آرمی چیف کی کوششوں سےپاکستان کی معاشی حالت میں بہتری……..کالم اندر کی بات….:کالم نگار،اصغر علی مبارک… ایک بار پھر یہ بحث شروع ہےکہ اگلا آرمی چیف کون ہوگایہ ایک انتہائی غیر معقول بحث ہے کہ اگلا آرمی چیف کون ہوگا۔ اس کے علاوہ بہت سے قومی مسائل ہیں۔ ان میں معاشی مسئلہ سب سے اہم ہے ملک کا سب سے بڑا مسئلہ معیشت ہی ہے ہم مالیاتی بد انتظامیوں کی وجہ سے مشکل معاشی صورتحال سے گزر رہے ہیں۔ مشکل وقت میں کوئی بھی اکیلے کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک پوری قوم اکٹھے متحد نہ ہو۔ یہ ایک قوم بننے کا وقت ہے ماضی قریب میں ایسی مثالیں موجود ہیں جب دیگر ممالک نے بھی ایسے ہی چیلینجز کا سامنا کیا او وہ ’مشکل فیصلے لے کر‘ کامیابی سے اس سے باہر نکلیں۔ اس ضمن میں ہم سب کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ مشکل اقدامات کامیاب ہوں ماضی میں ہم مشکل فیصلے لینے سے گھبراتے رہے ہیں۔ افواج نے رضاکارانہ طور پر سالانہ دفاعی بجٹ میں اضافے سے دستبردار ہو کر کردار ادا کیا۔ اور یہ واحد قدم نہیں جو افواج نے معیشت کی بہتری کے لیے اٹھایا , پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ماضی میں کئی بار یہ بات کہی تھی کہ ملک کی سکیورٹی اور معیشت کے درمیان ناقابل تردید ربط ہے کیونکہ دونوں ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ معاشی خود مختاری کے بغیر کسی قسم کی خودمختاری ممکن نہیں ہے۔آرمی چیف پاکستان کی معیشت کے حوالے سے فکر مند ہیں۔آرمی چیف نے اپنی کوششوں سے امریکا سے قرض کی رقم جلد جاری کرنے کیلئے آئی ایم ایف پر دباؤ ڈالنے کی درخواست کی آئین کے آرٹیکل 243 (3) کے مطابق صدر، وزیر اعظم کی سفارش پر سروسز چیفس کا تقرر کرتا ہے۔پھر مزید بحث کی ضرورت نہیں۔رولز آف بزنس کا شیڈول 5-اے وزیر اعظم کو آرمی چیف کی منظوری کے لیے پیش کیے جانے والے کیسز کی وضاحت کرتا ہے جس کے مطابق فوج میں لیفٹیننٹ جنرل یا دفاعی سروسز میں اس سے مساوی عہدے پر تقرر وزیر اعظم، صدر سے مشاورت کے بعد کریں گے۔روایت یہ ہے کہ جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) چار سے پانچ سینئر ترین لیفٹیننٹ جنرلز کی فہرست، ان کی ذاتی فائلوں کے ساتھ وزارت دفاع کو بھیجتا ہے، جو انہیں وزیرِ اعظم کے پاس بھیجتی ہے تاکہ وہ جس افسر کو اس عہدے کے لیے موزوں تصور کریں اسے منتخب کریں۔قانونی طور پرجرنیلوں کی قابلیت پر وزیر اعظم کے دفتر یا کابینہ میں غور کیا جاتا ہے،اس کے بعد اس معاملے میں وزیر اعظم سبکدوش ہونے والے آرمی چیف کے ساتھ ’غیر رسمی مشاورت‘ کرتے ہیں، ان کے اپنے تاثرات بھی اہمیت رکھتے ہیں 2016 میں تعینات ہونے والے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نومبر کے آخری ہفتے میں ریٹائر ہونے والے ہیں، آرمی چیف کی تقرری تین سال کے لیے ہوتی ہے لیکن جنرل باجوہ کو 2019 میں تین سال کی توسیع دے دی گئی تھی جب اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان نے اگست میں ان کی مدت ملازمت میں توسیع کردی تھی، لیکن بعد میں سپریم کورٹ نے سروسز چیفس کے دوبارہ تقرر پر قانون سازی کا مطالبہ کیا تھا۔پارلیمنٹ نے جنوری 2020 میں اس پر عمل کیا تھا اور وزیر اعظم کو اپنی صوابدید پر سروسز چیفس کی مدت میں توسیع کی اجازت دے دی تھی، تاہم قانون سازی میں 64 سال کی عمر کی حد مقرر کی گئی ہے جس عمر پر سروس چیف کا ریٹائر ہونا ضروری ہے۔