ایجبسٹن ٹیسٹ میں کرکٹ ٹیم کی ناقص کارکردگی ۔پاکستان تاریخ میں پہلی مرتبہ نمبرون پوزیشن حاصل کرنے سے محروم
اصغر علی مبارک کی خصوصی تحری

ر

 
پاکستان کرکٹ ٹیم کی ناقص کارکردگی کے باعث کرکٹ کی120سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ نمبرون پوزیشن حاصل کرنے سے محروم ہوگیا ہے، برمنگم میں جاری ایجبسٹن ٹیسٹ میں پاکستان کی ٹیم ایک مرتبہ پھر شکست سے دوچار ہوئی اور 343رنز کے تعاقب میں پوری ٹیم 201رنز پر پویلین لوٹ گئی، انگلینڈنے میچ میں141رنز سے کامیابی حاصل کرکے سیریز میں 2-1کی فیصلہ کن برتری حاصل کرلی اور اب آخری ٹیسٹ میں اگر انگلینڈ کی ٹیم میچ برابر کرنے میں بھی کامیاب ہوگئی تو سیریز جیت جائے گی جبکہ میچ ہارنے کے باوجود بھی وہ سیریز ڈرا کرنے میں کامیاب ہوجائے گی، پاکستان کی جانب سے تیسرے ٹیسٹ میچ میں اوپنرسمیع اسلم نے سب سے زیادہ 70رنز ، اظہر علی38رنز بنا کر نمایاں رہے، تجربہ کار پاکستان کے سابق کپتان محمد حفیظ اور یونس خان مسلسل چھٹی اننگز میں بھی ناکام ہوئے ، اسد شفیق بھی دوسری اننگز میں صفر پرجبکہ کپتان مصباح الحق صرف دس رنز بنا سکے، میچ کے آخری لمحات میں پاکستانی بلے بازوں اور راحت علی نے کچھ حد تک مزاحمت کی تاہم وہ شکست کاآخری گھنٹہ نہ بچاسکے، جیمز اینڈرسن، اسٹیوڈ براڈ ، کرس واکس ، اسٹیون فن اور معین علی نے دو دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا، انگلش کھلاڑی معین علی کو بہترین کارکردگی پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا، اس میچ میں پاکستان نے ایک یقینی فتح کو اپنی ہار میں تبدیل کیا، ٹاس جیت پر پاکستان نے انگلینڈ کو پہلی اننگز میں 297رنز پر آؤٹ کیا تھا جبکہ پاکستان کی ٹیم پہلی اننگز میں400رنز بنا سکی حالانکہ ایک مرحلے پر پاکستان کے اظہر علی اور سمیع اسلم جس وقت کھیل رہے تھے تو ایسا محسوس ہورہا تھا کہ پاکستان600رنز تک کا ہدف حاصل کرلے گا مگر ایسا نہ ہوا اور آخری6وکٹیں خزاں رساں پتوں کی طرح گر گئیں ، جواب میں انگلینڈ میں دوسری اننگز میں الیسٹر کک، الیکس ہیلز ، جوائے روٹ ، جونی بیراسٹو ، معین علی ، جیمز ونس کی شاندار بیٹنگ کی بدولت دوسری اننگز میں 445رنز بنائے جبکہ اس کی چار وکٹیں باقی تھیں اور اننگز ڈکلیئر کر دی، پاکستان کی طرف سے اس میچ میں ناقص کپتانی ، کمزور بالنگ کیچ ڈراپ اور مناسب وقت پر بہتر تبدیلی نہ کرنے کی وجہ سے پلاننگ کا فقدان نظر آیا اور یقینی ڈرا نظر آنے والا میچ آخری روز نااہل کپتانی و کوچز کی وجہ سے انگلینڈ کی فتح پر ختم ہوا۔ حالانکہ کھانے کے وقفے پر پاکستان نے ایک وکٹ پر69رنز بنا لئے تھے لیکن باقی سیشن میں کھلاڑیوں کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کیا کرنے جارہے ہیں اور ٹیسٹ میچ کوT20سمجھ کر کھیلنے والے201رنز پر کاغذی شیر ڈھیر ہوگئے ، انگلینڈ کی درخواست پر ایک مرحلے پر امپائر نے چائے کے وقفے میں تاخیر کردی مگر یاسر شاہ اور محمد عامر نے 56اوور میں سکور 148تک لے جانے میں کامیاب ہوئے تو دوسرا سیشن ختم کردیا
