حمزہ شہباز پنجاب کے وزیراعلیٰ منتخب…….(اندر کی بات ؛کالم نگار؛اصغرعلی مبارک)………. مسلم لیگ (ن) کے نائب صدر حمزہ شہباز پنجاب کے وزیراعلیٰ منتخب ہوگئے ہیں۔ پنجاب اسمبلی میں شدید ہنگامہ آرائی کے دوران ووٹنگ کے بعد حمزہ شہباز 197 ووٹ حاصل کرکے پنجاب کے 21ویں وزیراعلیٰ منتخب ہوئے جبکہ حریف امیدوار پرویز الہٰی کی جماعت مسلم لیگ (ق) اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے ووٹنگ کے عمل کا بائیکاٹ کیا۔ وزیر اعلیٰ منتخب ہونے کے لیے 371 رکنی ایوان میں امیدوار کو کم از کم 186 ووٹوں کی ضرورت تھی371 رکنی پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کے 183، مسلم لیگ (ق) کے 10، مسلم لیگ (ن) کے 165، پیپلز پارٹی کے 7، 5 آزاد امیدوار اور ایک کا تعلق راہ حق پارٹی سے ہے۔ وزیراعلیٰ منتخب ہونے کے بعد حمزہ شہباز نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں کسی کے بارے میں ایسی کوئی بات نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ کیا بات ہے کہ جس نے ایوان کی پاسداری کو حلف لیا ہے ان کو جب اپنی ہار نظر آئے تو وہ دروازے بند کردوادیں اور ہال سیل کرکے آپ پر حملےکروائیں۔اسپیکر صاحب نے جس طرح اپنا فرض بہادری سے ادا کیا، میں اس معزز ایوان کے توسط سے خراج تحشین پیش کرتا ہوں، پنجاب پاکستان نہیں ہے لیکن پاکستان کا بڑا صوبہ ہے، تمام صوبوں کے ساتھ اچھی ورکنگ ریلیشن شپ بنائیں گے۔ وہ کام کریں گے جس سے اتفاق اور یگانگت پیدا ہو اور پاکستان آگے بڑھے، ان شا اللہ ذاتی مفاد سے بالاتر ہو کر ہم پاکستان کے لیے سب سے بات کریں گے اور سب کو ساتھ لے کر چلیں گے۔ چیلنجز یقیناً بہت زیادہ ہیں لیکن الحمد اللہ نیک نیتی کے ساتھ خدمت کریں گے، اللہ سے امید ہے کہ اللہ برکت دے گا۔ پنجاب میں پہلی ترجیح بھی عوام ہے، دوسری اور تیسری ترجیح بھی عوام ہے، گڈ گورننس لے کر آئیں گے۔ قبل ازیں وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے لیے صوبائی اسمبلی میں ہونے والے اجلاس میں شدید ہنگامہ آرائی ہوئی اور اجلاس میں وقفہ کرنا پڑا، جس کے بعد صوبائی اسمبلی کا اجلاس ساڑھے 5 گھنٹے تاخیر کے بعد دوبارہ شروع ہوا۔ ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری دوبارہ ایوان میں پہنچے، جنہوں نے اراکین سے مخاطب ہونے کے لیے لاؤڈ اسپیکر کا استعمال اور نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے پنجاب اسمبلی کے دروازے بند کردیے گئے۔ ایوان میں اراکین اسمبلی کی جانب سے شور شرابے اور نعرے بازی کا سلسلہ بدستور جاری رہا، جس کے سبب اسپیکر کو ایوان سے مخاطب ہونے میں مشکلات درپیش رہیں۔ پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے ووٹنگ کا عمل شروع ہوا، جبکہ پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) اور مسلم لیگ (ق) کے ارکان اسمبلی نے اجلاس سے واک آؤٹ کردیا۔ ہنگامہ آرائی کے دوران وزارت اعلیٰ کے امیدوار چوہدری پرویز الہٰی بھی ہنگامہ آرائی کی زد میں آگئے اور تشدد سے زخمی ہوگئے۔ قبل ازیں وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے لیے صوبائی اسمبلی میں آج صبح ساڑھے 11 بجے ہونے والا اجلاس باقاعدہ آغاز سے قبل ہی ہنگامہ آرائی کی نذر ہوگیا جبکہ اراکین اسمبلی کی جانب سے ڈپٹی اسپیکر کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں وزیراعلیٰ کا انتخاب شیڈول تھا، یہ عہدہ عثمان بزدار کا استعفیٰ منظور ہونے کے بعد یکم اپریل سے خالی تھا۔ پنجاب اسمبلی کے قائد ایوان کے لیے پاکستان تحریک انصاف اور اس کی اتحادی جماعت مسلم لیگ (ق) کے امیدوار اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی تھے جبکہ اپوزیشن کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز حکمران جماعت کے منحرف اراکین اور پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) اور آزاد اراکین کی حمایت سے میدان میں اترے تھے۔ اجلاس کے باقاعدہ آغاز سے قبل تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی ایوان میں لوٹے لے کر پہنچ گئے اور منحرف اراکین کے خلاف نعرے بازی شروع کردی۔ اجلاس کی صدارت کے لیے دوست محمد مزاری ایوان میں پہنچے تو حکومتی اراکین اسمبلی نے ڈپٹی اسپیکر کی نشست کا گھیراؤ کرلیا، اس دوران ان کی جانب لوٹے بھی اچھالے گئے اور ان کے بال بھی نوچے گئے، جس کے بعد ڈپٹی اسپیکر کو سخت سیکیورٹی میں ایوان سے باہر لے جایا گیا۔ حکومت اور اپوزیشن اراکین کے درمیان ہاتھا پائی بھی شروع ہوگئی، صورتحال پر قابو پانے کے لیے ایس ایس پی آپریشنز کے ہمراہ پنجاب پولیس کی بھاری نفری پنجاب اسمبلی پہنچ گئی , واضح رہے کہ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کے صاحبزادے حمزہ شہباز شریف 6 ستمبر 1974 کو لاہور میں پیدا ہوئے۔انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے گریجویشن کی اور لندن اسکول آف اکنامکس سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔حمزہ شہباز نے اوائل عمری سے ہی سیاست میں حصہ لیا اور 1994 میں دوران تعلیم ہی پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دیگر رہنماؤں کے ساتھ اڈیالہ جیل میں قید رہے، وہ 13-2008 اور 18-2013 کے دوران مسلسل 2 بار رکن قومی اسمبلی رہے۔حمزہ شہباز 2018 کے عام انتخابات میں رکن صوبائی اسمبلی پنجاب بھی منتخب ہوئے تھے اور انہوں نے قومی اسمبلی نشست خالی کرکے صوبائی نشست اپنے پاس رکھی اور پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بنے۔انہیں بعد ازاں مئی 2019 میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے نائب صدر مقرر کیا گیا اور وہ اپنی جماعت کے نائب صدر کے طور پر بھی خدمات انجام دے رہے ہیں جس کے صدر ان کے والد شہباز شریف ہیں۔اپنے نسبتاً نوجوان سیاسی کیریئر میں انہوں نے کھیلوں اور نوجوانوں کے امور، فوجداری نظام انصاف، بڑے شہروں کی تجارتی اور شہری منصوبہ بندی، مقامی اداروں کی تشکیل، ماحولیات، جنگلی حیات، ورثے کا تحفظ اور شہریوں کو شہری حقوق اور سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے جیسے اہم شعبوں میں اصلاحات کے عمل کی سربراہی کی اور اس عمل کو آگے بڑھایا۔حمزہ شہباز نے اپنے حلقے میں نئے تعلیمی اور صحت کے اداروں کے قیام کے اہم منصوبوں کی بھی قیادت کی۔حمزہ شہباز اسپورٹس بورڈ پنجاب کے چیئرمین بھی رہ چکے ہیں، جہاں دنیا کے بڑے بڑے کھیلوں کے مقابلوں کا کامیابی سے انعقاد کیا گیا۔ حمزہ شہباز ایک متحرک عوامی نمائندے ہیں جو معاشرے کے تمام طبقات کے ساتھ بڑے پیمانے پر رابطے میں رہتے ہیں اور مشترکہ فیصلہ سازی اور جمہوری اقدار آگے بڑھانے پر یقین رکھتے ہیں۔