برسبین ٹیسٹ؛ پاکستانی بیٹنگ دغاباز۔رضوان نوبال پر آوٹ۔نسیم شاہ کم عمر کرکٹر۔۔
رپورٹ؛اصغر علی مبارک سے
برسبین ٹیسٹ میں ٹاپ آرڈر پاکستانی بیٹنگ لائن عمدہ آغاز کے بعد دغا دے گئی پہلی میں پاکستان ٹیم 240 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔نسیم شاہ ٹیسٹ ڈیبیو کرنے والے دنیا کے کم عمر ترین کرکٹر بن گئے۔تفصیلات کے مطابق پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلی جانے والی ٹیسٹ سیریز کے برسبین پر کھیلے جانے والے پہلے ٹیسٹ میچ میں پاکستان کی ٹیم کے اوپنرز کے بہتر آغاز کے بعد بیٹنگ لائن لڑ کھڑا ایک مرتبہ پھر دغا دے گئی آسٹریلیا میں مسلسل بہترین بلے بازی کا مظاہرہ کرنے والےبلےباز اسد شفیق کے 76 رنز کی بدولت پاکستانی ٹیم پہلی اننگز میں 240 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔برسبین ٹیسٹ میچ میں پاکستانی ٹیم کے کپتان اظہر علی نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔جوکہ ابتداء میں درست دکھائی دیا جب ابتدا سے ہی پاکستانی ٹیم کے اوپنر شان مسعود اور اظہر علی نے محتاط انداز میں بیٹنگ کی، اور وقفے تک قومی ٹیم نے 13 اوورز میں بغیر کسی نقصان کے 33 رنز بنالیے۔قبل ازیں میچ سے قبل وقاریونس نے پاک-آسٹریلیا ٹیسٹ سیریز کے لیے منتخب فاسٹ بالر نسیم شاہ ٹیسٹ کیپ عطاکی اس طرح نسیم شاہ کم عمر ترین ٹیسٹ کرکٹر کا اعزاز حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے اس دوران پاکستان کے اس کھلاڑی کی خوب تعریف کی گئی کیونکہ پاکستان کےدونوں اوپنرز نےبھی ٹیم کو بہتر آغاز فراہم کرکھا تھا لیکن جب اسکور 75 رنز تک پہنچاتو شان مسعود 97 گیندوں پر 27 رنز بنا کر پیٹ کمنز کی گیند کا شکار بن گئے۔
شان مسعود کا آؤٹ ہونا تھا کہ قومی ٹیم کے کھلاڑی خزاں پتوں کی طرح گرنےلگے اور کھلاڑیوں کے درمیان جلد از جلدپولین لوٹنے کی ریس لگ گئی اور 75 کے ہی مجموعی اسکور پر اظہر علی 104 گیندوں پر 39 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے۔جس کے بعد کریز پر موجود حارث سہیل اور اسد شفیق میں بھی کوئی پارٹنر شپ نہ ہوسکی اور بائیں ہاتھ کے بلے باز حارث سہیل صرف ایک رنز بنا کر 77 کے مجموعی اسکور پر اپنی وکٹ گنوا بیٹھے۔
ان کے بعد اگلے آنے والے بلے باز بابر اعظم تھے جو صرف ایک رنز بنا سکے اور وہ بھی پویلین لوٹ گئے۔پاکستان کے78 کے مجموعی اسکورز پر 4 کھلاڑی آؤٹ ہونے کے بعد اسد شفیق اور افتخار احمد نے ٹیم کا اسکور کچھ آگے ہی بڑھایا تھا کہ 94 کے مجموعی اسکور پر افتخار احمد بھی 46 ویں اوورز میں صرف 7 رنز بنا کر نیتھن لیون کا شکار بنے۔پاکستان کی آدھی ٹیم کے پویلین لوٹنے کے بعد قومی ٹیم دباؤ کا شکار ہوگئی اور انتہائی محتاط انداز میں بیٹنگ کرتے ہوئے 46 اوورز 4 بالز پر 100 رنز مکمل کیے۔جس کے بعد قومی ٹیم کے مڈل آرڈر بیٹسمن اسد شفیق اور وکٹ کیپر محمد رضوان نے ٹیم کا اسکور آگے بڑھایا اور چائے کے وقفے تک پاکستانی ٹیم نے 52 اوورز میں 5 وکٹ پر 125 رنز بنا لیے تھے۔وقفے کے بعد کھیل کا آغاز ہوا تو دونوں کھلاڑی اسکور کو آگے بڑھارہے تھے کہ 143 کے مجموعی اسکور پر وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان 34 گیندوں پر 37 رنز بنا کر ایک متنازعہ فیصلہ کاشکار ھوگئے جب نوبال پرایمپائر نے انہیں آؤٹ قرار دےدیا۔چھ کھلاڑیوں کے نقصان کے بعد اسد شفیق کا ساتھ دینے یاسر شاہ آئے اور دونوں کھلاڑیوں نے ٹیم کے اسکور کو آگے بڑھایا اور مڈل آرڈر بلے باز نے 99 گیندوں پر اپنی نصف سنچری مکمل کی۔