گیا، آخری سیشن میں یاسر شا ہ پہلے ہی اوور میں انڈرسن کا نشانہ بنے جس کے بعد کوئی بھی کھلاڑی وکٹ پر نہ ٹھہر سکا۔ پاکستان کی دوسری اننگز71اورز پر مشتمل تھی،
 
آخری روز انگلینڈ میں چار وکٹ پر 414رنز سے آغاز کیا تو جونی بیر سٹور 82اور معین علی60کے سکور پر کھیل رہے تھے ، پہلے ہی اوور میں معین علی نے مسلسل تین گیندوں پر جارہانہ سٹروک کھیل کر پاکستان ٹیم کو اپنے عزائم سے آگاہ کردیا لیکن پاکستان کے کپتان ایک آسان میچ کو ڈرا کرنے میں ناکام ہوگئے۔ اس میچ میں شکست کے بعد یہ بات ہر زدوعام کی زبان پر ہے کہ پاکستانی ٹیم سے ایسے بوڑھے کھلاڑیوں کو نکالنا چاہئے جو ٹیم پر صرف بوجھ بنے ہوئے ہیں ، محمد حفیظ مسلسل چھ اننگز میں ناکام ہو چکے ہیں یہی حال تجربہ کار یونس خان کا بھی ہے جو اس اندا ز میں گراؤنڈ میں داخل ہوتے ہیں جیسے ان پر کوئی شدیددباؤ ہو ، ایک آسان وکٹ پر کپتان مصباح الحق سمیت تجربہ کار کھلاڑیوں کا میچ ہار جانا اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستانی ٹیم میں ڈسپلن کا فقدان ہے جس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔ سینئر کھلاڑی مصباح الحق کو ناکام کرنے کے لئے کوشاں تھے جس میں وہ کامیاب رہے اور اب عمر اکمل اور احمد شہزاد کے لئے راہیں ہموار کی جار ہی ہیں جن پر ڈسپلن کی پابندی کی وجہ سے ٹیم میں شامل نہیں کیاگیا، دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ تادم تحریر افسران و آفیشل کے دورہ انگلینڈ پر اڑھائی کروڑ روپے خرچ کئے جاچکے ہیں، شہریار چیئرمین کرکٹ بورڈ کے بعد اب نجم سیٹھی بھی انگلینڈ روانہ ہوچکے ہیں جبکہ انگلینڈ میں تین میڈیا منیجر، ایک سوشل میڈیا آفیسر اور دس ہزار پاؤنڈ میں برطانوی پی آر کنسلٹنٹ کی خدمات بھی لی گئی ہیں، پاکستان کی سولہ رکنی ٹیم کے ساتھ ایک فوج ظفر موج موجود ہے جس میں چیف سلیکٹر انضما م الحق، ڈائریکٹر اکیڈمی مدثر نذر، اے پی ایس ایل آفیشل فیصل مرزا اور دیگر شامل ہیں، پاکستان میں کرکٹ کا ٹیلنٹ نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ انٹرنیشنل کرکٹ نہ ہونے کی وجہ سے بورڈ کو مسلسل مالی خسارہ ہے ان حالات میں شہ خرچیوں سے تاحال دورہ انگلینڈ پر اڑھائی کروڑ سے زیادہ خرچ کئے جاچکے ہیں۔پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان تیسرے ٹیسٹ میچ کے موقع پر ملالہ یوسف زئی کو خصوصی طور پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے مدعو کیا لیکن ان کی آمد پر کھلاڑیوں میں جذبہ پیدا ہونے کی بجائے ختم ہوگیا اور جذبے سے ہاری ٹیم اس طرح ہاری ہے کہ اب لگتا ہے کہ ون ڈے انٹرنیشنل ، ٹی ٹونٹی میچوں میں بھی پاکستان کو یہی نتیجہ ملے گا ۔