حالات کاتقاضہ;آئین میں ایمرجنسی کے نفاذ کا آپشن موجود.. کالم..اندر کی بات…کالم نگار….اصغر علی مبارک………………… …..حالات کاتقاضہ ہوا توملک میں ایمرجنسی لگائی جاسکتی ہے، آئین پاکستان 1973میں کہا گیا ہے کہ اگر ملک میں داخلی شورش صوبائی حکومت کے کنٹرول سے باہر نکل جائے تو ایمرجنسی کا راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔ آئین پاکستان 1973کے آرٹیکل 232؍ میں لکھا ہے کہ ’’اگر صدر مطمئن ہو کہ ایسی سنگین ہنگامی صورتحال موجود ہے جس میں پاکستان، اس کے کسی حصہ کی سلامتی کو جنگ یا بیرونی جارحیت کی وجہ سے، یا داخلی خلفشار کی بناء پر ایسا خطرہ لاحق ہے جس پر قابو پانا کسی صوبائی حکومت کے اختیار سے باہر ہے تو ہنگامی حالت کا اعلان کر سکتے ہیں۔‘‘ ہنگامی صورتحال میں صدر مملکت کو وزیراعظم کی ہدایات پر عمل کرنا ہوگا۔ تاہم، جہاں خلفشار صوبائی حکومت کے کنٹرول سے باہر ہو اس صوبے کی اسمبلی سے ایمرجنسی کے نفاذ کیلئے ایک قرارداد منظور کرانا ہوگی۔ موجودہ صورتحال میں دو صوبوں پنجاب اور خیبر پختونخوا میں صوبائی اسمبلیاں موجود نہیں کیونکہ انہیں تحلیل کر دیا گیا ہے، اور دونوں صوبوں میں پی ٹی آئی کے مظاہرین پر تشدد ہوکر ریاستی اداروں پر حملے کر رہے ہیں۔

پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ اور امیر جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ آج کا جو فیصلہ آیا اس کی آڈیو پہلے ہی سامنے آ چکی تھی، سب انجینئرڈ اور پہلے سے طے شدہ فیصلےہیں، عدالت خود کنفیوز ہے، عدالت بتائےعمران گرفتار ہے یا رہا ہے؟

عدالتی فیصلے کے بعد امیر جمعیت علمائے اسلام کی سربراہی میں جے یو آئی کا اجلاس ہوا، اجلاس میں جماعت کی سینئر قیادت شریک ہوئی۔

اجلاس میں مولانا فضل الرحمان کی وزیر اعظم سے ہونے والی ملاقات سے متعلق پارٹی قیادت کو آگاہ کیا گیا۔

مولانا فضل الرحمان نے اجلاس میں سپریم کورٹ کی سماعت اور فیصلے سے متعلق سخت فیصلے لینے کا اظہار کیا۔ جبکہ آئندہ چند روز میں احتجاجی حکمت عملی طے کی گئی۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ڈی ایم کے سربراہ نے کہا کہ آج سپریم کورٹ نےعمران خان کی سہولت کاری کی، ہم نےاجلاس طلب کر کے فوری ردعمل دیاہے، کل پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس بھی طلب کیاجارہاہے، عدالت نے تمام جرائم دیکھتے ہوئے بھی عمران کو سہولت کاری دی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے غنڈوں نے جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو)، کور کمانڈر ہاؤس پر حملہ کیا، عدالت نے ان غنڈوں کے لیڈر کو کہا آپ کے آنے سے خوشی ہوئی، 2 روزمیں قومی املاک کو نقصان پہنچایا گیا، چاہیے تو یہ تھا ان کے خلاف بغاوت اور غداری کا مقدمہ کیا جاتا، پی ٹی آئی نے وہ کیا جو بھارت نہ کر سکا۔

