افواج پاکستان ملکی وقار اور آزادی کی حفاظت کیلئے پرعزم. Pakistan Armed Forces are determined to protect the country’s dignity and freedom. .( اصغر علی مبارک..). افواج پاکستان ملکی وقار اور آزادی کی حفاظت کیلئےپرعزم ہیں.ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے ایک مرتبہ پھر واشگاف انداز میں کہا کہ ’پاکستان انڈیا پر جوابی حملہ ضرور کرے گا اور اس کے لیے وقت، جگہ اور طریقے کا انتخاب خود کرے گا۔‘ترجمان پاک فوج نے جی ایج کیو میں پاکستان ایئر فورس (پی اے ایف) کے ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز (ڈی جی پی آر) ایئر وائس مارشل اورنگزیب احمد اور ڈپٹی چیف آف نیول اسٹاف (آپریشنز) وائس ایڈمرل راجا رب نواز کے ہمراہ انٹرنیشنل میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ افواج پاکستان ملکی وقار اور آزادی کی حفاظت ہر قیمت پر کرے گی ملاقات کے دوران ایئرفورس کے ڈپٹی آپریشنز چیف ایئر وائس مارشل اورنگزیب احمد نے سات اور آٹھ مئی کی درمیانی شب ہونے والی پاک انڈیا لڑائی کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ انہیں 12 بجے کے قریب پتہ چل گیا تھا کہ آج لڑائی کی رات ہے انڈین حملوں میں سات خواتین اور پانچ بچوں سمیت 33 پاکستانی جان سے گئے جبکہ 10 خواتین اور دو بچوں سمیت 62 لوگ زخمی ہوئے اور ان کے خون کے ایک ایک قطرے اور ان کی تصویروں سے پاکستانی قوم اور ریاست آگاہ ہے اور اس کا بدلہ چکایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ’آپ چاہتے ہیں کہ جب انڈیا چاہے پاکستان آئے اور حملہ کرے، دہشت گردی کرے۔ آپ پاکستان کو سمجھتے کیا ہیں؟‘
’ابھی تک تو ہم اپنا دفاع کر رہے ہیں اور شان سے کر رہے ہیں۔ جب ہم حملہ کریں گے، جواب دیں گے تو اس کی آواز ہر جگہ سنی جائے گی۔ ہم اپنے منتخب کردہ وقت، جگہ اور طریقے سے حملہ کریں گے جیسا ہم کرنا چاہتے ہیں۔‘ جنگ میں کشیدگی میں اضافے کی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی۔ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے پہلگام واقعے کو جواز بنا کر کی جانے والی جارحیت پر بھارت کو جج، جیوری اور سزا دینے والا بننے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر فائرنگ اور گولہ باری کی جا رہی ہے، بھارتی افواج جان بوجھ کر پاکستانی شہری آبادی کو نشانہ بنا رہی ہیں، جن بھارتی پوسٹوں سے شہریوں پر فائرنگ ہو رہی ہے صرف ان ہی پوسٹوں پر جوابی کارروائی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ڈرون یا راکٹ حملے کا آغاز نہیں کیا، نہ ہی کوئی فضائی حملہ کیا، صرف چھوٹے ہتھیاروں سے بھارتی فوجی چوکیوں پر جوابی کارروائی کی جا رہی ہے، بھارت نے مہم چلائی کہ پاکستان نے ڈرون، فضائی حملے کیے، جو جھوٹ اور افسانہ ہے، 21 ویں صدی کی جنگ میں ہر حملے کا الیکٹرانک ثبوت ہوتا ہے، اگر پاکستان نے کوئی میزائل حملہ کیا ہوتا تو اس کا کوئی الیکٹرانک ثبوت ہوتا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہناہے کہ جب ہم جواب دیں گے تو دنیا خود سن لے گی، ہمیں بھارتی میڈیا کی ضرورت نہیں ہے۔ بھارت دہشتگردی کے واقعات کو بہانہ بنا کر سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے، پاکستان نے پہلگام واقعے کے بعد غیر جانبدار، شفاف تحقیقات کی پیشکش کی تھی، بھارت نے پہلگام واقعے کی غیرجانبدار اور شفاف تحقیقات کرانے سے انکار کیا۔جب تک پاکستان کی خود مختاری اور وقار کی ضرورت ہے، (جنگ) جاری رہے گی۔ ہم ہر طرح کے انجام کے لیے تیار ہیں، جس چیز کا آغاز انہوں نے کیا ہے اس کا اختتام ہم کریں گے۔‘
