جمعیت علمائے اسلام (س) کے امیر مولانا سمیع الحق کی نماز جنازہ ادا ،دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ میں والد کے پہلو میں سپرد خاک …..
رپورٹ :اصغر علی مبارک سے …..
.جمعیت علمائے اسلام (س) کے امیر مولانا سمیع الحق کی نماز جنازہ ادا ،دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ میں والد کے پہلو میں سپرد خاک کر دیا گیا ، جناز گاہ اور دارلعلوم حقانیہ پرسکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ پولیس کے ساتھ مدرسہ کے طلباء نے بھی سیکیورٹی فرائض سرانجام دیے۔مدارس اور مذیبی جماعتوں کے کارکنان کی بڑی تعداد نے بھی مولانا سمیع الحق کے نماز جنازہ میں شرکت کی۔مولانا سمیع الحق کی نمازجنازہ ان کے بھائی مولانا انورالحق نے پڑھائی۔ جمیعت علمائے اسلام(س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق کونماز جنازہ کے بعد دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ میں والد کے پہلو میں سپرد خاک کر دیا گیا ۔نماز جنازہ پاکستان مسلم لیگ(ن) کے رہنما راجہ ظفر الحق، حافظ سعید، امیرجماعت اسلامی سراج الحق، غلام بلور، امیر مقام، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان اور گورنر شاہ فرمان سمیت دیگر سیاسی اور مذہبی شخصیات نے شرکت کی۔واضح رھے کہ مولانا سمیع الحق قاتلانہ حملے میں جاں بحق ہو گے تھے مولانا سمیع الحق کی نمازجنازہ ان کے بھائی مولانا انورالحق نے پڑھائی۔مولانا سمیع الحق کے بیٹے اسامہ حقانی بھی عمرے کی ادائیگی کے بعد واپس وطن پہنچ گئےھیں ۔ اسامہ حقانی اپنی والدہ کے ہمراہ سعودی عرب گئے تھے اور انہیں واقعہ کی خبر مدینہ منورہ میں ملی۔ جمعیت علمائے اسلام (س) کے امیر مولانا سمیع الحق کو گزشتہ روز راولپنڈی میں قتل کردیا گیا تھا۔ صدر پاکستان اور وزیراعظم سمیت دیگر اہم سیاسی و مذہبی رہنماؤں نے قتل کی مذمت کی تھی۔قتل کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کرلیا گیا ہے۔ پولیس نے اپنی ابتدائی تفتیش میں کہا ہے کہ حملہ آور پہلے بھی مولانا سے ملنے آتے رہے ہیں۔ قاتل جاننے والے لگتے ہیں جس کے باعث ان کا ملازم اور گن مین پر سکون ہو کر باہر نکل گئے تھے اسی لیے مولانا حملے کے وقت گھر میں اکیلے تھے۔مولانا سمیع الحق پر راولپنڈی میں نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں گھر کے اندر قاتلانہ حملہ کیا گیا، جس میں ان کی موت واقع ہوئی۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے سابق سینیٹر مولانا سمیع الحق کے بیٹے حمیدالحق نے تصدیق کی کہ ان کے والد کو چھریوں کے وار کرکے قتل کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق جب مولانا سمیع الحق پر حملہ ہوا، وہ گھر میں اکیلے تھے۔ان کے بیٹے کا کہنا تھا کہ ان کے محافظ، جو ان کے ڈرائیور بھی تھے، نے بتایا کہ وہ کچھ وقت کے لیے انہیں کمرے میں اکیلا چھوڑ کر باہر گئے اور جب وہ واپس آئے تو انہیں شدید زخمی حالت میں پایا۔مولانا سمیع الحق کو زخمی حالت میں قریبی ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ ہسپتال پہنچنے سے قبل راستے میں ہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگۓ تھے ۔ مولانا سمیع الحق مدرسہ اکوڑہ خٹک کے مہتمم تھے جبکہ وہ پاکستان کے ایوان بالا کے رکن بھی رہ چکے تھے۔