امیر جمعیت علمائے اسلام ف کا کہنا تھا کہ آج کا جو فیصلہ آیااس کی آڈیو پہلے ہی سامنے آ چکی تھی، عدالت خود کنفیوز ہے، عدالت بتائے عمران خان گرفتار ہے یا رہا ہے؟ 25 مئی کو اسلام آباد آنے کی بھی سہولت فراہم کی گئی تھی۔آج پھر عمران کو سہولت کاری فراہم کی جا رہی ہے، ان کو سیاست کرنی ہی نہیں آتی، یہ دودن کی مار کے لوگ ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ سب انجینئرڈ اور پہلے سے طے شدہ فیصلےہیں، ہم کشتیاں جلا کر میدان میں اترتے ہیں، ہم عمران خان سے کس چیز پرمذاکرات کریں ؟ عمران اس قابل ہیں کہ ان سےمذاکرات کئےجائیں؟

آئین پاکستان 1973 میں بتایا گیا ہے کہ اگر صدر مملکت اپنے تئیں کارروائی کرتے ہیں تو ایسی صورت میں ایمرجنسی کے نفاذ کا معاملہ دس روز کے اندر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں پیش کرنا ہوگا۔ جس وقت ایمرجنسی نافذ ہو، پارلیمنٹ کو اختیار ہوگا کہ وہ کسی صوبے یا اس کے کسی حصے کیلئے کسی ایسے معاملے کی نسبت قوانین وضع کرے جو وفاقی قانون سازی کی فہرست میں درج نہ ہو۔

وفاق کا عاملانہ اختیار کسی صوبے کو اس طریقے کی بابت ہدایات دینے تک وسعت پذیر ہوگا جس کے مطابق اس صوبے کے عاملانہ اختیارات کو استعمال کیا جانا ہے۔ آئین میں یہ بھی لکھا ہے کہ جب ہنگامی حالت کا اعلان نافذ العمل ہو تو پارلیمنٹ بذریعہ قانون قومی اسمبلی کی میعاد میں زیادہ سے زیادہ ایک سال کی توسیع کر سکے گی، اور وہ توسیع مذکورہ اعلان کے ساقط العمل ہو جانے کے بعد کسی صورت میں بھی6؍ ماہ سے زیادہ نہیں ہوگی۔

ہنگامی حالت کا کوئی اعلان ایک مشترکہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا جو صدر کے اعلان کے جاری کیے جانے سے 30؍ دن کے اندر طلب کیا جائے گا اور وہ دو ماہ کے اختتام پر ساقط العمل ہو جائے گا تاوقتیکہ اس مدت کے ختم ہو جانے سے پہلے اسے مشترکہ اجلاس کی ایک قرارداد کے ذریعے منظور نہ کر لیا گیا ہو۔ آئین پاکستان 1973 میں یہ بھی لکھا ہے کہ جس دوران ہنگامی حالت کا اعلان نافذ العمل ہو، صدر مملکت بذریعہ فرمان یہ اعلان کر سکتے ہیں کہ آئین پاکستان 1973 کے حصہ دوم کے باب اول کی رو سے عطا کردہ بنیادی حقوق میں سے ان کے نفاذ کیلئے جن کی فرمان میں صراحت کر دی جائے کسی عدالت سے رجوع کرنے کا حق اور کسی عدالت میں کوئی کارروائی جو اس طرح مصرحہ حقوق میں سے کسی کے نفاذ کیلئے ہو یا جس میں ان حقوق میں سے کسی کی خلاف ورزی کے متعلق کسی سوال کا تعین مطلوب ہو، اس مدت کیلئے معطل رہے گی جس کے دوران مذکورہ اعلان نافذ العمل رہے اور ایسا کوئی فرمان پورے پاکستان یا اس کے کسی حصے کے بارے میں صادر کیا جا سکے گا۔