چوتھے ٹیسٹ میچ کے لئے تیسرے میڈیا منیجر رضا راشد بھی روانہ ہو رہے ہیں جبکہ سوشل میڈیا منیجر اون زیدی بھی ٹیم کے ہمراہ ہیں ، ڈائریکٹر اکیڈمی مدثر نذر انگلینڈ یاترا کر آئے ہیں، پی ایس ایل عہدیدار فیصل مرزا بھی ٹیم کے نام پر کئی میٹنگز کر چکے ہیں ، انگلینڈ میں موجود پاکستان کرکٹ بورڈ کے آفیشل نے پبلک ریلیشن کنسلٹنٹ جوناتھن کولیٹ کی بھی خدمات حاصل کی ہیں جن کو اس ضمن میں دس ہزار پاؤنڈ کی خطیر رقم دی جائے گی، ٹیسٹ سیریز سے قبل پی سی بی کے ایک اعلیٰ افسر اسد مصطفی نور انتظامات کا جائزہ لینے گئے لیکن عثمان واہلہ اپنی فیملی کے ہمراہ چھٹیوں پر انگلینڈ میں ہی موجود تھے ان تمام 16 رکنی ٹیم کے ساتھ جانے والے اسکواڈ اور سترویں کھلاڑی کے اخراجات پاکستان کرکٹ بورڈ برداشت کر رہا ہے جبکہ کھلاڑیوں کے فیملیوں کے پچاس فیصد اخراجات بھی پاکستان کرکٹ بورڈ کے ذمہ ہیں۔یہ پہلا موقع نہیں جب جوائے رائیڈرز کی ایک بڑی تعداد پاکستانی ٹیم کے ہمراہ غیرملکی دوروں پر ہے، وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف کو کرکٹ بورڈ کے سربراہ کی حیثیت سے ان بدانتظامیوں کا نوٹس لینا ہوگا کیونکہ پہلے ہی مسلسل دو شکستوں پر پاکستانی عوام غصے میں ہے۔ آئندہ ٹیسٹ میچ کے لئے قومی ٹیم میں دو تین نئے کھلاڑیوں کو شامل کرکے نتائج اپنے حق میں کئے جاسکتے ہیں۔ گیا، آخری سیشن میں یاسر شا ہ پہلے ہی اوور میں انڈرسن کا نشانہ بنے جس کے بعد کوئی بھی کھلاڑی وکٹ پر نہ ٹھہر سکا۔ پاکستان کی دوسری اننگز71اورز پر مشتمل تھی، آخری روز انگلینڈ میں چار وکٹ پر 414رنز سے آغاز کیا تو جونی بیر سٹور 82اور معین علی60کے سکور پر کھیل رہے تھے ، پہلے ہی اوور میں معین علی نے مسلسل تین گیندوں پر جارہانہ سٹروک کھیل کر پاکستان ٹیم کو اپنے عزائم سے آگاہ کردیا لیکن پاکستان کے کپتان ایک آسان میچ کو ڈرا کرنے میں ناکام ہوگئے۔ اس میچ
 
میں شکست کے بعد یہ بات ہر زدوعام کی زبان پر ہے کہ پاکستانی ٹیم سے ایسے بوڑھے کھلاڑیوں کو نکالنا چاہئے جو ٹیم پر صرف بوجھ بنے ہوئے ہیں ، محمد حفیظ مسلسل چھ اننگز میں ناکام ہو چکے ہیں یہی حال تجربہ کار یونس خان کا بھی ہے جو اس اندا ز میں گراؤنڈ میں داخل ہوتے ہیں جیسے ان پر کوئی شدیددباؤ ہو ، ایک آسان وکٹ پر کپتان مصباح الحق سمیت تجربہ کار کھلاڑیوں کا میچ ہار جانا اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستانی ٹیم میں ڈسپلن کا فقدان ہے جس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔ سینئر کھلاڑی مصباح الحق کو ناکام کرنے کے لئے کوشاں تھے جس میں وہ کامیاب رہے اور اب عمر اکمل اور