سپاہ سالارکا 25 مئی کو ‘یومِ تکریمِ شہداءِ پاکستان’ منانے کااعلان
………… کالم..اندر کی بات…کالم نگار….اصغر علی مبارک…
…سپاہ سالارنے 25 مئی کو”یومِ تکریمِ شہداءِ پاکستان “منانے کا اعلان کیاہے..پاکستان کے امن و امان اور دھشتگردی کے خاتمے کیلئے دی جانے والی قربانیوں کو کبھی بُھلایا نہیں جا سکتا اس حوالے سے افواجِ پاکستان، رینجرز، ایف سی، پولیس، دیگر قانون نافذ کرنے والے تمام اداروں کے شہداء اور شہداء پاکستان کا کردار نا قابلِ فراموش ہے
شہداءِ پاکستان کی بے لوث قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کیلئے 25 مئی کو “یومِ تکریمِ شہداءِ پاکستان” منانے کا فیصلہ کیا گیا ہے
اس کا مقصد جہاں ایک طرف شہداء کی لازوال قربانیوں کی یاد تازہ کرنا ہے وہاں قوم کو یہ بھی پیغام دینا ہے کہ شہداء، اُنکی فیملیز اور یادگاروں کی تکریم اور احترام ہر پاکستانی کا فخر ہے
یومِ تکریمِ شہداءِ پاکستان تجدیدِ عہد کا دن ہے جو نفرتوں اور تلخیوں کو بھلا کرمحبت، امن، امید، رواداری اور اپنے شہداء سے والہانہ محبت کا پیغام دے گا یہ فیصلہ شہداءِ پاکستان کی بے لوث قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے۔اس کا مقصد جہاں ایک طرف شہداء کی لازوال قربانیوں کی یاد تازہ کرنا ہے وہاں قوم کو یہ بھی پیغام دینا ہے کہ شہداء، اُنکی فیملیز اور یادگاروں کی تکریم اور احترام ہر پاکستانی کا فخر ہے یومِ تکریمِ شہداءِ پاکستان میں ملک بھر میں ہونے والی تقریبات کو نمایاں انداز میں پیش کیا جائیگا تاکہ شہداءِ پاکستان کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا جا سکے۔اس روز ملک بھر میں شہداء کے ایصال ثواب کے لیے قرآن خوانی اور دعاؤں کا اہتمام کیا جائے گا جب کہ افواجِ پاکستان، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی یادگارِ شہدا پر سلامی دی جائے گی۔اس کے علاوہ جی ایچ کیو، ائیر اور نیول ہیڈکوارٹرز اور دیگر متعدد یادگار شہداء پر تقریبات ہوں گی جب کہ صوبائی دارالخلافہ، آزاد کشمیر اورگلگت بلتستان میں بھی یادگار شہداء پربھی تقریبات ہوں گی۔پاک فوج کے سربراہ جنرل سید عاصم منیر کا 25 مئی کو ”یومِ تکریمِ شہداءِ پاکستان “ منانے کا اعلان کرتے ہوئے کہنا ہے کہ مضبوط فوج مملکت کی سلامتی اور اتحاد کی ضامن ہوتی ہے، شہداء کی قربانیاں اور غازیوں کی خدمات ہمارا قیمتی اثاثہ اور سرمایہِ افتخار ہیں ، پاک فوج بطور ادارہ اپنے سے منسلک ہر فرد کو اور اسکے لواحقین کو ہمیشہ یاد رکھتا ہے اور ہمارا یہ رشتہ بطور خاندان قابلِ فخر اور فقید المثال ہے ، افواجِ پاکستان کا ہر سپاہی اور آفیسر تمام علاقائی، لسانی، اور سیاسی تعصبات اور امتیازات سے بالاتر ہو کر صرف اور صرف اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کو مقدم رکھتا ہے ۔جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں شہداء اور غازیوں کے اعزاز میں تقریبِ تقسیم اعزازات سے خطاب کرتے ہوئےسپاہ سالارکاکہنا تھا کہ مضبوط فوج مملکت کی سلامتی اور اتحاد کی ضامن ہوتی ہے ۔حالیہ دنوں میں فوجی تنصیبات، یادگاروں اور شہداء کی حرمتوں پر حملوں کو انتہائی افسوس ناک قرار دیتے ہوئے آرمی چیف کاکہنا تھا کہ یہ ناقابلِ برداشت ہیں ۔ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل سید عاصم منیرنے آپریشنز کے دوران بہادری اور قوم کے لئے شاندار خدمات پر پاک فوج کے افسران و جوانوں کو فوجی اعزازات سے نوازا۔