ریسکیو۔ ریلیف۔ری ھیبلی ٹیشن کے بعد ری کنسٹرکشن پاک فوج کی ترجیح۔اندر کی بات ۔۔کالم نگار: اصغرعلی مبارک۔۔۔۔۔پاکستان میں قیامت خیز سیلاب کے دوران پاک فوج نےملک بھر میں ریسکیو آپریشن کے دوران ھزاروں زندگیاں بچائیں جس کی تعریف اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے بھی کی اور کہا ہے کہ اگر پاک فوج کا کوئیک رسپانس نہ ہوتا تو ہلاکتوں میں بے پناہ اضافہ ہو جاتا پاک فوج نے ایک ایک کال پر مثبت رسپانس دے کر پروفیسنلزم کی شاندار روایت قائم کی۔اس دوران دوسرا مرحلہ ریلیف کا شروع ھوا جس کی نگرانی پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے بذات خود کی اور پاک فوج کے افسران کو خصوصی ہدایات جاری کیں اس حوالے سے آرمی چیف دن بھر متاثرہ افراد کے درمیان موجود بھی رہے جس سے متاثرین سیلاب کے ساتھ ساتھ دن رات خدمات انجام دینے والوں کو بھی حوصلہ ملا اور قوم کا مورال بھی بلند سے بلند تر ہوا پاکستانی عوام نے پاک آرمی کے سربراہ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے امدادی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا شروع کردیا ہےملک بھر میں سیلاب متاثرین کیلئے پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں، اور آئی ایس پی آر کے مطابق سیلاب زدگان کے ریسکیو اور ریلیف آپریشن میں پاک فوج کے ہیلی کاپٹروں کی 140 پروازیں ہورہی ہیں۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق مختلف علاقوں سے مزید 550 افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا ہے، اور فوجی ہیلی کاپٹروں نے 29 ٹن راشن اور امدادی سامان متاثرین تک پہنچایا ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 6140 راشن پیکٹ اور 325 خیمے تقسیم کئے گئے ہیں، اور مختلف میڈیکل کیمپس میں اب تک 5213 مریضوں کا علاج کیا جاچکا ہے۔آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ امدادی سامان کی وصولی اور تقسیم کیلئے 224 کلیکشن پوائنٹس قائم ہیں۔پاک آرمی فلڈ ریلیف کیمپوں پر امداد جمع کروانے کیلئے عوام امڈ آئی ہے یہ جذبہ 1965 کی جنگ والا دکھائی دے رہاھے قوم کو ایک ایسے راہنما کی تلاش تھی جس کی آواز پر لبیک کہناتھا ورنہ قوم دکھا کہ سیلاب کے معاملے پر بھی سیاست کی جاتی رہی ھے ایک صوبے کا سیاستدان دوسرے صوبے میں جانے سے ڈرتاھے یہ فوج ہی ھے جس نے قوم کو منتشر ھونے سے بچایا بدقسمتی سے املاک کے ساتھ لوگوں کے اخلاقیات بھی سیلاب میں بہہ گئے ہیں پاکستان میں سیلاب زدگان کی بحالی میں سالوں لگ سکتے ہیں قوم کو صبر و استقامت کا عملی مظاہرہ کرنا ہوگا ورنہ زلزلہ 2005 جیسی صورت حال پیدا ہوسکتی ھے جنکے کئی متاثرین آج تک مسائل کے گرداب میں پھنسے ہوئے پیں اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں. پاک فوج نے بھی فنڈریزنگ کیلئے عسکری بنک جی ایچ کیو کا اکاونٹ متعارف کرایاھے جس پر عوام کااعتماد نظرآرہاھے.اگلے روز میڈیا سے گفتگو میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ پاکستانی عوام ہماری ترجیح ہیں اور ہم اس مشکل وقت میں ان کی مدد کے لیے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے۔ “ہمارے ملک کے لوگوں کی حفاظت اور بہبود سب سے پہلے آتی ہے اور ہم اس وقت تک آرام نہیں کریں گے جب تک کہ سیلاب سے متاثرہ ہر ایک کو نہ صرف پہنچایا جائے بلکہ اس کی بحالی نہ ہو جائے، چاہے کتنی ہی کوشش کی ضرورت ہو ۔ اس حوالے سے آئی ایس پی آر کا بیان بھی سامنے آیا جس میں کہا گیا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نےبلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔ آرمی چیف سیلاب سے متاثرہ علاقوں گوٹھ صدوری، لاکھڑا، لسبیلہ میں قائم فلڈ ریلیف اور میڈیکل کیمپوں میں بھی گئے اور سیلاب سے متاثرہ مقامی لوگوں کی خیریت دریافت کی۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے امدادی کارروائیوں میں مصروف فوجیوں سے بھی ملاقات کی اور مصیبت میں گھرے افراد کی خدمت میں ان کی کوششوں کو سراہا۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو، ریلیف۔ بحالی اور انفراسٹرکچر کے لیے سول انتظامیہ کی مدد کے لیے تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لانے کی ہدایت کی۔ آرمی چیف کا کہنا تھا کہ ہمیں احکامات کا انتظار کیے بغیر اپنے ضرورت مند بھائیوں اور بہنوں تک پہنچنا چاہیے اور اس قدرتی آفت پر قابو پانے میں ان کی مدد کرنی چاہیے،چیف آف آرمی سٹاف کی ہدایت پر پاکستان آرمی کی طرف سے ملک گیر سطح پر سیلاب زدگان کی امداد کے لیے ریلیف کیمپوں کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے- .آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا دورہ سوات میں کہنا تھا کہ کالام میں کافی نقصان ہوا ہے 2010 کے سیلاب میں بھی یہاں ایسی ہی تباہی ہوئی تھی،ان جگہوں پر دوبارہ تعمیرات کر نے کی اجازت دے کر غفلت کا مظاہرہ کیا گیا لہٰذا ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیئے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق کمراٹ پہاڑیوں میں پھنسے سیاحوں اور دیگر شہریوں کو ہیلی کاپٹرز کے ذریعے ریسکیو کرکے کانجو کینٹ لایا گیا جہاں آرمی چیف نے سیلاب متاثرین اور سیاحوں سے ملاقات کی اس دوران وہ عوام میں گھل مل گئے ۔اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آرمی چیف کا کہنا تھا کہ کالام میں پل اور ہوٹل بہت تباہ ہوئے ہیں، اس وقت سب سے ضروری یہ ہے کہ کالام روڈ کھولا جائے، امید ہے کہ 6 سے 7 دنوں میں سڑک کو کھول دی جائے گی جس کے بعد وہاں پھنسے لوگوں تک راشن پہنچایا جائے گا۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہناتھا کہ کالام میں پھنسے لوگوں کو نکال رہے ہیں اور اب وہاں بحران کی صورت حال نہیں ہے، ایسی صورتحال اس وقت ہو سکتی ہے جب ہم بند سڑک کھولنے میں ناکام ہوجائیں مگر جلد سڑک کھولی جائے گی کیونکہ سردیاں آنے والی ہیں اور وہاں کے رہائشیوں کو سردیوں کا سامان اکٹھا کرنا ہوتا ہے۔آرمی چیف کا کہنا تھا کہ اس وقت مختلف فلاحی اداروں، سیاسی جماعتوں اور افواج پاکستان نے اپنے ریلیف سینٹر کھولے ہوئے ہیں، جبکہ سیلاب زدگان کی امداد کے لیے اپیل پر بہت اچھا رسپانس ملا ہے اور این سی او سی کی طرز پہ ہیڈ کوارٹر بنایا گیا ہے جہاں تمام امداد کا ڈیٹا اکھٹا ہو گا۔ یہاں سے ہی آگے فنڈز منتقل ہوں گے انکا کہناتھا کہ ہیڈ کوارٹر سے وزیر منصوبہ بندی امداد ادھر بھجوائیں گے، جہاں ضرورت ہو گی اس کےمطابق لوگوں کو امداد دی جائے گی، لوگوں کا ریسپانس بہت اچھا آ رہا ہے جس کی وجہ سے کئی ٹن راشن اکٹھا ہو رہا ہے مگر اب راشن کا نہیں خیموں کا مسئلہ ہوگا کیونکہ خیمے ملک میں اتنی تعداد میں موجود نہیں ہیں۔آرمی چیف کا کہنا تھا کہ بیرون ملک سے خیمے منگوانے کی کوشش کر رہے ہیں مگر فوج کی طرف سے بھی خیمے فراہم کیے جا رہے ہیں، سندھ اور بلوچستان میں خیموں کی زیادہ ضرورت ہے۔جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات، ترکیہ۔سعودی عرب۔