ایران امریکہ جنگ کے 6 ماہ: کس کا کیا نقصان ہوا؟
( اصغر علی مبارک) ایران اور امریکہ کے مابین دہائیوں سے جاری سرد جنگ جب باقاعدہ مسلح تصادم میں تبدیل ہوئی، تو دنیا کی معیشت سے لے کر علاقائی جغرافیے تک سب کچھ ہل کر رہ گیا۔ آج اس تباہ کن تنازع کو چھ ماہ مکمل ہو چکے ہیں۔ اس عرصے میں دونوں فریقین نے ایک دوسرے کو شدید زک پہنچائی۔
آئیے جائزہ لیتے ہیں کہ کب، کیا ہوا اور ان چھ مہینوں میں کس فریق کا کیا نقصان ہوا؟
جنگ کا آغاز کب اور کیسے ہوا؟
(وقوعہ اور پسِ منظر)جنگ کی چنگاری چھ ماہ قبل فروری 2026 کے آغاز میں اس وقت بھڑکی جب آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) میں امریکی بحریہ کے ایک بڑے جنگی جہاز پر جدید ترین ڈرون حملہ ہوا، جس کا الزام واشنگٹن نے براہِ راست تہران پر عائد کیا۔ جواب میں امریکی فضائیہ نے ایران کے ساحلی دفاعی نظام اور پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے اڈوں پر بمباری کر دی۔
ایران نے اس کا جواب اپنی روایتی پراکسیز (حوثی، حزب اللہ اور عراقی ملیشیا) کو فعال کر کے اور اسرائیل و خطے میں موجود امریکی فوجی چھاؤنیوں پر سینکڑوں بیلسٹک میزائل داغ کر دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ جھڑپ ایک باقاعدہ اور بڑے علاقائی معرکوں میں تبدیل ہو گئی۔
کس کا کیا نقصان ہوا؟
چھ ماہ کی اس طویل ترین جنگ میں دونوں ممالک نے بھاری قیمت چکائی ہے۔
نقصان کا تفصیلی جائزہ درج ذیل ہے:
1۔ ایران کا نقصان (انسانی، عسکری اور اقتصادی بحران)ایران کو اس جنگ میں دفاعی پوزیشن پر رہنے کی وجہ سے براہِ راست اپنی سرزمین پر شدید نقصانات کا سامنا کرنا پڑا:
عسکری انفراسٹرکچر کی تباہی:
امریکی فضائی حملوں اور اسٹیلتھ بمبار طیاروں (B-2) کی کارروائیوں کے نتیجے میں ایران کے کئی اہم نیوکلیئر پاور پلانٹس، بیلسٹک میزائل بنانے والی فیکٹریاں، اور پاسدارانِ انقلاب کے اہم ہیڈکوارٹرز مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔
انسانی اور کمانڈ لائف کا نقصان:
چوٹی کے متعدد ایرانی جرنیل، جوہری سائنسدان اور ہزاروں کی تعداد میں پاسدارانِ انقلاب کے سپاہی ان حملوں میں لقمہ اجل بنے۔
معاشی دیوالیہ پن:
امریکہ کی طرف سے مکمل سمندری ناکہ بندی (Naval Blockade) کے باعث ایران کی تیل کی برآمدات صفر ہو کر رہ گئی ہیں۔ ملکی کرنسی (ریال) اپنی تاریخ کی کم ترین سطح پر گر چکی ہے، اور ملک کے اندر خوراک اور ادویات کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔
2۔ امریکہ کا نقصان (اقتصادی بوجھ، ساکھ اور عسکری ہلاکتیں)دنیا کی سپر پاور ہونے کے باوجود امریکہ کے لیے یہ جنگ کوئی آسان کھیل ثابت نہیں ہوئی، بلکہ اسے گوریلا ٹیکنالوجی اور میزائلوں نے شدید چوٹ پہنچائی ہے:
اربوں ڈالر کا عسکری بوجھ:
چھ ماہ کی مسلسل جنگ، پیٹریاٹ میزائلوں کا بے دریغ استعمال اور بحری بیڑوں کو متحرک رکھنے پر پینٹاگون کے اب تک 150 ارب ڈالر سے زائد اخراجات آ چکے ہیں، جس نے امریکی معیشت پر بوجھ بڑھا دیا ہے۔
علاقائی اڈوں پر حملے اور ہلاکتیں:

عراق، شام، اور اردن میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر ایرانی ڈرونز اور میزائل حملوں کے نتیجے میں سینکڑوں امریکی فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے۔ اس کے علاوہ خلیج فارس میں دو امریکی گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز (Destroyers) کو شدید نقصان پہنچا۔
عالمی ساکھ کو دھچکا:
