.(اصغر علی مبارک) ….
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے (Makkah Joint Defence Agreement) کے تحت پاکستان اپنی 17 لاکھ سے زائد فعال و ریزرو عسکری قوت، جوہری بازدارندگی (Nuclear Deterrent) اور غیر معمولی جنگی صلاحیتوں کے ساتھ اس نئے دفاعی اتحاد کے سب سے بڑے عسکری ستون کے طور پر ابھرا ہے۔
بین الاقوامی دفاعی تھنک ٹینکس (جیسے SIPRI) اور عسکری ماہرین کے مطابق، اس سہ فریقی اتحاد میں جہاں سعودی عرب مضبوط معاشی وسائل فراہم کرتا ہے اور ترکیہ اپنی جدید ترین دفاعی صنعت اور نیٹو معیار کی ٹیکنالوجی لاتا ہے، وہاں پاکستان اس پورے بلاک کو سب سے بڑی روایتی عسکری افرادی قوت (Conventional Force) اور اسٹریٹجک جوہری چھتری فراہم کر رہا ہے۔پاکستان آرمی، ایئر فورس اور نیوی کے فعال عسکری اہلکاروں کی تعداد تقریباً 6 لاکھ 50 ہزار سے زائد ہے، جبکہ 5 لاکھ سے زائد ریزرو فورس اور دیگر معاون عسکری و نیم عسکری دستوں (Paramilitary Forces) کو ملا کر یہ مجموعی صلاحیت 17 لاکھ (1.7 Million) سے تجاوز کر جاتی ہے۔ یہ تعداد اس اتحاد میں شامل تینوں ممالک میں سب سے بڑی فعال عسکری قوت ہے۔ پاکستان 17 لاکھ 10 ہزار فوج کیساتھ سب سے آگے ہے پاکستان کے پاس روایتی جنگوں، دہشت گردی کے خلاف طویل مہمات اور حالیہ علاقائی تنازعات کا وسیع اور عملی جنگی تجربہ ہے، جو خلیج کی سلامتی کے لیے انتہائی اہم اثاثہ مانا جا رہا ہے۔پاکستان اس اتحاد کا واحد جوہری ملک ہے جس کے پاس ایک اندازے کے مطابق 170 سے زائد ایٹمی وار ہیڈز اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے جدید ترین بیلسٹک و کروز میزائل سسٹمز (جیسے شاہین اور غوری سیریز) موجود ہیں۔مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید جنگی مہمات اور علاقائی عدم استحکام کے ماحول میں، پاکستان کی اس جوہری اور میزائل صلاحیت کو اس اتحاد میں نیٹو کے اجتماعی دفاعی اصول (ایک پر حملہ، سب پر حملہ) کے تحت شامل کیا گیا ہے، جو کسی بھی بیرونی طاقت کے خلاف ایک مضبوط ترین سدِراہ (Deterrent) کا کام کرے گی۔ستمبر 2025 کے باہمی معاہدے (SMDA) کے تسلسل اور فروری 2026 میں ایران جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والی کشیدگی کے بعد، پاکستان پہلے ہی اپنے ہزاروں فوجی دستے، جے ایف-17 جنگی طیارے، جدید ترین ڈرون اسکواڈرنز اور عسکری دفاعی نظام سعودی عرب کی سیکیورٹی کے لیے روانہ کر چکا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں جیو پولیٹیکل تبدیلیاں اور ایران پر امریکا و اسرائیل کی جنگ کے بعد خطے کا سیکیورٹی ڈھانچہ یکسر بدل گیا ہے اس صورتحال میں سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان نے تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے مکہ مکرمہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں جسے ’مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ‘ کا نام دیا گیا ہے تاریخی اتحاد میں شامل تینوں بڑی مسلم طاقتوں کی افرادی قوت کی بات کی جائے تو اس عسکری بلاک کے پاس مجموعی طور پر 31 لاکھ 18 ہزار سے زائد فوجی موجود ہیں، جن میں فعال فوج، ریزرو فورس اور پیراملٹری اہلکار شامل ہیں۔ اس افرادی قوت میں پاکستان 17 لاکھ 10 ہزار اہلکاروں کے ساتھ سب سے آگے ہے، جبکہ ترکیہ کے پاس 10 لاکھ 11 ہزار اور سعودی عرب کے پاس 3 لاکھ 97 ہزار عسکری اہلکار موجود ہیں۔
