اندرون سندھ; سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کا جنگی بنیاد پر ریسکیو, ریلیف آپریشن ………………….کالم ”اندر کی بات”…:کالم نگار،اصغر علی مبارک. …………….. اندرون سندھ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں جنگی بنیاد پر ریسکیو, ریلیف آپریشن کے دوران پاک فوج کو نئے چیلنجز درپیش ہیں , ریسکیو ریلیف آپریشین میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ھے سیلاب زدہ علاقوں میں لوگ اپنا سب کچھ کھو چکے، متاثرہ علاقوں کی تباہی الفاظ میں بیان نہیں کی جا سکتی ہے, لاکھوں افراد بے گھر ,فصلیں تباہ ، مویشی ہلاک ہوگئے ہیں، حمل جھیل اور منچھر جھیل کے درمیان 100 مربع کلومیٹر کا فاصلہ اب ختم ہو گیا ہے اور دونوں جھیلیں آپس میں مل چکی ہیں , لوگوں کو بچانے کیلئے متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کاریلیف اور ریسکیو آپریشن جنگی بنیاد پر جاری ہےاس مقصد کے تحت درپیش چیلنجزکا جائزہ لینے کے لیےآرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ضلع دادو میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا، متاثرین اور امدادی سرگرمیوں میں مصروف جوانوں سے ملاقات کی اور سیلاب زدہ علاقوں میں خیمے فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے دورے کے دوران دادو، خیرپور، جوہی، ناتھن شاہ، میہڑ اور منچھر جھیل کا فضائی جائزہ لیا پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے دورے کے دوران دادو، خیرپور، جوہی، ناتھن شاہ، میہڑ اور منچھر جھیل کا فضائی جائزہ لیاہے ۔جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ اپنے لوگوں کی ذمہ داری ہماری اپنی ہے، سندھ کے لوگوں سے درخواست ہے کہ آگے آئیں امداد لے کر آئیں، ہر چیز کے لیے انٹرنیشنل کمیونٹی کو نہیں دیکھنا چاہیے۔ سیلاب متاثرین کیلئے اس وقت پورے پاکستان سے لوگ امداد دے رہے ہیں، پنجاب، خیبر پختونخوا سے متاثرین کے لیے کافی امداد آ رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سیلاب متاثرین بہت مشکل میں ہیں ان کے لیے آگے آئیں۔آرمی چیف نے کہا کہ عالمی براداری نے اپنا کام شروع کر دیا ہے، ورلڈ فوڈ پروگرام، یو ایس ایڈ کے لوگ بھی آگئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے تمام سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کیا ہے، آج دادو آیا ہوں میرے خیال میں سب سے زیادہ تباہی اس علاقے میں آئی۔انہوں نے مزید کہا کہ باقی علاقوں میں ریسکیو کا کام تو تقریباً ختم ہوچکا، یہاں ریسکیو کا کام جاری ہے۔ آرمی چیف نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں بیماریوں سے نمٹنا بھی ایک چیلنج ہے، پانی سے پھیلنے والی بیماریاں خاص کر دادو کے علاقے میں ایک چیلنج ہے۔انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کے ساتھ مل کر لوگوں کو ریلیف مہیا کرنے کی کوشش کررہے ہیں، امید ہے حکومت کے ساتھ مل کر لوگوں کی زندگی پہلے سے بہتر کرسکیں گے۔آرمی چیف نے کہا کہ اس سال سردیوں کے بعد ہم گرمی کے موسم میں چلے گئے بہار کا موسم نہیں آیا۔ان کا کہنا تھا کہ گلوبل وارمنگ کا اثر سب جگہ پڑ رہا ہے، اس کا حل یہ ہے کہ متبادل توانائی کی طرف جائیں۔ ہائیڈرو کاربن، تیل سے بجلی بنانا اور کوئلہ جلانے سے آہستہ آہستہ نکلنا پڑے گا۔چیف آف آرمی اسٹاف کا کہنا تھا کہ پاکستان میں مزید بڑے ڈیمز بنانے پڑیں گے، کس جگہ ڈیمز بنائیں ابھی نہیں کہہ سکتا، سوات میں بھی ڈیم بنانا ہوگا۔ڈیمز سے بجلی پیدا کرسکیں گے اور آلودگی سمیت گلوبل وارمنگ کم ہوگی۔ آرمی چیف نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاک فوج سیلاب زدگان کی بحالی میں مدد کے لیے پرعزم ہے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ دادو سیلاب سے ملک کے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں سے ایک ہے، یہاں سیلاب سے سب سے زیادہ تباہی ہوئی۔