. سیلاب زدگان کی خاطر جان کا نذرانہ دینے والے پاک فوج کے شہداء کو قوم کا سلام ……..کالم ”اندر کی بات”….:کالم نگار،اصغر علی مبارک. ……………….شہداۓپاکستان ہمارا اثاثہ ہیں ، جن کے دم سے ہم آزاد اور محفوظ وطن میں سانس لے رہے ہیں ، سیلاب زدگان کی امداد کے لیے ہم وطنوں کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے والے پاک فوج کے شہداء کو پوری قوم خراجِ عقیدت پیش کر تی ہے , شہداءاور ان کے خاندانوں کی قربانیوں کے نتیجے میں ہم نہ صرف آزاد ہیں بلکہ انہی کے سبب امن کی فضاءقائم ہے ،ہم ان کبھی بھلا نہیں سکتے ،پاکستان آرمی نے موجودہ صورتحال کے پیش نظر اور سیلاب متاثرین سے اظہار یکجہتی کیلئے جی ایچ کیو میں ہونے والی یوم دفاع کی مرکزی تقریب مؤخر کر دی ہے ،میں خود ایک شہید مظہرعلی مبارک کا بھائی ہوں جو سال 2013 میں دھشتگردانہ ٹارگٹ کلنگ میں شہید ہوئے تھے مجھے معلوم ھے سویلین شہداء کے لواحقین کو کس قدر نظر انداز کیا جاتاھے لیکن ھم شہداء کے جنازوں اور برسی کے موقع پر خراج تحسین پیش کرنے کا موقع ضائع نہیں کرتے کوروناوائرس میں بھی شہداء کو نہ بھولے اور اپنے طور پر 6 ستمبر پر خصوصی دعائیہ تقاریب کا اہتمام کیا جاتا رہا ہم قومی سطع پر ہر تقریب کا زور شور سے اہتمام کرتے رہے پیں میرے خیال میں اس تقریب کو ضرور ہوناچاہیے تھا کیونکہ جذبہ 6 ستمبر ہی ہے جو بحثیت قوم ہمیں ایک مضبوط بندھن میں باندھے ہوئے ہےقومی کرکٹ کے مقابلے پنڈی اسٹیڈیم میں جاری ہیں ایشیاکپ میں قومی ٹیم عرب امارات میں ھے وزیر اعظم ھاوس میں کامن ویلتھ اور اسلامک گیمز کے فاتحین کی سرکاری تقاریب ہورہی ہیں۔کون سے ایسی تقریب ھے کہ جو نہیں ہورہی ۔۔کیا صرف دفاع پاکستان تقریب منسوخ کرنا تھا 14 اگست پر ہر طرح قومی جذبہ حب الوطنی بیدار کرنے کے نام پر سرکاری سطح پر باجے بجا کر آئین و قوانین کا تمسخر اڑایاگیا۔ڈائمنڈ جوبلی کی کون سی تقریب ملتوی ہوئی بلکہ قطر جا کے فیفا فٹبال ورلڈکپ کیلئے کئی تقاریب کو عزت بخشی گئی ایک طویل فہرست ھے مگر یوم دفاع پر مرکزی تقریب کی منسوخی کوئی بہتر اقدام نہیں پہلے ہی پاکستان دشمن قوتیں قومی جذبہ کم کرنے پروپیگنڈہ میں مصروف ہیں۔جذبہ 6 ستمبر ہی پاکستانیو کیلئے ٹانک سے کم نہیں۔شہدا کی فیملیز کو اس دن کا بے صبری سے انتظار ہوتاہےسیلاب متاثرہ علاقوں میں پاک آرمی کے جوان ڈیوٹی کو مقدس فریضہ سمجھ کر سر انجام دے رہے ہیں۔ فلڈ ریلیف آپریشن کے دوران پاک فوج کے پاک فوج کے افسران اور جوان شہید ہوئے۔ شہید میجر سعیدکا تعلق بتیس میڈیم آرٹلری اور آرمی ایوی ایشن کے سیون سکوارڈن سے تھا اور وہ حادثے کا شکار ہونے والے ہیلی کاپٹر کے پائلٹ تھے۔ وہ شادی شدہ تھے اور ان کے سوگواران میں بیوہ اور دو بچے شامل ہیں۔ پیارے قارئین; آپ کو معلوم ہونا چاہیے۔ جب شہید میجر سعید کی تدفین ہوئی تھی اور اس کے بعد ملٹری پروٹوکول کے مطابق فوجی دستے نے انھیں سلامی پیش کی۔ پھر ایک بریگیڈیئر میجر سعید کے رینکس، کیپ، کین اور پاکستان کا پرچم اٹھائے ان کے والد کی جانب بڑھے۔ بلوچستان میں ہیلی کاپٹر حادثے میں شہید میجر سعید کی تدفین کے بعد یہ تمام مناظر ملٹری پروٹوکول کا حصہ ہیں جن کی پابندی کسی بھی فوجی کے دوران ڈیوٹی شہادت کے بعد تدفین کے موقع پر کی جاتی ہے۔ مگر میجر سعید کی نماز جنازہ کے بعد وائرل ہونے والی ویڈیو میں خاص بات پرچم پیش کرنے والے بریگیڈیئر اویس کا رویہ تھا۔ میجر سعید کے ضعیف والد وہیل چیئر سے اُٹھ کھڑے ہوئے اور سامنے موجود بریگیڈیئر کے ہاتھوں سے پرچم لیتے وقت جھنڈے اور اپنے بیٹے کی کیپ کو چوما۔ لیکن لمحہ بھر وقفے کے بعد انھوں نے بریگیڈیئر کے ہاتھ چومے۔ ہ مناظر بھی اکثر نظر آتے ہیں جب ضعیف والدین سامنے موجود فوجی یا پولیس افسر کو یونیفارم میں دیکھ کر جذباتی ہو جاتے ہیں۔ لیکن اس کے بعد نظر آنے والے منظر نے ان کی ویڈیو کو وائرل کیا ۔ بریگیڈیئر اویس نے میجر سعید کے والد کے دونوں ہاتھ اور ماتھا چوما اور پھر انھیں سلیوٹ پیش کیا۔ سوشل میڈیا صارفین نے بہت شیئر کیا اور ان کے اس رویے کو سراہا۔ صارف بریگیڈئیر ریٹائرڈ مسعود احمد خان نے لکھا کہ ‘یہ دل کو چھو لینے والا لمحہ ہے۔ شہید میجر سعید کے والد نے ملک کا جھنڈا لیا، جو کہ مشکل ترین مرحلہ تھا۔ اور اس افسر کو دیکھیں جنھوں نے یہ پرچم پیش کیا۔’ اسی طرح محمد خان کاکڑ نامی ایک ٹویٹر صارف نے اسے ‘باہمی عزت و تکریم اور خلوص کا اظہار ‘ قرار دیا۔ طارق زمان ملک نے لکھا کہ ‘غم کی تصویر مگر عزم و حوصلے کے پیکر باپ کو دیکھ کر پاکستانی فوج کے حاضر سروس بریگیڈیئر صاحب نے بے ساختہ محبت اور والہانہ پن کا اظہار’ کیا, بلوچستان میں سیلاب زدگان کے ریلیف آپریشن کے دوران ہیلی کاپٹر حادثے میں شہید افسران میں ڈی جی کوسٹ گارڈ میجر جنرل امجد حنیف کا تعلق راولا کوٹ آزاد کشمیر سے تھا۔میجر جنرل امجد حنیف نے 1994 میں آزاد کشمیر رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا، شہید نے بیوہ، ایک بیٹے اور دو بیٹیوں کو سوگوار چھوڑا ۔شہید کمانڈر انجینیئر 12 کور بریگیڈیئر محمد خالد کا تعلق فیصل آباد سے تھا، بریگیڈیئر محمد خالد نے 1994 میں 20 انجینئیر بٹالین میں کمیشن حاصل کیا، شہید نے بیوہ، تین بیٹیوں اور تین بیٹوں کو سوگوار چھوڑا ہے۔شہید پائلٹ میجر سعید کا تعلق لاڑکانہ سے تھا، انھوں نے بیوہ، ایک بیٹی اور ایک بیٹے کو سوگوار چھوڑا ہے۔ہیلی کاپٹر حادثے میں شہید ہونے والے معاون پائلٹ میجر محمد طلحہ منان نے بیوہ اور دو بیٹوں کو سوگوار چھوڑا ہے۔شہید کریو چیف نائیک مدثر فیاض کا تعلق نارووال سے ہے، انھوں نے بیوہ کو سوگوار چھوڑا , آرمی چیف نے سیلاب متاثرین کی مدد کرنے کی ہدایت کی ہے اور خود بھی سیلاب متاثرہ علاقوں کے دورے اور امدادی کارروائیوں کا جائزہ لے رہے ہیں.خراب موسم اور دیگر چیلنجز کے باوجود جوانوں نے لوگوں کو ریسکیو کیا، ملک بھر میں آرمی کے 147 ریلیف کیمپ قائم ہیں، کیمپس میں 50 ہزار سے زائد افراد کو ریلیف دیا گیا ہے۔