افغان طالبان سے مذاکرات میں ان کا کردار ہمیشہ اہم رہا ہے، کیونکہ افغان طالبان کے کئی رہنما ان کے شاگرد رہے تھے، اسی وجہ سے ان پر مولانا سمیع الحق کا بہت حد تک اثر مانا جاتا تھا۔مولانا سمیع الحق کے قتل پر خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمود خان نے افسوس کا اظہار کرتے کہا کہ سابق سینیٹر مولانا سمیع الحق کی کمی ہمیشہ محسوس کی جائے گی اور ان کی خدمات کو یاد رکھا جائے گا۔جمعیت علماء اسلام (س) کے سربراہ سمیع الحق خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ میں قائم دینی مدرسے دارالعلوم حقانیہ کے نگران تھے۔مولانا سمیع الحق 18 دسمبر 1937 کو خیبر پختونخوا کے علاقے اکوڑہ خٹک میں پیدا ہوئے تھے، انہیں پاکستان کے مذہبی اسکالر، معروف عالم اور سیاست دان کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔وہ دو مرتبہ، 1985 سے 1991 اور 1991 سے 1997 تک سینیٹ کے رکن بھی رہے۔انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے والد کے بنائے ہوئے مدرسے دارالعلوم حقانیہ میں حاصل کی تھی اور بعد ازاں انہوں نے اس مدرسے کے سربراہ کا عہدہ سنبھالا تھا۔خیال رہے کہ مولانا سمیع الحق طالبان سے متعدد مرتبہ مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کرتے رہے اور انہوں نے افغان حکومت کی طالبان سے حالیہ مذاکرات کی بھی حمایت کا اعلان کیا تھا۔واضح رہے کہ گزشتہ ماہ کے آغاز میں بھی افغان حکام اور علما نے جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ سے طالبان کے مختلف گروہوں کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کی درخواست کی تھی۔مولانا سمیع الحق کے بہت سے شاگرد افغانستان میں مقیم ہیں جس کی وجہ سے سمجھا جاتا ہے کہ وہ طالبان پر اثر و رسوخ رکھتے تھے جو اکثر ان کے لیے مذاکرات کے عمل میں مددگار ثابت ہوتے تھے۔انہوں نے پاکستان کی حکومت کو ’امریکا کی دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ سے خود کو علیحدہ کرنے کا مشورہ بھی دیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرتی ہے تو کراچی، بلوچستان اور ملک کے دیگر حصوں میں امن و امان خود بخود بحال ہو جائے گا۔یاد رہے کہ مولانا سمیع الحق کی جماعت نے رواں سال 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں اسلامی جماعتوں کی کے اتحاد متحدہ مجلس عمل سے الحاق نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف سے اتحاد کیا تھا۔وزیر اعظم عمران خان نے بھی مولانا سمیع الحق کے ساتھ مل کر ملک میں مدرسوں، درسگاہوں میں اصلاحات پر عمل در آمد کے لیے اقدامات کر رہے تھے۔معروف سلیم صافی کا کہنا تھا کہ ان کے نظریات سے اختلاف کر سکتے تھے لیکن وہ بہت اچھے انسان تھے اور مخالفین سے بھی بہت خلوص سے ملتے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ جب جمیعت علماء اسلام 2 حصوں میں تقسیم ہوئی لیکن اس کے باوجود ان کے تمام دھڑوں کے ساتھ تعلقات تھے۔انہوں نے کہا کہ دینی حلقوں میں مولانا سمیع الحق عموماً ریاست کے ساتھ کھڑے ہوتے، اگر چہ لوگ انہیں طالبان کا حامی سمجھتے تھے لیکن ان کی جانب سے پاکستان میں کبھی پرتشدد کارروائیوں کی حمایت نہیں کی گئی۔
جمعیت علمائے اسلام (س) کے امیر مولانا سمیع الحق کی نماز جنازہ ادا ،دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ میں والد کے پہلو میں سپرد خاک ….. رپورٹ :اصغر علی مبارک سے ..
Asghar Ali Mubarak