سندھ میں دادو کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا دریائے سندھ کے ویسٹ بینک سے شدید سیلاب آئے جس نے بہت تباہی مچائی اس کیلئے ہماری تیاری نہیں تھی یہ ایک نیا رجحان ہے جس کیلئے ہمیں اقدامات کرنے ہونگے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ حمل جھیل اور منچھر جھیل کے درمیان 100 مربع کلومیٹر کا فاصلہ ہے لیکن دونوں آپس میں مل چکی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ان کی ترجیح پھنسے ہوئے لوگوں کو بچانا اور سیلاب متاثرین کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے کہا پاکستان کے سیلاب سے متاثرہ تمام علاقوں کا دورہ کرچکا ہوں، سب سے زیادہ تباہی دادو میں ہوئی ہے۔آرمی چیف نے کہا باقی علاقوں میں ریسکیو کا کام ختم ہوچکا ہے لیکن دادو میں اب بھی لوگوں کو ریسکیو کیا جارہا ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ضلع دادو میں امدادی اور میڈیکل کیمپوں پر سیلاب متاثرین کے ساتھ وقت گزارا۔آرمی چیف نے دادو اور اطراف میں متاثرین کو 5 ہزار خیمے مہیا کرنے کی ہدایت کی، جنرل قمر جاوید باجوہ نے امدادی سرگرمیوں میں مصروف جوانوں سے بھی ملاقات کی۔آرمی چیف نے دادو، خیرپور ناتھن شاہ، جوہی، میہڑ اور منچھر جھیل کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا جائزہ لیا۔ آرمی چیف نے کہا پلاننگ کررہے ہیں آئندہ اس قسم کی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔جنرل باجوہ نے کہا اس وقت ہمارے بھائی بہت مشکل میں ہیں، پاکستان بھر سے لوگ متاثرین کیلئے امداد پہنچارہے ہیں، عالمی برادری بھی ہماری مدد کر رہی ہے۔آرمی چیف نے کہا صرف عالمی برادری کی مدد پر انحصار نہیں کرنا چاہئے، سیلاب متاثرین کی بحالی میں کافی وقت لگ سکتا ہے۔آرمی چیف نے کہا اس وقت ہمارے لوگ کافی مشکل میں ہیں، پنجاب اور خیبرپختونخوا سے کافی امداد آرہی ہے، دیہی اور شہری سندھ کے لوگوں سے بھی درخواست کروں گا کہ وہ امداد لیکر آگے آئیں۔آرمی چیف نے کہا جس علاقے میں پورے سال میں 50 ملی میٹر بارش ہوتی ہو وہاں 1700 ملی میٹر بارش ہوئی جس کیلئے ہماری تیاری نہیں تھی۔ مستقبل سیلاب سے بچاؤ کیلئے آرمی کے انجینئرز کو ٹاسک دیا ہے جس پر اگلے ہفتے وزرائے اعلیٰ کو بریفنگ دینگے۔آرمی چیف نے کہا سیلاب سے بچاؤ کیلئے ہمیں طویل مدتی اقدامات کرنے اور ڈیمز بنانے ہونگے۔دوسری طرف اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے وزیراعظم کے ہمراہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیاسیکریٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتریس نے پاکستان کے تباہ کن سیلاب کے حوالے سے کہا ہے کہ ‘ملک کو اس بحران سے نکلنے کے لیے بھاری مالی امداد کی ضرورت ہے، یہ یک جہتی یا فراخ دلی کا سوال نہیں بلکہ انصاف کا تقاضا ہے’۔وزیر اعظم شہباز شریف کے ہمراہ انتونیو گوتریس سکھر پہنچے جہاں وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سندھ میں سیلاب کی تباہ کاریوں کے حوالے سے بریفنگ دی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ سیلاب کی تباہ کاریوں کے حوالے سے تفصیلات جاننا شدید باعث تکلیف ہے، جان و مال سمیت ہر چیز اس سیلاب کی نذر ہوگئی ہے لیکن یہ بریفنگ سننے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ ابھی امید نہیں کھوئی ہےاقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوترس کا کہنا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کی ذمہ داری ہے کہ پاکستان کو اس تباہی سے نکلنے میں مدد کریں، جی20 ممالک 80 فیصد کاربن اخراج کے ذمہ دار ہیں، عالمی حدت میں پاکستان کا حصہ ایک فیصد ہے، پاکستان دوسرے ممالک کے اقدامات کی قیمت چکا رہا ہے۔ انتونیو گوترس نے کہا کہ سیلاب زدہ علاقوں میں لوگ اپنا سب کچھ کھو چکے، متاثرہ علاقوں میں جو تباہی دیکھی الفاظ میں بیان نہیں کرسکتا، سیلاب سے فصلیں تباہ ہوگئیں، مویشی ہلاک ہوگئے۔انتونیو گوترس نے کہا کہ پاکستان میں سیلاب سے لاکھوں افراد بے گھر ہوئے، اس مشکل گھڑی میں پاکستان کی مدد کی ضرورت ہے، اپنے لوگوں کی مدد کے لیے لوگ کام کر رہے ہیں، غریبوں کی یہ صورت حال دیکھ کر میں افسردہ ہوں، متاثرہ لوگوں کی ضروریات بہت زیادہ ہیں۔سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اس وقت سوال انصاف کا ہے نہ کہ مدد کا، لوگ موسمیاتی تبدیلی کا خمیازہ بھگت رہے ہیں، واضح طور پر کہتا ہوں کہ امیر ممالک پاکستان کے لیے ریلیف فراہم کریں، ڈبلیو ایچ او کو کہوں گا کہ جتنا ہوسکے پاکستان کی مدد کرے، جی20 ممالک کو بھی کہوں گا کہ سامنے آئیں۔اس موقع پر وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کا دورہ کرنے پر سیکریٹری جنرل کے شکر گزار ہیں، موسمیاتی تبدیلی دنیا کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔بلاول بھٹو زردای نے کہا کہ یو این سیکریٹری جنرل نے موئن جو دڑو کا بھی دورہ کیا، تباہ کاریوں کا سامنا کر رہے ہیں یہ مشکل ترین دور ہے ملک بھر میں بارشوں اور تباہ کن سیلاب سے جاں بحق افراد کی تعداد ایک ہزار 396 ہو گئی۔گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں سندھ میں ایک اور بلوچستان میں 4 ہلاکتیں ہوئیں، ملک بھر میں سیلاب سے اموات کی تعداد ایک ہزار 396 ہو گئی ۔گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں 6 بچے بھی زخمی ہوئے۔ این ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں اب تک 268 اور پنجاب میں 191 افراد سیلاب سے لقمہ اجل بنے۔گلگت بلتستان میں اب تک 22 آزاد کشمیر میں 44 افراد جاں بحق ہوئے۔ خیبر پختونخوا میں جاں بحق افراد کی تعداد293 ہے۔ملک بھر میں بارشوں اور سیلاب کے باعث زخمیوں کی تعداد 12 ہزار 728 ہے ہے۔ ملک بھر میں 3 کروڑ 30 لاکھ سے زائد افراد بارشوں سے متاثر ہوئےپاکستان آرمی اور ایف سی کے جوان بلوچستان کے مختلف علاقوں بشمول کوئٹہ، جعفرآباد، نصیر آباد، سبی، جھل مگسی، خضدار، آواران، نوشکی، قلعہ عبداللہ، چاغی، مستونگ، ڈیرہ بگٹی، موسیٰ خیل، بولان اور صحبت پور میں امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔پاکستان آرمی کے جوان کشتیوں اور ہیلی کاپٹرز کے ذریعے سیلاب زدہ علاقوں میں پھنسے افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مختلف سیلاب زدہ علاقوں منجی شوریٰ، ربی اور بیدرپل ، بھاگ، پیر چتھل، کچھی سے سینکڑوں افراد کو ریسکیو کر کے ریلیف کیمپس میں منتقل کیا گیا ہے۔پاکستان آرمی اورایف سی بلوچستان کی جانب سے مختلف علاقوں میں سیلاب متاثرین کے لیے 28 ریلیف کیمپس قائم کیے گئے ہیں۔ سیلاب زدہ علاقوں میں ہزاروں افراد کو پکا ہوا کھانا، ہزاروں افراد کو راشن کے پیکٹس جن میں آٹا ، دالیں، چاول، چینی اور کوکنگ آئل شامل تھا تقسیم کیے گئے۔پاکستان آرمی اورایف سی بلوچستان کی جانب سے سیلاب زدہ علاقوں میں فری میڈیکل کیمپس قائم کیے گئے ہیں جہاں مریضوں کو مفت طبی امداد اور ادویات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ہزاروں مریضوں کو مفت طبی امداد اور ادویات فراہم کی گئیں۔ذرائع آمدورفت کی جلد بحالی میں پاکستان آرمی اور ایف سی بلوچستان سول انتظامیہ کی معاونت کر رہی ہے، چتھر سے ڈیرہ مراد جمالی اور لنڈا پل شاہراہ کو ٹریفک کے لیے بحال کر دیا گیا ہے جبکہ دیگر شاہراؤں اور پلوں پر بھی کام تیزی سے جاری ہیں۔پاک افواج، ایف سی بلوچستان اور سول انتظامیہ اپنے تمام تر وسائل کوبروئے کار لاتے ہوئے سیلاب متاثرین کی ہر ممکن مدد کر رہے ہیں۔پاکستان آرمی اور ایف سی کا سول انتظامیہ کے ہمراہ بلوچستان کے سیلاب زدہ علاقوں میں ریلیف اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہےدوسری طرف سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں آرمی ہیلی کاپٹرز کی سینکڑوں پروازوں کے ذریعے امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔ اب تک 50 ہزارسے زیادہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، جبکہ آرمی کے سینکڑوں ریلیف کیمپ سیلاب متاثرہ علاقوں میں لگائے گئے ہیں۔جبکہ اب تک 60 ہزار سے زیادہ مریضوں کو مفت علاج، ادویات فراہم کی ہیں۔