61 سالہ جنرل قمر جاوید باجوہ اس لحاظ سےایک اور مدت کے لیے اہل ہوسکتے ہیں، اس تکنیکی وجہ سے یہ قیاس آرائیاں بھی جاری ہیں کہ موجودہ فوجی سربراہ مدت میں ایک اور توسیع کے خواہاں یا اس میں دلچسپی رکھتے ہیں۔تاہم پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے پہلے ہی کہا ہے کہ موجودہ آرمی چیف ریٹائر ہو جائیں گے دلچسپ بات یہ ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کو عوام مزید فوجی سربراہ دیکھنا چاہتی ہے؟لیکن اس کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا معاشی صورتحال بہتر بنانے کیلئے بھی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی خدمات تاریخ کا حصہ ہیں۔ معاشی حالت کی بہتری کیلئے انہوں نے بہت سے ممالک کا دورہ کیا , سفارتی محاذ پر بھی جنرل قمر جاوید باجوہ کی پس پردہ خدمات بہت اہم رہی ہیں، ملک و قوم کی معاشی مشکلات کم کرنے کے لیے جنرل قمر جاوید باجوہ نے ہمیشہ حکومت کا ہاتھ بٹایا جنرل قمر جاوید باجوہ نے یورپی ملکوں کے تحفظات دور کیے، مسلم ممالک پاکستان سے تعلقات کی پائیداری کے لیے جنرل قمر جاوید باجوہ کی خدمات کا اعتراف کرتے ہیں۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ملک کے لیے ہر مشکل وقت میں مرد بحران ثابت ہوئے ہیں ان کےدور میں پاکستان نے کئی اہم سنگ میل عبور کیے ۔ موجود ہ سیاسی بحران میں بھی تمام نظریں ان کی جانب رہیں ۔ انہوں نے نہایت دانشمندی سے قوم کی کشتی کو پار لگایا۔ جس سے ملک ایک بڑے بحران سے بچ گیا۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے 29 نومبر 2016 کو پاک فوج کے 16ویں سربراہ کی ذمہ داری سنبھالی، جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، دنیا باجوہ ڈاکٹرائن کی قائل ہوتی چلی گئی۔ بطور سپہ سالار قمر جاوید باجوہ نے امن کی مکمل بحالی کو مشن بنایا، ناقابل تسخیر ملکی دفاع کا بیڑہ بھی اٹھایا۔ چیلنج بہت بڑے تھے لیکن آرمی چیف نے انتہائی خندہ پیشانی سے قبول کئے، متاثر کن اقدامات سے اپنی الگ پہچان بنائی۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے دور میں فوجی سفارتکاری کا تصور سامنے آیا ، ان کے غیرملکی دورے اور پاکستان آئے غیرملکی وفود سے ملاقاتوں ، خصوصاً افغان طالبان اور امریکا میں مذاکرات میں کردار سمجھنے میں مدد ملی۔ انہوں نے سعودی عرب، قطر سمیت مختلف ممالک سے تعلقات مزید بہتر بنائے۔ ریاض اور تہران سمیت مختلف مسلم ممالک کے درمیان فوجی تعاون پیدا کرنے کیلئے موجود رکاوٹیں دور کرنے کی کوششیں بھی جاری رکھیں ۔برطانیہ کا حالیہ دورہ بھی اسی کا حصہ ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کا آرمی چیف کے دورۂ امریکا کے آپشن موجود ہیں واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس 20 ستمبر سے 23 ستمبر تک ہوگا۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ملک کے لیے ہر مشکل وقت میں مرد بحران کاکردار ادا کیا ھے ہیں۔ ان کےدور میں پاکستان نے کئی اہم سنگ میل عبور کیے ۔سیاسی بحران میں بھی تمام نظریں ان کی جانب رہیں لیکن انہوں نے نہایت دانشمندی سےاپنامثبت کردار نبھایاجس سے ملک ایک بڑے سیاسی بحران سے باہر نکل آیا اس دوران معاشی بحران نے سر اٹھایا تو اپنا ذاتی اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئےچین۔