جی ایچ کیو پر حملہ ;فوجی آپریشن جانباز کے 13 سال مکمل،………………………………۔(کالم :ا ندر کی بات۔ ۔۔ کالم نگار؛ اصغر علی مبارک۔۔۔۔)۔پاکستان کے معرض وجود میں آتے ہی دشمنوں کی سازشیں شروع ہو گئی پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لیے دشمنوں نے ہر ممکن کوشش کی لیکن پاکستان آرمی نے ہمیشہ ان کودندان شکن جواب دیا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جتنی قربانیاں پاک فوج نے دی ہیں کوئی اور اسکا دعویدار نہیں ہے دس اکتوبر 2009 کو بھی پاکستان کے امن کے دشمنوں نے جی ایچ کیو پر حملہ کر کے قوم کا مورال کم کرنے کی کوشش کی آپریشن جانباز کے ذریعے پاک فوج نے ایک بار پھر اپنی پیشہ ورانہ مہارت ثابت کی…جی ایچ کیو پر حملہ ;فوجی آپریشن جانباز کے 13 سال مکمل جی ایچ کیو پاکستان فوج کے مرکزی دفاتر کا مخفف ہے اس کا مطلب ہے جنرل ہیڈ کوائٹر ۔ یہ پاکستان کے شہر راولپنڈی میں واقع ہے۔ اس کا آغاز 14 اگست 1947ء کو برطانوئی ہندی فوج کی نادرن کمانڈ ہیڈ کوائٹر کے طور پر ہواپاکستانی افواج نے سب سے بڑی لڑائی دہشت گردی کے خلاف لڑی ہےجو تاحال جاری و ساری ہے آج سے ٹھیک 13 سال پہلے دس اکتوبر 2009 کو راولپنڈی میں پاکستان آرمی کے صدر دفتر جی ایچ کیو پر دہشت گردوں نے حملہ کیا جو 11 اکتوبر کو اپنے انجام تک پہنچا۔پاکستانی تاریخ کے اس واقعے میں 16 فوجی افسران اور اہلکار جان سے گئے۔ اس حملے کے مرکزی کردار عقیل عرف ڈاکٹر عثمان کو آرمی پبلک سکول پشاور حملے کے بعد دسمبر 2014 میں پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ ڈاکٹر عثمان ہائی سکیورٹی جیل فیصل آباد میں سزائے موت پانے والے قیدیوں کی کال کوٹھڑی میں ہوتے ہوئے بھی بیرونی دنیا سے رابطے میں تھے اور خطوط کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ کرتے تھے۔ ایک خفیہ خط میں انہوں نے جی ایچ کیو حملے کی روداد اپنے ساتھیوں کو بھیجی اور یہ تحریر القاعدہ اور تحریک طالبان پاکستان کے اہم رہنماؤں تک پہنچائی گئی دہشتگرد جو تعداد میں دس تھے، دہشتگردفوجی وردیوں میں ملبوس تھے اور دہشتگرد جس گاڑی پر سوار تھے اس پر جی ایچ کیو انٹری کا جعلی سٹیکر لگا ہوا تھا۔ دہشت گردوں کا مقابلہ ٹینک چوک چیک پوسٹ پر شروع ہوا۔ فوجی اہلکاروںسےگولیوں کے تبادلے میں دس میں سے پانچ دہشتگرد آغاز میں ہی مار دیے۔‘ اس مزاحمت کے بعد یہ دہشتگرد جی ایچ کیو کے ایک حصے میں داخل ہوئے، جہاں ان سے مقابلہ کرتے ہوئے ملٹری انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر بریگیڈیئر انوار الحق رمدے، لیفٹیننٹ کرنل وسیم عامر اور دیگر جوان شہید ہو گئے، مگر اس کے بعد حملہ آوردہشتگردوں نے وہاں موجود افراد کو یرغمال بنا لیا ۔ اس صورت حال کے بعد ایک یرغمالی کے فون کے ذریعے مذاکرات شروع ہوئے۔فون رابطے کے بعددہشتگردڈاکٹر عثمان نے طالبان قیدیوں کی رہائی، وزیرستان آپریشن کے خاتمےجیسے مطالبات سامنے رکھے۔یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ بات چیت کے نتیجے میں یرغمالیوں کے لیے کھانا بھجوانے پر اتفاق ہوا اور کھانے کی منتقلی پر مشکلات کا سامنا نہیں ہوا۔کھانا لے جانے والوں کی رپورٹ سے بھی جوابی آپریشن میں مدد ملی۔ بظاہر مذاکرات کا مقصد کامیاب آپریشن تک جنگجوؤں کو مصروف رکھنا اور وقت حاصل کرنا تھا تاکہ یرغمالیوں کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ سکیورٹی نمائندوں نے ڈاکٹر عثمان کو فون پر مختلف باتوں میں مصروف رکھا، اس طرح وقت گزرتا گیا۔رات کے آخری پہر یک دم بجلی چلی گئی اور ایس ایس جی کمانڈوز نے آپریشن جانباز شروع کر دیا۔فائرنگ کے تبادلے میں چار مزید حملہ آور مارے گئے اور یرغمالیوں نے اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر بھاگنا شروع کر دیا۔کارروائی کا اختتام ایک زوردار دھماکے پر ہوا۔ڈاکٹر عثمان وہاں سے بھاگ نکلے تھے لیکن انہوں نے اپنی خودکش جیکٹ دوسرے کمرے میں رکھ کر اڑا دی تاکہ یہ تاثر جائے کہ وہ بھی مر گیا ہےریسکیو آپریشن میں لاشوں اور زخمیوں کو جمع کیا جا رہا تھا، اُدھر ڈاکٹر عثمان اپنی جعلی فوجی وردی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہاں سے فرار ہونے لگا لیکن چیک پوسٹ پر پکڑا گیاجی ایچ کیو پر حملہ آور ہونے والے دہشت گردوں نے جوابی کارروائی کے دوران مارے جانے سے قبل، مختلف گروپوں کے ایک سو سے زائد گرفتار کمانڈروں، ساتھیوں کو رہا کرنے، پاکستان کی سرزمیں سے امریکی اڈے ختم کرنے اور سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ چلانے کے مطالبات پیش کئے تھے۔ جی ایچ کیو میں موجود سینئیر فوجی قیادت حملہ آوروں کا ہدف تھی۔ وہ انہیں یرغمال بنا کر اپنے مطالبات منوانا چاہتے تھے‘ اس آپریشن کی منصوبہ بندی جنوبی وزیرستان میں کی گئی اور حملہ آوروں کو تربیت بھی وہیں دی گئی۔ آئی ایس پی آر کے سربراہمیجر جنرل اطہر عباس نے گذشتہ روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ انکشاف کیا۔ حملے کے وقت آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی جی ایچ کیو میں موجود تھے۔ جی ایچ کیو کی اسلام آباد منتقلی کا فیصلہ ملتوی کیا گیا تھا لیکن منسوخ نہیں کیا گیا۔ حملہ آور میڈیا اور اپنی کمان کے ساتھ رابطے میں تھے۔ جنوبی وزیرستان میں شدت پسند کمانڈر ولی الرحمن کی ایک کال پکڑی گئی ہے جس میں وہ اپنے ایک ماتحت سے کہہ رہا تھا کہ فدائیں کا آپریشن شروع ہو چکا ہے اور اس کی کامیابی کیئے دعا کرو۔ انہوں نے کہا حملہ آوروں اپنے اہداف کا 10فیصد بھی حاصل نہیں کر سکے۔ دہشت گردی کے کسی ایک واقعہ کو ہونے سے روکنے کی دنیا کی کوئی طاقت ضمانت نہیں دے سکتی۔ دیکھنا یہ چاہئے کہ ہمارا جواب کیسا تھا۔ ہمارے قابل فخر کمانڈوز نے جن کا تعلق ایس ایس جی کے انسداد دہشت گردی شعبے سے تھا نہایت مشکل اور نازک حالات میں بہترین منصوبہ بندی کر کے 95 فیصد یرغمالیوں کو بحفاظت بازیاب کرا لیا۔ پون گھنٹے کی قلیل مدت میں یہ کامیابی ایک ریکارڈ سے کم نہیں۔ یر غمالیوں کو چھڑانے کے آپریشن کو آپریشن جانباز کا نام دیا گیا۔ اس کے دوسرے مرحلے میں عقیل عرف ڈاکٹر عثمان کو گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے کہا ہفتے کو دن ساڑھے دس بجے ایک سفید سوزوکی وین میں جس پر جی ایچ کیو کا مونوگرام بنایا گیا تھا سوار دس حملہ آوروں نے حملہ کیا۔ پہلی ہی جھڑپ میں ان کی 50 فیصد نفری کو مار دیا گیا باقی ماندہ نے سکیورٹی کی عمارت میں گھس کر 42 افراد کو یرغمال بنا لیا۔ یرغمالیوں کو کھانا دینے کیلئے جانے والوں نے جاسوسی کی اور اہم معلومات فراہم کیں۔ کمانڈوز کی کارروائی کے باعث دہشت گرد اپنے پاس بارودی مواد کا دھماکہ نہیں کر سکے‘ فوج کی بروقت کارروائی سے بہت بڑے جانی نقصان سے بچ گئے۔ آرمی چیف ساری صورتحال سے بخوبی آگاہ تھے۔حکومت نے اصولی فیصلہ کر لیا ہے تحریک طالبان پاکستان ملک میں ہونے والی 80 فیصد سے زائد دہشت گردی کی ذمہ دار ہے چنانچہ جنوبی وزیرستان میں آپریشن کیا جائے گا۔ آپریشن کے وقت کا تعین فوجی اعتبار سے سودمند حالات کی مناسبت سے کیا جائے گا۔ شدت پسند گروپوں میں متوازی قیادت ابھر رہی ہے۔چھوٹے گروہ کی اطلاعات ہیں یہ ترقی یافتہ علاقہ ہے جو جنوبی وزیرستان سے ہر اعتبار سے مختلف ہے اور یہاں بھاری تعداد میں فورسز موجود ہیں۔کوئی بھی فیصلہ ملک و قوم کے مفاد میں کیا جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایچ کیو پر ممکنہ حملے کی اطلاع تھی اور اس اعتبار سے حفاظتی انتظامات بھی کئے گئے تھے۔ آپریشن کے پہلے مرحلے میں دو کمانڈوز شہید ہو ہوئے جبکہ تین کمانڈوز بعدازاں زخموں کی تاب نہ لا کر خالق حقیقی سے جا ملے۔ اللہ کی مدد سے مشکل حالات مین فوج نے کامیابی حاصل کی۔ اس سلسلے میں تعاون پر پوری قوم، میڈیا کے شکرگزار ہیں۔ حملے کی اطلاع ملتے ہی فوج کی سریع الحرکت فورس نے سکیورٹی بلڈنگ کو گھیرے میں لے لیا۔ ہلاک ہونے والے پانچ دہشت گردوں تعلق بیت اللہ محسود کے علاقے اور دیگر کا پنجاب کے دیگر علاقوں سے تعلق تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ گرفتار ہونے والا عقیل آرمی میڈیکل کور میں سپاہی تھا۔ وہیں سے اس کا نام ڈاکٹر پڑا۔ وہ 2004ء میں بھگوڑا ہو کر جیش محمد میں شامل ہو گیا اور وہاں سے اس کی کارروائیوں کا آغاز ہوا۔ دہشت گردوں کو بات چیت میں الجھا کر وقت حاصل کیا گیا اور کارروائی کی حکمت عملی تیار کی گئی۔ سرغنہ عقیل ایک اور جگہ چھپ گیا جہاں اس نے بارود پھاڑنے کی کوشش کی جس سے وہ خود اور اس کا تعاقب کرنے والے پانچ کمانڈوز زخمی ہو گئے۔ عقیل بے ہوش ہے اس کا آپریشن کیا گیا ہے لیکن وہ بات کرنے کے قابل نہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ فورسز نے بغیر کسی بیرونی امداد کے مالاکنڈ میں بڑی کامیابی حاصل کی اسی طرح ہمیں جنوبی وزیرستان میں بھی کسی بیرونی مدد کی ضرورت نہیں۔ شدت پسندوں کے نامی گرامی کمانڈروں کو پکڑ لیا گیا حکومت فوجی وردی کی عام تیاری پر پابندی عائد کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ ایٹمی ہتھیاروں کے کنٹرول کے لئے نیوکلیئر کمانڈ اتھارٹی موجود ہے۔ آرمی چیف اس نظام کا حصہ ہیں۔ لشکر جھنگوی اور جیش محمد سے ٹوٹے ہوئے چھوٹے گروپ مختلف قبائلی علاقوں میں موجود ہیں۔ دہشت گرد شکست دیکھ کر افراتفری کا شکار ہیں۔پاکستانی بری فوج کے صدر دفاتر یعنی جی ایچ کیو پر حملے میں مبینہ طور پر ملوث گیارہ افراد کے خلاف راولپنڈی میں قائم ایک فوجی عدالت میں کورٹ مارشل کی کارروائی مکمل کی گئی پاکستان آرمی نے کئی آپریشن کیے اور ان آپریشنز میں کئی دہشت گردوں کو جہنم واصل کیاان آپریشنز میں مشہور ترین آپریشن”فوجی آپریشن جانباز” ہے اس آپریشن دہشتگردی کا سر اس طرح کچلا کہ وہ دوبارہ اٹھ نہ سکی.اللہ تعالیٰ پاکستانی افواج کو مزید طاقت ور بناۓ تا کہ پاکستان سمیت تمام مسلمان ممالک خود کو محفوظ سمجھیں آمین


ڈاکٹر عثمان کا ایک تفصیلی مضمون جہادی رسالے ’افغان جہاد‘ میں ’معرکۂ مقر (جی ایچ کیو) کی سنسنی خیز ایمان افروز سچی کہانی‘ کے عنوان سے شائع ہوا جس میں انہوں نے تمام واقعے کی لمحہ بہ لمحہ تفصیل فراہم کی۔