سیلاب اور بارشوں سے 1265 افراد جاں بحق ہوئے،سیلاب سے 14 لاکھ گھروں کو نقصان ہوا۔ سیلاب سے 7 لاکھ 35 ہزار سے زائد لائیو اسٹاک کا نقصان ہوا، نیشنل ایمرجنسی ڈکلیئر کی گئی اور پاک آرمی کی خدمات حاصل کی گئیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر بابر افتخار نے کہاہے کہ پاکستان آرمی نے موجودہ صورتحال کے پیش نظر اور سیلاب متاثرین سے اظہار یکجہتی کیلئے جی ایچ کیو میں ہونے والی یوم دفاع کی مرکزی تقریب مؤخر کی ہےریسکیو اور ری ہیبلی ٹیشن سٹریٹیجی کے تحت افواج پاکستان ، پاکستان رینجرز ، ایف سی ، سول ایڈمنسٹریشن ، این ڈی ایم اے اور دیگر اداروں کے ساتھ مل کر جامع حکمت عملی کے تحت خدمات انجام دے رہی ہے ، ملک بھر میں پاکستان آرمی کے 147 ریلیف کیمپ قائم ہیں ، ان میں 50 ہزار سے زائد متاثرین کو ریلیف مہیا کیا گیا ہے ، 250 میڈیکل کیمپس میں 83 ہزار سے زائد مریضوں کو فری طبی امداد فراہم کر چکے ہیں، سندھ کیلئے اضافی میڈیکل اور انجینئرز ریسورسز کو موو کر دیا گیاہے.آرمی کے تمام جنرل آفیسرز نے اپنی 1 ماہ کی تنخواہ اس ا یمرجنسی فنڈ میں دے دی ہے،دیگر افسر اور جوان بھی رضاکارانہ طور پر اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔میڈیا بریفنگ میں پاک فوج کے ادارہ تعلقات عامہ کے ڈی جی بابرافتخار کا کہناتھا کہ شہداۓ پاکستان ہمارا اثاثہ ہیں ، جن کے دم سے ہم آزاد اور محفوظ وطن میں سانس لے رہے ہیں ، شہداءاور ان کے خاندانوں کی قربانیوں کے نتیجے میں ہم نہ صرف آزاد ہیں بلکہ انہی کے سبب امن کی فضاءقائم ہے ،ہم ان کبھی بھلا نہیں سکتے ، عوام کا اعتماد ہی افواج پاکستان کا اثاثہ ہے ، پاکستان افواج ہمیشہ قدرتی آفات اور غیر معمولی حالات میں عوام کی مدد کرنے میں پیش پیش رہی ہیں ، اس روایت کو برقرار رکھتے ہوئے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ہر کوشش اور تمام وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے ہمیشہ کی طرح اس مشکل گھڑی میں بھی عوام کے تعاون سے ہم اس آفت سے نجات حاصل کریں گے ۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہناتھا کہ میں آپ کو اب تک سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کے ریلیف کی کوششوں سے آگاہ کروں گا ، کرائسسز کے آغاز سے ہی افواج پاکستان متاثرہ علاقوں میں پچھلے دو ماہ سے دن رات مصروف عمل ہے ، افواج پاکستان کا ہر ایک سپاہی اور افسر اسے ڈیوٹی کی بجائے مقدس فریضہ سمجھ کر انجام دے رہاہے ، یہی وہ جذبہ تھا جس کے تحت لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی ، میجر امجد حنیف، بریگیڈیئر محمد خالد ، میجر سعید احمد ، میجر طلحہ ، نائیک مدثر اپنے عوام کی خدمت کرتے ہوئے ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں جام شہادت نوش کیا، جولائی اور