امریکہ ایران کے اندر حکومت تبدیل کرنے یا اسے مکمل طور پر گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے میں ناکام رہا ہے، جس سے اس کی عالمی طاقت کی دھاک کمزور ہوئی ہے۔
عالمی معیشت اور دنیا پر اثرات;
اس جنگ کا سب سے بڑا نقصان ایران یا امریکہ کو نہیں، بلکہ پوری دنیا کو اٹھانا پڑ رہا ہے:
تیل کی قیمتوں میں آگ:
آبنائے ہرمز کی بندش اور سعودی و اماراتی تنصیبات پر پراکسی حملوں کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں بلندیوں کو چھو رہی ہیں، جس سے پوری دنیا میں مہنگائی کا طوفان آیا ہوا ہے۔
سپلائی چین کی تباہی:
بحیرہ احمر اور خلیج عمان میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے باعث عالمی بحری تجارت مفلوج ہو چکی ہے، اور یورپ و ایشیا کے درمیان مال برداری کا کرایہ 300 فیصد تک بڑھ گیا ہے۔
چھ ماہ گزرنے کے بعد بھی جنگ کا کوئی واضح فاتح سامنے نہیں آ سکا۔ ایران نے اپنے زیرِ زمین میزائل نیٹ ورک اور مضبوط جغرافیے کی وجہ سے امریکی دباؤ کا مقابلہ کیا ہے، جبکہ امریکہ نے اپنی فضائی اور تکنیکی برتری کی بدولت ایران کو معاشی اور دفاعی طور پر پسماندہ کر دیا ہے۔
عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ جنگ اب ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکی ہے جہاں دونوں فریق تھک چکے ہیں، اور اگر فوری طور پر عمان یا قطر کی ثالثی میں جنگ بندی نہ ہوئی تو یہ تیسری عالمی جنگ کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ پچھلے چھ ماہ میں گولیوں کی گھن گرج کو روکنے کے لیے پسِ پردہ انتہائی پیچیدہ سفارت کاری کا سہارا بھی لیا۔ اس جنگ کے دوران کئی بار عارضی جنگ بندی ہوئی اور باقاعدہ یادداشتوں پر دستخط کیے گئے، مگر دونوں فریقین کی طرف سے “عزم اور عدم اعتماد” کے باعث یہ معاہدے دیرپا ثابت نہ ہو سکے۔
مکرر سفارتی کوششوں، طے پانے والے معاہدوں اور موجودہ ڈیڈ لاک کا تفصیلی احوال درج ذیل ہے:
1۔ اپریل 2026ء: پاکستان کی ثالثی اور پہلی عارضی جنگ بندی ;
جنگ کے آغاز (28 فروری 2026ء) کے محض دو ماہ بعد، جب سکیورٹی کی صورتحال انتہائی سنگین ہو گئی، تو پاکستان نے ایک اہم سفارتی کردار ادا کیا۔
معاہدہ: 8 اپریل 2026ء کو پاکستان کی مڈایشن (ثالثی) کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کا اعلان ہوا۔
ایران نے پاکستان کی طرف سے پیش کردہ 45 روزہ فریم ورک کو مسترد کر کے اپنا 10 نکاتی فارمولا پیش کیا تھا۔
اس عارضی فائر بندی کی دونوں طرف سے متعدد بار خلاف ورزی کی گئی، تاہم 21 اپریل کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس جنگ بندی میں غیر معینہ مدت کے لیے توسیع کا اعلان کر دیا تاکہ مستقل امن معاہدے کی راہ ہموار ہو سکے۔
2۔ جون 2026ء: اسلام آباد یادداشت (Islamabad MoU) – ایک بڑی پیش رفت ;
جون کے مہینے میں سفارت کاری اپنے عروج پر پہنچی اور اسلام آباد میں ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد ایک بڑا بریک تھرو سامنے آیا۔
معاہدہ: 14 جون 2026ء کو پاکستان کی دوبارہ ثالثی میں دونوں ممالک نے ایک عبوری امن معاہدے پر دستخط کیے، جسے “اسلام آباد میمورینڈم آف انڈرسٹینڈنگ (MoU)” کا نام دیا گیا۔
اہم نکات: اس 14 نکاتی معاہدے کے تحت ایران نے عزم ظاہر کیا کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا اور بدلے میں ایران کی تعمیرِ نو کے لیے 300 ارب ڈالر کے فنڈ کی یقین دہانی کرائی گئی۔
