حکومت; ٹی ٹی پی مذاکرات; سوات میں مسلح طالبان کی اطلاع گمراہ کن قرار………….۔۔کالم اندر کی بات….:کالم نگار،اصغر علی مبارک……………افواج پاکستان اور پاکستانی قوم کی بے مثال قربانیوں کی بدولت پاکستان میں ریاستی عمل داری ، امن کی بحالی اور معمول کی زندگی کی واپسی کو یقینی بنایا گیا گزشتہ چند دنوں کے دوران، وادی سوات میں کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی کے مسلح ارکان کی بڑی تعداد کی مبینہ موجودگی کے بارے میں ایک غلط فہمی سوشل میڈیا پر پیدا ہوئی زمینی تصدیق کے بعد، یہ رپورٹس انتہائی مبالغہ آمیز اور گمراہ کن قرار پائی ہیں۔ سوشل میڈیا پر برائے مہربانی غلط معلومات پھیلانے سے گریز کیاجائے معلوم نہیں ہے کہ یہ ٹی ٹی پی کے لوگ ہیں یا ان کا تعلق دیگر عسکریت پسند گروہوں یا جرائم پیشہ افراد سے ہے جو طالبان کا نام استعمال کر رہے ہیں۔ایسے گروہ ہیں جو نہیں چاہتے کہ حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوں۔افغانستان کے لیے پاکستان کے خصوصی نمائندے محمد صادق نے کہا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ امن مذاکرات کی کامیابی کا انحصار کالعدم گروپ کے رویے پر ہے۔ بین الاقوامی اور قومی تناظر‘ کے عنوان سے ایک کتاب کی تقریبِ رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات میں افغان طالبان مددگار ثابت ہوئے ہیں۔۔امن مذاکرات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں، ان کی کامیابی کا انحصار ٹی ٹی پی کے طرز عمل پر ہوگا۔محمد صادق کا یہ تبصرہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب افغانستان کے صوبے پکتیکا میں ایک بم حملے میں ٹی ٹی پی کے اہم رہنما عمر خالد خراسانی کے ساتھ 2 دیگر رہنماؤں کی ہلاکت ہوئی ہے، تاحال کسی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے عمر خراسانی پاکستانی حکام اور قبائلی جرگے کے ساتھ مذاکرات کرنے والی ٹی ٹی پی ٹیم کا حصہ تھے۔عمر خراسانی کی ہلاکت سے ٹی ٹی پی اور پاکستان کے درمیان رواں سال جون سے جاری امن مذاکرات متاثر ہونے کا خدشہ ہے‘حالیہ پروپیگنڈہ ایسے گروہوں یا جرائم پیشہ افراد کی کارروائی ہےجو نہیں چاہتے کہ حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوں اتفاق سے جس فیملی کے بارے سوشل میڈیا پر پراپیگنڈہ کیا جاتارپا ان سے راقم الحروف کاتین عشروں فیملی تعلقات ھیں جنہوں نے تمام افواہوں کی تردید کی راولپنڈی کے علاقے قیام پذیر مرحوم شیرعلی کا منقسم خاندان سوات سے آکر آباد ہوا ان کے بڑے بیٹے سینئر صحافی ہیں جنہوں نے متعدد یادگار رپورٹ سے نام بنایا جبکہ دوسرے بھائی جی پی او راولپنڈی سے ریٹائرمنٹ کے بعد موبائل فونز کے بزنس سے وابستہ ہیں۔راقم الحروف کو بتایاگیاکہ سوات ڈس انفارمیشن کی فیکٹریاں قائم ہیں جنکے خلاف نیشنل ایکشن پلان کے تحت کارروائیاں ناگزیر ہوچکی ھے سوشل میڈیا پر وائرل وہڈیو واقعہ بھی اس سلسلہ کی کڑی قراردی جاسکتی ھے.پاکستان کے موقر اخبارات جنکے اپنے کئی نیوز چینل ہیں 11 اگست کو خبر شائع کی ”کہ سوات میں طالبان کی موجودگی اور جھڑپ کے حوالے سے ذمہ داروں کی خاموشی،عوام میں تشویش ، زخمی ڈی ایس پی اور سیکورٹی اہلکاروں کو یرغمال بنانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل،عوام تذبذب کا شکارہیں, تحصیل مٹہ میں گزشتہ 48 گھنٹوں سے پولیس اور طالبان کے مابین جھڑپ اور ڈی ایس پی مٹہ پیر سید سمیت فورسز کے ذمہ داروں کویرغمال بنایا گیا ۔”12 اگست ، 2022 ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار احمد نےصحافیوں کو ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کا کردار اور قربانیاں سب جانتے ہیں۔اس مرحلے پر دو صحافیوں نے سوال کیا۔ٹی ٹی پی سوات میں سرگرم ہے۔ وہ سوات کے آس پاس کے علاقوں میں آباد ہیں۔ پاکستان کے اندر حالیہ حملوں کے بعد کیا افغانستان کے ساتھ ٹی ٹی پی کے حوالے سے کوئی بات چیت ہو رہی ہے؟