اگست میں ہونے والی کور کمانڈر کانفرنس میں بھی سیلاب متاثرین کی مدد کا عزم کیا گیا ، اس حوالے سے آرمی چیف نے خصوصی ہدایات دیں، مشکل کی اس گھڑی میں عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے چاہے اس کیلئے کتنا ہی وقت اور کوشش درکار ہو، آرمی کی سطح پر کمانڈر آرمی ایئر ڈیفنس کمانڈ کی سر براہی میں آرمی فلڈ ریلیف اینڈ کوارڈی نیشن سینٹر قائم کیا گیاہے ، کمانڈر آرمی ایئر ڈیفنس کمانڈ نیشنل فلڈ رسپانس اینڈ کوآرڈی نیشن سینٹر کے نیشنل کوار ڈی نیٹر کے فرائض بھی انجام دے رہے ہیں، اس ریسکیو اور ری ہیبلی ٹیشن سٹریٹیجی کے تحت افواج پاکستان ، پاکستان رینجرز ، ایف سی ، سول ایڈمنسٹریشن ، این ڈی ایم اے اور دیگر اداروں کے ساتھ مل کر جامع حکمت عملی کے تحت خدمات انجام دے رہی ہے ، آرمی چیف نے حال ہی میں سندھ ، بلوچستان ، خیبر پختون خوا، اور پنجاب کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دورے کیئے اور امدادی کارروائیوں کا جائزہ لیا ، سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پاک آرمی کے تمام سینئر کمانڈرز سیلاب سے متاثرین کی امدادی کارروائیوں میں مصروف عمل ہیں، پاکستان آرمی ایوی ایشن، ایئر فورس اورنیوی کے ہیلی کاپٹر ز مسلسل متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف سرگرمیوں میں مصروف ہیں، اب تک آرمی ایوی ایشن 276 ہیلی کاپٹرز سورٹی مختلف علاقوں میں آپریٹ کی گئی ہیں ، خراب موسم اور دیگر چیلنج کے باوجود آرمی ایوی ایشن ، پاک فضائیہ اور نیوی کے پائلٹس نے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر نہ صرف لوگوں کو ریسکیو کیا بلکہ ان تک ضروری ریلیف آئٹمز کی دستیابی کو بھی یقینی بنایا ۔کمراٹ اور کالام میں جولوگ سیلاب کی وجہ سے پھنس چکے تھے ان سے فوری رابطہ کر کے آرمی ہیلی کاپٹر پر محفوظ مقام تک پہنچایا جاچکا ہے ، کسی بھی ہنگامی صورتحال میں کے پی کے 1125 جبکہ باقی صوبوں کیلئے 1135 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے ، ملک بھر میں پاکستان آرمی کے 147 ریلیف کیمپ قائم ہیں ، ان میں 50 ہزار سے زائد متاثرین کو ریلیف مہیا کیا گیا ہے ، 250 میڈیکل کیمپس میں 83 ہزار سے زائد مریضوں کو فری طبی امداد فراہم کر چکے ہیں، سندھ کیلئے اضافی میڈیکل اور انجینئرز ریسورسز کو موو کر دیا گیاہے ، جو وہاں پر اپنی سرگرمیاں شروع کر چکے ہیں ، آرمی نے سیلاب متاثرین کیلئے تین دن کا راشن ، جو کہ تقریبا 1685 ٹن ، 25 ہزار کھانے کے پیکٹ ، ، کثیر تعداد میں ٹینٹ بھی تقسیم کیئے گئے ، 284 فلڈ ریلیف کولیکشن پوائنٹس قائم کیئے گئے ، ان میں اب تک 2 ہزار 294 ٹن راشن جبکہ 311 ٹن سے زیادہ ضروریات زندگی کی بنیادی اشیاءاور 10 لاکھ سے زائد ادویات پورے پاکستان کے لوگوں نے جمع کروائی ہے ، اب تک 1793 ٹن راشن اور 277 ٹن دیگر ضروریات کا سامان تقسیم کر دیا گیاہے ،اس کے علاوہ 7 لاکھ 70 ہزار کے قریب ادویات