حافظ سعید سزا وار قرار دینے سے کشمیر کاز کو نقصان ھوگا۔۔۔تحریر ۔اصغر علی مبارک “کالم (اندر کی بات )”

کشمیریوں سے عملی اظہار یکجہتی کرنے پرحافظ محمد سعید کئی سالوں سے ھنودو یہود کے گٹھ جوڑ کی سازشوں کا شکار ہو کر دہشت گرد حملوں کے ماسٹر مائنڈ قرار دیئے جاتے رہے جس پاکستان پر ان سزا دینے کا مطالبہ کیا جاتا رہا گزشتہ روز کشمیر کازکو دنیا بھر میں پرامن طریقے سے روشناس کرانے والی بین الاقوامی شہرت یافتہ پاکستانی شخصیت کالعدم تنظیم کے سربراہ حافظ محمد سعید اور انکے ساتھی ملک ظفر اقبال کو دو مختلف مقدمات میں مجموعی طور پر گیارہ سال قید اور 30ہزار جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے سزا سنانے کے بعد انہیں جیل منتقل کردیا گیا ہے لاہور میں قائم انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج ارشد حسین بھٹہ نے غیر قانونی فنڈنگ اور کالعدم تنظم کے رکن ہونے کے الزامات میں دو مختلف مقدمات میں پر محفوظ فیصلہ سنایا ۔عدالت نے دہشت گردوں کی مالی معاونت کے الزامات ثابت نہ ہونے پر بری کیا۔حافظ محمد سعید پاکستان کی ایک شخصیت ہیں جن کواپنے بیگانے سب عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور کشمیری عوام توان کو نجات دہندہ تصور کرتے ہیں یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پیرس میں فٹف کا اجلاس ھونے جارہا ہے جس پاکستان کو عارضی طور پر تین ماہ کے لیے گرےلسٹ سے نکالنے کی ڈیل ھوچکی ھے ۔فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا پاکستان پر شدید دباو تھاکہ عالمی سطح پر پاکستان کی فلاحی کاموں میں مصروف کچھ تنظیموں کے گرد شکنجہ مضبوط کیا جائے اس مقصد کیلئے بھارت اور امریکہ نے حافظ سعید کی گرفتاری کیلئے پاکستان پر داو ڈال کر انہیں سابق دور حکومت میں گرفتار کرایا گیا بھارت کے واویلا مچا نے انھیں ممبئی حملوں میں ملوث کرکے ان کی تنظیم کو عالمی سطح پر کالعدم تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا گیا اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ حافظ سعید کو سزا دلوانے سے کشمیریوں کے حقوق کے لئے لڑنے والی تنظیموں کو سخت مایوسی ہوگی دوسری جانب مودی سرکار خوشیوں کے شادیانے بجارہی ھے بھارت نے کشمیریوں کو 195 دنوں سے گھروں میں محصور کر رکھا ہے غیر کشمیریوں کو مقبوضہ کشمیر میں شہرت دیکر کشمیر کی جغرافیائی حیثیت تبدیل کر دی گئی ہے ۔ امریکہ اور بھارت دباو پر کالعدم تنظیم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کو دو مقدمات میں مجموعی طور پر 11 برس قید بامشقت کی سزا سنائے جانے سے پاکستان اور کشمیر میں مایوسی کی لہر دوڑ گئی ہے ۔قانون کے ایک ادنٰی طالب علم ہونے کی حیثیت سے مجھے قوی یقین ہے کہ جلد انہیں لاہور ہائی کورٹ سے ضمانت بعد از سزا مل جائے گی اور سزا بھی کالعدم قرار دیئے جانے کی قوی امید ہے کیونکہ صفحہ مسل پر شہادتیں ناکافی اور کمزور ہیں جن کا فائدہ اپیل دائر کرنے کے بعد مل جائے گا خیال رہےکہ حافظ محمد سعید اور اُن کے ساتھی ظفر اقبال پر دہشت گردی کے لیے رقم جمع کرنے یعنی غیر قانونی فنڈنگ کرنے اور کالعدم تنظیم کے رکن ہونے کے الزامات ثابت لگا ئےگئے ۔جس پر عدالت نے لاہور اور گوجرانوالہ میں درج مقدمات میں ملزمان کو الگ الگ ساڑھے پانچ برس قید کی سزا سنائی جبکہ ان پر پندرہ پندرہ ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا ۔انسداد دہشت گردی کی عدالت نے حکم دیا کہ دونوں سزاؤں پر عمل درآمد ایک ساتھ شروع ہو گا۔اس فیصلے کے خلاف قانونی داد رسی کے لیے حافظ سعید اور ان کے ساتھی کے پاس اپیل کا حق ہے اپیل لاہور ہائیکورٹ میں دائر کی جاچکی ہے اس اپیل پر ہائیکورٹ کے ججوں پر مشتمل دو رکنی بنچ فیصلہ دے گا۔۔حافظ محمد سعید اور ظفر اقبال گرفتار تھے انھیں فیصلے کے وقت انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش بھی کیا گیا۔
