جنرل باجوہ زمانہ امن کا ھیرو…………………کالم اندر کی بات….:کالم نگار،اصغر علی مبارک………ہر کوئی دنیا میں امن چاہتا ہےاور امن پر لمبے لمبے لیکچر دئیے جاتے ہیں لچھےداربیانات دئیےجاتے ہیںلیکن نتیجہ صفر ہوتا ہے.دنیا میں کچھ شخصیات ایسی ہیں جِنکےقول وفعل میں کوئی تضاد نہیں ایسی ہی ہردلعزیز شخصیت پاکستان کےآرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ہیں ”وہ آیا اس نے دیکھااور فتح کرلیا ” کے مصداق ” زمانہ امن کے ھیرو جنرل قمر جاوید باجوہ ہیں جنہوں بنا جنگ کیے کروڑوں دل فتح کرلئے ہیں پاک فوج کا ہر سپاہی جنرل باجوہ ملنے کو والا تمغہ اپنے سینے پر لگا محسوس کرتاھےجنرل قمر جاوید باجوہ نے فوجی کیریئر کا آغاز 16 بلوچ ریجمنٹ سے اکتوبر 1980ء میں کیا تھا۔ وہ کینیڈا اور امریکا کے دفاعی کالج اور یونیورسٹیوں سے پڑھ چکے ہیں۔ وہ کوئٹہ میں انفرینٹری اسکول میں انسٹریکٹر کے طور پر فرائض سر انجام دے چکے ہیں۔ وہ کانگو میں اقوام متحدہ کی امن فوج کی کمانڈ سنبھال چکے ہیں. یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا جس میں انہیںٰ امارات کے دوسرے اعلیٰ ترین اعزاز آرڈر آف یونین سے نوازا گیا۔آئی ایس پی آر کےمطابق آرمی چیف نے متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان سے ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی، دوطرفہ دفاعی اور سکیورٹی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا جب کہ اس دوران مشرق وسطیٰ میں علاقائی سلامتی کی صورتحال پربھی گفتگو کی گئی۔۔آئی ایس پی آر کے بیان میں مزید کہا گیا کہ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان خوشگوار تعلقات اور بھائی چارے کے گہرے جذبے کی ایک عظیم تاریخ ہے جو ایک پائیدار شراکت داری میں تبدیل ہو رہی ہے۔اس سے قبل 26 جون 2022 کو سعودی ولی عہد اور نائب وزیر اعظم محمد بن سلمان نے پاکستانی فوج کے سپہ سالار کو ‘کنگ عبدالعزیز میڈل آف ایکسیلنٹ کلاس’ سے نوازا تھا۔9 جنوری 2021 کو انہیں بحرین کے ولی عہد نے ‘بحرین آرڈر (فرسٹ کلاس) ایوارڈ’ کا اعزاز عطا کیا جبکہ 5 اکتوبر 2019 کو اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے ‘آرڈر آف ملٹری میرٹ’ سے نوازا تھا۔اسی طرح پاکستان کا دورہ کرنے والے روسی سفیر نے آرمی چیف کو 27 دسمبر 2018 کو ‘کامن ویلتھ ان ریسکیو اینڈ لیٹر آف کمنڈیشن آف رشین ماؤنٹینئرنگ فیڈریشن’ کا اعزاز دیا۔قبل ازیں 20 جون 2017 کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو ترکی کے ‘لیجن آف میرٹ ایوارڈ’ سے نوازا گیا تھاڈپلومیٹک کار سپانڈنٹ فورم آف پاکستان کے بانی صدر سینئر کالم نگار۔۔۔۔ اصغر علی مبارک نے ایک خط میں ورلڈپیس نوبل کمیٹی کے صدر سےکہا ہے کہ عالمی نوبل ایوارڈ کمیٹی پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو سال 2022-2023 کے امن کے نوبل انعام کے لیے زیر غور لائے, امن کی کوششوں کیلئے دنیا بھر میں تنازعات مثلاً پاکستان-انڈیا، افغانستان-امریکہ، مشرق وسطی وغیرہ کے لیے انکا کردار مثالی ہے امن کے نوبل انعام کے لیے کوئی دوسرا انتخاب نہیں ہو سکتا ہے۔پاک فوج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے 29 نومبر 2016 کو منصب عہدہ سنبھالا تو ملک کو دہشتگردی کے بھیانک چیلنج کا سمنا تھا۔ جنرل باجوہ نے اعلیٰ عسکری قائدانہ صلاحیتوں کا مظاہر کرتے ہوئے در پیش چیلنجوں سے بخوبی نمٹا اور نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ملک سے بھی داد وصول کی۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے اعلیٰ سفارتکاری کی صلاحیتیں بھی ثابت کر دیں، انہوں نے چین، روس امریکا، برطانیہ اور سعودی عرب میں پاکستان کا مؤقف واضح کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور پاکستان کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا ۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے سپہ سالار کا منصب سنبھالتے ہی اندرون ملک دہشت گردی کے خلاف آپریشن ردالفساد شروع کیا۔ ملک کے طول وعرض میں لاتعداد کومبنگ اورانٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے۔جنرل قمر جاوید باجوہ کی قیادت میں دہشتگردوں کے عزائم کوناکام بنانے کے لیے بھی موثر حکمت عملی اپنائی گئی ۔ تقریبا دو ہزارمذہبی اسکالرز نے دہشت گردی و انتہاء پسندی کیخلاف ،پیغام پاکستان ، کےنام سے فتویٰ جنرل باجوہ کے ایماء پر ہی دیا۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر قیادت افغانستان سے کی جانے والی دہشتگردی کی روک تھام کے لئے سرحد پر باڑ لگانے کا عمل شروع کیا اور پاک افغان سرحد پر2300 کلومیٹر طویل باڑ کی تنصیب کا کام مکمل ہو چکا ہے اس کے علاوہ کنکریٹ کے بنکروں اور قلعوں کی تعمیر جاری ہے ۔ جنرل باجوہ نے فاٹا کو خیبر پختونخواہ کا حصہ بنانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔جنرل باجوہ نے سی پیک منصوبے کو آگے بڑھانے اور بلوچستان میں ترقیاتی پروگرام آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا، پلوامہ کے واقعے کے بعد بھارتی عزائم کو ناکام بنانے کے لیے انہوں نے دلیرانہ فیصلے کیے۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے ہر عید کا دن لائن آف کنٹرول پر جوانوں کے ساتھ گذارا ، 27 فروری جنرل باجوہ کی جنگی حکمت عملی کی برتری کا دن تھا جب پاکستان نے بھارت کو زبردست عسکری دھچکادیا ، جنرل باجوہ کی اعلیٰ حربی حکمت عملی کو باجوہ ڈاکٹرائن کا نام بھی دیا جاتا ہےباجوہ ڈاکٹرائن کا مطلب صرف اور صرف ہے پرامن پاکستان، باجوہ ڈاکٹرائن اگر ہے تو وہ قیام امن اور سیکیورٹی کیلئے ہے اور اس کا صرف اور صرف ایک ہی مطلب ہے اور وہ ہے پرامن پاکستان۔مسلح افواج کا تعلق سیکیورٹی کیساتھ ہے اور جب بھی خصوصاً بھارت سے خطرہ ہو تو تمام پاکستانی ایک ہو جاتے ہیں باجوہ ڈاکٹرائن کےذریعے یہ پیغام بھی دیا گیا ہے کہ پاک فوج کی آج کی پالیسی پہلے سے مختلف ہے آج پاکستان کو ان دھمکیوں سے فرق نہیں پڑتا کہ اسے ملنے والی امریکی امداد میں کٹوتی یا اس کا خاتمہ ہوگا۔دنیادہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں اوران گنت قربانیوں کا بتدریج احساس کر رہی ہے اور برطانیہ وہ واحد ملک ہے جو حالیہ چند سال سے پاکستان کے زیادہ قریب ہوا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ برطانیہ اس حقیقت کو بھی سمجھ رہا ہے کہ اسے پاکستان کے خلاف سازشیں کرنے والے عناصر کو اپنے ملک میں پناہ نہیں دینی چاہئے اور نہ ہی مالی امداد فراہم کرنی چاہئے ۔ یقیناًیہی وجہ ہے کہ برطانیہ نے ’’بلوچستان لبریشن آرمی ‘‘جیسی تنظیموں کو دہشت گرد قرار دے دیا ہے۔ برطانیہ سمجھتاہے کہ اسے پاکستان کے اندرونی معاملات میں دخل سے زیادہ اس کے ساتھ معاشی تعلقات میں بہتری لانے کے لیے آگے بڑھنا چاہئےبھارت بلوچستان میں مداخلت کے ساتھ ساتھ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں میں براہ راست ملوث ہے اور اپنے ہاں ہونے والے کسی بھی دھماکے یا دہشت گردی کی کارروائی کا بغیرکسی تحقیق و تفتیش کے پاکستان پر الزام لگادیتا ہے۔رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹیٹیوٹ‘‘ نے اپنی مختصر رپورٹ میں باجوہ ڈاکٹر ائن کی جن چند کامیاب پالیسیوں کا ذکر کیا ہے شاید علیحدگی پسند بعض بلوچ لیڈروں کی طرف سے پاکستان کو اپنا وطن تسلیم کر کے قومی دھارے میں شامل ہونے کا اعلان بھی اسی پالیسی کے’’فیوض‘‘ میں شامل ہے۔ایک غیرملکی جریدے ’’یوروایشیا ‘‘نے اپنی 24فروری 2018ء کی اشاعت میں ایک سابق علیحدگی پسند لیڈر جمعہ خان مری بلوچ کا انٹرویو شائع کیا ہے جس کے مندرجات کے مطابق 50 سال کی علیحدگی تحریک کے بعد وہ تائب ہوا اور پاکستان کی وفاداری کا حلف لیا، جمعہ خان مری 1970 ء میں باغی بلوچوں کے گروہ میں شامل ہوا لیکن 48 سال بعد 17 فروری کو روس میں پاکستان یونٹی ڈے کی ایک تقریب میں اس نے’’ آزاد بلوچستان ‘‘کی تحریک سے علیحدگی کا اعلان کر دیا۔مذکورہ جریدے کوانٹرویو دیتے ہوئے اس نے کہا کہ میں 1960-1970ء کے آپریشن کے دوران اپنے والد میر ہزار خان مری اور فیملی کے ساتھ کا بل چلا گیا اور پھر وہاں سے ماسکو جا کر ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی۔ جمعہ خان نے یہ بھی کہا کہ میں دعویٰ کرتا ہوں کہ پاکستان اگرآج اشارتاً بھی یہ کہہ دے کہ وہ کشمیریوں کی حمایت سے ہاتھ کھینچ رہا ہے تو وہ اگلے ہی روز بلوچ تحریک کی پشت پناہی کرنا چھوڑ دے گا۔ چنانچہ سب قرائن بتاتے ہیں کہ باجوہ ڈاکٹرائن کامیاب رہا ہے۔فنانشل ایکشن ٹاسک فورس‘‘ کی تشکیل کا بنیادی مقصد دُنیا میں منی لانڈرنگ کی روک تھام اور دہشت گردی کا خاتمہ ہےڑی تگ و دو کے بعد پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کی جو اُمیدبر آئی ہے اس کا کریڈٹ ’’جی ایچ کیو‘‘میں قائم کورسیل کی حکمتِ عملی سے ممکن ہوا ، جس کا برملا اظہار جنرل قمر جاوید باجوہ 17جون کو اپنے ایک بیان میں کر چکے ہیں۔ جنرل باجوہ کا ایسا کہنا اس لئے بھی درست ہے کہ سول حکومت کچھ بھی کر لیتی فوج کی منشا کے بغیر ایسا ہونا مشکل ہی نہیں ناممکن تھا، ایسے میں یہ سمجھنا اور کہنا بھی بے جا نہ ہوگا کہ ملک میں دہشت گردی کی سوچ اور دیگر کریمنل ایکٹیویٹز کے سدباب میں جزوی بہتری کے حالات کے پس پردہ بھی جنرل باجوہ کی 2018سے چلی آ رہی سوچ یا ڈاکٹرائن ہی کار فرما ہے۔ رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ تحقیقی ادارہ بین الاقوامی ڈیفنس و سکیورٹی سے متعلق معاملات و صورتحال پر گزشتہ تقریباً 200 سال سے اپنا مربوط اور آزادانہ تجزیہ دنیا کے سامنے رکھتا ہےایک حالیہ تجزیے میں کہا ہے کہ’’ باجوہ ڈاکٹرائن‘‘ کی ٹرم جوخود افواج پاکستان نے اپنی پالیسیوں کے حوالہ سے استعمال کی ہے ،کے مطابق مغربی دنیا خصوصاً امریکہ کو یہ بتانا مقصود ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اور افغانستان کی سکیورٹی کے لئے کافی سے بھی زیادہ کام کیا اور بیشمار جانوں کی قربانی بھی دی ہے چنانچہ اب اس ضمن میں پاکستان سے مزید مطالبات بے معنی ہوں گے۔