بھی فراہم کی جا چکی ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہناتھا کہ اس کیساتھ ساتھ ، ایئر فورس اور نیوی کی امدادی ٹیمیں بھی ملک بھر میں ریسکیو اور ریلیف کی سرگرمیوں میں بھر پور کردار ادا کر رہی ہیں، پاکستان ایئر فورس کی ایئر یل ایفرٹس خاص طور پر قابل ذکر ہیں ، جن میں سی 130 اور ہیلی کاپٹرز نے 135 سورٹیز کے دوران 1521 سے زائد افراد کو ریسکیو کیا ، پاک فضائی کے 41ریلیف کیمپ لوگوں کی مدد کر رہے ہیں 35 فری میڈیکل کیمپ پر 16 ہزار سے زائد لوگوں کو طبی امداد فراہم کی گئی ہے ، اس کے علاوہ کثیر تعداد میں راشن اور ٹینٹ بھی تقسیم کیے گئے ہیں ایئر فورس کی طرف سے ، پاکستان نیوی کی ایمرجنسی رسپانس ٹیم اور ڈاﺅنگ ٹیم سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے مصروف عمل ہیں، اب تک 55 ہزار سے زائد فوڈ پیکج تقسیم کیئے گئے ہیں جن میں 650 ٹن راشن اور ایک ہزار 80 سے زائد ٹینٹس شامل ہیں، نیوی کے 19 میڈیکل کیمپس جن میں 18 ہزار سے زائد افراد کو طبی امداد فراہم کی گئی ہے ، نیوی نے اب تک 10 ہزار متاثرین کو ریسکیو بھی کیا ہے ،سیلاب زدگان کی امداد کیلئے آرمی ریلیف فنڈ اکاﺅنٹ قائم کیا جا چکا ہے ،جس میں ملک بھر کے لوگ مدد کر رہے ہیں، اسی جذبے کے پیش نظر آرمی کے تمام جنرل آفیسرز نے اپنی ایک ماہ کی تنخواہ اس یمرجنسی فنڈ میں دیدی ہے ، دیگر افسر اور جوان بھی رضاکارانہ طور پر اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں، اس کے ساتھ دوست ممالک کی لیڈر شپ بھی آرمی چیف سے مسلسل رابطے میں ہے تاکہ سیلاب متاثرین کی ہر ممکن مدد کی جا سکے ۔وفاقی وزیر احسن اقبال نے چیئرمین این ڈی ایم اے اور ڈی جی آئی ایس پی آر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک بھی قدرتی آفات کے سامنے بے بس نطر آتے ہیں، سیلاب سے متاثر ہونے والی سڑکوں کی بحالی کا کام جاری ہے۔انہوں نے بتایا کہ سیلاب کے باعث بجلی کی ترسیلی کا نظام متاثر ہوا ہے، سیلاب سے بجلی کے 881 فیڈرز متاثر ہوئے جن میں سے 758 فیڈرز کو بحال کیا گیا ہے۔بلوچستان میں بجلی کی ترسیل زیادہ متاثر ہوئی، 9 ٹرانسمیشن لائنوں کو نقصان پہنچا، 6 ٹرانسمیشن لائنوں کو بحال کردیا گیا ہے۔میڈیا بریفنگ میں چیئرمین این ڈی ایم اے نے بتایا کہ موسم گرما میں 4 ہیٹ ویوز کا سامنا کرنا پڑا۔سیلاب اور بارشوں سے 1265 افراد جاں بحق ہوئے،سیلاب سے 14 لاکھ گھروں کو نقصان ہوا۔ سیلاب سے 7 لاکھ 35 ہزار سے زائد لائیو اسٹاک کا نقصان ہوا، نیشنل ایمرجنسی ڈکلیئر کی گئی اور پاک آرمی کی خدمات حاصل کی گئیں۔ متاثرین کو 25 ہزار فی گھرانہ دیا جا رہا ہے۔