صومالی قزاقوں کے چنگل سے رہا پانے والے پاکستانی ملاح آج ایتھوپیئن ایئر لائن سے کراچی پہنچ رہے ہیں
صومالی قزاقوں کے چنگل سے رہا پانے والے پاکستانی ملاح آج ایتھوپیئن ایئر لائن سے کراچی پہنچ رہے ہیں
اسلام آباد (خصوصی رپورٹ: اصغر علی مبارک)
صومالی قزاقوں کے ہاتھوں اغوا کیے جانے والے آئل ٹینکر ‘ایم ٹی آنر 25’ سے رہا پانے والے سرکردہ پاکستانی ملاح آج، 4 اکتوبر 2026ء کو ایتھوپیئن ایئر لائنز کی پرواز ET 694 کے ذریعے ادیس ابابا سے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ، کراچی پہنچ رہے ہیں۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ ہنگامی مراسلے کے مطابق، حبوطی اور ایتھوپیا میں متعین پاکستان کے سفرائے کرام نے قزاقوں کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے چار ملاحوں—عثمان غنی، عقیل خان، امین بن شمس، اور یاسر خان—کی عیادت کی، جس کے بعد اب وہ عملے کے دیگر ارکان سید محمد مرتضیٰ اور محمود خان کے ہمراہ وطن واپس لوٹ رہے ہیں۔
خونریز ریسکیو آپریشن اور جانی نقصان
واضح رہے کہ اس بحری جہاز کو 21 اپریل 2026ء کو صومالیہ کے شمال مشرقی نیم خودمختار علاقے پنٹ لینڈ کے قریب سے اغوا کیا گیا تھا، جس پر 10 پاکستانیوں سمیت عملے کے 17 ارکان سوار تھے۔ طویل قید کے بعد 29 ستمبر 2026ء کو پنٹ لینڈ میری ٹائم پولیس فورس نے سمندر میں ایک بڑا فوجی آپریشن کرتے ہوئے آئل ٹینکر کو قزاقوں کے قبضے سے واگزار کرایا اور 16 سے زائد قزاقوں کو گرفتار کر لیا۔ تاہم، سیکیورٹی فورسز کی پیش قدمی کے وقت قزاقوں نے اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں تین پاکستانی ملاح (رفیع اللہ خان، محمود احمد انصاری، اور سید کاشف عمر) جاں بحق جبکہ چار شدید زخمی ہو گئے۔ اس اندوہناک واقعے میں مجموعی طور پر عملے کے 5 ارکان ہلاک ہوئے جن میں ایک بھارتی اور ایک میانمار کا شہری بھی شامل تھا۔
صومالی بحری قزاقی کا پس منظر اور 2026ء کی حالیہ لہر
صومالیہ میں 1990ء کی دہائی کی خانہ جنگی اور مرکزی حکومت کے خاتمے کے بعد، یورپی اور دیگر غیر ملکی بحری جہازوں نے صومالی ساحلوں پر غیر قانونی ماہی گیری اور زہریلا فضلا ٹھکانے لگانا شروع کیا تھا، جس کے ردعمل میں مقامی ماہی گیروں نے اپنی بقا کے لیے ان جہازوں کا تعاقب شروع کیا جو بعد میں منظم جرائم میں تبدیل ہو گیا۔ اگرچہ 2008ء سے 2014ء کے درمیان بین الاقوامی بحری گشت کی وجہ سے قزاقی میں کمی آئی تھی، تاہم دفاعی ماہرین کے مطابق سال 2026ء میں عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور خلیجِ عدن میں تزویراتی تناؤ کے باعث صومالی قزاقوں کے حملوں میں ایک بار پھر خطرناک تیزی دیکھی جا رہی ہے۔
حکومتِ پاکستان کی جانب سے مالی امداد کا اعلان
حکومتِ پاکستان نے اس المناک واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے جاں بحق ہونے والے ملاحوں کے لواحقین کے لیے فی کس سوا کروڑ روپے (12.5 ملین روپے) مالی امداد اور ان کے بچوں کے تمام تعلیمی اخراجات سرکاری سطح پر اٹھانے کا باقاعدہ اعلان کیا ہے۔ صومالی وزارتِ خارجہ نے پاکستانی سفارت خانے کو واقعے کی تمام تفصیلات فراہم کرتے ہوئے زخمیوں کے علاج معالجے اور شہید ملاحوں کی میتوں کو مکمل احترام و وقار کے ساتھ پاکستان منتقل کرنے کے لیے ہر ممکن سفارتی تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔)
