سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ہم استعفیٰ دینے کا آغاز قومی اسمبلی سے کر رہے ہیں، اگر شہباز شریف کے کاغذات پر ہمارے اعتراضات منظور نہیں ہوتے تو کل ہم استعفیٰ دے دیں گے۔



اسلام آباد میں سابق وزیر داخلہ شیخ رشید اور پی ٹی آئی رہنماؤں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ آج عمران خان کے ہمراہ پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کا اجلاس بنی گالا میں ہوا، ہم نے ساری صورتحال کا گہرائی سے جائزہ لیا۔
انہوں نے کہا کہ ہماری کور کمیٹی کی اس پر کوئی دو رائے نہیں ہے کہ حکومت کی تبدیلی ایک بہت بڑے بین الاقوامی ’رجیم چینج آپریشن‘ کے تحت ہوئی، ہم نے اس لیٹر کو ڈی کلاسیفائی کر کے اسپیکر اور چیف جسٹس کو بھی بھیجا اور چیئرمین سینیٹ کے پاس وہ پہلے ہی موجود ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی غیرت مند یہ قبول نہیں کر سکتا کہ ملک کے فیصلے کوئی باہر کے ملک کے دارالحکومت میں کیے جائیں، ہم سمجھتے ہیں کہ ملک 1940 میں واپس چلا گیا ہے اور 23 مارچ 1940 کی طرح عوام کو دوبارہ جدوجہد کرنا پڑے گی۔
فواد چوہدری نے کہا کہ سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے اور عمران خان نے پورے پاکستان سے یہ اپیل کی ہے کہ وہ آج رات عشا کی نماز کے بعد ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز میں بھرپور احتجاج کے لیے باہر نکلیں، ہم نے احتجاج کے لیے منتخب مقامات کی تفصیلات سوشل میڈیا پر شیئر کردی ہیں۔
سابق وزیر اطلاعات نے کہا کہ آج ہم نے شاہ محمود قریشی کو اپنا وزیر اعظم نامزد کیا ہے، اس الیکشن لڑنے کے 2 مقاصد ہیں، ایک یہ کہ ہم شہباز شریف کے کاغذات کو چیلنج کر سکیں، افسوس کی بات ہے کہ جس شہباز شریف پر 16 ارب کا کیس ہے اور جس دن ان پر فرد جرم عائد ہونی تھی اس دن وہ وزیر اعظم پاکستان کا الیکشن لڑ رہے ہوں گے، اس سے زیادہ توہین آمیز بات کیا ہوگی کہ ایک بیرونی امپورٹڈ اور سلیکٹڈ حکومت پاکستان پر نافذ کردی گئی اور شہباز شریف کو اس کا سربراہ بنا دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ کور کمیٹی کی وزیراعظم کو یہ تجویز ہے کہ ہمیں اسمبلیوں سے مستعفی ہوجانا چاہیے، اس کا آغاز ہم قومی اسمبلی سے کر رہے ہیں، اگر شہباز شریف کے کاغذات پر ہمارے اعتراضات منظور نہیں ہوتے تو کل ہم استعفیٰ دے دیں گے۔
فواد چوہدری نے کہا کہ آج رات کو پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس بنی گالا میں طلب کرلیا گیا ہے، پارلیمانی پارٹی میں سے زیادہ تر ارکان کے استعفے عمران خان صاحب کو دیے جاچکے ہیں، اگلے مرحلے میں ہم آج رات ان سے دوبارہ مشاورت اور استعفیٰ طلب کر کے آگے بڑھیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر انہوں نے شہباز شریف کو وزیر اعظم بنانے کا فیصلہ کرلیا ہے تو ہم نے مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا ہے، یہ ہمارا آخری فیصلہ ہے۔انہوں نے کہا کہ پوری قوم اس وقت عمران خان سے رہنمائی کی توقع رکھتی ہے، ہم نے اگر اس وقت قوم کو مایوس کیا اور ایک بڑی تحریک کی قیادت عمران خان نے نہیں کی تو یہ پاکستان کی سیاست اور آئین کے ساتھ دھوکا ہوگا، اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے کہ ہم اس غیر قانونی حکومت کو مسترد کریں اور ملک بھر کے عوام پی ٹی آئی کے ساتھ اس بڑی تحریک میں آج رات عشا کے بعد شریک ہوں۔