51 افسران کو ستارہ امتیاز(ملٹری) ،22 افسران و جوانوں کو تمغہ بسالت اور 2 جوانوں کو اقوامِ متحدہ کے خصوصی میڈل کے اعزاز سے نوازا گیا۔تقریب میں بڑی تعداد میں پاک فوج کے سینئر افسران اور شہداء کے اہلخانہ کی شرکت کی ۔ آرمی چیف نے کہا کہ بلاشبہ شہداء کی فرض شناسی اور عظیم قربانیوں کے طفیل ہم ایک آزاد فضا میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے ملک میں 25 مئی کو یومِ تکریمِ شہداءِ پاکستان منانے کا اعلان کیا۔ شہداء کی عظیم قربانیوں کے طفیل ہم آزاد فضا میں زندگی بسر کر رہے ہیں، شہداء کی قربانیاں اور غازیوں کی خدمات سرمایہِ افتخار ہیں۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے مزید کہا کہ پاک فوج سے منسلک ہر فرد اور اسکے لواحقین کو یاد رکھا جاتا ہے، ہمارا یہ رشتہ بطور خاندان قابلِ فخر اور فقید المثال ہے، افواجِ پاکستان کا ہر سپاہی اور آفیسر اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کو مقدم رکھتا ہے۔آرمی چیف کا کہنا تھا کہ مضبوط فوج مملکت کی سلامتی اور اتحاد کی ضامن ہوتی ہے، فوجی تنصیبات، یادگاروں کی بے حرمتی انتہائی افسوس ناک اور ناقابلِ برداشت ہے۔ شہید، اس پاکیزہ روح کا مالک ہے جس نے اللہ تعالیٰ کے کلمے کو سربلند کرنے کےلیے اپنے آپ کو قربان کیا۔ شہادت ایک ایسا اعزاز ہے جو صرف وہی حاصل کر سکتا ہے جس کے دل میں ایمان ہو۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے شہید کو بے شمار اعزازات سے نوازا ہے۔ قرآن پاك ميں اس بات پر تأكيد كى گئى ہے كہ شہید کبھی نہیں مرتا، بلکہ وہ تا ابد زندہ رہتا ہے وه اپنے پروردگار کا مقرب ہے، اسے اپنے رب کے پاس رزق دیا جاتا ہے، وه جنت کی ابدی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ اور جہنم کے عذاب سے محفوظ رہتا ہے، قرآن و سنت میں شہید کے مقام و مرتبے کے حوالے سے جو ارشادات ملتے ہیں، ان سے پتا چلتا ہے کہ اسلام میں شہید کی عظمت اور شہادت کا مقام و مرتبہ انتہائی بلند ہے، ارشادِباری تعالیٰ ہے: ’’وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ اَمْوَاتٌ بَلْ اَحْیَاءٌ وَّلٰکِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ‘‘ [البقرة: 154] ’’اور جو لوگ الله کی راہ میں قتل کیے جاتے ہیں ان کی نسبت یوں بھی مت کہو کہ وہ (معمولی مردوں کی طرح) مردے ہیں ، بلکہ وہ تو (ایک ممتاز حیات کے ساتھ) زندہ ہیں، لیکن تم (ان) حواس سے (اس حیات کا) ادر اک نہیں کرسکتے ۔‘‘.
اسی طرح ایک اور مقام پر ارشاد ہوا: ’’وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللهِ اَمْوَاتًا ۭ بَلْ اَحْيَاۗءٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ يُرْزَقُوْنَ فَرِحِيْنَ بِمَآ اٰتٰىھُمُ اللهُ مِنْ فَضْلِہٖ ۙ وَيَسْـتَبْشِرُوْنَ بِالَّذِيْنَ لَمْ يَلْحَقُوْا بِھِمْ مِّنْ خَلْفِھِمْ ۙ اَ لَّا خَوْفٌ عَلَيْھِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ۔‘‘ [آل عمران: 169] “اور جو لوگ الله کی راہ میں قتل کیے گئے ان کو مردہ مت خیال کر، بلکہ وہ لوگ زندہ ہیں، اپنے پروردگار کے مقرب ہیں، ان کو رزق بھی ملتا ہے ۔وہ خوش ہیں اس چیز سے جو اُن کو الله تعالیٰ نے اپنے فضل سے عطا فرمائی اور جو لوگ ان کے پاس نہیں پہنچے ان سے پیچھے رہ گئے ہیں، ان کی بھی اس حالت پر وہ خوش ہوتے ہیں کہ ان پر بھی کسی طرح کا خوف واقع ہونے والا نہیں اور نہ وہ مغموم ہوں گے۔‘‘.
’’ سورۃ النساء ‘‘ میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے شہدائے کرام کوان لوگوں کے ساتھ بیان کیا ہے، جن پراللہ تعالیٰ نے اپناخاص فضل وکرم اورانعام واکرام فرمایا اور انہیں صراطِ مستقیم اور سیدھے راستے کامعیاروکسوٹی قرار دیا ہے۔ شہادت كا يہ عظیم رتبہ اور مقام قسمت والوں کو ہى ملتا ہے اور وہی خوش قسمت اسے پاتے ہیں جن کے مقدر میں ہمیشہ کی کامیابی لکھی ہوتی ہے شہادت کا مقام نبوت کے مقام سے تیسرے درجے پر ہے جیسا کہ الله رب العزت نے ارشاد فرمايا:” وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَٰئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ ۚ وَحَسُنَ أُولَٰئِكَ رَفِيقًا” [النساء: 69] ” جوکوئی اللہ تعالیٰ اوراس کے رسول ﷺکی(ایمان اورصدقِ دل کے ساتھ) اطاعت کرتاہے،پس وہ(روزِقیامت)ان لوگوں کے ساتھ ہوگا، جن پراللہ تعالیٰ نے (اپناخاص ) انعام فرمایا ہے، جوکہ انبیاءؑ، صدیقین، شہداء اورصالحین ہیں اور یہ کتنے بہترین ساتھی ہیں”.
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا: جو شخص بھی جنت میں داخل ہوتا ہے وہ پسند نہیں کرتا کہ دوبارہ دنیا کی طرف لوٹ جائے اور اسے دنیاکی ہر چیز دے دی جائے، مگر شہید (اس کا معاملہ یہ ہے)کہ وہ تمنا کرتا ہے کہ وہ دنیا میں دوبارہ واپس لوٹ جائے اور دس مرتبہ قتل کیا جائے۔ (راہِ خدا میں باربار شہید کیا جائے) [صحیح بخاری، صحیح مسلم]
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:جو شخص بھی اللہ کی راہ میں زخمی ہو – اور اللہ ہی جانتا ہے کہ کون اس کی راہ میں زخمی ہوتا ہے – ،وہ قیامت کے دن اس حالت میں آئے گا کہ اس کے زخم سے خون کا فوارہ بہہ رہا ہوگا، رنگ خون کا اور خوشبو کستوری کی۔ [صحیح بخاری ومسلم]مادر وطن پر قربان ہونے والے بہادر شہدوں کو سلام، پاکستان ان شہداء کی وجہ سے محفوظ ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کامیابی کی وجہ بہادری اور پاکستانی ماؤں اور بہنوں کی قربانیاں ہیں جنہوں نے مادر وطن کی حفاظت کے لیے اپنے پیاروں کا نذرانہ پیش کیا دنیا نے سوال کیا تھاکہ پاکستان دہشت گردی کے خلاجنگ میں کیسے کامیاب ہوا جہاں باقی دنیا انتہا پسندی کے چیلنج سے نمٹنے میں ناکام رہی۔ “یہ ہماری مائیں ہیں جنہوں نے اپنے پیاروں کو قربان کیا”، ہماری بہنیں ہیں” جنہوں نے اپنے شوہر کھو دیے”۔اور وہ بچے ہیں” جو اس ملک میں اپنے والد کو قربان کرنے کے لیے تیار ہیں”۔ جب تک ایسی مائیں اور ہماری بہنیں موجود ہیں۔ “پاکستان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا ہمارے حقیقی ہیرو ہمارے شہداء ہیں، ہمارے غازی ہیں “اور جو قومیں اپنے شہداء اور ھیروز کو بھول جاتی ہیں وہ مٹ جاتی ہیں‘‘۔شہید کا نام تب تک روشن رہے گا جب تک دنیا رہے گی”۔”شہید نے دنیا اور آخرت میں اپنا نام کمایا،اسے شہادت کے رتبہ پر فائز ہوتے ہی بخش دیا جاتا ہے۔ شہید نہ صرف اپنے لیے بخشیش حاصل کرتا ہے بلکہ شہید اپنے ورثاء کے لیے بھی جنت کا راستہ کھول دیتا ہے۔” دنیا کی کوئی مادی طاقت، دولت، پیسہ شہیدوں کی قربانیوں کا متبادل نہیں ہو سکتا۔”ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم شہداء کے ورثاء اور ان کے اہل خانہ کا خاص خیال رکھیں ہماری آزادی ہمارے شہداکی قربانیوں کی مرہون منت ہیں جنہوں نے جان کی قربانی پیش کی ہے جان قربان کرنے سے بڑھ کرکوئی اور قربانی نہیں ہوسکتی. ۔