صومالی قزاقوں کے ہاتھوں اغوا کیے گئے آئل ٹینکر ‘ایم ٹی آنر 25’ کو آزاد کرا لیا گیا ہے، تاہم ریسکیو آپریشن سے قبل قزاقوں کی فائرنگ سے تین پاکستانی ملاح جاں بحق ہو گئےتھے۔
پاکستان کی وزارت خارجہ اسلام آباد کے ترجمان کے ہنگامی پیغام کے مطابق، جبوتی اور ایتھوپیا میں پاکستان کے سفیروں نے ایم ٹی آنر 25 کے عملے کے چار زخمی پاکستانی ارکان عثمان غنی، عقیل خان، امین بن شمس اور یاسر خان افراد کی عیادت کی۔وہ آج باقی ماندہ افراد سید محمد مرتضیٰ رحمۃ اللہ علیہ اور محمود خان کے ساتھ ، عدیس ابابا سے ایتھوپیئن ایئر لائن کی پرواز ET 694 پر کراچی پہنچ رہے ہیں۔

یہ بحری جہاز 21 اپریل 2026ء کو صومالیہ کے شمال مشرقی نیم خودمختار علاقے پنٹ لینڈ کے قریب سے اغوا کیا گیا تھا جس پر 10 پاکستانیوں سمیت عملے کے 17 ارکان سوار تھے۔
صومالی قزاقوں اور حالیہ بحری آپریشن سے متعلق اہم تفصیلات درج ذیل ہیں:
1۔ حالیہ آپریشن اور جانی نقصان
- فوجی کارروائی: 29 ستمبر 2026ء کو پنٹ لینڈ میری ٹائم پولیس فورس نے سمندر میں کارروائی کرتے ہوئے آئل ٹینکر کو قزاقوں کے قبضے سے واگزار کرایا تھا ۔ آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے 16 سے زائد قزاقوں کو گرفتار کیا تھا ۔
- پاکستانی ملاحوں کی شہادت: صومالی حکام کے مطابق، جب سیکیورٹی فورسز نے جہاز کا کنٹرول سنبھالنے کی کوشش کی تو قزاقوں نے اندھا دھند فائرنگ کر دی تھی ۔ اس فائرنگ کے نتیجے میں تین پاکستانی ملاح (رفیع اللہ خان، محمود احمد انصاری، اور سید کاشف عمر) جاں بحق جبکہ چار دیگر پاکستانی شدید زخمی ہوئےتھے۔ مجموعی طور پر عملے کے 5 ارکان ہلاک ہوئےتھے جن میں ایک بھارتی اور ایک میانمار کا شہری بھی شامل تھا۔
صومالیہ میں 1990ء کی دہائی میں خانہ جنگی کے بعد جب مرکزی حکومت ختم ہوئی، تو یورپی اور دیگر غیر ملکی بحری جہازوں نے صومالیہ کے ساحلوں پر غیر قانونی ماہی گیری اور زہریلا فضلا ٹھکانے لگانا شروع کیا تھا ۔ اس کے ردعمل میں مقامی صومالی ماہی گیروں نے اپنی سرحدوں اور معاش کے تحفظ کے لیے ان جہازوں کا تعاقب شروع کیا، جس نے وقت کے ساتھ ساتھ ایک باقاعدہ منظم جرائم اور بحری قزاقی (Piracy) کی شکل اختیار کر لی تھی۔
2008ء سے 2014ء کے دوران صومالی قزاقوں نے عالمی تجارتی گزرگاہوں کو شدید متاثر کیا تھا، جس کے بعد بین الاقوامی بحری گشت کے باعث اس میں کمی آئی۔ تاہم، دفاعی ماہرین کے مطابق سال 2026ء کے دوران صومالی قزاقوں کے حملوں میں دوبارہ تیزی دیکھی گئی ہے۔ عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور خلیجِ عدن میں تزویراتی تناؤ کے باعث آئل ٹینکرز ایک بار پھر قزاقوں کے لیے پرکشش ہدف بن چکے ہیں۔ حکومتِ پاکستان نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے جاں بحق ہونے والے ملاحوں کے لواحقین کے لیے فی کس سوا کروڑ روپے مالی امداد اور ان کے بچوں کے تمام تعلیمی اخراجات سرکاری سطح پر اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔
صومالی وزارتِ خارجہ نے پاکستانی سفارت خانے کو باقاعدہ خط کے ذریعے واقعے کی تفصیلات سے آگاہ کیا ہے اور زخمیوں کے علاج معالجے سمیت جاں بحق ملاحوں کی میتوں کو مکمل احترام کے ساتھ پاکستان منتقل کرنے کے لیے سفارتی تعاون کی یقین دہانی کرائی تھی۔




