..صنعف آھن مریم اورنگزیب.;.پاکستانی میڈیا کیلئے امید کی کرن۔۔۔۔……….(اندر کی بات ؛کالم نگار؛اصغرعلی مبارک)…………………..صنعف آھن مریم اورنگزیب نےوزیر اطلاعات و نشریات کا قلمدان سنبھالنے کے بعد میڈیا کیلئے انقلابی اقدامات کرنے کے لیےجو اشارےدیئےوہ تازہ ہواکاجھونکا قراردئیے جاسکتے ہیں محترمہ مریم اورنگزیب مضبوط اعصاب کی مالکہ ہیں کیونکہ جس طرح پی ٹی آئی کے سابق دور حکومت میڈیا پر پابندیاں عائد کیں اسکی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ صنعف آہن نے جس انداز میں پونے چار سال تک پی ٹی آئی کی گالی بریگیڈ کا مردانہ وار مقابلہ کیا اس پر وہ داد تحسین کی مستحق ہیں۔پاکستان مسلم لیگ ن کی قیادت کےلئے یہ بات باعث اطمینان رہی ہے انہیں ڈیکٹیٹ کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے میڈیا ڈیولپمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پی ایم ڈی اے) کا قانون ختم کرنے کا اعلان کرکےمیڈیا تنطموں کا دیرینہ مطالبہ پورا کردیاہےاس حققیت سے انکار ممکن نہیں کہ پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت میں میڈیا کے گرد شکنجہ کسنےکیلئے مختلف ہتکنڈے استعمال کیے گئےمحترمہ مریم اورنگزیبکی ایک خوبی یہ بھی ہے وہ ملکی وغیرملکی حالات حاضرہ سے مکمل باخبر رہتی ہیں بلکہ اس سے اپنے پارٹی راہنماوں کو بھی آگاہ رکھتی ہیں۔مریم اورنگزیب، 2013 کے عام انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ(ن) کی امیدوار کی حیثیت سے قومی اسمبلی میں خواتین کے لئے مخصوص نشست پر رکن منتخب ہوئیں۔ وہ مریم نواز کے ساتھ کام کرتی رہیں اور ان کی اس ٹیم میں شامل تھیں جو شعبہ تعلیم کو دیکھ رہی تھی۔ انہوں نے پارلیمانی سیکرٹری داخلہ کے علاوہ موسمیاتی تبدیلی اور اطلاعات، نشریات و قومی ورثہ پر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کی رکن کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ وہ ن لیگ کے یوتھ ویمن ونگ، اسلام آباد اور راولپنڈی کی چیف آرگنائزر بھی رہیں۔ وہ ماحولیاتی تحفظ، ترقی و بین الاقوامی معاہدوں اور ہزاریہ ترقیاتی مقاصد (ایم ڈی جیز) پر عملدرآمد کے لئے سٹریٹجک غوروفکر اور منصوبہ بندی و ترقی کے شعبوں میں خصوصی مہارت رکھتی ہیں۔ اکتوبر 2016 میں انہیں وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات کی حیثیت سے وزیراعظم نواز شریف کی وفاقی کابینہ میں شامل کیا گیا۔ انہیں وزارت اطلاعات کا قلمدان بھی سونپا گیا۔ اگست 2017 میں شاہد خاقان عباسی کے وزیراعظم پاکستان منتخب ہونے کے بعد انہیں وفاقی کابینہ میں شامل کر لیا گیا اور دوبارہ وزیر مملکت برائے اطلاعات کے عہدے پر تعینات کر دیا گیا۔ اپریل 2018 میں ان کا مرتبہ بڑھا کر انہیں وفاقی وزیر بنا دیا گیا اور وہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی کابینہ میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کے عہدے پر فائز ہو گئیں۔ 2 جون 2018 کو انہیں ن لیگ کی باضابطہ ترجمان مقرر کر دیا گیا۔ 2018 کے عام انتخابات میں وہ پنجاب سے خواتین کی مخصوص نشست پر ن لیگ کی امیدوار کی حیثیت سے دوبارہ قومی اسمبلی کی رکن منتخب ہو گئیں۔ یہ حققیت ھےکہ آزادی اظہار صحافیوں کی جنگ نہیں بلکہ پورے معاشرہ کا مسئلہ ہے۔ آ ج کاصحافی خاص طور پر اور معاشرہ عمومی طور پر بندوق برداروں , مذہبی جنونیوں سے خوفزدہ ہے اور عدلیہ سے امیدیں توڑ چکا ہے جس نے صحافتی برداری کو کوئی ریلیف نہیں دیاان وجوہات کی بنا پر معاشرے میں عدم برداشت، انتہا پسندی اور عسکریت پسندی بڑھ رہی ہے۔ ایسے میں ایک صحافی کا کام مزید مشکل ہوتا جا رہا ہے۔دنیا کے کئی ملکوں میں برسراقتدار قوتوں نے ایسے صحافیوں کو کسی نہ کسی طرح دبایا اور دھمکایا ہے جن کا قلم ریاستی پالیسیوں پر تنقید کے لیے استعمال ہوا اکستان کی تاریخ میں بھی ایسے کئی واقعات پیش آئے۔ جمہوری ادوار میں بھی کئی مرتبہ حکومتِ وقت نے صحافیوں کو چپ کروانے کے لیے متعدد اقدامات کیے جو سیاسی سنسرشپ کے زمرے میں آتے ہیں۔ملک میں ریاستی اداروں کی جانب سے غیر اعلانیہ سینسرشپ کی وجہ سے آزادی اظہار شدید خطرے میں ہے۔تحریک انصاف کےدور حکومت میں غیراعلانیہ سینسرشپ پر خاموشی اس کے اس میں شامل ہونے کا اشارہ دیتی ہے۔ غیراعلانیہ سینسرشپ کے خلاف بیرون اور اندرون ملک احتجاج کے باوجود یہ خاموشی معنی خیز رہی ۔ پاکستان تحریک انصاف حکومت اس مسئلے کو مسلسل نظر انداز کر رہی ان اداروں سے اس پر بات نہیں کی جو ایک منصوبہ بندی کے تحت پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو دھونس، اشتہارات پر کنٹرول، ہراسیت اور یہاں تک کہ صحافیوں پر حملوں کے ذریعے خاموش کرانے کی کوشش کر کرتےرہے ہیں۔آزادی صحافت کے معاملے پر پاکستان کی سیاسی جماعتیں، غیر سیاسی تنظیمیں، ریاستی اور غیر ریاستی عناصر ایک ہی پیج پر نظر آتے ہیں’۔ اگر ‘ایک ادارے کا جھکاؤ کسی سیاسی گروہ یا کسی ایک غیر ریاستی ادارے کی جانب نہیں ہے تو اس کے ورکرز بھی نسبتاً محفوظ رہتے ہیں,پاکستان میں میڈیا ہاؤسز کی جانب سے صحافیوں کے تحفظ کے لیے کوئی احتیاطی تدبیر نہیں کی جاتی۔ حکومتی موقف بار بار یہی رہا کہ وہ آزادی اظہار رائے اور آزادی صحافت پر پوری طرح یقین رکھتے ہیں لیکن ان تمام قدغنوں کے باوجود ذمہ داران کی جانب سے کوئی بھی خاطر خواہ وضاحت دیکھنے میں نہیں آئی کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے اور ان کے عوامل کیا ہیں۔پاکستان تحریک انصاف نےجب حکومت کی باگ ڈور سنبھالی تھی تو اس کے رہنماؤں کی جانب سے متعدد بار اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اقتدار میں آ کر آزادی اظہار رائے کا بھرپور تحفظ کریں گے اور آزادی صحافت ان کے منشور کے اہم ترین جزو میں سے ایک ہے۔لیکن اس دوران یہ دیکھنے میں آیا کہ ٹی وی چینلز پر حزب اختلاف کے موقف کو جگہ نہ ملی۔ چاہے پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی رہنما ہوں یا پاکستان پیپلز پارٹی کے قائدین، ان کے انٹرویوز اور عوامی جلسوں کو نشر ہونے سے روک دیا گیا۔پرنٹ میڈیا پر بھی ایسے واقعات پیش آئے جس میں لکھاریوں کے کالم کو چھپنے کی جگہ نہ ملی جس کا ذکر انھوں نے سوشل میڈیا پر کیا۔وزیر اطلاعات و نشریات کا قلمدان سنبھالنے کے بعدمحترمہ مریم اورنگزیب نے کہا کہ میڈیا ڈیولپمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کسی بھی شکل میں ہے تو اسے ختم کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومتی ریاستی پالیسی میں وزارت اطلاعات کا اہم کردار ہے، پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے سوا کوئی اتھارٹی نہیں بنائی جائے گی۔وفاقی وزیراطلاعات نے مزید کہا کہ پیکا ایکٹ 2016 پر تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے نظرِ ثانی کریں گے۔اُن کا کہنا تھا کہ میڈیاکی تنظیموں اور کارکنوں سے مل کرتمام مسائل کا قابلِ قبول حل نکالیں گے، آزادی اظہارِ رائے پر کسی بھی طرح کی پابندی عائد نہیں کی جائے گی۔مریم اورنگزیب نے یہ بھی کہا کہ وزارت اطلاعات کے اندر سے ڈیجیٹل میڈیا ونگ کو بند کردیا ہے، ڈیجیٹل میڈیا ونگ سے سرکاری ملازمین کو سائبر ونگ میں ٹرانسفر کردیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل میڈیا ونگ پر ٹوئٹس کے ذریعے اپوزیشن کو گالیاں دی گئیں، بوٹس ٹوئٹس کے ذریعے اداروں کے خلاف مہم چلائی گئی۔وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ صحافیوں کے گھروں کی حفاظت کریں گے، میڈیا پرسنز کو ہراساں کرنے اور گھروں کے سامنے احتجاج کی کال برداشت نہیں کی جائے گی۔اُن کا کہنا تھا کہ صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو نوکریوں سے برطرف کیا گیا، کئی صحافیوں کے ٹی وی چینلز پر پروگرام بند کرائے گئے، میں ایسے تمام صحافیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتی ہوں۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ جو چار سال کچھ نہ کرسکے جھوٹ بولا، انتقام لیا وہ اب سازش کی بات کرتے ہیں، سازش کی بات اس لیے کرتے ہیں کہ 1 کروڑ نوکریوں اور 50 لاکھ گھروں کا سوال نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ چار سال بعد پی آئی ڈی کے پلیٹ فارم سے میڈیا سے ملاقات ہو رہی ہے، پچھلے چار سال میڈیا نے سینسر شپ اور اظہار رائے کی آزادی کی جہدوجہد کی۔وفاقی وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ میڈیا انڈسٹری پر اظہار رائے کی آزادی کی پابندی، سینسر شپ اور میڈیا ورکرز کے ساتھ ناروا سلوک روا رکھا گیا، میڈیا سمیت تمام جماعتوں کی مشکور ہوں جنہوں نے مشکل وقت میں ہمارا ساتھ دیا۔اُن کا کہنا تھاکہ معاشرے کے اندر اظہار رائے کی آزادی رہے گی تو حکومت کو تقویت ملے گی، میڈیا حکومتوں کا احتساب ممکن بناتا ہے، اس سے حکومتی کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ سابق دور میں پی ایم ڈی اے کا کالا قانون لانے کی کوشش کی جا رہی تھی، ہم نے اسے ختم کر دیا ہے، پاکستان میں آزادی اظہار رائے ہر شخص کا بنیادی حق ہے۔انہوں نے کہا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ مل کر میڈیا سے متعلق مسائل حل کریں گے، فیک نیوز پر بھی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بات کریں گے۔وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ چار سال پاکستان کی عوام نے دھونس دھمکیاں، غنڈہ گردی اور بدمعاشی دیکھی، ہم نے معاشرے کے اندر گھٹن دیکھی ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ بچیوں کو اسکولوں سے اغواء کے واقعات ہوئے، سینئر صحافیوں ابصار عالم، مطیع اللہ جان، حامد میر اور اسد طور پر فائرنگ کے واقعات ہوئے۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ چار سال پارلیمان کے دروازے بند کرکے آرڈیننس کے ذریعے قانون سازی کی گئی، میڈیا کی زبان بندی کی گئی, موجودہ دور نئے دور کا آغاز ہے، دھمکیاں، گالیاں اور دھونس دھمکیاں بند ہونی چاہئیں، کسی بے گناہ کو جیل میں نہیں ڈالا جائے گا۔وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہم سب کو مل کر معاشرے سے افراتفری جیسی صورتحال سے باہر نکالنا ہوگا، یہ ہمارا اولین فرض ہے