واضح رہے کہ القادر ٹرسٹ کیس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئر مین اور سابق وزیراعظم عمران خان کی سپریم کورٹ میں رہائی کے بعد مسلم لیگ ن نے سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ نوازشریف اوردیگرکارکن کیوں عدلیہ کےحسن سلوک سےمحروم رہے؟ کیا حسن سلوک صرف عمران خان کےلیےمخصوص ہے؟ عدالتیں حکم دیتی ہیں،خواہشات کااظہارنہیں کرتیں۔ حالات کاتقاضہ ہواتوملک میں ایمرجنسی لگائی جاسکتی ہے۔ ملک میں مارشل لاء کاکوئی امکان نہیں۔ وزیردفاع کا کہنا تھا کہ عدالتوں کی بڑی عزت اوراحترام کرتاہوں،ان حکم کامنتظرتھا، عدالتوں نےحکم کےبجائےخواہشات کا اظہارکیا۔ سوموٹونوٹسز،راتوں کوعدالتیں،تشویش قانون پامال ،عمران خان کی خواہشات پرقانون اورآئین پامال ہوا۔ شہبازشریف آشیانہ کیس میں عدالت گئے،صاف پانی کیس میں پکڑلیا ۔ نیب قوانین میں ترامیم کاپہلابینیفشری عمران خان بنا۔ وزیردفاع خواجہ آصف کا مزید کہناتھا کہ اب توریسٹ ہاؤس میں سہولیات کابھی پوچھاجارہاہے۔ ملک میں2معیارکیوں ہیں؟ ان کا کہنا تھا کہ وہ کہتےہیں مجھےڈنڈےمارےگئے،اسکےبعدکچھ یادنہیں، جب چاہایادداشت غائب ہوگئی،جب چاہاواپس آگئی۔ پولیس تحویل اوران کےخیراتی اسپتال کےمیڈیکل میں زمین آسمان کافرق ہے۔ قوم کوکب تک بےوقوف بنایاجاتارہےگا۔4، 5سوقدم فاصلہ طےکرچلتےہوئےوہ کوریڈورمیں گئے ۔ چلنےسےیہ ظاہر نہیں ہورہاتھاکہ ان کی ٹانگ میں تکلیف ہے۔ عمران نےگرفتاری سے پہلے ویڈیو پیغام میں ورکرز کو کیا تلقین کی تھی؟ کیا عمران نے کارکنوں کو تشدد کے لیے نہیں اکسایا؟ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ عدالتوں کوشہداء کی یادگارپرحملوں کاسوموٹولیناچاہیےتھا، کورکمانڈرلاہورکےگھرپرحملوں کا سوموٹو تو نہیں لیا گیا۔ نوازشریف،آصف زرداری،فریال،مریم کسی ریسٹ ہاؤس میں نہ رہے۔ یہاں عدالت عظمیٰ نےسہولیات کی فراہمی کویقینی بنایاہے ۔ باقاعدہ حکم میں عمران خان کوسہولیات دینےکالکھ دیاگیاہے ۔ ملک میں یہ دہرامعیارکیوں ہے؟ جلاؤ،گھیراؤ،ان کےلیڈران کی استعمال کردہ زبان سب نےدیکھاان کےلیڈراورسابق وزراکیاکہہ رہے ہیں ۔ خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ کیایہ حملےملکی سالمیت پرحملہ اورملک دشمنی نہیں؟ عدلیہ خواہش کےبجائے“ریکوئیسٹ“کہہ دیتی۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف سے جمیعت علماء اسلام اور پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے وزیر اعظم ہاؤس میں ملاقات کی۔دونوں رہنمائوں نے ملاقات میں موجودہ ملکی سیاسی صورتحال پر تفصیلی مشاورت کی۔ ملاقات میں پی ٹی آئی کے کارکنوں کی طرف سے ریاستی اداروں پر حملے اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔ رہنمائوں نے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے پر بھی مشاورت کی اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا۔سب سے پہلے پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر اور پارٹی کی چیف آرگنائزر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر رد عمل دیا۔

انہوں نے ٹویٹر پر لکھا کہ چیف جسٹس صاحب کو آج قومی خزانے کے 60 ارب ہڑپ کرنے والے وارداتیے کو مل کر بہت خوشی ہوئی اور اس سے بھی زیادہ خوشی انہیں اس مجرم کو رہا کر کے ہوئی۔

