اقوام متحد ہ; سیلاب متاثرین کیلئےامدادی کارروائیوں پر پاک فوج کی معترف………………..کالم ”اندر کی بات”…:کالم نگار،اصغر علی مبارک. ……………….اقوام متحد ہ کے سیکریٹری جنرل سیلاب متاثرین کیلئے امدادی کارروائیوں پر پاک فوج کے معترف نظر آئے ہیں, پاک فوج کے اعلی افسران اور جوانوں نے دن رات اس مشکل گھڑی میں سیلاب متاثرین کو تکلیف دہ حالات سے نجات دلانے کیلئے سخت محنت کی۔ ۔
ملک کی بہادر افواج نے نہ صرف ملکی سلامی اور تحفظ کو یقینی بنایا ہے بلکہ ہر مشکل وقت میں اپنی قوم کی بھر پور معاونت کی ہے۔ماضی میں زلزلے اور بارشوں اور حالیہ دنوں میں سیلاب کی صورتحال میں پاک فوج کی امداد ی سرگرمیاں فقیدالمثال ہیں جس کیلئے پاک فوج کی موجودہ قیادت اور جوان خراج تحسین کے مستحق ہیں۔ پاک فوج کے لازوال اور ناقابل تسخیر جذبے نے ثابت کردیا کہ انسانیت کے آنسو پونجھ کر ہی انسان ہونے کا حق ادا ہوسکتا ہے۔ پاک فوج کے جوانوں نے ثابت کردیا کہ قوم کو کبھی بھی کسی بھی مشکل گھڑی میں ہم کسی صورت تنہا نہیں چھوڑیں گے۔سرکاری و نجی فلاحی اقدامات کرنے والے تمام اداروں نے پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکرسیلاب متاثرین کی مدد کر کے ملک دوستی کا ثبوت دیا ہے۔ سیلاب زدگان کے حوالے سے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا پاکستان میں پاک فوج اور متعلقہ ادارے سیلاب متاثرین کی امداد کے لیے سرگرم ہیں۔موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے پاکستان کے اقدامات قابل تحسین ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ پاکستان کی وجہ سے ماحولیاتی تبدیلی پر کوئی خاص منفی اثرات مرتب نہیں ہوئے لیکن یہ اس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ملکوں میں سے ایک ہے اور یہ ضروری ہے کہ عالمی برادری بالخصوص ماحولیاتی تبدیلی کا سبب بننے والے ممالک اس بات کو تسلیم کریں اور اب وہ تعمیر نو، متاثرہ افراد کی بحالی میں مدد کر کے تعاون کر سکتے ہیں۔پاکستان کے سیلاب متاثرین کیلئے عالمی برادری سے امداد کی اپیل کرتا ہوں۔پاکستان کے دو روزہ دورے کے دوران انہوں نےسیلاب زدگان کے حوالے سے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا ایک تہائی حصہ سیلاب سے متاثر ہے اور پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کی تباہ کاریوں سے نمٹ رہا ہے تاہم موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے پاکستان کے اقدامات قابل تحسین ہیں۔پاکستان وہ ملک ہے جس نے لاکھوں مہاجرین کو پناہ دی ہوئی ہےانتونیو گوتریس نے کہا کہ پاکستان میرے دل کے قریب ہے اور متاثرین کے لیے عالمی برادری سے امداد کی اپیل کرتا ہوں، ہماری کوشش ہے کہ ہم پاکستان کی اس مشکل گھڑی میں بھرپور مدد کریں۔ سیلاب متاثرین کو مدد فراہم کرنے کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے اور متاثرین کو ریلیف فراہمی کے لیے تمام ادارے مل کر کام کر رہے ہیں جو کہ قابل تحسین ہے۔ میں پاکستان کے لیے اجنبی نہیں ہوں اور پاکستان سے شناسائی طویل عرصے سے ہے۔سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ نے کہا کہ پاکستان میں بلاشبہ صورتحال سنگین ہے اور بڑے پیمانے پر امداد کی ضرورت ہے۔ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے پاکستان سمیت تمام ممالک کو کام کی ضرورت ہے اور اگر آج پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے زیر اثر ہے تو کل کوئی اور ملک ہو گا۔ ہمیں اس سے نمٹنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے ہوں گے۔ سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کو سیلاب کی تباہ کاریوں کے حوالے سے بریفنگ بھی دی گئی۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں مزید 36 افراد زندگی کی بازی ہار گئے جب کہ 14 جون سے اب تک جاں بحق افراد کی تعداد ایک ہزار 391 ہو گئی۔ اندازے کے مطابق، موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے ہونے والی تباہی میں سوا تین کروڑ سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے ہیں، قدرتی آفت کے دوران لاکھوں افراد بے گھر ہوگئے جب کہ ملک کو کم از کم 100 کروڑ ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ سیلاب سے ساڑھے 6ہزار کلو میٹر سے زیادہ سڑکیں اور 246 پُلوں کو نقصان پہنچا ہے جبکہ 7 لاکھ 50 ہزار سے زیادہ مویشی مارے گئے۔ پاکستان کی زمین کا ایک تہائی حصہ زیر آب ہے جس کی وجہ سے کپاس اور گنے کی کھڑی فصلیں مکمل طور پر ضائع ہوچکی ہیں اور کسانوں کی زرعی معیشت کو بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے۔سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتریس سیلاب زدگان سے اظہار یکجہتی کے لیے پاکستان آئے ہیں سیکرٹری جنرل ایسے موقع پر پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں جب ایک تہائی پاکستان سیلاب میں ڈوبا ہوا ہے۔ ان کے دورے سے سیلاب متاثرین کے مسائل اور مشکلات کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں مدد ملے گی۔واضح رہے کہ سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ نے پاکستان کے سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے 160 ملین ڈالر کی فلیش فلڈ اپیل جاری کی ہے۔سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتریس کے دورے کا مقصد سیلاب کی تباہ کاریوں سے شدید متاثر ملک کی مدد کے لیے عالمی دنیا سے امداد کی اپیل اور موسمیاتی تبدیلی کے بحران سے نمٹنے کی فوری ضرورت کو اجاگر کرنا ہے۔ اسلام آباد میں وزیر اعظم شہباز شریف کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ میں پاکستان کے عوام کے لیے کوئی اجنبی نہیں ہوں، میرا گزشتہ 17سال سے پاکستان سے محبت کا تعلق ہے جب میں نے اس وقت مہاجرین کے ہائی کمشنر کی حیثیت سے کام کرنے کا آغاز کیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ جب میں 2005 میں زلزلے، 2010 میں سیلاب اور اس کے بعد دہشت گردی کے واقعات کے دوران پاکستان آیا تو ان تمام واقعات کے دوران بھی لاکھوں افراد بے گھر اور نقل مکانی پر مجبور ہو گئے تھے لہٰذا مجھے معلوم ہے کہ پاکستان کے عوام پر ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے آنے والی اس غیرمعمولی سیلاب کے کس حد تک تباہ کن اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ میں پاکستانیوں کی سخاوت کا عینی شاہد ہوں جنہوں نے 60لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کی مہمان نوازی کی، آپ نے ان سے تعاون کیا، ان کی حفاظت کی اور اپنے محدود وسائل میں ان کو بھی حصہ بنایا۔انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ عالمی برادری سے امداد کے حصول اور پاکستان کے لیے ان سے جو بھی ہو سکا وہ کریں گے کیونکہ یہ بہت المناک سانحہ ہے۔