قطر اور چین سے امدادی سامان کی پروازیں آنا شروع ہو گئی ہیں جبکہ اس کے علاوہ پیسے بھی آئیں گے۔آرمی چیف کا مزید کہنا تھا کہ دوست ممالک نے پاکستان کو مصیبت میں کبھی اکیلا نہیں چھوڑا، انشااللہ آئندہ بھی نہیں چھوڑیں گے اس کے علاوہ اس صورتحال میں پاکستانیوں باالخصوص بیرون ملک پاکستانیوں کا اچھا رسپانس آ رہا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ سندھ میں ہمیں متاثرین کو گھر بنا کر دینے پڑیں گے اور ہم انشااللہ متاثرین کو ‘پری فیبری کیٹڈ’ گھر بنا کر دیں گے مگر یہاں پر اتنا مسئلہ نہیں ہے، زیادہ مسئلہ سندھ میں ہے جہاں چار، چار فٹ پانی کھڑا ہے، اسی طرح مسئلہ بلوچستان کا ہے جہاں پورے کے پورے گاؤں صفحہ ہستی سے مٹ چکے ہیں، یہاں پر نقصان ہوا ہے مگر اتنا بڑا نقصان نہیں ہوا جتنا سندھ میں ہوا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سیلاب کے شدید نقصانات کا تخمینہ ابھی ہونا ہے اور بڑے پیمانے پر ہونے والے نقصانات کے تخمینے کے لیے سروے ضلعی انتظامیہ، صوبائی حکومتیں اور فوج مل کر کریں گے۔ علاوہ ازیں
آرمی چیف نے سوات کے کالام، بحرین، خوازہ خیلہ اور مٹہ کے علاقوں سمیت مختلف مقامات پر سیلاب سے ہونے والے نقصانات اور آرمی کے دستوں کی امدادی سرگرمیوں کی فضائی نگرانی بھی کی۔ آرمی چیف نے بحران کے دوران موثر اور بروقت اقدامات کرنے اور قیمتی جانیں بچانے پر کور کمانڈر پشاور کو سراہا۔ علاوہ ازیں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سوات میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ بھی کیا اور کمراٹ,کالام اور گردونواح میں پھنسے ہوئے لوگوں کے انخلاء اور امدادی کارروائیوں کے بارے میں زمینی اپ ڈیٹ حاصل کیں,پاک فوج 40 ہزار افراد کو محفوظ مقامات اور آرمی کے قائم کردہ 137 سے زائد ریلیف کیمپوں میں منتقل کیا۔پاک فوج نے اپنا 3 دن کا راشن یعنی 1500 ٹن راشن سیلاب زدگان میں تقسیم کردیا ۔سیلاب زدگان کے لیے عوامی عطیات وصول کرنے کی غرض سے آرمی کے تحت عطیہ مراکز قائم ھوئے ہیں۔ فوج نے عوام اور مخیر حضرات سے اپیل کی ہے کہ خیموں، بستروں، کمبلوں، پانی کے ٹینکیوں اور تَرپالوں۔۔۔ راشن میں آٹے، گھی، چاول، دالوں، پتی اور پینے کے صاف پانی کی ضرورت ہے، فرسٹ ایڈ کٹ اور ضروری ادویات جیسے ڈائریا، آنکھ، کان اور جلد کی بیماریوں اور ڈی ہائیڈریشن کی ادویات بھی چاہئیں۔آرمی چیف جنرل باجوہ سے سیلاب زدگان کی امدادکیلئے عالمی رینماوں نے رابطے بھی کیے ہیں پاک فوج کے سربراہ جنرل قمرجاوید باجوہ پاکستانیوں سمیت عالمی برادری سے پاکستان کے سیلاب متاثرین کی مدد کےلیے اپیل کی ہے۔ اپنے پیغام میں آرمی چیف نے کہنا ہے کہ میں‌ سیلاب زدہ علاقوں کادورہ کررہا ہوں۔ میں نے بلوچستان کے علاقے اوتھل اورلسبیلہ سندھ میں خیر پور آیا ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ یہاں بہت زیادہ تباہی ہوئی ہےآرمی چیف نے کہا کہ وفاقی حکومت، صوبائی حکومت، پاکستان آرمی، نیوی، ائیرفورس اور فلاحی ادارے کوشش کر رہے ہیں کہ لوگوں کو ریلیف پہنچایا جائے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس سال سیلاب بہت بڑے پیمانے پر آیا ہے۔ آرمی چیف کا سیلاب کے نقصانات کےحوالے سے کہنا تھا کہ اس کو ٹھیک ہونے میں، لوگوں کو ریلیف دینے اوربحالی میں بہت سال لگ جائیں گے۔ آرمی چیف کاکہنا ھے کہ ہم اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں لیکن فیڈرل گورنمنٹ، صوبائی گورنمنٹ اور آرمڈ فورسز کے وسائل محدود ہیں۔