اس معاہدے کا بنیادی مقصد آبنائے ہرمز کو دوبارہ تجارتی جہازوں کے لیے کھولنا اور لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ کو 60 دنوں کے لیے روکنا تھا۔
معاہدے کا خاتمہ:
یہ معاہدہ زمین پر مکمل نافذ نہ ہو سکا۔ اگست کے وسط (17 اگست 2026ء) کو اس معاہدے کی مدت ختم ہو گئی۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے۔ امریکہ نے الزام لگایا کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملے جاری رکھے، جبکہ ایران کا مؤقف تھا کہ امریکہ لبنان میں اسرائیل کو جنگ سے روکنے میں ناکام رہا۔
3۔ اگست 2026ء: عمان اور قطر کی نئی علاقائی کوششیں;
جون کے معاہدے کے خاتمے اور امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ کی طرف سے ایران کے خلاف “اکنامک ڈی ڈے (Economic D-Day)” اور نئی سخت ترین پابندیوں کے اعلان کے بعد، قطر اور عمان ایک بار پھر متحرک ہو گئے ہیں۔
عمان کا عارضی کوریڈور پلان: اگست کے آخری ہفتے میں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور عمانی حکام کے درمیان تہران میں مذاکرات ہوئے۔ دونوں ممالک آبنائے ہرمز کے متبادل ایک “عارضی نیوی گیشن کوریڈور” اور بارودی سرنگیں صاف کرنے (Mine-Clearing) کے پراجیکٹ پر متفق ہوئے ہیں تاکہ عالمی تیل کی سپلائی بحال کی جا سکے۔
قطر کی انٹینس ڈپلومیسی:
27 اگست 2026ء کو قطر کے وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے تہران کا ہنگامی دورہ کیا۔ انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور سکیورٹی چیف محسن رضائی سے ملاقاتیں کیں تاکہ امریکہ اور ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔ ایران کے سکیورٹی چیف کا کہنا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے اپنی شرائط کی فہرست تیار کر رہے ہیں۔
موجودہ ڈیڈ لاک: “دباؤ بمقابلہ مزاحمت”چھ ماہ گزرنے کے بعد اس وقت سفارتی عمل مکمل تعطل (Deadlock) کا شکار ہے۔
امریکی مؤقف:
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ شدید اقتصادی ناکہ بندی اور پابندیوں کی وجہ سے ایران “معاہدہ کرنے کے لیے منتیں کر رہا ہے”۔ تاہم، وائٹ ہاؤس نے واضح کیا ہے کہ اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی براہِ راست مذاکرات نہیں ہو رہے اور امریکہ جون کے پرانے معاہدے کی شقوں پر واپس نہیں جائے گا۔ امریکہ کا حتمی ہدف ایران کی یورینیم افزودگی کو صفر پر لانا ہے۔
ایرانی مؤقف: ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ “سفارت کاری کے دروازے بند نہیں ہوئے، لیکن امریکہ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ دباؤ کی پالیسی کام نہیں کرے گی”۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ جب تک امریکی بحری ناکہ بندی ختم نہیں ہوتی اور پابندیاں نہیں ہٹتیں، وہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر نہیں کھولے گا۔حاصل کلام:چھ ماہ کی اس جنگ نے ثابت کیا ہے کہ عسکری طاقت کے ذریعے کسی بھی فریق کو مکمل مغلوب نہیں کیا جا سکتا۔ اگرچہ پاکستان، قطر اور عمان جیسے ممالک نے جنگ کے شعلوں کو مدہم رکھنے میں کامیابی حاصل کی ہے، لیکن جب تک واشنگٹن اور تہران اپنے بنیادی مطالبات (ایران کا جوہری پروگرام اور امریکہ کی معاشی پابندیاں) پر لچک نہیں دکھاتے، تب تک کسی پائیدار امن معاہدے کا خواب شرمندہ تعبیر ہونا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ امریکی اسٹیلتھ بمباروں کی کارروائیوں سے ایران کا عسکری انفراسٹرکچر متاثر ہوا ہے، جبکہ سخت معاشی اور بحری ناکہ بندی کی وجہ سے ملکی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہے۔ واشنگٹن کے لیے یہ جنگ اب تک 150 ارب ڈالر سے زائد کا عسکری بوجھ بن چکی ہے۔ عراق اور شام میں قائم امریکی اڈوں پر ڈرون حملوں نے امریکی دفاعی نظام کی خامیاں واضع کی ہیں اس پورے بحران میں پاکستان کی سول اور ملٹری قیادت نے عالمی جنگ کو روکنے کے لیے ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کیا۔ 14 جون 2026ء کو پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والا “اسلام آباد معاہدہ امن کی سب سے بڑی کوشش ثابت ہوا، جس کے ذریعے سفارت کاری کا راستہ ہموار کیا گیا۔جب مشرقِ وسطیٰ کی یہ جنگ عالمی معیشت کو نگلنے لگی اور خام تیل کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں، تو دنیا نے دیکھا کہ روایتی عالمی طاقتیں اس بحران کو حل کرنے میں ناکام رہیں۔ ایسے مخدوش حالات میں پاکستان کی سول اور ملٹری قیادت نے ایک تاریخ ساز اور جرات مندانہ سفارتی مشن کا آغاز کیا۔پاکستان کی اعلیٰ قیادت کی انتھک شٹل ڈپلومیسی کے نتیجے میں 14 جون 2026ء کو دونوں متحارب ممالک اسلام آباد میں میز پر بیٹھنے پر مجبور ہوئے، جہاں تاریخی “اسلام آباد میمورینڈم آف انڈرسٹینڈنگ (Islamabad MoU)” پر دستخط کیے گئے۔ اس 14 نکاتی امن فارمولے کے تحت:ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو پرامن حدود میں رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔عالمی برادری کی طرف سے ایران کی تعمیرِ نو کے لیے 300 ارب ڈالر کے فنڈ کی تجویز دی گئی۔آبنائے ہرمز کو عارضی طور پر تجارتی جہازوں کے لیے کھولنے اور لبنان میں 60 روز کی جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا۔یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اور عسکری سفارت کاری کا وہ تاریخی عروج تھا جس نے دنیا کو ایک ممکنہ تیسری عالمی جنگ کے دہانے سے پیچھے دھکیلا۔ اگست کے وسط میں اسلام آباد معاہدے کی مدت ختم ہونے کے بعد، دونوں اطراف سے عدم اعتماد کی بنا پر جنگ کے شعلے ایک بار پھر بھڑک اٹھے ہیں۔ امریکی وزیرِ خزانہ کی طرف سے ایران پر سخت ترین معاشی پابندیوں (Economic D-Day) کے اعلان کے بعد عمان اور قطر کی حکومتیں بھی جنگ بندی کے متبادل راستوں کے لیے متحرک ہو گئی ہیں، جہاں آبنائے ہرمز میں متبادل کوریڈورز بنانے پر بات چیت جاری ہے چھ ماہ کے اس خونی معرکے نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ گولی اور بارود کے ذریعے تہران یا واشنگٹن میں سے کوئی بھی ایک دوسرے کو مکمل طور پر مغلوب نہیں کر سکتا۔ دباؤ اور مزاحمت کی اس جنگ کا واحد حل صرف اور صرف اسی سفارتی فریم ورک میں پنہاں ہے جس کی بنیاد پاکستان نے اسلام آباد میں رکھی تھی۔ عالمی برادری اور دونوں ممالک کے دانشوروں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ پائیدار امن کے لیے امریکہ کو معاشی پابندیوں کی ہٹ دھرمی چھوڑنا ہوگی اور ایران کو علاقائی سلامتی کے عالمی اصولوں کا احترام کرنا ہوگا، ورنہ خلیج فارس کا یہ لاوا پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا ایران اور امریکہ کے مابین جاری چھ ماہ کے اس ہولناک تجارتی و عسکری تصادم پر جہاں دنیا بھر کے سفارتی حلقوں میں ہلچل مچی ہوئی ہے، وہیں عالمی پریس نے بھی اپنے اداریوں کے ذریعے اس جنگ کے مختلف پہلوؤں کا گہرا تجزیاتی احاطہ کیا ہے۔ دنیا کے چوٹی کے اخباری اداروں نے اس بحران، اس کے ذمہ داران اور پاکستان کے سفارتی کردار پر الگ الگ زاویوں سے روشنی ڈالی ہے۔