دونوں کھلاڑیوں کی بلے بازی جاری تھی کہ 227 رنز کے مجموعی اسکور پر یاسر شاہ 83 گیندوں پر 26 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔اس کے بعد آنے والے کھلاڑی شاہین شاہ آفریدی بغیر کسی رنز کے اضافے کے 227 کے مجموعی اسکور پر آؤٹ ہوئے، ایک ساتھ 2 وکٹیں گرنے کے بعد کریز پر موجود سیٹ بلے باز اسد شفیق بھی دباؤ میں آگئے اور وہ بھی اسی مجموعی اسکور پر 76 رنز بنا کر بولڈ ہوگئے۔بعد ازاں ٹیل اینڈرز نسیم شاہ اور عمران خان بھی زیادہ مزاحمت نہیں کرپائے اور 240 کے مجموعی اسکور پر پوری پاکستانی ٹیم آؤٹ ہوگئی۔
پاکستان کی جانب سے اسد شفیق 76 رنز بنا کر نمایاں رہے جبکہ آسٹریلیا کے مچل اسٹارک نے 4، پیٹ کمنز نے 3 اور جوش ہیزل ووڈ نے 2 وکٹیں حاصل کیں۔واضح رہے کہ دورہ آسٹریلیا پر موجود پاکستان کی ٹیم نے آسٹریلیا کے خلاف 3 میچوں کی ٹی ٹوئنٹی سیریز بھی کھیلی تھی۔اس سیریز میں ٹی ٹوئنٹی کی عالمی نمبر ایک پاکستان کو آسٹریلیا سے 0-2 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا جبکہ ایک میچ بارش کی نذر ہوگیا تھا.پاکستانی ٹیم کے نوجوان فاسٹ بألر نسیم شاہ آسٹریلیا میں ٹیسٹ ڈیبیو کرنے والے سب سے کم عمر کھلاڑی بن گئے۔قومی ٹیم کے باؤلنگ کوچ وقار یونس نے آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے پہلے میچ سے قبل 16 سالہ نسیم شاہ کو ٹیسٹ کیپ دی، اس موقع پر نوجوان فاسٹ باؤلر کی آنکھیں نمی واضع دیکھی گئی کیونکہ گزشتہ ہفتے نسیم شاہ کی والدہ کا انتقال ہوگیا تھا اور انہوں نے اپنا دورہ جاری رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے تدفین میں شرکت نہیں کی تھی۔پاکستانی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان اظہر علی نے آسٹریلیا کے خلاف سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ میں 16 سالہ نسیم شاہ کو حتمی الیون میں شمولیت کے حوالے سے کہا کہ نسیم شاہ اس ٹیم کا حصہ اس لیےبنے کیونکہ وہ بہترین باؤلنگ کررہے ہیں’اظہرعلی نے کہا کہ ‘اس معیار تک ہرکھلاڑی اتنی جلدی نہیں پہنچ سکتا لیکن چند ایسے ہوتے ہیں جو اس قدر باصلاحیت ہوتے ہیں اورنسیم شاہ ان میں سے ایک ہیں۔
کپتان اظہر علی کا کہنا تھا کہ ‘ہم سب ان کے کامیاب کیریئر کے لیے نیک خواہشات رکھتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ‘جب پہلی مرتبہ میں نے ان کو دیکھا تو میں حیران ہوگیا تھا کیونکہ باؤلنگ پر ان کی گرفت تھی اور پیس بھی تھا اور ان سے اہم ٹمپرمنٹ ہے اور انہیں باؤلنگ کراتے ہوئے دیکھ کر خوشی ہوتی ہے’۔اظہر علی کا کہنا تھا کہ نسیم شاہ ‘ جب ٹیم میں آئے تھے کسی حد تک شرمیلے تھے’ لیکن وہ انٹرنیشنل کیریئر کے لیے پرعزم ہیں حالانکہ اس سیریز سے قبل ہی ان کی والدہ کا انتقال ہوگیا قومی ٹیم کے کپتان کا کہنا تھا کہ ‘ان کی والدہ کا انتقال گزشتہ ہفتے ہوا ہے جو ان کے لیے بہت مشکل مرحلہ ہے لیکن اگلے ہی روز انہوں نے باؤلنگ کی جو ہمارے لیے بھی بڑی مشکل چیز تھی’۔
واضح رہے کہ نسیم شاہ سے قبل
آسٹریلیا میں ٹیسٹ کرکٹ میں ڈیبیو کرنے والے کم عمر ترین کھلاڑی کا ریکارڈ آئن کریگ کے پاس تھا جو انہوں نے جنوبی افریقہ کے خلاف 1953 میں میلبورن کرکٹ گراؤنڈ میں 17 برس کی عمر میں قائم کیا تھا۔
جبکہ نسیم شاہ نے16 سال کی عمر میں ریکارڈ قائم کیا۔پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان دو ٹیسٹ میچ ہوں گے پہلا میچ 25 نومبر تک برسبین جبکہ دوسرا میچ ایڈیلیڈ میں 29 نومبر سے 3 دسمبر تک کھیلا جائے گا۔۔۔۔