احمد شہزاد کے لئے راہیں ہموار کی جار ہی ہیں جن پر ڈسپلن کی پابندی کی وجہ سے ٹیم میں شامل نہیں کیاگیا، دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ تادم تحریر افسران و آفیشل کے دورہ انگلینڈ پر اڑھائی کروڑ روپے خرچ کئے جاچکے ہیں، شہریار چیئرمین کرکٹ بورڈ کے بعد اب نجم سیٹھی بھی انگلینڈ روانہ ہوچکے ہیں جبکہ انگلینڈ میں تین میڈیا منیجر، ایک سوشل میڈیا آفیسر اور دس ہزار پاؤنڈ میں برطانوی پی آر کنسلٹنٹ کی خدمات بھی لی گئی ہیں، پاکستان کی سولہ رکنی ٹیم کے ساتھ ایک فوج ظفر موج موجود ہے جس میں چیف سلیکٹر انضما م الحق، ڈائریکٹر اکیڈمی مدثر نذر، اے پی ایس ایل آفیشل فیصل مرزا اور دیگر شامل ہیں، پاکستان میں کرکٹ کا ٹیلنٹ نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ انٹرنیشنل کرکٹ نہ ہونے کی وجہ سے بورڈ کو مسلسل مالی خسارہ ہے ان حالات میں شہ خرچیوں سے تاحال دورہ انگلینڈ پر اڑھائی کروڑ سے زیادہ خرچ کئے جاچکے ہیں۔پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان تیسرے ٹیسٹ میچ کے موقع پر ملالہ یوسف زئی کو خصوصی طور پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے مدعو کیا لیکن ان کی آمد پر کھلاڑیوں میں جذبہ پیدا ہونے کی بجائے ختم ہوگیا اور جذبے سے ہاری ٹیم اس طرح ہاری ہے کہ اب لگتا ہے کہ ون ڈے انٹرنیشنل ، ٹی ٹونٹی میچوں میں بھی پاکستان کو یہی نتیجہ ملے گا ۔چوتھے ٹیسٹ میچ کے لئے تیسرے میڈیا منیجر رضا راشد بھی روانہ ہو رہے ہیں جبکہ سوشل میڈیا منیجر اون زیدی بھی ٹیم کے ہمراہ ہیں ، ڈائریکٹر اکیڈمی مدثر نذر انگلینڈ یاترا کر آئے ہیں، پی ایس ایل عہدیدار فیصل مرزا بھی ٹیم کے نام پر کئی میٹنگز کر چکے ہیں ، انگلینڈ میں موجود پاکستان کرکٹ بورڈ کے آفیشل نے پبلک ریلیشن کنسلٹنٹ جوناتھن کولیٹ کی بھی خدمات حاصل کی ہیں جن کو اس ضمن میں دس ہزار پاؤنڈ کی خطیر رقم دی جائے گی، ٹیسٹ سیریز سے قبل پی سی بی کے ایک اعلیٰ افسر اسد مصطفی نور انتظامات کا جائزہ لینے گئے لیکن عثمان واہلہ اپنی فیملی کے ہمراہ چھٹیوں پر انگلینڈ میں ہی موجود تھے ان تمام 16 رکنی ٹیم کے ساتھ جانے والے اسکواڈ اور سترویں کھلاڑی کے اخراجات پاکستان کرکٹ بورڈ برداشت کر رہا ہے جبکہ کھلاڑیوں کے فیملیوں کے پچاس فیصد اخراجات بھی پاکستان کرکٹ بورڈ کے ذمہ ہیں۔یہ پہلا موقع نہیں جب جوائے رائیڈرز کی ایک بڑی تعداد پاکستانی ٹیم کے ہمراہ غیرملکی دوروں پر ہے، وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف کو کرکٹ بورڈ کے سربراہ کی حیثیت سے ان بدانتظامیوں کا نوٹس لینا ہوگا کیونکہ پہلے ہی مسلسل دو شکستوں پر پاکستانی عوام غصے میں ہے۔آئندہ ٹیسٹ میچ کے لئے قومی ٹیم میں دو تین نئے کھلاڑیوں کو شامل کرکے نتائج اپنے حق میں کئے جاسکتے ہیں۔