ایشیا کپ میں پاکستان کی سنسنی خیز مقابلے کے بعد بھارت کو شکست ..رپورٹ;.اصغر علی مبارک سے…… ایشیا کپ 2022 کے سپر فور مرحلے کے سنسنی خیز میچ میں پاکستان نے بھارت کو شکست دے کر ایونٹ کے ابتدائی مرحلے کی شکست کا بدلہ لے لیا۔ ایشیا کپ 2022 کے سپر فور مرحلے میں پاکستان نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد بھارت کو آخری اوور میں شکست دی۔ بھارت کی جانب سے دیا گیا 182 رنز کا ہدف پاکستان نے 5 وکٹوں کے نقصان پر آخری اوور کی پانچویں گیند پر پورا کیا۔ پاکستان کی جانب سے بیٹنگ کا آغاز محمد رضوان اور بابر اعظم نے کیا۔بھارت کی جانب سے بھونیشور کمار نے پہلا اوور کروایا جس میں بابر اعظم نے انہیں شاندار چوکا لگایا۔دوسرے اوور میں ارشدیپ سنگھ نے اچھی باؤلنگ کرتے ہوئے صرف دو رنز دیے۔بھونیشور کمار کے دوسرے اوور میں بابر اعظم نے آخری گیند پر دلکش چوکا رسید کیا، اور اس اوور میں 8 رنز بٹورے۔بھارتی کپتان روہت شرما نے چوتھا اوور کروانے کے لیے گیند روی بشنوئی کو تھمائی، جنہوں نے مایوس نہیں کیا اور بابر اعظم کی بڑی وکٹ لینے میں کامیاب رہے۔ایشیا کپ میں پاکستانی کپتان بابر اعظم ایک بار پھر بڑی اننگ کھیلنے میں ناکام رہے، محمد رضوان کا ساتھ دینے فخر زمان کریز پر آئے۔پانچواں اوور ہاردیک پانڈیا نے کروایا، محمد رضوان نے ان کی پہلی اور آخری گیند پر شاندار چوکے رسید کیے، فخر زمان نے بھی چوتھی گیند پر چوکا جڑا، اور 14 رنز بٹورے۔محمد رضوان نے چھٹا اوور کروانے والے ارشدیپ سنگھ کی تیسری گیند پر شاندار چھکا مارا، جن کے اوور میں 8 رنز بنے۔لیگ اسپنر یوزویندر چاہل نے ساتواں اوور کروایا جس میں محمد رضوان نے ایک چوکا رسید کیا اور 6 رنز حاصل کیے۔دوسرے لیگ اسپنر روی بشنوئی نے آٹھویں اوور میں نپی تلی گیند بازی کی اور لیگ بائے سمیت 6 رنز دیے۔چاہل نے نواں اوور جاری رکھا، فخر زمان نے کوور کے اوپر سے کھیل کر 4 رنز حاصل کے اس کے بعد اگلی ہی گیند پر وہ 15 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے، ان کا کیچ ویرات کوہلی نے تھاما۔جس کے بعد محمد نواز کو ترقی دے کر چوتھے نمبر پر بیٹنگ کرنے کے لیے بھیجا گیا۔پاکستان نے 9ویں اوور کے اختتام پر بابر اور فخر کے نقصان پر 67 رنز بنائے۔ہاردک پانڈیا کے 10ویں اوور میں 9 رنز بنے۔محمد رضوان نے گیارہویں اوور کی پہلی گیند پر چاہل کو لیگ سائیڈ پر لمبا چھکا مارا، اور 10 رنز بٹورے۔محمد رضوان نے 2 چھکوں اور 2 چوکوں کی مدد سے 38 گیندوں پر 50 رنز مکمل کیے۔پندرہویں اوور کی ابتدائی دو گیندوں پر محمد نواز نے مسلسل دو چوکے مارے اور سنگل رن کیا جس کے بعد چوتھی گیند پر محمد رضوان نے بھی کور پر شاندار چوکا رسید کیا، اور پانچویں گیند پر دو رنز لیے، آخری گیند پر ایک رن لیا، اور پاکستان نے اس اوور میں مجموعی طور پر 16 رنز بٹورے۔