فضائی اور بحری محاذ پر بھی یہ اتحاد انتہائی مضبوط پوزیشن میں دکھائی دیتا ہے۔ تینوں ممالک کی فضائی افواج کے پاس مجموعی طور پر 3 ہزار 415 جنگی طیارے موجود ہیں، جن میں پاکستان کے پاس 1 ہزار 397، ترکیہ کے پاس 1 ہزار 101 اور سعودی عرب کے پاس 917 طیارے ہیں۔
بحری قوت کے لحاظ سے اس اتحاد کے پاس کل 344 بحری جہاز ہیں، جن میں 38 فریگیٹس شامل ہیں (ترکیہ کے پاس 17، سعودی عرب کے پاس 12 اور پاکستان کے پاس 9)۔
زیرِ سمندر دفاع کے لیے اتحاد کے پاس مجموعی طور پر 22 آبدوزیں موجود ہیں، جن میں ترکیہ کے پاس 14 اور پاکستان کے پاس 8 آبدوزیں ہیں، جبکہ سعودی عرب کے پاس فی الحال کوئی آبدوز موجود نہیں ہے۔
زمینی دفاعی جنگی ساز و سامان اور آرٹلری کے میدان میں یہ تینوں ممالک بے مثال صلاحیتوں کے مالک ہیں۔ ان کے پاس مجموعی طور پر 6 ہزار 46 ٹینکس کا ایک بڑا بیڑا موجود ہے، جس میں پاکستان کے پاس 2 ہزار 677، ترکیہ کے پاس 2 ہزار 284 اور سعودی عرب کے پاس 1 ہزار 85 ٹینکس ہیں۔
آرٹلری کے شعبے میں اس اتحاد کے پاس 2 ہزار 87 خودکار توپیں (سیلف پروپیلڈ آرٹلری)، 3 ہزار 821 کھینچی جانے والی توپیں (ٹوڈ آرٹلری) اور 1 ہزار 216 راکٹ لانچرز (ایم ایل آر ایس) کا بھاری ذخیرہ موجود ہے۔

عسکری اتحاد کی مالی اور تزویراتی بنیادیں بھی انتہائی مستحکم ہیں۔ ان تینوں ممالک کا مجموعی سالانہ دفاعی بجٹ 124.5 ارب امریکی ڈالرز تک پہنچتا ہے، جس میں سعودی عرب 64 ارب ڈالرز کے ساتھ سب سے زیادہ بجٹ مختص کرتا ہے، جبکہ ترکیہ کا دفاعی بجٹ 51.4 ارب ڈالرز اور پاکستان کا بجٹ 10 ارب ڈالرز ہے۔اس اتحاد کو پاکستان کی صورت میں ایک زبردست تزویراتی برتری حاصل ہے کیونکہ پاکستان ان تینوں ممالک میں واحد جوہری طاقت ہے جس کے پاس 190 سے زائد ایٹمی وار ہیڈز موجود ہیں۔ یہ تمام اعداد و شمار سرکاری طور پر سامنے لائے گئے ہیں، تاہم اصل صلاحیتیں ان سے بھی کہیں زیادہ ہو سکتی ہیں۔ مکہ مکرمہ کے قصر الصفا میں اس تاریخی معاہدے پر دستخط کے وقت وزیرِ اعظم شہباز شریف کے ہمراہ پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی خصوصی طور پر موجود تھے، جن کی ذاتی اور انتھک عسکری سفارت کاری کو اس سہ فریقی اتحاد کے قیام کا بنیادی محرک تسلیم کیا گیا ہے۔بین الاقوامی سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، پاکستان کا اس تزویراتی اتحاد میں “بڑے عسکری بھائی” کے طور پر آگے آنا یہ ثابت کرتا ہے کہ خلیجی ممالک اب مغربی سلامتی کے چھتر پر انحصار کم کر کے خطے کے اندر ہی پاکستان اور ترکیہ جیسی بڑی مسلم فوجی طاقتوں کے ساتھ ایک نیا اور خود مختار دفاعی بلاک قائم کر رہے ہیں۔ ماہرین اس معاہدے کو محض ایک کاغذی کارروائی نہیں بلکہ خطے میں طاقت کا نیا توازن قرار دے رہے ہیں۔ رائس یونیورسٹی کے بیکر انسٹی ٹیوٹ کے فیلو کرسٹین کوٹس السریچسن کہتے ہیں کہ ”علاقائی ممالک ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے امریکی سیکیورٹی پارٹنرشپ کی پائیداری پر شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔“ انہوں نے قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”امریکا کے ایران کے خلاف فوجی آپریشنز اور اس کے بعد جنگ کے طریقہ کار نے ان خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے، جس کی وجہ سے یہ ممالک اپنے سیکیورٹی تعلقات میں تنوع لا رہے ہیں۔ تاہم، نئے دفاعی معاہدوں کا مقصد انہیں امریکا کا متبادل بنانا نہیں بلکہ اضافی اسٹریٹجک اور پالیسی آپشنز حاصل کرنا ہے“۔ اسی طرح سینٹر فار انٹرنیشنل پالیسی کے تجزیہ کار سینا طوسی نے کہا کہ “یہ اس بات کی پہلی بڑی جیو پولیٹیکل علامت ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ خطے کے نظام کو نئے سرے سے ترتیب دے رہی ہے“۔”واشنگٹن پر مکمل انحصار کرنے کے بجائے سعودی عرب اب اپنے سیکیورٹی شراکت داروں کا دائرہ وسیع کر رہا ہے، جو کہ اس پورے معاملے کا سب سے اہم نکتہ ہے“۔ بین الاقوامی کرائسز گروپ کی تجزیہ کار یاسمین فاروق نے اس بات پر زور دیا کہ اس معاہدے کو ایران کے ساتھ براہِ راست تصادم کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے کیونکہ تینوں ممالک نے ہمیشہ کشیدگی کے خاتمے اور ثالثی کی بات کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ”ان ممالک میں جو چیز مشترک ہے وہ یہ ہے کہ تینوں علاقائی کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتے۔ اس معاہدے کی اہمیت دراصل ایک اخلاقی یا اصولی ڈیٹرنس قائم کرنا ہے تاکہ طویل مدتی اسٹریٹجک تعاون کو فروغ دیا جا سکے“۔ اٹلانٹک کونسل کے جنوبی ایشیا کے سینئر فیلو مائیکل کوگلمین نے پاکستان کے حوالے سے بتایا کہ “یہ معاہدہ پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ کے ابھرتے ہوئے سیکیورٹی ڈھانچے میں مزید اہم کردار فراہم کرتا ہے“۔ ”یہ معاہدہ پاکستان جیسی مسلم اکثریتی اور ایٹمی صلاحیت کی حامل ریاست کو خطے میں مزید وقار اور اثر و رسوخ فراہم کرے گا، جس سے پاکستان کا عالمی سطح پر ایک مثبت تشخص ابھرے گا“۔ ترکیہ کے حوالے سے جرمین مارشل فنڈ کے ڈائریکٹر اوزگور اونلوہسارکیکلی نے کہا کہ ”تینوں ممالک کے پاس تکمیلی طاقتیں ہیں، مبصرین کے مطابق، اسرائیل اس معاہدے کو خطے میں اپنے بڑھتے ہوئے عسکری اثر و رسوخ کے خلاف ایک “مخالف سنی بلاک” کے طور پر دیکھ رہا ہے، جس میں نیٹو کی دوسری بڑی فوج (ترکیہ)، دنیا کی بڑی معاشی طاقت (سعودی عرب) اور جوہری صلاحیت کا حامل ملک (پاکستان) یکجا ہو گئے ہیں۔بھارتی وزارتِ خارجہ نے اپنے ایک مختصر بیان میں کہا ہے کہ نئی دہلی اس معاہدے اور اس کی شقوں کی “قریبی نگرانی” (Closely Following) کر رہا ہے۔ دوسری جانب، اسرائیل اور امریکا کی طرف سے اس پر تاحال کوئی باضابطہ تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے، تاہم ماضی میں اسرائیلی حکام اس طرح کے اتحاد کو اپنے خلاف ایک بلاک کے طور پر دیکھتے رہے ہیں۔