انتونیو گوتریس نے عالمی برادری سے امداد کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس تباہی سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو بڑے پیمانے پر مالی مدد کی ضرورت ہے اور ایک اندازے کے مطابق پاکستان اس سے 30ارب ڈالر سے زائد کا نقصان پہنچا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ لوگ اپنے پیاروں سے محروم ہو گئے ہیں، اپنے نوکریاں، مال مویشی اور فصلیں گنوا چکے ہیں جس کی وجہ سے ان لوگوں اس وقت امداد کی شدید ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کی مدد انتہائی ضروری اور اہمیت کی حامل ہے، یہ محض اظہار یکجہتی کی حد تک نہیں بلکہ انصاف کی بات ہے، پاکستان کی وجہ سے ماحولیاتی تبدیلی پر کوئی خاص منفی اثرات مرتب نہیں ہوئے لیکن یہ اس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ملکوں میں سے ایک ہے اور یہ ضروری ہے کہ عالمی برادری بالخصوص ماحولیاتی تبدیلی کا سبب بننے والے ممالک اس بات کو تسلیم کریں اور اب وہ تعمیر نو، متاثرہ افراد کی بحالی میں مدد کر کے تعاون کر سکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں قدرت کی تباہی کا سامنا ہے، قدرت پلٹ کر تباہ کن انداز میں وار کررہی ہے، آج پاکستان کو ان حالات کا سامنا ہے اور کل کسی اور ملک کو اس کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے لہٰذا اب ہمیں اخراج روکنے کے لیے اقدامات کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں فوری کم کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ س کے ساتھ ساتھ ہمیں موسمیاتی تبدیلی ہونے والی تباہی کو روکنے کے لیے اقدامات کرنے والے ممالک کی مدد کے لیے بھی متحرک ہونے کی ضرورت ہے۔ یہ وقت ہے کہ تمام لوگ ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف سب مل کر کام کریں اور سب لوگ مل کر اس مشکل وقت میں پاکستان کی مدد کریں۔اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انتونیو گوتریس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ افراد اور مصیبت کی اس گھڑی میں پاکستان کی کی مدد اور تعاون کے لیے ہرممکن ذرائع بروئے کار لائیں گے۔ن کا کہنا تھا کہ انتونیو گوتریس نے پاکستانیوں سے بڑھ کر نہیں تو پاکستانیوں کی طرح ضرور گفتگو کی جس سے میں بہت متاثر ہوا ہوں اور اس کے لیے میں ان کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ انتونیو گوتریس کے ہمراہ تقریب سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ آج پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے ہونے والی تباہی کا سامنا کررہا ہے اور کل دنیا کے دیگر ممالک اور خطے اس کا سامنا کر سکتے ہیں لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ ہم صورتحال کا نوٹس لیں۔ہم ریسکیو اور ریلیف کے عمل سے گزر رہے ہیں اور جلد ہم تعمیر نو اور بحالی کا عمل شروع کریں گے جس کے لیے بڑی رقم کی ضرورت ہے، پاکستان اپنے وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے بہترین کوششیں کررہا ہے اور ہم عالمی برادری کی جانب سے بھی دی گئی امداد پر بھی ان کے شکر گزار ہیں۔شہباز شریف نے اقوام متحدہ کے تعاون پر سیکریٹری جنرل کا شکریہ ادا کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر ہمیں ریلیف اور سیلاب سے ہونے والی تباہی کی مرمت کے لیے اگر مناسب امداد نہ ملی تو ہم مشکل میں ہوں گے، ہم اس چیلنج کی وجہ سے شدید مشکل میں ہیں اور ہمیں اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے عالمی برادری کی بھرپور مدد اور تعاون کی ضرورت ہے۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس کا ایوان وزیر اعظم آمد پر شہباز شریف نے استقبال کیا، اس موقع پر وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری اور وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات مریم اورنگزیب بھی موجود تھیں۔وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوتریس کی پاکستان آمد کا خیر مقدم کرتے ہوئے مشکل گھڑی میں یک جہتی کے اظہار کے لیے ان کا شکریہ ادا کیا۔اسی دوران امریکی فوج نے امدادی سامان کی ترسیل شروع کردی ہے،امریکی سفارتخانے نے جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں کہا ہے کہ امریکا سینٹرل کمانڈ نے امریکی ایجنسی برائے عالمی ترقی (یو ایس ایڈ) کے ساتھ پاکستان میں سیلاب سے شدید متاثر ہونے والے لوگوں اور کمیونٹیز کی مدد کے لیے امدادی سامان ہوائی جہاز کے ذریعے لے جانا شروع کیا ہے۔روانہ کی جانے والی امداد میں تقریباً 22 کروڑ ڈالر مالیت کے لائف سپورٹ وسائل شامل ہیں جن میں کھانا بنانے اور پناہ گاہیں بنانے کا سامان بھی شامل ہے جو ملک بھر میں تقریباً 20 مختلف شپمنٹس کے ذریعے پہنچایا جائے گا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا پاکستان میں تباہ کن سیلاب سے ہونے والی تباہی پر شدید غم کا اظہار کرتا ہے۔امریکی ایجنسی برائے عالمی ترقی (یو ایس ایڈ) کی ایڈمنسٹریٹر سمانتھا پاور نے بتایا ہم تسلیم کرتے ہیں کہ اس شدت کی قدرتی آفت کے بعد اکثر پانی سے پیدا ہونے والی بیماری جنم لیتی ہیں، اس لیے ہم نے اعلان کردہ 3 کروڑ ڈالر میں سے کچھ رقم صحت کے شعبے سے متعلق امدادی کاموں میں مصروف اپنے شراکت داروں کو دینے کا فیصلہ کیا ہے۔30 اگست کو، امریکا نے جون کے وسط سے ہونے والی موسلا دھار بارشوں، لینڈ سلائیڈنگ اور برفانی جھیلوں کے پھٹنے کے نتیجے میں آنے والے ملک کی تاریخ کے بد ترین سیلاب سے متاثرہ لوگوں کی امداد کے لیے مزید 3 کروڑ ڈالر کی انسانی امداد کا اعلان کیا تھا، یہ امداد واشنگٹن کی جانب سے پہلے سے اعلان کردہ 11 لاکھ ڈالر سے زیادہ کی گرانٹس اور پروجیکٹ سپورٹ کے علاوہ ہے۔دوسری جانب پاکستان میں سیلاب سے کئی علاقے اب بھی زیر آب ہیں جبکہ اس سیلاب نے ایسے مقامات کو بھی شدید نقصان پہنچایا جو ثقافتی ورثے کی حیثیت رکھتے ہیں، ان ثقافتی ورثوں کے تحفظ کے لیے اقوام متحدہ کے تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی ادارے (یونیسکو) کی جانب سے ہنگامی مالی امداد جمع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ایک بیان میں بتایا گیا کہ پاکستان میں سیلاب سے متاثر ہونے والے مقامات بالخصوص ڈھائی ہزار سال قبل مسیح سے موجود موہن جو دڑو اور سندھ کے تاریخی مقامات مکلی اور ٹھٹہ کی بحالی کے لیے ساڑھے 3 لاکھ ڈالرز کے ہنگامی فنڈ جمع کرنے کا اعلان کیا ہے۔یونیسکو کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں موجود ثقافتی ورثے کی عارضی فہرست میں شامل پاکستان میں موجود آبپاشی کا روایتی نظام ‘کاریز’ کو بھی سیلاب سے شدید نقصان پہنچا ہے، اس کے علاوہ امری سائٹ میوزیم اور ضلع جامشورو میں موجود سیہون فلوک اینڈ کرافٹ میوزیم بھی متاثر ہوا۔یونیسکو ان ورثوں کی بحالی کے لیے امداد فراہم کرے گا، ان ورثوں کی بحالی اور تحفظ کے لیے ابتدائی طور پر 3 لاکھ 50 ہزار ڈالر ہنگامی فنڈز جمع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔عالمی ادارے کے مطابق موہن جو دڑو اور ٹھٹھہ جیسے عالمی ثقافتی ورثوں کی بحالی کے لیے ورلڈ ہیریٹیج فنڈ سے ایک لاکھ 50 ہزار ڈالر جاری کیے جائیں گے، ان فنڈز میں قدرتی آفات کے اثرات کو طویل مدت تک کم کرنے کے اقدامات بھی شامل ہیں۔بلوچستان، سوات اور لاڑکانہ کے اضلاع میں ثقافتی ورثوں کی بحالی کے لیے ہیریٹیج ایمرجنسی فنڈ سے 2 لاکھ ڈالر کے فنڈز جاری کیے جائیں گے۔عالمی بینک نے 30 کروڑ ڈالر کے جاری کردہ فنڈز کو سیلاب متاثرین کی امداد اور بحالی کے لیے مختص کرنے کا اعلان کردیا ہے۔یاد رہے، 9 جون کو عالمی بینک نے خیبرپختونخوا کے دیہی علاقوں اور سڑکوں کی بحالی کے لیے 30 کروڑ ڈالر کی منظوری دی تھی۔واضح رہے کہ عالمی بینک کی جانب سے دسمبر 2020 کو سندھ ریزیلنس پراجیکٹ اور سالڈ ویسٹ ایمرجنسی اینڈ ایفیشینسی پراجیکٹ کے لیے مزید 30 کروڑ ڈالر فنڈز کا بھی اعلان کیا گیا تھا۔اکستان سنہ 1950 سے عالمی بینک کا رکن ہے، اور پاکستان کو گزشتہ 72 برسوں سے تقریباً 4 ارب ڈالر کی امداد دی جاچکی ہے۔پاکستان جیسے ملک کا عالمی درجہ حرارت بڑھانے والی آلودہ گیسوں کے اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ ہے لیکن موسمیاتی تبدیلی کے خطرات سے دوچار ملکوں میں پاکستان سرفہرست ہے۔ پاکستانی قوم نے ثابت کردیا قومیں مشکل حالات کا مقابلہ متحد ہوکر ہی کرتی ہیں,پوری قوم کو اپنی افواج پر فخر ہے جس نے دہشت گردی کی لعنت کو نیست و نابود کرنے کا نہ صرف عزم کر رکھا ہے بلکہ اس کیلئے ضرب عضب اور ردالفساد جیسے آپریشن شروع کر کے دہشت گردوں کو تباہ و برباد کیا۔ ملک کے امن اور سلامتی کیلئے بے شمار جوانوں نے اپنی زندگیوں کا نذرانہ پیش کیا جسے پوری قوم قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہےپوری قوم کو اپنی افواج پر فخر ہے۔ سیلاب متاثرہ علاقوں میں جوان ڈیوٹی کی بجائے مقدس فریضہ سمجھ کر سر انجام دے رہے ہیں۔ آرمی چیف نے سیلاب متاثرین کی مدد کرنے کی ہدایت کی ہے اور خود بھی سیلاب متاثرہ علاقوں کے دورے اور امدادی کارروائیوں کا جائزہ لیا ہے خراب موسم اور دیگر چیلنجز کے باوجود جوانوں نے لوگوں کو ریسکیو کیا، ملک بھر میں آرمی کے 147 ریلیف کیمپ قائم ہیں، کیمپس میں 50 ہزار سے زائد افراد کو ریلیف دیا گیا ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ملک بھر میں 284 فلڈ ریلیف کلیکشن پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں، پاک فضائیہ نے 1521 سے زائد افراد کو ریسکیو کیا ہے، آرمی ایوی ایشن، نیوی کے ہیلی کاپٹرز ریلیف سرگرمیوں میں مصروف ہیں ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ جوانوں نے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر امدادی کاموں میں حصہ لیا، سیلاب متاثرین کی مدد کرتے ہوئے ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہوا، 6 افسران شہید ہوئے۔پاک فضائیہ نے 1521 افراد کو ریسکیو کیا، پاک فوج کی جانب سے سیلاب متاثرین کو کثیر تعداد میں خیمے اور ادویات فراہم کی گئیں، پاکستان نیوی نے 10 ہزار سیلاب متاثرین کو ریسکیو کیا، عوام کا اعتماد ہی پاک فوج کا اثاثہ ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاک بحریہ کی ٹیمیں ملک بھر میں متاثرین کی امداد میں مصروف ہیں، ملک بھر میں 147 ریلیف کیمپس قائم ہیں، ان امدادی کیمپس میں 50 ہزار سے زائد افراد کو ریسکیو کیا گیا زلزلے اور بارشوں و دیگر آفات کے دنوں میں پاک فوج کی عوام کیلئے خدمات قابل تحسین ہے۔