عدالت نے حافظ محمد سعید اور ان کی کالعدم تنظیم کے پروفیسر عبدالرحمان مکی سمیت پانچ اہم رہنماؤں کے خلاف مزید چار مقدمات پر بھی کارروائی شروع کر رکھی ہے۔
حافظ سعید سمیت ان کی تنظیم کے دیگر رہنماؤں پر غیر قانونی فنڈنگ کے الزام میں دسمبر 2019 میں فرد جرم عائد کی گئی تھی اور اس موقع پر انہوں نے صحت جرم سے انکار کرتے ہوئے اپنے خلاف الزامات کو بےبنیاد قرار دیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ یہ الزام عالمی دباؤ کی وجہ سے لگائے گئے ہیں ۔حافظ محمد سعید سمیت دیگر کے خلاف یہ مقدمہ انسدادِ دہشت گردی کے محکمے نے درج کیا تھا جبکہ انھیں پنجاب کے شہر گوجرانوالہ سے 17 جولائی 2019 کو گرفتار کیا گیا ۔عدالت کے جج ارشد حسین بھٹہ نے حافظ سعید کو انسداد دہشت گردی کی دفعہ الیون ایف ٹو اور 11 این کے تحت سزا سنائی۔ انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ الیون ایف ٹو کالعدم تنظیم سے تعلق کے بارے میں ہے۔حافظ سعید کے علاوہ ان کی تنظیم کے رہنما ظفر اقبال کو بھی دو مقدمات میں 11 برس قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ نومبر 2001 میں انڈین پارلیمنٹ پر ہونے والے خودکش حملوں کے الزام میں لشکر طیبہ پر حکومت پاکستان کی جانب سے پابندی عائد کر دی گئی۔ لیکن چونکہ پابندی کا دائرہ اثر صرف پاکستان کے اندر تھا تو اس سے نمٹنے کے لیے حافظ سعید نے اپنے دیرینہ ساتھی ذکی الرحمٰن لکھوی کو اس تنظیم کا سربراہ مقرر کر کے اس کے دفاتر پاکستان کے زیرانتظام کشمیر منتقل کر دیے اور خود ایک بار پھر مرکز الدعوۃ کے کاموں میں مصروف ہو گئے۔ لیکن اس تنظیم کا نام بدل کر جماعت الدعوۃ رکھ دیا گیا ۔اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ کشمیر میں آزادی کی نئی تحریک میں حافظ سعید اور ان کے ساتھیوں کا اہم کردار اہم رہاھے ۔حافظ سعید نے کشمیر میں جاری تحریک میں باضابطہ طور پر شمولیت اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔26 نومبر 2008 میں ممبئی میں دہشت گرد حملوں کا الزام فوری طور پر پاکستان اور حافظ سعید اور ان کی تنظیم پر لگا۔ ان کے قریبی ساتھی اور لشکر طیبہ کے سربراہ ذکی الرحمٰن لکھوی اپنے کئی ساتھیوں سمیت اس حملے میں ملوث ہونے کے الزام کا سامنا کر رہے ہیں۔حافظ سعید ہمیشہ سے ممبئی حملوں سے اعلان لا تعلقی کرتے رہے ہیں لیکن انڈیا کے ساتھ ساتھ امریکہ ابھی انہیں ان حملوں کا ماسٹر مائنڈ قرار دیتا رہاہے۔ اسی بنا پر امریکہ نے حافظ سعید کے بارے میں گرفتاری اور سزا میں مدد دینے والے کے لیے ایک کروڑ ڈالر انعام کا بھی اعلان کیا۔ 1990میں انھوں نے لشکر طیبہ کے نام سے ایک تنظیم کی بنیاد رکھی ممبئی حملوں کے بعد سے حافظ سعید کئی بار گرفتار ہوئے یا نظر بند کیے گئے لیکن ہر بار ’ناکافی‘ ثبوتوں کی بنا پر رہا کر دیے گئے۔پہلی بار انہیں ممبئی حملوں کے چند روز بعد نظر بند کیا گیا اور ان کی تنظیم کو دہشت گرد گروہ قرار دے کر اس کے خلاف کریک ڈاؤن کیا گیا۔
شدید بین الاقوامی دباؤ کے بعد پاکستان نے سنہ 2015 کے بعد ان کی تنظیم جماعت الدعوۃ کو ان شدت پسند تنظیموں کی فہرست میں ڈالا جو سرکار کے زیر نگرانی یا واچ لسٹ میں تھے۔سنہ 2017 میں 31 جنوری کو انھیں لاہور کے جوہر ٹاؤن میں واقع ان کے گھر میں خدشۂ نقصِ امن کے تحت نظربند کیا گیا تھا۔انھیں 10 ماہ کے بعد نومبر 2017 میں اس وقت رہا کیا گیا تھا جب لاہور ہائی کورٹ نے ان کی نظر بندی میں توسیع کی درخواست مسترد کر دی تھی اس می کوئی شک نہیں کہ حافظ سعیداس دھرتی کے سپوت ہیں اور پوری دنیا میں کشمیریوں کی تحریک آزدی کے نام سے جڑے اور پہچانے جاتے ہیں۔ جب بھی بھارت انہیں دہشتگرد کہتا ہے تو ہمارے دلوں سے نعرۂ تکبیر کی صدا بلند ہوجاتی ہے۔ جب امریکہ ان کے سر پر 10 ملین کا انعام رکھتا ہے تو ہم اس کو اپنے سینے کا تمغہ سمجھتے ہیں اور پوری قوم ان کے گرد سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑی ہو جاتی ہے۔انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد حافظ سعید پر وہ الزامات بظاہر ثابت ہو گئے ہیں جن کی زد میں وہ تین دہائیوں سے زیادہ عرصے سے تھے۔لیکن ایسا نہیں ہے لشکر طیبہ، جماعت الدعوۃ اور مرکز دعوۃ والارشاد کے بانی حافظ محمد سعید کے چاہنے والوں کا ماننا ہے کہ اُن کی سوچ اور نظریے پر 1971 میں ملک کے دو لخت ہونے اور بنگلہ دیش کے قیام کے گہرے اثرات پائے جاتے ہیں اور اپنے نظریے کو عملی جامہ پہنانے کا آغاز دراصل انھوں نے بنگلہ دیش کے قیام کے بعد انیس سو اکہتر کے فوراً بعد ہی کر دیا تھا۔لیکن اس نظریے کی تشہیر کے لیے باقاعدہ نتظیم سازی کا آغاز انھوں نے سن 1986 میں ایک ماہانہ میگزین ‘الدعوۃ’ کی اشاعت سے کیا۔
اسی وقت مرکز دعوۃ والارشاد کی تشکیل بھی عمل میں آئی۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کہ اس تنظیم کا کام تبلیغ و فلاح کرنا تھا۔ اس مقصد کے لیے مختلف رسائل اور جرائد کے علاوہ مختلف فلاحی کاموں کا بھی سہارا لیا گیا۔ان میں سرفہرست تعلیمی اداروں کا قیام تھا۔ مرکز الدعوۃ کے زیراہتمام ملک کے مختلف علاقوں میں مدارس کھولے گئے ہیں ۔ حافظ سعید نے زیادہ توجہ پنجاب کے دیہات اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر پر مرکوز رکھی ہے اور لاکھوں فلاحی کاموں میں مصروف رہے ہیں کشمیر میں 2005 کے قیامت خیز زلزلے کے بعد مجھے بطور چیف رضا کار حافظ محمد سعید اور ان کی ٹیم کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا جس میں انہیں ایک انسان دوست انسان پایااور یہ ہی جذبہ ان کی کشمیری عوام کے ساتھ وابستہ ہونے کا اظہار ہے جس کو بھارت نواز میڈیا نے ہمیشہ غلط رنگ دے کر ان کو بدنام کرنے کی مذموم کوشش کی ۔حافظ سعید نے اپنی سرگرمیوں کا محور لاہور کے نواح میں واقع قصبے مریدکے میں قائم مرکز دعوۃ والارشاد کو بنایا۔حافظ محمد سعید کی تنطیم لشکر طیبہ ابھارت کے قبضے والے کشمیر میں سرگرم عمل فلاحی تنظیموں میں ایک مؤثر تنظیم کے طور پر سامنے آئی۔۔ یہ سلسلہ دس برس چلتا رہا۔ اس دوران لشکر طیبہ کی سرگرمیاں تنی زیادہ تعداد میں ہونے لگیں کہ خود حافظ سعید اپنی اصل تنظیم مرکز الدعوۃ کے بجائے لشکر طیبہ کے نام سے پہچانے جانے لگے۔اور پھر امریکہ میں گیارہ ستمبر 2001 کے حملے ہوگئے۔ان حملوں نے عسکریت پسندی کی تحریکوں کو جیسے ایک نئے دور میں داخل کر دیا اور کچھ گروہوں کو باضابطہ طور پر دہشت گرد قرار دیا گیا۔ کشمیر کے بارے میں حکومتوں کے درمیان خاموش معاہدے ہوئے جن کے نتیجے میں کشمیر کاز کو نقصان پہنچایا گیا تاہم اس عدالتی فیصلے پر نظرثانی کی ضرورت ہے ورنہ تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی اور مظلوموں کی حمایت میں آواز اٹھانے والا دہشت گرد کہلائے گا ۔