۔ آپ لوگ سامنے آئیں اور جس طرح سے بھی مدد کرنا چاہتے ہیں آپ ان لوگوں کی مدد کریں۔تاکہ ان لوگوں کو ہم ری ہیبلی ٹیٹ Rehabilitate کرسکیں۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ریلیف اور ریسکیو آپریشن جو تقریباََ ختم ہو چکا ہے۔لیکن اب ری ہیبلی ٹیشن Rehabilitation کا معاملہ ہے، جو بہت سال لے گا۔اس کے لئے ہمیں پوری قوم کی مدد چاہیے۔اس موقع پر میں اپیل کرتا ہوں اپنے تمام پاکستانی مخیر حضرات سے کہ وہ اس مشکل حالات میں اپنے ان بھائیوں کی جو اس وقت بہت ہی مشکل حالات میں ہیں، ان کی مدد کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ دوست ممالک بھی اس مشکل گھڑی میں پاکستان کی مدد کے لیے آگے آئیں اور میں حکومت پاکستان کی جانب سے بھی اپیل کرتا ہوں۔ پاکستانی عوام کی طرف سے ہمارے بیرون ملک مقیم اور ہمارے دوستوں سے درخواست ہے کہ وہ آگے آئیں اور ان لوگوں کی مدد کریں جو بہت مشکل حالات میں ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ ہمیشہ کی طرح ہمارے تارکین وطن پاکستان میں اپنے گھر واپس آنے والے بھائیوں کو مایوس نہیں کریں گے۔ آرمی چیف جنرل باجوہ کے سیلاب زدگان کی امدادکیلئے کاوشوں سے امید ھےکہ متاثرہن سیلاب کی بحالی کا مرحلہ بھی جلد شروع ہوجائے گا انٹرسروسز پبلک ریلیشنز کا بھی کہنا ہےکہ پاک فوج کےتمام جنرل آفیسرز نے فلڈ ریلیف آپریشن کیلئے ایک ماہ کی تنخواہ عطیہ کی ہے۔ آرمی چیف نے حالیہ سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد ملک بھر میں امدادی کارروائیوں میں فرنٹ لائن پر رہ کر ریسکیواور ریلیف آپریشن کی نگرانی کی اور متاثرین کے ھمراہ کیمپ میں وقت گزارہ اس دوران ملک بھر میں آرمی ریلیف کیمپوں اور مددگار رابطوں تیزی لانے کیلئے ھیلپ لائن کااجراء کرکے متاثرین سیلاب کے دکھوں کامداوا کیاجارہا ہے پاک آرمی کے زیر اہتمام فنڈز جمع کرنے کی مہم جاری ھے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سیلاب زدگان کی مدد کے لیے عطیات عسکری بینک کے اکاؤنٹ نمبر00280100620583 میں جمع کرائے جا سکتے ہیں، اکاؤنٹ کا ٹائٹل “سیلاب متاثرین کے لیے آرمی ریلیف” رکھا گیا ہے۔ پاک آرمی کے جوان وافسران شبانہ روز امدادی کاموں میں مصروف ہیں خیال رہے کہ بلوچستان میں امدادی کاموں کے دوران ہیلی کوپٹر حادثہ میں پاک فوج کے جوان و افسران نے جام شہادت نوش فرمایاپی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق سیلابی ریلوں اور بارشوں سے مجموعی طور پر بلوچستان میں 61 ہزار 718 مکانات نقصان کا شکار ہوئے تو وہیں ایک لاکھ 45 ہزار 936 سے زائد مال مویشی سیلابی ریلوں کی نذر ہوگئے ہیں ،اب تک مجموعی طور پر دو لاکھ ایکڑ زمین پر کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں بارش اور سیلاب کے نتیجے میں ہونے والے حادثات میں مزید 2 افراد جان کی بازی ہار گئے،بلوچستان میں یکم جون سے اب تک جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 250 ہوگئی۔جاں بحق ہونے والوں میں 117 مرد 60 خواتین اور 73 بچے شامل ہیں، سب سے زیادہ 27 ہلاکتیں کوئٹہ ، 21 لسبیلہ اور 17 پشین میں ہوئیں۔صوبے میں بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں 110 افراد زخمی ہوچکے ہیں۔بلوچستان میں بارشوں اور سیلابی ریلوں نے صوبے میں ریل کے پہیے کو ایک مرتبہ پھر جام کردیا ہے ۔ ۔صیر آباد میں ریلوے ٹریک بہہ جانے اور ہرک ریلوے پل ٹوٹ جانے سے صوبے سے اندرون ملک کیلئے ٹرین سروس 10 روز سے اور ایران کیلئے ایک ماہ سے معطل ہے ۔