دی نیویارک ٹائمز (امریکہ):
امریکی معیشت پر بوجھ اور تہران پر تنقیدامریکہ کے معتبر اخبار ’دی نیویارک ٹائمز‘ نے اپنے اداریے کا مرکزی محور پینٹاگون کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور امریکی معیشت پر پڑنے والے بوجھ کو بنایا ہے۔ اخبار کا مؤقف ہے کہ واشنگٹن خلیج فارس کی اس دلدل میں طویل عرصے تک اربوں ڈالر جھونکنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ نیویارک ٹائمز نے اس پوری کشیدگی کا ذمہ دار براہِ راست ایران اور اس کی علاقائی پراکسیز کو ٹھہرایا ہے جنہوں نے آبنائے ہرمز میں عالمی بحری تجارت کو خطرے میں ڈالا۔ پاکستان کے کردار پر تبصرہ کرتے ہوئے امریکی اخبار نے ’اسلام آباد معاہدے‘ کو ایک بہترین ’عارضی بریک‘ اور موقتی ریلیف قرار دیا، تاہم اس نے تہران کے رویے کے باعث اس کے مستقل نفاذ پر شکوک کا اظہار کیا اور حل کے طور پر ایران کے یورینیم افزودگی پروگرام کو مکمل سیل کرنے کا مطالبہ کیا۔
الجزیرہ میڈیا نیٹ ورک (قطر):
معاشی ناکہ بندی اور انسانی بحران کا نوٹسعرب دنیا کے سب سے بڑے نیٹ ورک ’الجزیرہ‘ نے اپنے اداریے میں واشنگطن کی یکطرفہ پالیسیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ الجزیرہ نے امریکہ کی طرف سے قائم کی گئی بحری ناکہ بندی کو ایرانی عوام کے خلاف ’معاشی دہشت گردی‘ سے تشبیہ دی ہے جس نے خطے میں خوراک اور ادویات کا شدید بحران پیدا کیا۔
الجزیرہ نے اس جنگ کا اصل ذمہ دار امریکی ہٹ دھرمی اور ٹرمپ انتظامیہ کی ’میکسیمم پریشر‘ پالیسی کو قرار دیا۔ پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے قطری میڈیا نے کہا کہ پاکستان کی سول اور عسکری قیادت کی طرف سے دونوں فریقین کو اسلام آباد میں ایک میز پر لانا انتہائی جرات مندانہ اور متوازن اقدام تھا، اور اب امریکہ کو ہٹ دھرمی چھوڑ کر عمان اور قطر کے متبادل نیوی گیشن کوریڈور پلان کو تسلیم کر لینا چاہیے۔
دی گارڈین (برطانیہ): عالمی اداروں کی ناکامی اور تیسری عالمی جنگ کا خدشہبرطانوی اخبار ’دی گارڈین‘ نے اپنے اداریے میں اس جنگ کو اقوامِ متحدہ اور سلامتی کونسل جیسے بین الاقوامی اداروں کی بدترین ناکامی قرار دیا ہے۔ اخبار نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ تصادم فوری طور پر نہ رکا تو یورپ توانائی کے ایک ایسے ہولناک بحران کا شکار ہو جائے گا جس کے اثرات تیسری عالمی جنگ کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ گارڈین نے اس جنگ کی ذمہ داری کسی ایک فریق پر ڈالنے کے بجائے ٹرمپ کے جارحانہ عزائم اور تہران کے غیر لچکدار رویے، دونوں کو یکساں قصوروار ٹھہرایا ہے۔ برطانوی پریس نے پاکستان کے کردار کو ایک ’تاریخی کامیابی‘ لکھتے ہوئے اعتراف کیا کہ مسلم دنیا کی واحد نیوکلیئر پاور (پاکستان) اس وقت خطے میں سب سے موثر اور قابلِ قبول ثالث بن کر ابھری ہے، جس کا پیش کردہ فارمولا ہی امن کی واحد ضمانت ہے۔
ژنہوا نیوز ایجنسی (چین):
امریکی سامراجیت اور علاقائی خودمختاری کا دفاعچین کے سرکاری میڈیا ہاؤس ’ژنہوا‘ نے اپنے اداریے میں اس جنگ کو امریکی یکطرفہ پسندی اور سامراجی سوچ کا شاخسانہ قرار دیا ہے۔ چینی پریس نے امریکی وزیرِ خزانہ کے ’اکنامک ڈی ڈے‘ اور نئی پابندیوں کو عالمی تجارتی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ترقی پذیر ممالک کی خودمختاری کے تحفظ پر زور دیا ہے۔