انہوں نے بتایا کہ پاکستان اب تک انڈیا کے 77 اسرائیل ساختہ ڈرون گرا چکا ہے اور یہ بات یقینی ہے کہ ان کا کوئی ڈرون جو پاکستان کی طرف آئے گا وہ بچ کر نہیں جائے گا۔ بیشتر ڈرونز سافٹ پاور سے گرائے گئے ہیں جبکہ کچھ کو گرانے کے لیے ہارڈ پاور بھی استعمال ہوئی ہے۔ احمد شریف چوہدری نے کہا کہ وہ ان ڈرونز کا ملبہ ’وار ٹرافی‘ کے طور پر اکٹھا کر رہے ہیں اور انڈیا کو سروس دے رہے ہیں کہ ان کے بھیجے گئے ڈرونز کا ملبہ اکٹھا کر رہے ہیں۔ ’پاکستان کے پاس شاندار دفاعی نظام ہے جو ممکمل طور پر نافذ اور موثر ہے اور انڈیا کو علاقے کی بالادست طاقت کا رویہ چھوڑ دینا چاہیئے کیوںکہ وہ علاقے میں بالادست نہیں ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ انڈیا نے سات اور آٹھ مئی کی رات کو چار لانگ رینج میزائل بھی فائر کیے تھے جن کو انہوں نے دفاعی نظام کے ذریعے ناکارہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں جن کی بنا پر وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ پہلگام واقعے سے پاکستان کا کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ یہ شواہد صرف ایک آزاد تحقیقاتی کمیشن کے سامنے رکھیں گے۔انہوں نے کہا کہ سات اور آٹھ مئی کی درمیانی شب ہونے والی لڑائی میں نہ تو پاکستان کا کوئی عسکری اہلکار مارا گیا اور نہ ہی کسی جہاز کو نقصان پہنچا۔ تاہم انہوں نے گذشتہ چند روز میں انڈیا کی فوجی تنصیبات کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔ ان کے پاس انڈین فوجیوں کی ہلاکتوں کے بارے میں کچھ معلومات ہیں لیکن یہ مصدقہ نہیں ہیں اور جب تک ان کے پاس مصدقہ حقائق نہیں ہوں گے وہ اس بارے میں بات نہیں کریں گے۔ احمد شریف چوہدری نے کہا کہ انڈیا کے پاکستان پر حملے کے وقت سعودی عرب، قطر، دوسرے خلیجی ممالک، چین اور کوریا سمیت 57 بین الااقوامی اور مقامی مسافر طیارے پاکستان کی فضاوں میں تھے جن میں سوار مسافروں کی جان انڈیا نے حملہ کرکے خطرے میں ڈالی۔ ’درحقیقت انڈیا میں دہشت گردی کے ٹریننگ کیمپس ہیں جو پاکستان میں دہشت گردی کرواتے ہیں اور دنیا بھر میں قتل کی وارداتوں میں ملوث ہیں۔‘ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ سب سے پہلے پہلگام واقعے کے حوالے سے بتاؤں گا، اگر پہلگام کی لوکیشن کو دیکھیں، اس کا زمینی فاصلہ 230 کلومیٹر ہے، یہ اس تناظر میں ہے کہ بھارت کی جانب سے الزام عائد کیا جارہا ہے کہ دہشتگرد سرحد پار سے آئے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ پہاڑی علاقہ ہے، پہلگام میں جہاں یہ واقعہ ہوا، وہ جگہ سٹرک سے تقریباً 5.3 کلومیٹر دور ہے اور اس کا پولیس اسٹیشن سے فاصلہ 1.2 کلومیٹر ہے۔ لیفٹننٹ جنرل احمد شریف نے واقعے کی ایف آئی آر سلائیڈ پر دکھاتے ہوئے کہا کہ پہلگام واقعہ 2 بج کر 20 منٹ پر ہوا جبکہ 2 بج کر 30 منٹ یعنی صرف 10 منٹ بعد پولیس جائے وقوع پر جاتی ہے، تفتیش کرکے واپس جاتی ہے اور مقدمہ درج کر لیا جاتا ہے جبکہ ایک طرف کا راستہ 30 منٹ کا ہے، تو ایسا کرنا انسانی طور پر ممکن ہی نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی آر کا متن میں کہا گیا ہے کہ لوگ سرحد پار سے آئے تھے، تو 10 منٹ میں انہوں نے نتیجہ اخذ کر لیا، جبکہ مزید کہا گیا کہ اندھادھند فائرنگ کی گئی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اس حوالے سے سنجیدہ سوالات جنم لیتے ہیں، اس کے بعد تقریباً 3 بجے کے بعد بھارت میں سوشل میڈیا ہینڈلز نے کہنا شروع کیا کہ پاکستان نے پہلگام پر حملہ کیا، مطلب انہیں پتا تھا کہ کیا ہوا، لیکن اس کا ثبوت کہاں ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی ٹی وی چینلز نے بھی یہی کہنا شروع کر دیا، اس حملے میں پاکستانی دہشتگرد ملوث ہیں، یہ باتیں بار بار بتانا اس لیے ضروری ہے کہ یہ بنیاد ہے، جس کی وجہ سے آج ہم فوجی صورتحال دیکھ رہے ہیں، اسی کی وجہ سے بے گناہ بچوں اور خواتین کو شہید کیا جارہا ہے۔ لیفٹننٹ جنرل احمد شریف نے اس واقعے کے حوالے سے مقبوضہ کشمیر کے شہریوں کی گفتگو چلائی، جس میں وہ واقعے پر سوالات اٹھا رہے ہیں کہ ’یہاں پر سب سے زیادہ (بھارتی) فوج ہے، اگر کوئی پوسٹ شیئر کرے گا تو اس کو رات میں ہی اٹھالیں گے، اتنا بھارتی فوج ہے تو وہ کیا کر رہی ہے؟ ایک اور شہری نے کہا کہ منصوبہ بنا کر ایسا نہ کرو، کیا یہ سیکیورٹی کی ناکامی نہیں ہے؟ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت کے پاس شہریوں کے سوالات کے کوئی جوابات نہیں تھے، اس لیے انہوں نے توجہ ہٹانے کے لیے ایسا کیا، اور انہوں نے پاکستان پر حملہ کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے ہزاروں ٹوئٹرز ہینڈلز اور سوشل میڈیا سائٹس پر پابندی لگادی، انہوں نے پاکستان کے تمام تر ڈیجیٹل میڈیا پر بھارت میں پابندی لگادی تاکہ ان کے عوام صرف وہی سنیں، جو وہ بتانا چاہتے ہیں، بھارت کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے کہ پہلگام واقعے میں کون ملوث ہے، یہ آپ نہیں جانتے تو آپ نے فوجی محاذ کھول لیا۔ بھارت دہشتگردی کے واقعات سیاسی مفادات کیلئے استعمال کرتا ہے‘
لیفٹننٹ جنرل احمد شریف نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ پہلی بار ہے کہ بھارت نے ایسا کیا ہے کہ دہشتگردی کے واقعے کے سیاسی مفادات کے لیے استعمال کیا؟ نہیں اس کی ایک تاریخ ہے۔ انہوں نے سال 2000 میں چتی سنگ پورا واقعے کے حوالے سے لیفٹننٹ جنرل (ر) کے ایس گل کا بیان سنوایا، جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ ’انہوں نے پورا منصوبہ بنایا، تمام متعلقہ معلومات جمع کی، ان کی روٹین کیا ہے، کتنے مرد اور خواتین ہیں، ہتھیار کتنے ہیں، اور اچانک ایک رات کہا کہ سارے باہر چیکنگ کے لیے آؤ، ہم نے کہا تھا اس میں بھارتی فوج ملوث تھی، جبکہ بی جے پی کی حکومت پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرنا چاہتی تھی۔‘ ڈی جی آئی ایس پی آر کا ویڈیو بیان سنوانے کے بعد کہنا تھا کہ بھارت کی معصوم لوگوں کو مارنے کی تاریخ رہی ہے تاکہ سیاسی مقاصد حاصل کیے جاسکیں۔ انہوں 2019 میں پلوامہ واقعے پر اُس وقت کے گورنر مقبوضہ کشمیر ستیا پال ملک کا بیان سنوایا، جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ وہ اس واقعے کو انتخابات کے لیے استعمال کرنا چاہتے تھے کہ یہ پاکستان نے کیا اور ہمارے جوان مارے گئے اور اب انہیں ہرائیں گے اور یہ حکومت کی چالو پالیسی تھی’ اسی لیے ہم کہتے ہیں کہ یہ ڈراما اور پاکستان سے سرحد پار دہشت گردی اور جہادی تنظیموں کی حمایت کے من گھڑت الزامات کی بنیاد پر فوجی کارروائی کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسی لیے حکومت پاکستان نے کہا ہے کہ اگر آپ کے پاس کوئی شواہد ہیں تو وہ ایک آزاد اور غیرجانبدار کمیشن میں پیش کریں، اور پھر اسے ان شواہد کا جائزہ لینے دیں، آپ کو جج، جیوری اور سزا دینے کا اختیار کس نے دیا ہے۔ بھارت اب کشمیر کے لوگوں اور مسلمانوں اور اقلیتوں پر ظلم کررہا ہے۔ بھارتی فوج غلطی سے سرحد پار کرجانےو الے پاکستانیوں اور کشمیریوں کو پکڑ کر قید کرلیتے ہیں، پھر ان پر تشدد کرکے مار دیا جاتا ہے اور انہیں درانداز اور دہشت گرد قرار دے دیا جاتا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے غیرملکی صحافیوں کو ایک بچے اور اس کے اہل خانہ کی فوٹیج دکھا کر کہا کہ ضیا مصطفیٰ کو اکتوبر 2013 میں حراست میں لیا گیا تھا، پھر اسے اکتوبر 2021 میں دہشت گرد قرار دے کر شہید کردیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسی طرح پہلگام واقعے کے دو دن کے بعد شہریوں کو دہشت گرد قرار دے کر شہید کردیا، ڈی جی آئی ایس پی آر نے ان افراد کے اہل خانہ کی گفتگو بھی حاضرین کو سنوائی جو کہہ رہے ہیں کہ دونوں بھائی مویشی ڈھونڈنے کے لیے ایل او سی کے قریب گئے تھے جنہیں بھارتی فوج نے فائرنگ کرکے شہید کردیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے غیرملکی صحافیوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ وہ جائیں اور ان حقائق کی تصدیق کریں، انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج روزانہ کی بنیاد پر معصوم شہریوں کو قتل کرکے انہیں دہشت گرد قرار دے دیتی ہے، پھر من گھڑت اور بے بنیاد الزام پاکستان پر عائد کرکے اس کا پرچار عالمی میڈیا پر کیا جاتا ہے اور پھر یہ کہتے ہیں کہ ہم حملہ کردیں گے، بھارت نے یہی کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی تو پاکستان میں ہورہی ہے اور روزانہ ہورہی ہے، اور بھارت دہشت گردی کو اسپانسر کر رہا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھارتی وزیراعظم سمیت کئی بھارتی عہدیداروں کے کلپس دکھائے جو پاکستان کے خلاف زہر اگل رہے تھے، اس کے بعد بھارتی بحریہ کے افسر کلبھوشن یادو کا کلپ دکھایا گیا جس میں وہ پاکستان میں دہشت گردی کروانے کا اعتراف کررہا ہے۔ اس موقع پر ہتھیار ڈال دینے والے دہشت گردوں کے سرغنہ کی گفتگو دکھائی گئی جو کہہ رہا ہے کہ بلوچوں کی ہلاکتوں اور دہشت گردی کی کارروائیوں کے پس پردہ بھارت کا ہاتھ ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت کا نیٹ ورک موجود ہے وہ دہشت گردوں کی تربیت اور انہیں ہتھیار فراہم کرتا ہے اور دہشت گردی کے کیمپ درحقیقت بھارتی سر زمین پر ہیں جہاں سے پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے جعفر ایکسپریس پر حملے کی فوٹیج دکھاتے ہوئے کہا کہ بلوچ دہشت گردوں نے ویڈیو بنانے کے فوراً بعد بھارت بھیجی اور وہاں کے الیکٹرانک میڈیا پر سب سے پہلے چلائی گئی۔ اس موقع پر بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان کی فوٹیج بھی دکھائی گئی جو بھارتی میڈیا پر اس واقعے کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے اس کی تفصیلات بیان کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کینیڈا اور دوسرے ممالک میں بھی دہشت گردی کی کارروائیاں کررہا ہے اور قتل کی کارروائیوں میں ملوث ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پہلگام واقعے کا ایک مقصد پاکستان کے مغربی حصے میں سرگرم دہشت گردوں، فتنہ الخوارج کو اسپیس فراہم کرنا تھا جنہیں وہ خود کو اسپانسر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان اور سیکیورٹی ایجنسیاں ان دہشت گردوں کے گرد روز بہ روز گھیرا تنگ کررہی ہیں، اور اس ( پہلگام واقعے ) کا مقصد انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں سے سیکیورٹی ایجنسیوں کی توجہ ہٹانا بھی تھا، اور ہم یہ جانتے ہیں کیونکہ ہمارے پاس اس کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں، کیونکہ پہلگام حملے کے بعد 100 سے زیادہ دہشت گرد پاکستان میں داخل ہوئے تھے جنہیں بھارتی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے دہشت گردی کرنے کے لیے بھیجا تھا، ان میں سے 71 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا تھا۔ ’پہلگام کے واقعے میں پاکستان کے ملوث ہونے کا ثبوت ہے تو بھارت سامنے لائے‘ ڈی جی آئی ایس پی آر نے غیرملکی صحافیوں کو ایک دہشت گرد اور بھارتی فوج کے میجر سندیپ کے درمیان پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائی کے لیے ہونے والی گفتگو سنوا کر کہا آپ نے سن لیا کہ پاکستان میں دہشت گردی کون کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم بھارت سے کہتے ہیں کہ پہلگام کے واقعے میں پاکستان کے ملوث ہونے کا معمولی سا بھی ثبوت ہے تو سامنے لائے، مگر اس کے بات کوئی ثبوت نہیں ہے، اسی طرح بھارت کے پاس اس دعوے کا بھی کوئی ثبوت نہیں ہے کہ پاکستان پچھلے 48 گھنٹے سے بھارتی سرزمین پر حملے کررہا ہے، یہ سب من گھڑت الزامات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ بھارتی حکومت سنیما اور ڈراموں کی دنیا سے باہر آئے، ڈرامے کرنے بند کرے اور حقیقت کا سامنا کرے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ جنوری 2024 سے پاکستان میں دہشت گردی کے 3700 واقعات ہوئے ہیں جن میں 1314 پاکستانی شہری شہید اور 2582 زخمی اور معذور ہوئے، دہشت گردی کی یہ تمام کارروائیاں بھارت نےانجام دیں، اور پھر آپ کے پاس پہلگام کے واقعے کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے سامنے دیوار ہے اور ہم دہشت گردی کا سامنا کررہے ہیں، جنوری 2024 کے بعد سے اب تک 77816 انسداد دہشت گردی کے آپریشن ہوئے ہیں، ہم روزانہ دہشت گردوں سے لڑ رہے ہیں اور بھارت اپنے مفادات کے لیے دہشت گردی کی پشت پناہی کررہا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پاکستان نہ صرف اپنے عوام بلکہ دنیا کے لیے دہشت گردی سے لڑ رہا ہے اور بھارت اس راہ میں رکاوٹ بننا چاہتا ہے، آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ دنیا کے لیے خطے اور دنیا کے لیے اس کے نتائج کیا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پہلگام واقعے کے شواہد پیش کرنے کے بجائے اس واقعے کی آڑ میں بھارت نے کشمیر کے مسلمانوں کو نشانہ بنانا شروع کردیا، 50 گھر بارود سے اڑا دیے گئے ہیں اور ڈھائی ہزار سے کشمیریوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے، کشمیر میں بھارت اب یہ کررہا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ انتہا پسندی اور دہشت گردی بھارت کے داخلی مسائل ہیں مگر اقلیتوں کے خلاف جبر اور ہندوتوا کے فروغ کا سدباب کرنے کے بجائے بھارت پاکستان اور دیگر ممالک پر الزام تراشی کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر بھارت کا داخلی مسئلہ نہیں ہے بلکہ دو ممالک کے درمیان بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے جس کی قسمت کا فیصلہ کرنا وہاں کے عوام نے کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلگام واقعہ ہوتا ہے اور آپ (بھارت) کوئی ثبوت فراہم نہیں کرتے، آپ من گھڑت اور جھوٹا بیانیہ بنانا شروع کرتے ہیں، اور اس کی بنیاد پر حملہ کرتے ہیں، انہوں نے 6 اور 7 مئی کی رات پاکستان کے متعدد مقامات پر حملے کیے، جس میں 33 افراد شہید ہوئے، جس میں 7 سویلین، 7 خواتین اور 5 بچے شامل تھے جبکہ 62 سویلین زخمی جبکہ 14 فوجی جوان زخمی ہوئے۔ لیفٹننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ یہ انتہائی شرمناک ہے، بھارتی میڈیا کو دیکھیں کہ وہ حملوں پر اس طرح جشن منا رہے ہیں، آپ 2 سال کے بچوں کو مار کر اسے قومی فتح قرار دے رہے ہیں؟ انہوں نے شہید بچوں کی تصاویر دکھاتے ہوئے کہا کہ انہیں یاد رکھیں، بھارت نے معصوم بے گناہ بچوں کو شہید کیا ہے، انہوں نے مریدکے میں شہید مسجد اور قرآن کے نسخے دکھاتے ہوئے کہا کہ کونسا مذہب اس کی اجازت دیتا ہے؟ کونسا جنیوا کنونشن اور یو این کنونشن اس کی اجازت دیتا ہے؟ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ 6 اور 7 مئی کو بھارتی جنگی جہاز بڑی تعداد میں آئے، ہم نے 3 رافیل، ایک مگ 29 اور ایک ایس یو 30 کو مار گرایا، اسی طرح بھارت نے لائن آف کنٹرول بھارت نے بلااشتعال فائرنگ کی، جس میں خصوصی طور پر شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، پاکستان کی سائیڈ پر کشمیر میں رہائش پذیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس جارحیت کا مسلسل جواب دے رہے ہیں اور ہم صرف بھارتی فوج پوسٹس کو نشانہ بنا رہے ہیں، ہم بہت محتاط ہیں، کیونکہ ہم بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے پر یقین نہیں رکھتے ڈی جی آئی ایس پی آر نے نشانہ بنائی جانے والی بھارتی سائٹس کی سلائیڈز دکھائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی حملوں کا ایک مقصد پاکستان میں جاری انسدادِ دہشتگردی آپریشن سے توجہ ہٹانا تھا، تاکہ پاکستان میں دہشتگرد اپنی کارروائیاں بڑھا سکیں، مزید کہا کہ ابھی پیغام موصول ہوا ہے کہ بھارتی اسپانسر دہشتگرد فتنہ خوارج نے جنوبی وزیرستان میں فوجی جوانوں پر حملہ کیا، جس میں 9 شہادتیں ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم حملہ کریں گے، تو ہمیں بھارتی ٹی وی چینلز کی ضرورت نہیں کہ وہ اسے رپورٹ کریں، اس کی آوازیں ہر جگہ سنائی دیں گی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ بھارت نے آج بھی اسرائیلی ساختہ ہیروپ ڈرون بھیجے، ہم نے اب تک 77 ڈرون مار گرائے ہیں، انہوں نے کہا کہ ایک بھی ڈرون واپس بھارت نہیں جا سکے گا، ہم سب کو تباہ کر دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنی سلامتی اور خودمختاری کا ہر صورت میں دفاع کریں گے، اور ہم ایسا کر رہے ہیں۔ لیفٹننٹ جنرل احمد شریف کا کہنا تھا کہ 7 اور 8 مئی کی رات میں کی گئی، 4 پروجیکٹائل فائر کیے گئے، جو لانگ رینج میزائل تھے، جن میں سے 3 نے بھارتیوں کی جانب سے بھارت کے اندر امرتسر کو نشانہ بنایا، جبکہ ایک سرحد پار کرکے پاکستانی فضائی حدود میں آیا، جسے مار گرایا گیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت مسلسل یہ پروپیگنڈا کررہا ہے کہ پاکستان نے مختلف مقامات پر حملے کیے ہیں اور کررہا ہے، یہ سب من گھڑت باتیں ہیں، اگر بھارت نے پاکستانی طیارے اور ڈرون گرائے ہیں تو کم از کم ان کا ملبہ ہی دکھادیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر بھارت کو اتنی ہی خواہش ہے کہ پاکستان اس پر حملہ کرے تو بے فکر رہیں ہم اس کی یہ خواہش ضرور پوری کریں گے، اور اپنے وقت اور اپنی مرضی کے مطابق جواب دیں گے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ میں نے ایسی خبریں سنی ہیں کہ پاک۔بھارت قومی سلامتی کے مشیران کا براہ راست رابطہ ہوا ہے، میں اس بات کی تصدیق کرتا ہوں کہ ان کے درمیان کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ پاکستان کی جانب سے بھارت پر جوابی حملے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں لیفٹننٹ جنرل احمد شریف کا کہنا تھا کہ کشیدگی کون بڑھا رہا ہے؟ کون اشتعال پر اشتعال دلا رہا ہے؟ کیا یہ نیا معمول بنانا چاہتے ہیں کہ جب بھی وہ چاہیں سرحد پار حملہ کردیں اور کبھی بھی ڈرونز بھیج کر شہریوں کو ہراساں کریں، بھارت یہاں پر دہشتگردی کرے، آپ پاکستان کے بارے میں کیا سمجھتے ہیں کیا ہم اس کی اجازت دیں گے؟ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے پاس پاکستان کے عوام، ملکی سلامتی کا دفاع کرنے کا حق ہے، ہم اب تک اپنا دفاع کر رہے ہیں، اور ہمیں بڑی کامیابی ملی ہیں، وہ ایل او سی پر فائرنگ کرتے ہیں، ہم بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہیں، جب وہ فضا میں آتے ہیں، ان کو ردعمل ملتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنی مرضی کے وقت، جگہ اور طریقہ کار کے مطابق حملہ کریں گے۔ اس موقع پر بات کرتے ہوئے پاک فضائیہ کے افسر نے کہا کہ ہم نے صرف 2 منٹ میں ردعمل دیا، بڑہ تعداد میں بھارتی جنگی طیارے آئے، اور ہمارے جنگی جہاز پوزیشن پر موجود تھے، تقریباً 60 طیارے تھے جن میں 14 رافیل شامل تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری طرف سے 42 جدید جنگی طیاروں نے فوری ردعمل دیا، اور ہماری حکمت عملی تھی اپنی اسٹرینتھ کے مطابق لڑیں، ہمارے پاس ایک پلان تھا، انہیں ایسا لگتا تھا کہ ان کے پاس رافیل ہے، ہم نے اسی کو ٹارگٹ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سلسلہ تقریباً ایک گھنٹے چلا، پھر بڑی تعداد میں لڑاکا طیارے واپس چلے گئے۔ DG ISPR says ”India is a sponsor of terrorism in Pakistan” ;…
.( Asghar Ali Mubarak..)
.
India is involved in terrorism in various countries including Pakistan, America, Canada, India is a sponsor of terrorism in Pakistan, which has evidence, terrorists are given tasks from India for attacks in Pakistan, Indian army personnel give tasks to these terrorists for action, there is evidence of communication between Indian army personnel and terrorists. Which has revealed a deep network of state-sponsored terrorist activities.
Addressing a press conference with senior officers of Pakistan Air Force (PAF) and Pakistan Navy (PN), DG ISPR pointed to a long history of violent acts against civilians to fulfill India’s political agendas.
Citing past incidents, Lt Gen Ahmed Sharif Chaudhry said that India maintains terror camps within its borders and provides funds to terrorist organisations like BLA and Tehreek-e-Taliban Pakistan (TTP), also known as Fitna-ul-Kharij. The DG ISPR also named Aslam Achu, a notorious Indian-sponsored terrorist, who is currently based in India and planning attacks in Pakistan. He said that India has a history of killing innocent people and blaming Pakistan for political gains. He specifically referred to the recent Pahalgam incident, where allegations were levelled against Pakistan without any investigation. The DG ISPR termed the speed of the response as suspicious, saying, “Within 10 minutes of the Pahalgam incident, an FIR was registered blaming Pakistan.” India has not been able to provide any evidence against Pakistan till date and added that India does not have answers to the questions of the Indian people. General Ahmed Sharif Chaudhry said that the Pakistani government has offered an impartial investigation into the Pahalgam attack. Under the guise of the Pahalgam incident, India started crushing Kashmiri Muslims. He added that “Indian forces evict Kashmiris from their homes, declare them terrorists, subject them to torture and murder. India attacked Pakistani citizens to divert attention from its own people.”India is providing support to terrorists in Pakistan, India has closed neutral social media accounts, fake encounters are the norm of the Indian occupation army in occupied Kashmir. Muslims and other minorities are being attacked in India, threats to kill Muslims are being made openly in India. DG ISPR says that India tried to target a Sikh place of worship in Nankana Sahib, India attacked Nankana Sahib with 6 drones which was foiled.