اگرچہ عملی طور پر یہ سوالات اب بھی موجود ہیں کہ اگر کسی ایک ملک کی جنگ دوبارہ شروع ہوتی ہے تو کیا دوسرے ممالک اس میں براہِ راست کودیں گے یا نہیں، لیکن فی الحال یہ معاہدہ خطے میں کسی بھی ممکنہ جارحیت کو روکنے کے لیے ایک بہت بڑا اسٹریٹجک ہتھیار ثابت ہوگا جس سے حملے کی قیمت دشمن کے لیے بہت زیادہ بڑھ جائے گی۔مکہ مکرمہ کے قصر الصفا میں منعقدہ تقریب میں پاکستان کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف، سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان جب کہ ترکیہ کے صدر طیب اردوان نے معاہدے پر دستخط کیے ہیں ۔ مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ یہ معاہدہ تینوں ممالک کے درمیان تاریخی تعلقات، اسلامی یکجہتی، مشترکہ اسٹریٹیجک مفادات اور دیرینہ دفاعی تعاون کی بنیاد پر استوار کیا گیا ہے۔ معاہدے کا مقصد جارحیت کے خلاف مشترکہ دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا، دفاعی تعاون کو وسعت دینا اور خطے سمیت عالمی سطح پر امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ میں کردار ادا کرنا ہے۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ کے مطابق اس معاہدے کے بعد پاکستان، سعودی عرب یا ترکیہ میں سے کسی ایک ملک پر حملے کو تینوں ملکوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ دفتر خارجہ نے جاری بیان میں مشترکہ دفاعی معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس معاہدے کا مقصد تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون، باہمی رابطوں اور مشترکہ سلامتی کے نظام کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ سعودی عرب کے نائب وزیر برائے پبلک ڈپلومیسی ڈاکٹر راعد کریملی نے کہا ہے کہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے کا مقصد کسی ملک یا گروہ کو نشانہ بنانا یا موجودہ دفاعی معاہدوں کی جگہ لینا نہیں ہے۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ تینوں ممالک کے درمیان کئی دہائیوں پر محیط مضبوط اور تزویراتی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے اور یہ کئی برسوں پر مشتمل تفصیلی مذاکرات کے بعد پایۂ تکمیل تک پہنچا ہے۔ ترک حکام نے بھی اس معاہدے سے متعلق اسی طرز کا بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سہ فریقی معاہدے کے تحت تینوں ممالک صرف دفاعی معاملات میں ایک دوسرے کی معاونت کے پابند ہوں گے۔ ترک حکام نے وضاحت کی ہے کہ یہ معاہدہ کسی مخصوص ملک، ریاست یا فریق کے خلاف نہیں بنایا گیا بلکہ خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی اس میں شمولیت کے دروازے کھلے ہیں۔ یہ دفاعی معاہدہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان یا ان ممالک کے دیگر ریاستوں اور بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ موجود کسی بھی دوطرفہ یا کثیرالجہتی معاہدے کو نہ ختم کرتا ہے اور نہ ہی اس کی جگہ لیتا ہے۔