حکام کے مطابق اگلے 15 روز تک صوبے کیلئے ٹرین سروس بحال ہونے کا امکان نہیں ہے۔حکام کاکہنا ہے کہ 29جولائی کو چاغی میں سیلابی ریلوں کے باعث بہہ جانے والی کوئٹہ تفتان سیکشن کی مرمت ایک ماہ گزرنے کے باوجود مکمل نہ ہوسکی جس کی وجہ سے ایران کیلئے ٹرین سروس بند ہے ۔دوسری طرف وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اتحادی جماعتوں کے اجلاس میں سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے نیشنل فلڈ رسپانس اینڈ کوآرڈینیشن سینٹر قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔علامیے کے مطابق اجلاس نے قراردیا کہ حالیہ بارشوں اور سیلاب سے 60 سال میں ایسی تباہی نہیں ہوئی، سیلاب متاثرین کے ریسکیو، ریلیف کیلئے ہنگامی اقدامات کو سراہا، اتحادی حکومت متاثرین کی دوبارہ اُن کے گھروں میں آبادکاری تک چین سے نہیں بیٹھے گی اور حکومت متاثرین کی زندگیوں کودوبارہ معمول پرلانےکیلئے ہرممکن وسائل بروئے کارلائے گی۔آئی ایس پی آر کے مطابق کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل حسن اظہر حیات نے نوشہرہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ بھی کیا اور فوجی جوان اور افسران کو سول انتظامیہ کے ساتھ مل کر ریسکیو اور ریلیف آپریشن میں تمام اقدامات کرنے کی ہدایت بھی کی۔دوسری طرف اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے پاکستان میں سیلاب سے تباہی پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور چند روز تک پاکستان آنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے خصوصی اپیل کی کہ پاکستان کی مدد کی جائے، جس سے پاکستان میں بحالی اورتعمیر نو کا عمل ممکن بنایا جاسکے۔پاکستان میں تعینات برطانوی ہائی کمشنرکرسچن ٹرنر کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں کے پیمانےکو جذب کرنا مشکل ہے۔ایک بیان میں کہا کہ سیلاب نے فوری اور طویل مدتی چیلنجز کو جنم دیا ہے،سیلاب متاثرین کی بنیادی ضروریات میں مدد پہلا چیلنج ہے۔برطانوی ہائی کمشنرکا کہنا تھا کہ پاکستان میں سیلاب سے ایک ہزار سے زائد اموات ہوئیں جبکہ 3 کروڑ 30 لاکھ لوگ متاثر ہوئے، 72 اضلاع آفت زدہ قرار دیے گئے اور 10 لاکھ گھر تباہ ہوئے۔سیلاب سے 10 لاکھ ایکڑ زرعی اراضی متاثر ہوئی اور 7 لاکھ مویشی ہلاک ہوئے، یہ بڑا انسانی چیلنج ہے جس کے طویل مدتی اثرات ہیں اس لیے برطانیہ نے فوری طور پر 15 لاکھ پاؤنڈز کی امداد کا اعلان کیا ہے۔خیبر پختونخوا کے ضلع اپر دیر کی وادی کمراٹ میں پاک فوج نے ریسکیو آپریشن کے دوران سیاحوں کو بھی متاثرہ علاقوں سے نکال لیا گیا، پاک فوج کی ریسکیو ٹیم نے ہسپانوی سیاح جوڑے کو بھی ریسکیو کیا۔خاتون سیاح کا کہنا تھا کہ چھوٹے بچوں کے ساتھ ہم پھنس گئے تھے پاک فوج نے ریسکیو کیا، پاک فوج کی عظمت کو سلام پیش کرتی ہوں۔پاک فوج نے صرف سوات میں ہی 47 ریلیف کیمپس قائم کیے ہیں، ریسکیو کیے جانے والے افراد میں غیر ملکی، خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، ہیلی کاپٹرز کی مدد سے سیکڑوں افراد کو ریسکیو کیا گیا۔آرمی ایوی ایشن پائلٹس کا کہنا ہے کہ موسم کی خرابی کے باوجود ہم آرام سے نہیں بیٹھ سکتے تھے، ماؤں، بہنوں، بھائیوں اور بچوں کے چہرے ہمارے سامنے تھے، محصور افراد ہماری مدد کا انتظار کر رہے تھے، ہر قیمت پر محصور افراد تک پہنچا جائے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاک فوج کی وجہ سیلاب متاثرین کی مشکلات ختم ہو رہی ہیں