سیلاب سے 3 کروڑ افراد بے گھر; اقوام متحدہ سے اپیل کافیصلہ …………………..سیلاب سے 3 کروڑ افراد بے گھر ہوگئے ہیں.قومی ایمرجنسی کےنفاذ بعد پاکستان نے اقوام متحدہ سے اپیل کا فیصلہ کیا ہےوزیرِ اعظم شہباز شریف کی اپیل پر بین الاقوامی تنظیموں نے پاکستان کے سیلاب متاثرین کیلئے امداد کا اعلان کردیا بین الاقوامی تنظیموں اور مالی اداروں نے 50 کروڑ ڈالر سے زائد فوری امداد کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ بین الاقوامی اداروں و تنظیموں کی مشکل میں پھنسے پاکستانیوں کی مدد کا خیر مقدم کرتا ہوں، حکومت سیلاب متاثرین کے فوری ریسکیو اور بحالی کیلئے تمام وسائل بروئے کارلا رہی ہے، حکومت نے مشکل معاشی صورتحال میں ہونے کے باوجود فلڈ ریلیف کیش پروگرام شروع کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت ترجیحی بنیادوں پر سیلاب متاثرین کے ریسکیو اور ریلیف کیلئے آپریشن کر رہی ہے، ریسکیو کے بعد سیلاب متاثرین کی بحالی اور تباہ شدہ انفرا اسٹرکچر کی تعمیر پر کام کریں گے۔اس حوالے سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کنٹری ڈائریکٹر ورلڈ بینک نے وزیراعظم کو 35 کروڑ ڈالر کی فوری امداد سے آگاہ کیا، کنٹری ڈائریکٹر ورلڈ بینک نے وزیرِ اعظم کے فلڈ ریلیف کیش پروگرام کی تعریف کی، ورلڈ بینک یہ امداد رواں ہفتے کے آخر تک مکمل طور پر فراہم کر دے گا۔ اعلامیے کے مطابق ورلڈ فوڈ پروگرام نے سیلاب متاثرین کیلئے 11 کروڑ ڈالر کی امداد کا اعلان کیا جبکہ ایشین ڈویلپمنٹ بینک نے 2 کروڑ ڈالر امداد کا اعلان کیا ہے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یوکے ایڈ نے 15 لاکھ پاؤنڈ کی فوری امداد کا اعلان کیا ہے جبکہ یوکےایڈ نے سیلاب متاثرین سےمتعلق منصوبوں کیلئے 3 کروڑ 80 لاکھ پاؤنڈ فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ ۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شیری رحمٰن نے کہا کہ حالیہ دنوں میں ملک بھر میں ریکارڈ بارشیں ہوئیں جن کی تباہ کاریاں بڑھتی جارہی ہیں۔وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی شیری رحمٰن نے کہا ہے کہ حالیہ مون سون سیزن کے دوران ہونے والی تباہ کن بارشوں اور سیلاب سے 913 افراد زندگی کی بازی ہار گئے جبکہ 3 کروڑ شہری بے گھر ہوگئے ہیں، اقوام متحدہ سے امداد کی اپیل کریں گے۔ پورے ملک میں ہی بہت زیادہ بارشیں ہوئیں لیکن سندھ میں سب سے زیادہ بارش ہوئی، بارش کے حالیہ اعداد و شمار چونکا دینے والے ہیں۔ سیلاب کی اس وقت جو صورتحال اور تیزی ہے وہ ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھی، اس سیلاب کے باعث سندھ، بلوچستان اور سوات میں تباہی کے مناظر ہیں، حالیہ سیلاب سے ہونے والی تباہ کاریوں کی ہماری زندگی میں مثال نہیں ملتی۔ان کا کہنا تھا کہ حالیہ سیلاب کے دوران علاقوں میں موجود پانی 2010 میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے بھی زیادہ ہے، تواتر کے ساتھ بہت بڑی مقدار میں سیلاب کے باعث صورتحال خراب ہے۔وزیر موسمیاتی تبدیلی نے کہا کہ حالیہ مون سون موسم جیسا سسٹم بھی ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھا، ہم 8 ویں اسپیل سے گزر رہے ہیں جبکہ اس سسٹم کے تحت سندھ اور بلوچستان میں شدید بارشیں ہو رہی ہیں۔شیری رحمٰن نے کہا کہ بارش سے 23 اضلاع آفت زدہ قرار دیے گئے ہیں، قومی ہنگامی صورتحال کا اعلان کردیا گیا ہے، سندھ کے 30 اضلاع مکمل طور پر ڈوبے ہوئے ہیں، صورتحال بہت سنگین ہے، اسی وجہ سے وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے یورپ کا دورہ ملتوی کیا، اس کے ساتھ اطلاعات مل رہی ہیں کہ وزیر اعظم نے بھی اپنا دورہ ملتوی کیا ہے۔ بارش کے باعث کئی علاقوں سے رابطہ منقطع ہوچکا ہے، ہم رابطوں کو بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ 2010 کے سیلاب میں دریائے سندھ کے ایک طرف پانی تھا اور پانی ریور سسٹم میں تھا، جبکہ اس مرتبہ دونوں اطراف میں پانی موجود ہے اور ریور سسٹم کے باہر بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ تقریباً پورا جنوبی پاکستان پانی میں ڈوبا ہوا ہے، یہ ہمارے لیے بہت بڑا بحران ہے، اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہمیں اپنے تمام وسائل کو استعمال کر رہے ہیں، پاک فوج متحرک ہے، این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم ایز سمیت تمام متعلقہ ادارے سرگرم عمل ہیں جبکہ امدادی اشیا کی تقسیم کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور صوبائی حکام کے ذریعے کی جارہی ہے۔