امدادی کاموں سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ سیلاب متاثرہ علاقوں میں جوان ڈیوٹی کی بجائے مقدس فریضہ سمجھ کر سر انجام دے رہے ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ آرمی چیف نے سیلاب متاثرین کی مدد کرنے کی ہدایت کی ہے اور خود بھی سیلاب متاثرہ علاقوں کے دورے اور امدادی کارروائیوں کا جائزہ لیا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ خراب موسم اور دیگر چیلنجز کے باوجود جوانوں نے لوگوں کو ریسکیو کیا، ملک بھر میں آرمی کے 147 ریلیف کیمپ قائم ہیں، کیمپس میں 50 ہزار سے زائد افراد کو ریلیف دیا گیا ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ہنگامی صورتحال میں کے پی ہیلپ لائن 1125 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے، ہنگامی صورتحال میں دیگر علاقوں میں ہیلپ لائن 1135 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ملک بھر میں 284 فلڈ ریلیف کلیکشن پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں، پاک فضائیہ نے 1521 سے زائد افراد کو ریسکیو کیا ہے، آرمی ایوی ایشن، نیوی کے ہیلی کاپٹرز ریلیف سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔خیبر پختونخوا کے علاوہ دیگر علاقوں کے لیے ہیلپ لائن 1135 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے، افواج پاکستان کا ہر سپاہی سیلاب متاثرین کی خدمت کر رہا ہے، افواج پاکستان سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے دن رات کام کر رہی ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ جوانوں نے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر امدادی کاموں میں حصہ لیا، سیلاب متاثرین کی مدد کرتے ہوئے ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہوا، 6 افسران شہید ہوئے پاک فضائیہ نے 1521 افراد کو ریسکیو کیا، پاک فوج کی جانب سے سیلاب متاثرین کو کثیر تعداد میں خیمے اور ادویات فراہم کی گئیں، پاکستان نیوی نے 10 ہزار سیلاب متاثرین کو ریسکیو کیا، عوام کا اعتماد ہی پاک فوج کا اثاثہ ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاک بحریہ کی ٹیمیں ملک بھر میں متاثرین کی امداد میں مصروف ہیں، ملک بھر میں 147 ریلیف کیمپس قائم ہیں، ان امدادی کیمپس میں 50 ہزار سے زائد افراد کو ریسکیو کیا گیاان کا کہنا تھا کہ سیلاب متاثرہ علاقوں میں جہاں ضرورت ہے وہاں فوج موجود ہے، کمراٹ کالام میں پھنسے لوگوں سے رابطہ کرکے ریلیف کیمپ پہنچایا گیا، 1783 ٹن راشن متاثرین میں تقسیم کیا جاچکا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ پاک بحریہ کی جانب سے 55 ہزار خوراک کے پیکٹس متاثرین میں تقسیم کیے جا چکےہیں، پاکستان ایئر فورس نے 23 ہزار سے زائد افراد کو ریسکیو کیا ہے، پاک نیوی کے 19 میڈیکل کیپمس میں 10 ہزار افراد کو ریلیف دیا جاچکا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ شہدائے پاکستان ہمارا اثاثہ ہیں، شہدا کی قربانیوں کی وجہ سے ہم آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں، پاک افواج غیر معمولی صورتحال میں ہمیشہ عوام کے شانہ بشانہ ہے، ہم اس ناگہانی آفت سے باہر نکل آئیں گے,