خفیہ خط میں حملہ آوروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مابین مذاکرات میں کالعدم تنظیموں کے رہنماؤں کے کردار کا تذکرہ بھی اہمیت کا حامل ہے۔ ڈاکٹر عثمان کی جی ایچ کیو حملے سے متعلق مخصوص تحریر سے حساس مقامات اور معلومات کا ذکر حذف کیا گیا ہے اور حملے کے دوران ہونے والے مذاکرات کی کہانی سے اُس دن ہونے والے واقعات کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔
ڈاکٹر عثمان کے مطابق ’ان کے تمام جنگجو ساتھی، جو تعداد میں دس تھے، فوجی وردیوں میں ملبوس تھے اور وہ جس گاڑی پر سوار تھے اس پر جی ایچ کیو انٹری کا جعلی سٹیکر لگا ہوا تھا۔ دہشت گردوں کا مقابلہ ٹینک چوک چیک پوسٹ پر شروع ہوا۔ فوجی اہلکاروں نے گولیوں کے تبادلے میں دس میں سے پانچ جنگجو آغاز میں ہی مار دیے۔‘
’اس مزاحمت کے بعد یہ جنگجو جی ایچ کیو کے ایک حصے میں داخل ہوئے، جہاں ان سے مقابلہ کرتے ہوئے ملٹری انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر بریگیڈیئر انوار الحق رمدے، لیفٹیننٹ کرنل وسیم عامر اور دیگر جوان مارے گئے، مگر اس کے بعد حملہ آوروں نے وہاں موجود افراد کو یرغمال بنا لیا اور فائرنگ کا سلسلہ رک گیا۔‘
اس صورت حال کے بعد ایک یرغمالی کے فون کے ذریعے مذاکرات شروع ہوئے۔ جب سکیورٹی نمائندوں نے مرکزی مجرم عقیل عرف ڈاکٹر عثمان کو ان کے نام سے پکارا تو وہ حیران رہ گئے کہ ہمارے نام اتنی جلدی ان تک کیسے پہنچ گئے۔
فون رابطے کے بعد ڈاکٹر عثمان نے طالبان قیدیوں کی رہائی، وزیرستان آپریشن کے خاتمے، عافیہ صدیقی کی رہائی جیسے مطالبات سامنے رکھے۔ ڈاکٹر عثمان کے مطابق مذاکرات کے دوران ان کی بات محمد احمد لدھیانوی سے کروائی گئی۔ ’محمد احمد لدھیانوی نے کہا کہ میں ’ملت اسلامیہ پاکستان‘ (اس وقت سپاہ صحابہ کا نام) کا امیر محمد احمد لدھیانوی ہوں۔ بند کرو یہ ڈراما اور ہتھیار پھینک دو!‘
اس موقعے پر دونوں میں تلخ کلامی بھی ہوئی اور ڈاکٹر عثمان نے حق نواز جھنگوی اور اعظم طارق کے بے باک موقف کی مثالیں دیں جبکہ محمد احمد لدھیانوی نے پاکستان فوج کے موقف کے حق میں دلائل دیے جنہیں ڈاکٹرعثمان نے ماننے سے انکار کر دیا اور لدھیانوی کو فوج اور ایجنسیوں کا ہمدرد قرار دیا۔ دونوں میں آدھا گھنٹہ گفتگو رہی مگر کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکی۔
اس ناکامی کے بعد ڈاکٹر عثمان سے کالعدم لشکر جھنگوی کے سربراہ ملک اسحاق کی فون پر بات کروائی گئی۔ لاہور میں قید ملک اسحاق کو خصوصی طیارے کے ذریعے اسی مقصد کے لیے لایا گیا تھا کیونکہ پنجابی طالبان کی اکثریت ملک اسحاق کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی تھی۔
ملک اسحاق نے بات کا آغاز کرتے ہوئے کہا: ’آپ لوگ لشکر (لشکر جھنگوی) کے نہیں لگتے، آپ کس گروپ کے ہیں؟‘
ڈاکٹر عثمان نے جواب دیا: ’ہاں، ہم لشکر سے نہیں ہیں، ہمارا تعلق تحریک طالبان امجد فاروقی گروپ سے ہے۔‘
اس بات سے یہ تاثر ختم ہو گیا کہ حملہ آوروں کا تعلق لشکرِ جھنگوی سے تھا کیونکہ ایک دہشت گرد نے دعویٰ کیا تھا کہ ہمارا تعلق لشکر جھنگوی سے ہے۔ ملک اسحاق اور ڈاکٹرعثمان کی گفتگو کچھ دیر جاری رہی، جب کوئی نتیجہ نہیں نکلا تو ملک اسحاق نے سارامعاملہ ڈاکٹر عثمان کی صواب دید پر چھوڑ دیا۔