شیری رحمٰن نے کہا کہ سیلاب کے باعث 3 کروڑ لوگ بے گھر ہیں، متعلقہ ادارے سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگا رہے ہیں، این ڈی ایم اے اس وقت امدادی ضروریات کا جائزہ لے رہا ہے، ہم اقوام متحدہ سے امداد کے لیے انٹرنیشنل فلیش اپیل بھی کریں گے، اس بڑے بحران نے نمٹنا کسی ایک ملک یا صوبے کے بس کی بات نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ سننے میں آرہا ہے کہ ستمبر کے بیچ میں بھی اس طرح مون سون کے مزید اسپیل آسکتے ہیں، حکومت کی پوری توجہ صورتحال کو قابو کرنے پر مبذول ہے، ہم نے بڑے شہروں میں شہریوں کی جانب سے دی جانے والی امداد کے حصول کے لیے کیمپ بھی قائم کردیے ہیں جبکہ ریلیف فنڈز کے حوالے سے وزیر اعظم کا اکاؤنٹ بھی کھول دیا گیا ہے۔وزیر موسمیاتی تبدیلی نے کہا کہ ریلیف آپریشن کے لیے ٹینٹس کی خریداری کے لیے آرڈرز کردیے گئے ہیں، اس وقت ہمیں ٹینٹس اور خوراک کی کمی محسوس ہو رہی ہے، حکام دن رات اس سلسلے میں کام کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ایسی صورتحال ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھی، تشخیص کی ضرورت ہے لیکن اس وقت مسئلہ یہ ہے کہ ایک رپورٹ بنتی ہے کہ اسی دوران پتا چلتا ہے ایک اور سیلاب آگیا، ایک اور پُل ٹوٹ گیا، ایک اور بیراج میں پانی کی سطح بڑھ گئی۔اس وقت تمام دریا، ڈیمز، آبی ذخائر بھر چکے ہیں، اب پانی شہروں اور گھروں میں داخل ہو رہا ہے ، صورتحال پر قابو پانے کے لیے حکومت کے پاس موجود تمام مشینری فعال ہے، ہر شہر میں آرمی نے کیمپ قائم کیے ہوئے ہیں، سندھ میں 5 کور متحرک ہے۔سیلاب کے باعث سندھ میں فصلیں تباہ ہوگئی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ کل تک کے اعداد و شمار کے مطابق حالیہ بارشوں اور سیلاب کے باعث 913 شہری جاں بحق ہوئے ہیں جبکہ بہت سے شہری زخمی بھی ہوئے ہیں سیلاب اور بارشوں کے باعث 169 شہری خیبر پختونخوا میں جاں بحق ہوئے جبکہ 164 افراد پنجاب میں موت کے منہ میں چلے گئے، اسی طرح سندھ میں 293 افراد لقمہ اجل بنے اور 230 شہری بلوچستان میں جان کی بازی ہار گئے۔ عالمی عطیہ دہندگان نے بھی کل امداد کے لیے ہم سے اعداد و شمار طلب کیے تھے، دنیا میں کہیں بھی کوئی آفت آتی ہے تو ہم مدد کے لیے ہہنچتے ہیں، اسی طرح اب وقت ہے کہ دنیا بھی ہماری مدد کرے۔ان کا کہنا تھا کہ قدرت کا نظام اس وقت درہم برہم ہے، ہم نے ملکی نظام کو مستحکم رکھنا ہے، اس وقت ایک انسانی بحران کا سامنا ہے، ہزاروں لوگ بے گھر ہیں، اس وقت ہم اپنے طور پر کام کر رہے ہیں لیکن ہم عالمی امداد کے بھی منتظر ہیں۔موسمیاتی تبدیلیوں اور ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے قابل انفرااسٹرکچر کے لیے دیگر چیزوں کے ساتھ ساتھ وسائل کی بھی کمی ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ان کی وزارت آئندہ سالوں کے لیے خطرات سے نمٹنے کے لیے تمام صوبوں کو جائزہ رپورٹ بنا کر دے گی، سنگین موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے تیاری کرنا ترجیح ہونی چاہیے۔ ہمیں غیر معمولی اقدامات سے متعلق سوچنا پڑے گا تاکہ سیلاب اور قحط سالی، گلیشئر پھٹنے، پگھلنے جیسے خطرات سے نمٹا جاسکے اور اس کے لیے ہمیں سائنسی سوچ اور وسائل کی ضرورت ہوگی۔ان کا کہنا تھا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت بارش سے متاثرہ ہر خاندان کو 25 ہزار روپے دیے جارہے ہیں، متاثرہ گھروں کی تعمیر کے لیے ڈھائی سے 5 لاکھ روپے دینے سمیت مزید ریلیف اقدامات کا جائزہ لے رہے ہیں۔یہ مونسٹر مون سون ہے، یہ سانس نہیں لینے دے رہا، ریلیف اقدامات کا موقع نہیں دے رہا، متاثرین کی بحالی کا وقت نہیں مل رہا، ہر روز نئی ہلاکتوں اور تباہی کی خبریں مل رہی ہیں۔وزیر موسمیاتی تبدیلی نے کہا کہ ہمیں ہر طرح کی امداد کی ضرورت ہے، شہری بھی جو امداد کرسکتے ہیں وہ کریں، یہ ایک قومی ایمرجنسی ہے اور ہمیں اس سے اسی طرح سے نمٹنا ہوگا۔