امریکہ۔برطانیہ۔عرب ممالک سے پاکستانی معشیت کی بحالی کیلئے کمک حاصل کرکے پاکستان کو سری لنکا جیسی صورتحال سے نکال لیاجب پاک فوج کے 16ویں سربراہ کی ذمہ داری سنبھالی تو بے شمار چیلنجرز تھے، ایسے میں ان کے نظریات کو باجوہ ڈاکٹرائن کا نام دیا گیا انکے مثبت نظریات پر مشتمل باجوہ ڈاکٹرائن کی دنیا قائل ہوتی چلی گئی۔ بطور سپہ سالار قمر جاوید باجوہ نے امن کی مکمل بحالی اور ملکی دفاع کو مزید ناقابل تسخیر بنانے میں کلیدی کردار نبھایادہشتگردوں کا بیانیہ ناکام بنانے کیلئے موثر حکمت عملی اپنائی،ملک بھر میں دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے حتمی آپریشن ردالفساد شروع کیاگیا۔ سپہ سالار کی قیادت میں نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد اور ملک بھر میں خفیہ معلومات کی بنیاد پر آپریشنز سے دہشت گردی کے ہر قسم کے نیٹ ورک ختم کر دیئے گئے۔افغانستان سے متصل سرحد پر حفاظتی باڑ اورسرحدی قلعوں کی تعمیر سے دہشتگری کا خاتمہ ہوا، اس کے ساتھ ہی بحالی ترقیاتی منصوبوں کو بھی مکمل کیا گیا۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کے دور میں فوجی سفارتکاری کا تصور سامنے آیا ، ان کے غیرملکی دورے اور پاکستان آئے غیرملکی وفود سے ملاقاتوں ، خصوصاً افغان طالبان اور امریکا میں مذاکرات میں کردار سمجھنے میں مدد ملی۔ انہوں نے سعودی عرب، قطر سمیت مختلف ممالک سے تعلقات مزید بہتر بنائےمختلف مسلم ممالک کے درمیان فوجی تعاون پیدا کرنے کیلئے موجود رکاوٹیں دور کرنے کی کوششیں بھی جاری رکھیں ۔امن کے حوالے سے سپہ سالار کے وژن کو ملکی سطح پر تو سراہا ہی گیا دیگر اقوام بھی اس کی گرویدہ ہیں، امریکا کی جانب سے دہشت گردی کے خاتمے میں آرمی چیف کے کردار کو سراہا گیا۔ پینٹاگون میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو گارڈ آف آنر پیش کیا اور اکیس توپوں کی سلامی دی گئی۔پاک فوج کے سربراہ نے جب چین کا دورہ کیا تو وہاں بھی انہیں گارڈ آف آنر دیا گیا، برطانیہ اور ایران بھی عالمی امن میں پاکستانی آرمی چیف کے کردار کے معترف ہیں۔معاشی حالت کی بہتری کیلئے انہیں قومی ترقیاتی کونسل کا حصہ بنایا گیا۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے حکومت کے معاشی ماہرین ، ملکی معروف کاروباری شخصیات اور تاجر برادری کی اہم شخصیات سے ملاقاتیں بھی کیں۔کرتارپور راہداری، دوستی کا یہ راستہ کھولنے میں بھی جنرل قمر جاوید باجوہ کا کردار کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ ان کی خصوصی دلچسپی کی وجہ سے منصوبے پر کام 10 ماہ کی مختصر ترین مدت میں مکمل ہوا۔ایک ہزار 8 سو 54 علما کرام کی جانب سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف پیغام پاکستان کے نام سے فتویٰ بھی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے دور میں جاری ہوا۔ ملک کو درپیش اندرونی خطرات ، آفات ، سیلاب ، ٹڈی دل ااور پولیو جیسے مسائل سے بھی نہایت مہارت کے ساتھ نمٹا گیا ۔ جنرل باجوہ کی قیادت میں پاک فوج نے کورونا کے خلاف این سی او سی جیسے بےمثال ادارے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔