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ ہم ایک بھرپور اور جامع پلان دیں گے اور انشااللہ ہمیں امید ہے کہ چند ہی مہینوں یا ہفتوں میں ملک میں نئے انتخابات کی جانب بڑھیں گے، نئے انتخابات کے علاوہ اس بحران کا کوئی حل نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے ہمیں امید تھی کہ بحران کا حل نکلے گا، لیکن ان کے فیصلے سے یہ بحران زیادہ پیچیدہ ہوا، رات کو 12 بجے جس طرح عدالتیں کھلیں اب لگتا ہے کہ شاید ہماری عدلیہ عالمی فہرست میں 126ویں نمبر سے بھی کہیں آخری نمبر پر چلی جائے تو زیادہ حیرت نہیں ہوگی، اس بات کو پاکستان کے لوگوں نے دل سے ناپسند کیا ہے۔فواد چوہدری نے کہا کہ جب تک ہم اس حکومت کو اسلام آباد کے ایوانوں سے اٹھا کر باہر نہیں پھینکیں گے اس وقت تک پاکستان میں ناپاک حکومت قائم رہے گی، انشااللہ آج رات سے ہی ہم یہ تحریک شروع کریں گے۔
چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال اور ان کے خاندان کی مبینہ طور پر پی ٹی آئی کے حامیوں کی جانب سے ‘ٹرولنگ‘ کے سوال پر انہوں نے ایسے عناصر سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کا سوشل میڈیا پر کوئی کنٹرول نہیں ہے۔اس موقع پر شیخ رشید نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قومی اسمبلی میں چور اور ڈاکوؤں کے ساتھ نہیں بیٹھیں گے، قومی اسمبلی سے مستعفی ہونے جارہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ شہباز شریف پر کل فرد جرم عائد ہونے جارہی تھی، جن چھوٹے ڈاکو اور بڑے ڈاکو پر کل فرد جرم لگنی تھی ان کے ساتھ اسمبلی میں شریک نہیں ہوسکتے، سب نے اتفاق رائے سے فیصلہ کیا ہے کہ ہم قومی اسمبلی سے مستعفی ہونے جارہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ تمام کے تمام ارکان استعفیٰ دیں گے، رات 9 بجے پارلیمانی اجلاس میٹنگ ہوگا، یہ فیصلہ کریں گے، میں ساڑھے 9 بجے لال حویلی میں عوام سے خطاب کروں گا۔اس موقع پر فرخ حببیب نے کہا کہ جس طریقے سے عمران خان نے بیرونی سازش کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کیا اس پر پوری کور کمیٹی نے آج ان کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کو کسی کرپشن یا منی لانڈرنگ کے الزام میں نہیں ہٹایا گیا جیسے ان کے مخالفین پر ہیں، آج پاکستان کے عوام پوچھ رہے ہیں کہ کیا ایسے ہی راتوں رات انصاف مقصود چپڑاسیوں کے خلاف بھی ہوگا جنہوں نے ملک کو لوٹا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ انشااللہ چند روز کے اندر عمران خان صاحب پشاور سے عوامی تحریک کا آغاز کرنے جارہے ہیں، عمران خان کی ساری جدوجہد پاکستان کے عوام کے لیے ہے، لوگ کسی صورت اس امپورٹڈ حکومت کو ماننے کو تیار نہیں ہیں۔حماد اظہر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کل پاکستان کے سب سے نڈر اور مقبول لیڈر کو جس طرح بیرونی سازش کے ذریعے ہٹایا گیا یہ پوری قوم کا نقصان ہے، پورے عالم اسلام میں عمران خان کے قد کا کوئی لیڈر نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج جو کٹھ پتلی حکومت بنانے کی کوشش کی جارہی ہے اگر ہم اس کے ساتھ جاکر بیٹھ جائیں تو ہم اپنے حلف کے ساتھ وفاداری نہیں کریں گے، قوم کے باہر نکلنے کا وقت آگیا ہے، آج رات ملک بھر کے مختلف شہروں میں پرامن احتجاج ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ملک آزاد تھا، کل کے دن اسے دوبارہ غلام بنایا گیا، انشااللہ چند روز میں یہ دوبارہ آزاد ہوگا۔