پاکستان آج محفوظ ہے۔اور یہ سب کچھ ان افسران، جونیئر کمیشنڈ آفیسرز (جے سی) اور سپاہیوں کے خون سے ممکن ہوا ہے دھشتگردی کےخلاف جنگ افواج پاکستان کے مثالی کردار کی دنیامعترف ہے راقم الحروف کےسگے بھائی مظہرعلی مبارک بھی راولپنڈی میں ٹارگٹ کلنگ میں دہشت گردوں کی گولیوں کا نشانہ بن کر شہادت کے رتبے پر فائز ہوئے میرا سوال زمہ داروں سے ہے کہ کیا امن وامان کیلئے صرف پاک فوج کو ہی قربانیاں دینا ہیں کیاآزاد عدلیہ اور دیگر کا فرض نہیں کہ سیکورٹی فورسز جن دہشت گردوں کو گرفتار کرکے قانون کے حوالے کرتی ہے انہیں تیکنکی بنیاد پر معاف نہیں کرنا چاہئے ورنہ دشمن منظم ہوکر ہمیں نشانہ بناتا رہے گا پہلے ہی سویلین شہداء کے لواحقین کا کوئی پرسان حال نہیں۔خیال رے کہ دہشتگردی کا شکار افراد کے نام پرسیاستدانوں نے شہدا کے نام پر بیرون ممالک سے امداد حاصل کیں۔مگر آج ان خاندانوں کو پوچھنے والا کوئی نہیں ۔جو مارے گئے انہیں معلوم نہیں کیوں ناحق مارے گئے چند سال قبل راقم الحروف نے اے پی ایس کے شہدا کی فیملیز کے ہمراہ نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے باہر احتجاج ریکارڈکراتے ہوئے مطالبہ کیا تھاکہ امن دشمن قوتوں کو معاف کرنے کےبجائے انہیں انصاف کٹہرے میں لایا جائے اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ پاکستان میں انسداد دھشتگردی عدالتیں ختم کرکے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ دھشتگردی ختم ہوگئی ھے مگر ایسا ہرگز نہیں۔ عدالتوں نے سیکورٹی ایجنسوں کی شبانہ روز کی محنت پر پانی پھیرتے ہوئے دہشتگردوں کو شک کافائدہ دے “قتل کرنےکا لائسنس”دےدیا دھشت گردی کے خلاف عدالتوں میں تاحال انصاف کے حصول کیلئے سرگرداں ہے مگر کوئی امید بر نظر نہیں آتی۔سرکاری حکومتی مشینری بھی اس مستعدی سے دھشتگردی کے کیسز میں موثر نظر نہیں آتی جس کا تقاضاکیاجاتاہے اور بطور مدعی مقدمہ تھانہ رتہ امرال مقدمہ نمبر582 سال 2013 تلخ تجربہ ہوچکاہے جہاں ناحق قتل ہونے والوں کےبجائے دھشتگردوں کی مالی معاونت کے لئے درجنوں سفید پوش سامنے آجاتےہیں خیال رہےکہ پاکستانی فوج نےکئی سال جاری رہنے والے عسکری آپریشنز کے ذریعے دھشتگردوں کا قلع قمع کیا۔دہشتگروں کے خلاف پاکستانی فوج کی کارروائی کو انسداد دہشت گردی کی کامیاب مہم تصور کیا جاتا ہے۔اعداد وشمارکے مطابق دھشت گردی کےخلاف جنگ میی 80ھزار شہری 10 ھزار سے ذائد فوجی افسران و جوان شہید ہوئےشہیدوں کی قربانیوں کی وجہ سے ملک میں امن قائم ہے، شہدا کی قربانی کی وجہ سے ہم آرام سے سوتے ہیں، رہتی دنیا تک شہدا کا نام چمکتا رہے گا، شہید کا قطرہ گرنے سے پہلے اس کی بخشیش ہوجاتی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ کوئی استحقاق شہداء کی شہادت کا متبادل نہیں ہو سکتا, ایک باپ کے لیے، ایک ماں کے لیے، جب تک وہ اس دنیا میں رہیں گے، ان کا بچہ ہر روز ان کی آنکھوں کے سامنے ضرور آئے گا، ہر روز وہ اسے یاد کریں گے۔’’وہ بیوہ جس کا شوہر فوت ہو گیا ہو اور جس کے بچے اپنے باپ کی شفقت سے محروم ہو گئے ہوں وہ بھی اس کی کمی محسوس کرے گا اور اس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ یہ ملک شہیدوں کی قربانیوں سے محفوظ ہے قدرتی آفات ۔سانحات۔ سیلاب زلزلوں میں پاک فوج کاکردار نمایاں رہا شہیدوں کا خون ہم پر قرض ہے جو ملک سے دہشتگردی کے خاتمے کی صورت میں چکایا جائے گا