکہ ان کے پروگرام کے حوالے سے فیصلے کو برقرار رکھا۔عدالتِ عالیہ نے کیس کی سماعت 8 جون تک ملتوی کردی تھی ۔واضح رہے کہ عامر لیاقت حسین کے پروگرامز پر ماضی میں بھی متعدد مرتبہ پابندی عائد کی جاچکی ہے۔