اس موقع پر پاکستان کو جیتنے کے لیے 5 اوورز میں 47 رنز کی ضرورت تھی۔محمد نواز نے 210 کے اسٹرائیک ریٹ سے جارحانہ بیٹنگ کی اور 20 گیندوں پر 42 رنز بنا کر پاکستان کے جیتنے کے امکانات روشن کردیے تھے۔پاکستان کو اس وقت بڑا نقصان برداشت کرنا پڑا جب 17 ویں اوور میں ہاردیک پانڈیا نے 71 رنز بنانے والے محمد رضوان کو یادیو کے ہاتھوں کیچ آؤٹ کروایا۔اٹھارہویں اوور میں باؤلنگ کرنے روی بشنوئی آئے، ان کی تیسری گیند پر محمد آصف کا ایک آسان کیچ ڈراپ ہوا۔پاک۔بھارت میچ سنسنی خیز مرحلے میں داخل ہواپاکستان کو 2 اوورز میں 26 رنز کی ضرورت تھی.انیسویں اوور کی دوسری گیند پر آصف علی نے شاندار چھکا مارا، دوسری جانب خوشدل شاہ نے چوتھی گیند پر چوکا رسید کیا اور آخری گیند پر آصف علی نے ایک اور چوکا جڑ کے میچ کو مزید دلچسپ بنا دیا، اس اوور میں 19 رنز حاصل کیے۔بیسویں اوور کی پہلی گیند پر خوشدل شاہ نے ایک رن حاصل کیا، دوسری گیند پر آصف علی کے چوکا مارا تاہم تیسری گیند پر کوئی رن نہیں حاصل کرسکے اور چوتھی گیند پر وہ ایل بی ڈبلیو آؤٹ ہو گئے، اس موقع پر پاکستان کو جیتنے کے لیے 2 گیندوں پر 2 رنز کی ضرورت ہےقبل ازیں، ایشیا کپ 2022 کے سپر فور مرحلے میں بھارت نے پاکستان کے خلاف پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 181 رنز بنائے اور پاکستان کو جیتنے کے لیے 182 رنز کا ہدف دیا۔
بیٹنگ آرڈر میں تبدیلی کرتے ہوئے محمد نواز کو اوپر بھیجا گیا جہاں انہوں نے اپنے کیریئر کی بہترین باری کھیلتے ہوئے 20 گیندوں پر 42 رنز بنائے جبکہ ان کے اور رضوان کے درمیان 41 گیندوں پر 71 رنز کی شراکت نے میچ کو دلچسپ بنادیا۔ پہلے محمد نواز 136 اور پھر محمد رضوان 147 کے مجموعے پر آؤٹ ہوئے تو میچ بھارت کے حق میں جاتا دکھائی دیا۔ایسے میں آصف علی نے 8 گیندوں پر 16 رنز بنا کر جیت کی امیدیں روشن کیں، ان کا ساتھ 14 رنز بنانے والے خوشدل شاہ نے دیا۔آخری اوور میں جب 4 گیندوں پر دو رنز درکار تھے تب آصف علی کے آؤٹ ہونے کے بعد میچ پھر ہاتھ سے جاتا دکھائی دیا، تاہم افتخار احمد نے آخری گیند پر دو رنز بنا کر ٹیم کو اہم جیت سے ہمکنار کروایا۔ دبئی میں کھیلے جارہے اس میچ میں پاکستان نے ٹاس جیت کر بھارت کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی تھی۔بھارت نے ٹاپ آرڈر بلے بازوں کی ذمہ دارانہ بیٹنگ کی بدولت پاکستان کو جیت کے لیے 182 رنز کا ہدف دیا تھا۔ بھارتی اوپنرز روہیت شرما اور کے ایل راہول نے اننگز کا آغاز جارحانہ انداز میں کیا اور صرف پانچویں اوور کی دوسری گیند پر ہی ٹیم کے 50 رنز مکمل کرلیے تھے۔ چھٹے اوور کی پہلی گیند پر حارث رؤف نے روہیت شرما اور ساتویں اوور کی پہلی گیند پر شاداب خان نے کے ایل راہول کو آؤٹ کرکے بھارتی بیٹنگ کی رفتار میں کچھ خلل ڈالنے کی کوشش کی۔ بھارتی اوپننگ بلے باز روہیت شرما اور کے ایل راہول دونوں ہی 28، 28 رنز بنا کر پویلین لوٹے۔ 62 پر دو وکٹوں سے محروم بھارتی ٹیم کے لیے ویرات کوہلی اور سریا کمار یادیو نے 29 رنز کی پارٹنرشپ فراہم کی جہاں دسویں اوور میں 91 رنز پر سریا کمار یادو محمد نواز کی گیند پر چھکا مارنے کی کوشش میں کیچ آؤٹ ہوئے۔ ایک جانب ویرات کوہلی مستقل مزاجی کے ساتھ رنز بٹورتے رہے تو چوتھی وکٹ پر ان کا ساتھ ریشبھ پنت نے دیا اور 35 رنز کی شراکت بنائی۔ شاداب خان نے اپنے اسپیل کے تیسرے اوور میں ریشبھ پنت کو آؤٹ کیا جس کے ساتھ بھارتی ٹیم 126 کے اسکور تک چار وکٹوں سے محروم ہوئی۔ ہادیک پانڈیا کو محمد حسنین نے صفر پر آؤٹ کیا، جس کے ساتھ ہی 131 کے مجموعے پر آدھی بھارتی ٹیم پویلین لوٹ چکی۔چھٹی وکٹ پر ویرات کوہلی کے ساتھ دیپک ہوڈا نے 37 رنز جوڑے جنہوں نے 16 رنز بنائے، انہیں 168 کے مجموعے پر نسیم شاہ نے کیچ آؤٹ کروایا۔ بھارت کی ساتویں گرنے والی وکٹ ویرات کوہلی تھے جو 44 گیندوں پر 60 رنز کی عمدہ اننگز کھیل کر 173 پر رن آؤٹ ہوئے۔ جہاں حارث رؤف اچھی گیند بازی کر رہے تھے وہیں فخر زمان کی خراب گیندبازی کی بدولت بھارتی ٹیم آخری دو گیندوں پر دو چوکے لے کر مقررہ 20 اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 181 رنز بنانے میں کامیاب ہوئی۔ پاکستان کی جانب سے شاداب خان 4 اوورز میں 2 وکٹیں لے کر نمایاں بولر رہے جبکہ ان کا ساتھ ایک وکٹ کے ساتھ محمد نواز نے دیا جنہوں نے 4 اوورز میں 25 رنز دیے۔پاکستانی فاسٹ بولرز مہنگے ثابت ہوئے، تاہم تینوں بولرز نسیم شاہ، حارث رؤف اور محمد حسنین نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔بابر اعظم کا کہنا تھا کہ گزشتہ میچ سے ہم نے بہت کچھ مثبت حاصل کیا اور اپنے کھلاڑیوں کو کہا کہ مثبت انداز میں کھیلیں۔ بھارتی ٹیم کے کپتان روہیت شرما کا کہنا تھا کہ زیادہ کرکٹ کی وجہ سے کھلاڑی انجری کا شکار ہوگئے۔ایونٹ کے ابتدائی مرحلے کے گروپ میچ میں پاکستان کے خلاف بھارت نے دلچسپ مقابلے کے بعد 5 وکٹوں سے کامیابی حاصل کی تھیبھارتی ٹیم میں تین تبدیلیاں ہوئی ہیں جہاں ہاردیک پانڈیا کی واپسی کے ساتھ رویندرا جڈیجا کی جگہ دیپک ہوڈا اور اویش خان کی جگہ پر روی بشنوئی کو ٹیم میں شامل کیا گیاپاکستان ٹیم میں ایک تبدیلی کی گئی ہے جہاں انجری کے شکار شاہنواز دہانی کی جگہ پر فاسٹ بولر محمد حسنین کو ٹیم میں شامل کیا گیا