In a press briefing to the international media, the spokesperson of the Pakistan Army said that at the time of India’s attack on Pakistan, 57 passenger planes were in the air, India put the lives of airline passengers at risk, a 2-year-old girl was targeted in the Indian attacks and the Indian media is celebrating this, we are only targeting Indian army posts in retaliation, we are targeting those Indian army posts from which firing is being done on Pakistan.India sent Israeli-made Herop drones today, we have shot down 77 drones so far, even a single drone will be able to return to India, we will destroy them all. We will defend our security and sovereignty at all costs, and we are doing so. India is blaming Pakistan to divert attention from internal problems. Ten minutes after the Pahalgam incident, an FIR was registered and India immediately started blaming Pakistan, he said that after ten minutes, how did India come to know that the Pahalgam incident was carried out by Pakistan, India is targeting women, children and civilians in Pakistan on the Line of Control. Pahalgam police station is 30 minutes away from the attack site, surprisingly, how did the police reach the scene 10 minutes after the attack? And in the next 10 minutes, they started blaming and also started telling the Indian media that the attack was carried out by Pakistan. He said that Indian politicians have also raised questions about security after the Pahalgam incident, India is blaming Pakistan to divert attention from its internal problems, Indian citizens have also exploded at the suspicious role of its army, he heard the statement of Lieutenant General (retd) KS Gill regarding the Chittisang Pura incident in the year 2000. In his statement, he is saying that ‘they made the whole plan, collected all the relevant information, made their routine, how many men and women there are, how many weapons, and suddenly one night they said that everyone should come outside for checking, we had said that the Indian army was involved in it.’ DG ISPR said that at the time of the Pahalgam incident, 60 Indian aircraft were in flight which were engaged, Indian aircraft came to the Pakistan side at 12:10 am, during the press conference, the conversation of the Rafale aircraft pilot was also heard. Lieutenant General Ahmed Sharif Chaudhry said that fake encounters are the norm for Indian forces in occupied Kashmir. Pakistan had also taken a clear stand regarding the Pulwama incident and said that it was a false flag operation. The then Governor of Jammu had opened the floodgates of the Pulwama incident and said that India wants to achieve political objectives by blaming Pakistan for this fake incident. The Pakistan Army spokesperson said that we have also given evidence of Indian sabotage in Balochistan, India is supporting the terrorists of the banned BLA, is involved in terrorist incidents in Pakistan and around the world, the Indians are openly admitting that they are sponsoring terrorists in Balochistan. He said that India is providing support to other terrorist groups including Fitna-ul-Kharij, there are camps of Indian insurgents, while during the conversation he also showed evidence of terrorism in Balochistan. If you have any evidence, present it to an independent and impartial commission, and then let it review this evidence, who has given you the authority to be a judge, jury and punish, India is now oppressing the people of Kashmir and Muslims and minorities, the Indian army mistakenly captures and imprisons Pakistanis and Kashmiris who cross the border, then tortures and kills them and declares them as infiltrators and terrorists, during this time video statements were also played about the oppression of Kashmiris. The spokesperson of the Pakistan Army, while addressing foreign journalists, asked them to go and verify these facts, he said that the Indian army martyrs innocent civilians on a daily basis and declares them as terrorists, then fabricated and baseless allegations are made against Pakistan and propagated in the international media and then they say that we will attack, this is what India has done. DG ISPR showed clips of several Indian officials including the Indian Prime Minister who were spewing venom against Pakistan, after which a clip of Indian Navy officer Kulbhushan Jadhav was shown in which he is admitting to organizing terrorism in Pakistan. Lieutenant General Ahmed Sharif Chaudhry said that in the telephone call, the Indian intelligence agency officer admitted that he was involved in terrorism in Pakistan, the Indian intelligence agency officer is talking about giving huge money to terrorists, India’s aim is to divert our attention from counter-terrorism operations, terrorists are given tasks from India for attacks in Pakistan. He said that after the Pahalgam incident, Indian extremists compare Hindu Muslims to dogs, hatred against Muslims is being created in India with state support, threats to massacre Muslims are being made openly in India, a journalist from occupied Kashmir raised the question that how did the terrorists reach Pahalgam with 700,000 troops? The journalist was picked up by the Indian army the next day. India imposed restrictions on the media for raising questions from the public and journalists. The Pakistan Army spokesperson said that we are only targeting Indian army posts in retaliation. India targeted civilian areas in Kashmir on the LoC. At the time of India’s attack on Pakistan, several passenger planes were present in Pakistan’s airspace. The DG ISPR once again said in a blunt manner that “Pakistan will definitely retaliate against India and will choose the time, place and method for it.”