مریم نواز نے لکھا کہ ملک کی اہم ترین اور حساس تنصیبات پر حملوں کے سب سے بڑے ذمہ دار چیف جسٹس ہیں جو ایک فتنہ کی ڈھال بنے ہوئے ہیں اور ملک میں لگی آگ پر تیل چھڑک رہے ہیں۔ آپ چیف جسٹس کا منصب چھوڑ دیں اور اپنی ساس کی طرح تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کریں۔وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ جب عدالتوں کے فیصلے مجرموں کی پشت پناہی کرتے ہیں اس وقت عدالتوں کی بےتوقیری ہوتی ہے، ملک کو جلانے والوں کی پشت پناہی کی جا رہی ہے۔ اگرعدالت دہشت گردوں، مسلح جتھوں کی پشت پناہی کرے گی تو پھر تمام لوگ ریلیف کے مستحق ہوں گے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ قانونی طریقے سے نیب نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئر مین عمران خان کو گرفتار کیا، کیا گولیاں چلانے والے کو ہار پہنا کر گرفتار کرتے، 3 دن سے مسلح جتھے سرکاری عمارتوں پر حملہ آور ہیں، سوچی سمجھی سازش کے تحت مسلح جتھوں کو تعینات کیا گیا۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے مسلم لیگ ن کی ترجمان نے کہا کہ سب نے سنا ہے پی ٹی آئی قیادت نے کیسے مظاہرین کو ہدایات جاری کیں، اگرعدالت دہشت گردوں، مسلح جتھوں کی پشت پناہی کرے گی تو پھر تمام لوگ ریلیف کے مستحق ہوں گے۔ جناح ہاؤس کو جلایا گیا، مریضوں کو ایمبولینس سے نکال کر گاڑیاں جلائی گئیں، شہدا کی یادگاریں جلائی گئیں، کور کمانڈر، رانا ثنا اللہ کا گھر جلا، کیا وہ ملک کے شہری نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر بندوق اٹھانے والے کو ریلیف ملے گا تو پھر ملک جلے گا، جب لاڈلے نے آئین توڑا اس کو اس وقت سزا کیوں نہیں دی، اگر اس وقت دہشت گرد کو سزا مل جاتی تو آج ملک جل نہ رہا ہوتا، 75 سال میں بدترین دشمن وہ کچھ نہیں کر سکا جو اس نے کر دیا۔ اگر اس کو ریلیف دینا ہے تو پھر عدالت، کچہریوں کو بند کر دیا جائے، ثاقب نثار اگر صادق اور امین کا سرٹیفکیٹ نہ دیتا تو آج ملک کا یہ حال نہ ہوتا، عمران خان کو 60 ارب روپے کی چوری کا حساب دینا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ القادر ٹرسٹ، جتنے بھی کردار ہیں سب کو عبرتناک سزا دینی چاہیے، اگر آج عمران خان کو ریلیف ملا تو عدالتوں کی طرف سے ”لائسنس ٹوکِل“ ہو گا، آج اگر ریلیف ملا تو پھر سب چور، ڈاکوؤں کو رہا کر دینا چاہیے۔ عدالت کی طرف سے حکم دیا گیا کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین اسلام آباد ہائیکورٹ سے کل رجوع کریں اور آپ کو عدالت عالیہ کا فیصلہ ہر حال ماننا ہو گا۔

عمران خان کے وکیل حامد خان نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیشی کے لیے مہلت دی جائے ، حامد کی درخواست سپریم کورٹ کی جانب سے مسترد کر دی گئی۔

چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ کل اسلام آباد ہائیکورٹ فیصلے کی سماعت کرے، جب ایک شخص عدالت آتا ہے تو اس کا مطلب ہے وہ سرنڈر کرتا ہے۔ آپ 8 مئی کو کورٹ میں بائیو میٹرک روم میں موجود تھے، تمام پروسیس دوبارہ شروع ہونا چاہیے۔جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ذوالفقاربھٹواوربینظیربھٹوجیسے لیڈردوبارہ نہین آئیں گے، اتنے بڑے لیڈرز کو مارنے کے بعد بھی حالات کنٹرول میں رہے۔ خان صاحب سیاسی ماحول سیاست دانوں نے پیدا کرنا ہے، سپریم کورٹ کی وجہ سے آپ آج یہاں کھڑے ہیں۔چیف جسٹس نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ الزام ہے کہ آپ نے ورکرز نے سڑکوں پرماحول بنایا، آپ اپنا مذمتی بیان عدالت میں ہی دیں گے، وارنٹ قانونی تھے یا نہیں، گرفتاری غیر قانونی تھی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو دیکھ کر اچھا لگا، عدالت کوکچھ خدشات ہیں، آپ کو ملک میں پرتشددمظاہروں کاعلم ہوگا، یہ شاید سیاسی عمل کا حصہ ہےلیکن امن بحال کرناہوگا، امن بحال ہوگاتوآئینی مشینری کام کرسکےگی، عدالت کی خواہش ہے کہ آپ پرتشددمظاہروں کی مذمت کریں، عدالت ہرشہری کےتحفظ کیلئے بیٹھی ہے۔ امن ہوگاتوہی ریاست چل سکےگی۔ یہ ذمہ داری ہر سیاست دان کی ہے۔عمران خان نے کہا کہ تمام لوگ پُر امن احتجاج کریں، ملک کو نقصان نہ پہنچایاجائے، اپنی 27 سال کی جدوجہد میں کارکنوں کو پر امن رہنے کا پیغام دیا ہے۔سب سے کہتا ہوں سرکاری اور نجی املاک کو نقصان نہ پہنچائیں۔

جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ خوش قسمت ہیں آپ سے بدتردوسرے رہنماؤں کے ساتھ ہوا۔میڈیا موجود ہے احتیاط سے بات کریں۔ نیب تحقیقات میں وکیل کےبجائےآپ کوپیش ہوناچاہیے تھا، کال اپ نوٹس کے بعد بندے کو نیب کے سامنے پیش ہونا ہوتا ہے۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ نیب میں آپ کیوں پیش نہیں ہوئے؟ اس پر جواب دیتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ میں نےنیب نوٹس کا جواب دیا تھا، خواجہ حارث کے پاس سارا ریکارڈ موجود ہے۔

چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ دونوں طرف سےشدت ناقابل یقین ہے۔ اسی دوران عمران خان نے درخواست کی کہ مجھے گھر جانے دیا جائے۔ بنی گالہ گھر محفوظ جگہ ہے۔ تاہم عدالت نے رات بنی گالہ میں گزارنے کی استدعا مسترد کر دی ۔چیف جسٹس نے کہا کہ مجھےایک پیغام آیا کہ آپ کا گھر بھی جل سکتا ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اگر کل اسلام آباد ہائی کورٹ میں کیس لگے تو حکومت کیاکہتی ہے؟ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کل صبح 11 بجے ہائیکورٹ کو کیس سننے کا کہہ دیتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت نے سیکیورٹی انتظامات کرنے ہیں۔سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ عمران خان کو آج رات پولیس لائنز گیسٹ ہاؤس میں ہی رکھا جائے گا، عمران خان اپنی مرضی کے 12 افراد کے ساتھ ملاقات کر سکیں گے، عمران خان اپنے اہلخانہ اور دوستوں کے ساتھ رات کو بھی وقت گزار سکیں گے، حکومت عمران خان کومکمل سیکیورٹی فراہم کی جائے۔ سماعت کے دوران جسٹس اطہر اللہ نے مزید پوچھا کہ کیا انصاف تک رسائی کے حق کو ختم کیا جا سکتا ہے؟، یہی سوال ہے کہ کسی کو انصاف کے حق سے محروم کیا جاسکتا ہے، کیا مناسب نہ ہوتا کہ نیب رجسٹرار سے اجازت لیتا، نیب نے قانون اپنے ہاتھ میں کیوں لیا؟۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ریکارڈ کے مطابق جو مقدمہ مقرر تھا وہ شاید کوئی اور تھا، عدالتی حکم کے مطابق درخواست دائر ہوئی تھی مگر مقرر نہیں ہوئی تھی۔ جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کیا بایومیٹرک کے بغیر درخواست دائر ہوسکتی ہے؟۔ حامد خان نے جواب دیا کہ بایومیٹرک کے بغیر درخواست دائر نہیں ہوسکتی۔جسٹس اطہر من اللہ نے پوچھا کہ سپریم کورٹ سے آپ کیا چاہتے ہیں؟۔ عمران خان کے وکیل نے استدعا کی کہ سابق وزیراعظم کی رہائی کا حکم دیا جائے۔چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ایسا فیصلہ دینا چاہتے ہیں جس کا اطلاق ہر شہری پر ہوگا، انصاف تک رسائی ہر ملزم کا حق ہے، میانوالی کی ضلعی عدلیہ پر بھی حملہ ہوا، معلوم کریں کہ یہ حملہ کس نے کیا؟، ضلعی عدلیہ پر حملے کا سن کر بہت تکلیف ہوئی۔جسٹس اطہر نے پوچھا کہ کیا نیب نوٹس میں ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا کہا گیا تھا؟، قانون پر عمل کی بات کرتے ہیں مگر خود کوئی عمل نہیں کرتا، سب کی خواہش ہے کہ قانون پر دوسرے عمل کریں گے، واضح ہے کہ عمران خان نے نیب نوٹس پر عمل نہیں کیا تھا۔

جسٹس محمد علی مظہر نے مزید کہا کہ نیب نوٹس کا مطلب ہوتا ہے کہ بندہ ملزم تصور ہوگا، کئی لوگ نیب نوٹس پر ہی ضمانت کرالیتے ہیں، ریکارڈ کے مطابق مارچ کے نوٹس کا جواب 2 ماہ بعد مئی میں دیا گیا، کیا عمران خان نے قانون نہیں توڑا تھا؟۔ وکیل عمران خان نے کہا کہ عمران خان کو صرف ایک ہی نوٹس موصول ہوا تھا۔ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب نے کہا کہ عمران خان کو صرف ایک نوٹس جاری کیا تھا۔ جسٹس اطہر بولے کہ بظاہر نیب کے وارنٹ قانون کے مطابق نہیں تھے، کیا وارنٹ جاری ہونے کے بعد گرفتاری کی کوشش کی گئی؟۔

چف جسٹس نے کہا کہ یکم مئی کو وارنٹ جاری ہوئے اور 9 تاریخ کو گرفتاری ہوئی، 8 دن تک نیب نے خود کوشش کیوں نہیں کی؟، کیا نیب عمران خان کو عدالت سے گرفتار کرنا چاہتا تھا؟ وزارت داخلہ کو خط 8 مئی کو کیوں لکھا گیا؟۔چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے پوچھا کہ عمران خان کو گرفتار کس نے کیا تھا؟۔ جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ آئی جی نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے وارنٹ تعمیل کرائی، عدالتی حکم کے مطابق پولیس نے نیب وارنٹ کی تعمیل کرائی۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ عدالتی حکم کے مطابق پولیس کارروائی کی نگرانی کررہی تھی۔ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ رینجرز نے پولیس کے ماتحت گرفتاری کی تھی۔جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کیا شیشے اور دروازے توڑے گئے؟، ضابطہ فوجداری کی دفعات 47 سے 50 تک پڑھیں، بایومیٹرک برانچ کے افسر کی اجازت کے بغیر بھی شیشے نہیں توڑے جاسکتے تھے۔ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے بتایا کہ عمران خان کو کہیں اور سے گرفتار کرنا ممکن نہیں تھا، وہ ہر پیشی پر اپنے کارکنوں کو کال دیتے تھے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ جہاں سے گرفتاری ہوئی تھی، سارا عمل وہیں سے ریورس کرنا ہوگا، عمران خان کو بایو میٹرک کراتے وقت گرفتار کیا گیا تھا، بایومیٹرک کے مرحلے سے ہی سارا عمل دوبارہ شروع ہوگا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ یہ تو واضح ہوگیا کہ کوئی اجازت نہیں لی گئی تھی، 2010ء سے 2012ء تک عدالتوں میں 31 قتل ہوئے تھے، ایسا ہونے دیا تو نجی تنازعات بھی عدالتوں میں ایسے ہی نمٹائے جائیں گے، بطور چیف جسٹس ہائیکورٹ ایکشن لیا اور اگلے سال کوئی واقعہ نہیں ہوا۔

جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ دوسری سیاسی جماعتوں کے ساتھ بھی بہت برا سلوک ہوا ہے، حالیہ گرفتاری سے ہر شہری متاثر ہوا ہے، عدالت سے گرفتاری بنیادی حق کی خلاف ورزی ہے، وارنٹ گرفتاری کی قانونی حیثیت پر رائے نہیں دینا چاہتے، کیا مناسب نہیں ہوگا کہ عوام کا عدلیہ پر اعتماد بحال کیا جائے؟، کیا مناسب نہیں ہوگا کہ عدالت عمران خان کی درخواست ضمانت پر فیصلہ کرے؟۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ عمران خان کی درخواست ضمانت پر ہائیکورٹ فیصلہ کرے تو مناسب ہوگا۔ جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ ملک میں بہت کچھ ہوچکا، وقت آگیا ہے قانون کی حکمرانی قائم ہو۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ احتساب عدالت عمران خان کا ریمانڈ دے چکی ہے۔ جسٹس اطہر کا کہنا تھا کہ بنیاد غیرقانونی ہو تو عمارت قائم نہیں رہ سکتی، وقت آگیا ہے کہ مستقبل کیلئے مثال قائم کی جائے۔جسٹس محمد علی مظہر نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ہائیکورٹ کو فیصلہ کرنے دیں کہ وارنٹ قانونی تھے یا نہیں؟۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہائیکورٹ کو کل عمران خان کی درخواست پر فیصلے کا کہہ سکتے ہیں، نہیں چاہتے کہ کسی شہری کو انصاف کے حق سے محروم رکھا جائے، کسی بھی عدالت کی حدود سے گرفتاری نہیں ہونی چاہئے، اسی طرح ہوتا رہا تو کوئی عدالت سے رجوع نہیں کرسکے گااطہر من اللہ نے مزید کہا کہ عمران خان نیب کیس میں ہی عدالت آئے تھے، یہ سیدھا سادھا توہین عدالت کا کیس ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت کل تک مہلت دے، مزید معاونت کروں گا۔ جسٹس اطہر نے واضح کیا کہ عمران خان کی جگہ کوئی اور بھی ہوتا تو عدالت اجازت نہیں دیتی، اس انداز سے گرفتاری برداشت نہیں کی جاسکتی۔دوسری جانب ملک بھر میں پرتشدد مظاہروں کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے کئی اہم رہنماؤں اور سیکڑوں کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا۔پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنوں کیخلاف جی ایچ کیو، کور کمانڈر لاہور اور دیگر سرکاری عمارتوں اور نجی املاک کو نقصان پہنچانے کے الزامات میں مختلف شہروں میں کئی مقدمات بھی درج کرلئے گئے ہیں۔

اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ تین خواتین سمیت 7 رہنماؤں اور 200 سے زائد کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے، جن پر پرتشدد مظاہروں اور املاک کو نقصان پہچانے کا الزام ہے۔ جاری مظاہروں کے دوران پشاور، کوئٹہ اور دیگر شہروں میں فائرنگ سے 10 سے زائد افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوچکے ہیں،