ژنہوا نے جنگ کا پورا ملبہ امریکہ کی دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے کلچر پر ڈالا۔ پاکستان کے حوالے سے چین نے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات اور 14 نکاتی امن فارمولے کی کھلی اور مکمل سفارتی تائید کی، اور یہ تجویز پیش کی کہ پاک-چین اقتصادی راہداری (CPEC) کے شراکت داروں کو خطے کے مسائل خطے میں ہی حل کرنے کے لیے پاکستان کے اس امن مشن کو مزید آگے بڑھانا چاہیے۔ مشرقِ وسطیٰ کے اس ہولناک ترین بحران میں پاکستان کی سول اور عسکری قیادت نے جس متحرک، جرات مندانہ اور غیر جانبدارانہ سفارت کاری کا مظاہرہ کیا، اس نے دنیا بھر کے بڑے سیاسی اور سٹریٹجک ماہرین کو حیران کر دیا ہے۔
عالمی سطح پر یہ تسلیم کیا جا رہا تھا کہ داخلی معاشی چیلنجز کے باعث پاکستان اس بڑی عالمی جنگ میں کوئی فعال کردار ادا نہیں کر پائے گا، لیکن اسلام آباد نے تمام منفی اندازوں اور سفارتی توقعات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے خود کو خطے کا سب سے ناگزیر امن ثالث ثابت کیا.
واشنگٹن اور تہران کا بیک وقت اعتماد حاصل کرناسفارتی میدان میں سب سے بڑی حیرت یہ دیکھی گئی کہ پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اور ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل، دونوں کا یکساں اعتماد حاصل کیا۔
پچھلی دہائیوں میں پاکستان پر امریکی جھکاؤ کے الزامات عائد کیے جاتے رہے، لیکن موجودہ قیادت نے تہران کو یہ یقین دلانے میں کامیابی حاصل کی کہ پاکستان کی سرزمین یا فضائی حدود ایران کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔
یہی وجہ تھی کہ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور امریکی سفارتی حکام نے سوئٹزرلینڈ کے روایتی چینلز کے بجائے اسلام آباد کی میزبانی میں رازداری سے مذاکرات کرنے کو ترجیح دی، جس کے نتیجے میں 14 جون کا تاریخی ’اسلام آباد معاہدہ‘ ممکن ہو سکا۔
اس جنگ کے دوران پاکستان پر شدید دباؤ تھا کہ وہ یا تو چین کے ایران نواز کیمپ میں کھڑا ہو جائے یا پھر سعودی عرب اور یو اے ای جیسے دیرینہ خلیجی شراکت داروں کے موقف کی تائید کرے۔ پاکستانی قیادت نے کمالِ مہارت سے ایک ایسا توازن برقرار رکھا جہاں بیجنگ نے بھی پاکستان کے 14 نکاتی فارمولے کی کھلی حمایت کی، اور دوسری طرف سعودی عرب اور خلیجی ممالک نے بھی اسلام آباد کے امن مشن پر کوئی اعتراض نہیں اٹھایا۔ اس حکمتِ عملی نے پاکستان کو بلاک پولیٹکس کے نقصانات سے محفوظ رکھتے ہوئے ایک عالمی امن ساز کا درجہ دلایا۔
اس بحران نے ثابت کیا کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل اور مغربی طاقتیں جب ایک بڑے تصادم کو روکنے میں مکمل ناکام ہو گئیں، تو امتِ مسلمہ کی واحد ایٹمی قوت (پاکستان) نے اپنی سٹریٹجک اور اخلاقی بالادستی کا لوہا منوایا۔ پاکستان کی عسکری قیادت نے سفارتی شٹل مشن کے ذریعے خلیج فارس میں بارودی سرنگیں صاف کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے جو متبادل روڈ میپ دیا، اسے برطانیہ کے ’دی گارڈین‘ جیسے اخبارات نے خطے کی تاریخ کا سب سے موثر اور جرات مندانہ اقدام قرار دیا۔ پاکستان نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ صرف اپنے دفاع کی صلاحیت نہیں رکھتا، بلکہ وہ پوری عالمی برادری کو تیسری عالمی جنگ کے مہیب سائے سے نکالنے کی سٹریٹجک صلاحیت بھی رکھتا ہے۔