ترجمان دفتر خارجہ نے جواب دیامیرے خیال میں ٹی ٹی پی سے متعلق سوالات، جو مذاکرات ہو رہے تھے، بہتر ہے کہ وہ ان لوگوں کے سامنے رکھے جو براہ راست اس عمل سے منسلک ہیں۔ میرے پاس اس وقت آپ کے ساتھ اشتراک کرنے کے لیے کوئی اپ ڈیٹ نہیں ہے۔میں جو کچھ کہہ سکتا ہوں اور دہرا سکتا ہوں کہ یہی توقع ہے اور پارلیمنٹ کے ممبران کو دی گئی تفصیلی بریفنگ کے دوران بھی یہی سمجھا گیا تھا کہ یہ ایک ایسا عمل ہونے جا رہا ہے جو پارلیمنٹ کے دائرہ کار میں ہو گا۔اگلے دن آئی ایس پی آر کے مطابق ”گزشتہ چند دنوں کے دوران، وادی سوات میں کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی کے مسلح ارکان کی بڑی تعداد کی مبینہ موجودگی کے بارے میں ایک غلط فہمی سوشل میڈیا پر پیدا ہوئی ہے۔ زمینی تصدیق کے بعد، یہ رپورٹس انتہائی مبالغہ آمیز اور گمراہ کن قرار پائی ہیں۔ سوات اور دیر کے درمیان چند پہاڑی چوٹیوں پر مسلح افراد کی کم تعداد میں موجودگی دیکھی گئی ہے جو آبادی سے بہت دور ہیں۔ بظاہر یہ افراد اپنے آبائی علاقوں میں دوبارہ آباد ہونے کے لیے افغانستان سے چوری چھپے آئے تھے۔ پہاڑوں میں ان کی محدود موجودگی اور نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جارہی ہے۔ تمام ایل ای اے کی طرف سے ملحقہ علاقوں کے لوگوں کی حفاظت اور حفاظت کے لیے ضروری اقدامات کیے گئے ہیں۔ عسکریت پسندوں کی کسی بھی جگہ موجودگی کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر طاقت کے بھرپور استعمال سے نمٹا جائے گا۔” پاکستان اس وقت دہشت گردی کی کارروائیوں اور کالعدم تنظیموں کی مبینہ مالی معاونت کے الزامات کی بنا پر ہی فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی طرف سے ابھی تک گرے لسٹ میں شامل رہا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس معاملے میں احتیاط سے کام لیتے ہوئے اورزمینی حقائق کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے آگے بڑھا جائے۔ وزیر اعظم نے سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں یہ یقین دہانی کروائی ہے کہ کالعدم تنظیم کے ساتھ مذاکرات آئین وقانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کیے جارہے ہیں اس ضمن میں جو بھی فیصلہ ہوگا اس کی پارلیمنٹ کی منظوری بھی حاصل کی جائے گی ۔ اس وقت ملک پر درجن بھر سیاسی جماعتوں کے اتحاد پر مشتمل ایک سول حکومت کے ہاتھ میں عنانِ اقتدار ہے جو ایوان کی اکثریتی رائے کے ساتھ وجود میں آئی ہے یہ حکومت 2018ء کے انتخابات کے نتیجے میں منتخب ہونے والی تحریکِ انصاف اور اس کی چند اتحادی جماعتوں کی حکومت کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کی کامیابی کی بنیاد پر قائم ہوئی ہے ۔جسے ایوان کی اکثریت کا اعتماد کھو جانے کی بنا پر اقتدار سے باہر کیا گیا تھا۔ یوں موجودہ حکومت کے پاس صرف سوا سال کا عرصہ ہے۔ اس سوا سال کی مختصر مدتِ اقتدار میں نئی حکومت کو بہت سے مسائل اور داخلی اور خارجی سطح پر چیلنجز کا سامنا ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ معاشی بحران کا ہے جس کو حل کرنے کے لیے حکومت تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ اس کے ساتھ سیاسی عدم استحکام، امن و امان، مہنگائی، بیروزگاری، افراطِ زر ایسے مسائل بھی جڑے ہوئے ہیں۔ ان سارے مسائل کے حل کی کلید سیاسی استحکام ہے۔ جس کا تعلق داخلی اور خارجی ہر دو طرح کے مسائل سے ہے۔ خارجی حوالے سے ہمیں ایک طرف امریکہ، بھارت کی مخاصمانہ پالیسی کی وجہ سے مشکلات درپیش ہیں تو دوسری طرف ہمسایہ ملک افغانستان کے ساتھ بھی بعض امور پر تحفظات ہیں،کالعدم مسلح تنظیمیں پاکستان کی سلامتی کے درپے ہیں اور بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے تعاون سے ملک کے مختلف حصوں میں تخریبی کارروائیاں کرتی رہتی ہیں ، جس کی وجہ سے دہشت گردی پاکستان کا ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔افغانستان میں ان دہشت گرد تنظیموں کو پناہ حاصل رہی ہے۔ گزشتہ برس طالبان کی حکومت کے قیام کے بعدعمران خان کی وزارتِ عظمیٰ کے دور میں افغانستان کی امارتِ اسلامیہ کی وساطت سے کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کے عمل کا آغاز ہوا جس کے نتیجے میں جزوی طور پر دہشت گردی کی کارروائیوں کا سلسلہ رک گیا لیکن کالعدم تنظیم کی طرف سے بعض شرائط تسلیم نہ کیے جانے کی بنا پر بعدازاں یہ سلسلہ پھر شروع ہو گیا۔ اب پھر افغانستان کی حکومت کی معاونت سے کالعدم تنظیم کے ساتھ مذاکرات شروع کئے گئے ہیںملک کی عسکری قیادت ہی کی معاونت سے گزشتہ حکومت کے دور میں ہونے والے کالعدم ٹی ٹی پی سے مذاکرات کے موقع پر موقف اپنایا گیا تھا کہ کالعدم تنظیم کو پاکستان کے قانون کے زیر اثر آنا ہو گا اور اس سے پہلے سرنڈر کرنا ہو گا۔ درحقیقت یہی وہ قومی موقف ہے جس کو پوری قوم کی حمایت حاصل ہے۔ سیکورٹی سے متعلق ’پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیز‘ کے ڈیجیٹل ڈیٹا بیس سے حاصل کردہ اعداد و شمار کے مطابق، ٹی ٹی پی نے 2007ء میں اپنے قیام کے بعد سے اب تک، علیحدگی اختیار کرنے والے اور اس سے وابستہ مقامی گروہوں کے علاوہ، اکیلے پاکستان میں 3280 دہشت گردانہ حملے کیے جن میں 301 خودکش دھماکے بھی شامل ہیں۔کالعدم گروہ کی طرف سے کیے جانے والے ان حملوں کے ذریعے سیکورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 5772 اہلکار اور 4559 عام شہری شہید ہوئے۔ نیز 554 سیاسی رہنما اور کارکنان، 519 حکومت کے حامی قبائلی عمائدین اور CPEC سے متعلقہ منصوبوں پر کام کرنے والے 14 افراد بھی ان کارروائیوں میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ان حملوں میں 352 جنگجومارے گئے جو یا تو خودکش حملہ آور تھے یا سیکورٹی فورسز کی جوابی فائرنگ میں مارے گئے۔ 2007 کے بعد سے، سیکورٹی فورسز کے تقریباً 1200 اہلکار بھی کارروائیوں، مسلح جھڑپوں اور عسکریت پسندوں کے ساتھ تصادم میں مارے گئے، خاص طور پر ٹی ٹی پی اور اس سے وابستہ گروہوں کے ساتھ تصادم میں۔ تصویر اس وقت مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے اگر ٹی ٹی پی اور اس کی سابقہ شاخوں، جیسے حز ب لاحرار اور جماعت الاحرار، کی طرف سے فرقہ وارانہ اور طبقاتی بنیادوں پر کیے گئے حملوں کو بھی شمار کیا جائے۔ حیران کن طور پہ جب ٹی ٹی پی کے ساتھ امن مذاکرات کی ابتدائی اطلاعات سامنے آئیں تو اس پر کوئی بڑا رد عمل سامنے نہیں آیا۔ افغانستان میں ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات میں جہاں جنگ بندی اور فاٹا انضمام پر بات چیت میں ایک موضوع ان طالبان کے اپنے علاقوں میں واپسی کا بھی تھا۔حکومت کی جانب سے یہ کہا گیا تھا کہ واپسی غیر مسلح ہو گی اور ان تمام افراد کو آئین اور قانون کے مطابق زندگی گزارنا ہوگی۔ مسلح تحریکوں کی تعریف و توضیح کے لیے استعمال کی جانے والی اصطلاحات کی تحلیل سیاست، قوم پرستی، شناخت، مذہب اور ریاستی اداروں میں طاقت کے توازن سے متعلق ساختیاتی مسائل کو بے نقاب کرتی ہے۔کچھ عرصہ پہلے تک، عوام یہ ماننے کے لیے ہی تیار نہیں تھے کہ طالبان یا دیگر مذہبی عسکریت پسند گروہ پاکستان کے خلاف دہشت گردی میں ملوث ہو سکتے ہیں۔ ملک سے باہر ان کے اقدامات کو جہادی کارروائیوں کا نام دیا جاتا تھا۔عوامی شکایات موصول ہوئی ہیں کہ ان علاقوں میں طالبان کے نام سے کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔معلوم نہیں ہے کہ یہ ٹی ٹی پی کے لوگ ہیں یا ان کا تعلق دیگر عسکریت پسند گروہوں یا جرائم پیشہ افراد سے ہے جو طالبان کا نام استعمال کر رہے ہیں۔ایسے گروہ ہیں جو نہیں چاہتے کہ حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوں۔‘حالیہ پروپیگنڈہ ایسے گروہوں یا جرائم پیشہ افراد کی کارروائی ہے۔اس قسم کے پروپیگنڈہ بچیں….تاکہ علاقے میں امن قائم ہو