حمزہ شہباز قدرتی اور جنگلی حیات میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں، اکثر قدرتی اور پہاڑی علاقوں کا سفر کرتے ہیں اور سیاسی سوانح عمری پڑھنا بھی پسند کرتے ہیں ۔حمزہ شہباز کی دو بیویاں ہیں۔ کرنل راس کی بیٹی اور پی ٹی آئی کے صوبائی وزیر مراد راس کی بہن مہر النساء سے حمزہ شہباز نے پسند کی شادی کی تاہم اس شادی میں والدین کی بھرپور رضامندی بھی شامل تھی۔ والدہ اور خاندان نے لاہور کی کشمیری اشرافیہ کے ہاں حمزہ کی ڈاکٹر رابعہ خان سے ان کی پہلی اور خاندانی شادی 2012ء میں کی تھی۔ رابعہ خان زیادہ تر بیرون ملک رہتی ہیں ، جن سے حمزہ شہباز کی اکلوتی اولاد ایک بیٹی سماویہ ہے جو 7 فروری 2019ء کو لندن میں پیدا ہوئی،بحیثیت چیف ایگزیکٹیو رمضان شوگر ملزحمزہ شہباز پر اور اُن کے والد شہباز شریف پر کرپشن کے الزامات عائد کیے گئے، جون 2019 میں حمزہ شہباز کو 2 مقدمات میں کوٹ لکھپت جیل بھیجا گیا تھا، 20 ماہ قید رہنے کے بعد گزشہ سال فروری میں انہیں رہا کردیا گیا، اُن پر منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثوں کا بھی الزام تھا۔پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ باپ بیٹا وزارت اعظمی اور وزارت اعلیٰ کے منصب پر فائز ہوئے ہیں۔مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف پاکستان کے وزیراعظم جب کہ ان کے صاحبزادے پنجاب کے وزیراعلیٰ منتخب ہوئے ہیں۔پاکستان میں خاندانی سیاست کی ریت پرانی ہے۔ جہاں ایک ہی گھر میں وزارت عظمیٰ اور وزارت اعلیٰ کا منصب مہربان رہ چکا ہے۔پنجاب سے شریف فیملی میں محمد نوازشریف اور شہبازشریف دونوں بھائی وزارت اعلیٰ کے منصب پر فائز رہ چکے ہیں۔ بڑے بھائی محمد نوازشریف تین بار وزارت عظمیٰ کا عہدہ بھی سنبھال چکے ہیں۔اس کے علاوہ سندھ سے پیپلزپارٹی کے بانی ذولفقار علی بھٹو ملک کے وزیراعظم کی نشست سنبھال چکے ہیں۔ان کے خاندان میں یہ عہدہ ان کی بیٹی بے نظیر بھٹو کے حصے میں رہ چکا ہے۔ جس کے بعد بے نظیر بھٹو کے خاوند آصف علی زرداری بھی صدر مملکت کے عہدے پر ذمہ داریاں ادا کرچکے ہیں۔پنجاب کے ایک اور سیاسی گھرانے سے چوہدری شجاعت حسین وزیراعظم رہ چکے ہیں۔ ان کے کزن چودھری پرویز الہی بھی ڈپٹی پرائم منسٹر کا عہدہ اپنے پاس رکھنے کا اعزاز رکھتے ہیں سندھ سے ایک اور خاندان بھی وزارت اعلیٰ کی ذمہ داریاں ادا کرچکا ہے۔ جس میں موجودہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ شامل ہیں۔ پیپلزپارٹی کے رہنما مراد علی شاہ کے والد عبداللہ شاہ بھی سندھ کی وزارت اعلیٰ سنبھال چکے ہیں۔صوبہ بلوچستان کے پہلے اور اب تک کے آخری وزیراعظم ہونے کا اعزاز میر ظفراللہ خان جمالی کو حاصل ہے۔ اس سے پہلے ان خاندان میں میر ظفراللہ خان جمالی کے کزن تاج محمد جمالی صوبے کی وزارت اعلیٰ سنبھال چکے ہیں۔بلوچستان سے ایک اور خاندان کے پاس وزارت اعلیٰ دو دفعہ رہ چکی ہے۔ سردار عطاءاللہ مینگل کو بلوچستان صوبے کے پہلے وزیراعلیٰ ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ اس کے بعد ان کے خاندان سے سردار اختر مینگل بھی وزارت اعلیٰ کے اہم منصب پر فرائض انجام دے چکے ہیں۔جام محمد یوسف بھی بلوچستان کے وزیراعلیٰ رہ چکے ہیں۔ ان کے بعد ان کے بیٹے جام کمال خان کو دو ہزار اٹھارہ کے الیکشن کے بعد صوبہ بلوچستان کی وزارت اعلیٰ سنبھالنے کا اعزاز حاصل ہے۔





