ساؤتھ ایشین اسپورٹس جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے بانی صدر اصغر علی مبارک کا ساؤتھ ایشین اولمپک کونسل اجلاس کے شرکاء کا خیرمقدم
( اے اے ایم نیوز)
ساؤتھ ایشین اسپورٹس جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے بانی صدر اور سینیئررپورٹر اصغر علی مبارک نے پاکستان میں 14ویں ساؤتھ ایشین گیمز (سیف گیمز) کے پروقار انعقاد کے لیے ساؤتھ ایشین اولمپک کونسل اجلاس کے شرکاء ,جاری وسیع تر تیاریوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے جنوبی ایشیا کے کروڑوں اسپورٹس لوورز (کھیلوں کے شائقین) کے لیے ایک شاندار اور بڑی خوشخبری قرار دیا ہے۔
اپنے ایک خصوصی تہنیتی بیان میں انہوں نے ، 23 اگست 2026ء کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں منعقد ہونے والے ساؤتھ ایشین اولمپک کونسل (SAOC) کے انتہائی اہم ایگزیکٹو کمیٹی اجلاس میں شرکت کے لیے آنے والے تمام غیر ملکی وفود اور معزز مہمانوں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہا ہے۔
اصغر علی مبارک نے نیپال اولمپک کمیٹی کے صدر جیون رام شریستھا اور مالدیپ اولمپک کمیٹی کے صدر محمد عبدالستار سمیت خطے کے دیگر ممالک سے آئے ہوئے تمام کھیلوں کے مقتدر رہنماؤں اور اولمپک آفیشلز کا شکریہ ادا کیا جو “دوستی کے رشتے، کھیلوں کے ناطے” کے مشن کو فروغ دینے کے لیے پاکستان تشریف لائے ہیں، جبکہ بھارتی اولمپک کمیٹی کا وفد اس اہم بیٹھک میں ویڈیو لنک (آن لائن) کے ذریعے شریک ہو کر انتظامات پر بریفنگ لے گا۔
طویل انتظار کے بعد میگا ایونٹ کی حتمی تاریخیں اور مقاماتاصغر علی مبارک نے کہا کہ طویل انتظار اور کورونا وائرس سمیت دیگر انتظامی وجوہات کے باعث تاخیر کا شکار ہونے والے ان کھیلوں کا باقاعدہ شیڈول اب 23 سے 31 مارچ 2027ء طے پا چکا ہے، جس کی میزبانی کا اعزاز سال 2004ء کے بعد پہلی بار دوبارہ پاکستان کو مل رہا ہے۔
یہ مقابلے لاہور، اسلام آباد اور فیصل آباد میں زون کے حساب سے منعقد کیے جائیں گے، جس سے ملک میں اسپورٹس ٹورازم کو زبردست فروغ ملے گا۔
بانی صدر ساؤتھ ایشین اسپورٹس جرنلسٹس ایسوسی ایشن نے نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار کی سربراہی میں قائم خصوصی ذیلی کمیٹیوں کے متحرک کردار اور وفاقی حکومت کی جانب سے کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کی عالمی معیار کے مطابق اپ گریڈیشن کے لیے 11 ارب روپے کے خطیر بجٹ کی منظوری کو دل کھول کر سراہا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں جدید “گیمز سیکریٹریٹ” کا قیام اور اسٹیڈیمز کی ری نوویشن کے لیے فنڈز کی بروقت فراہمی حکومتِ پاکستان کے کھیلوں کے فروغ اور امن پسندی کے غیر متزلزل عزم کو ظاہر کرتی ہے۔
خطے کے 8 ممالک اور 3,500 کھلاڑیوں کی آمد: امن اور ثقافت کا سنگمرپورٹ کے مطابق کھیلوں کے اس بڑے میلے میں خطے کے تمام 8 رکن ممالک (پاکستان، بھارت، بنگلاف دیش، سری لنکا، نیپال، بھوٹان، مالدیپ اور افغانستان) کے 3,500 سے زائد نامور کھلاڑی کرکٹ، ہاکی، فٹ بال، سوئمنگ، باکسنگ، ریسلنگ، اسکوائش اور ایتھلیٹکس سمیت 27 مختلف کھیلوں میں اپنے ہنر کا مظاہرہ کریں گے۔ مہمان کھلاڑیوں اور آفیشلز کی آسائش کے لیے تینوں شہروں کے فائیو اسٹار ہوٹلز میں وی آئی پی رہائش، خصوصی ہیلتھ کیٹرنگ اور 24 گھنٹے طبی و فول پروف وی وی آئی پی (VVIP) سیکیورٹی کے انتظامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے جس کی لائیو مانیٹرنگ سینٹرل کمانڈ سے کی جائے گی۔
اصغر علی مبارک نے امید ظاہر کی کہ اہم ترین اجلاس لاجسٹکس اور انتظامات کو فائنل کرنے میں سنگِ میل ثابت ہوگا۔ انہوں نے اپنے بیان کا اختتام اس عزم کے ساتھ کیا کہ “دوستی کے رشتے، کھیلوں کے ناطے” کا یہ سفر جنوبی ایشیا میں باہمی ہم آہنگی، کراس بارڈر امن اور کھیلوں کی طاقت کے ذریعے خطے کے ممالک کے درمیان دیرپا روابط کو ہمیشہ کے لیے امر کر دے گا۔