Operation Ghazb-ul-Haq; Military and political leadership ready to protect Pakistan at all times. (Asghar Ali Mubarak)آپریشن غضب للحق ; عسکری اور سیاسی قیادت پاکستان کی حفاظت کے لیے ہر دم تیار. (اصغر علی مبارک )
.. پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے جو عزت کے ساتھ امن کا خواہاں ہےآپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کی فتح کے جشن کے موقع پر پاکستان کا افغان طالبان رجیم کیخلاف آپریشن غضب للحق کا آغاز قومی خودمختاری کے تحفظ کے عزم کا اعادہ ہے
عسکری اور سیاسی قیادت پاکستان کی حفاظت کے لیے ہر دم تیار ہے
وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ فتنہ الخوارج، افغان طالبان رجیم گٹھ جوڑ کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جی ایچ کیو کا دورہ کیا اس دوران انہیں عسکری قیادت نے صورت حال پر مفصل بریفنگ دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ افغان طالبان رجیم، فتنہ الخوارج کی پاکستان کے خلاف کارروائیاں ناقابل قبول ہیں، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں افواج پاکستان ملکی حفاظت کے لیے ہر دم تیار ہیں۔ پاکستان کسی بھی جارحیت کے خلاف اپنا دفاع کرنا بخوبی جانتا ہے۔.دوسری طرف پاک فوج کی جانب سے افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کا بھرپور اور مؤثرانداز میں منہ توڑ جواب جاری ہے پاک افغان کشیدگی کے حوالے سے اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کا کہنا تھا کہ وزیرِاعظم کو آپریشن غضب للحق پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، پاکستان کالعدم ٹی ٹی پی کے خلاف ایکشن لیا۔اُنہوں نے کہا کہ افواج پاکستان نےایک بارپھر ثابت کیا کہ دفاع وطن کے لیے ہر دم تیارہیں، پاک فوج کے 27 جوان زخمی اور ایک لاپتہ ہے، دہشتگردوں اور اُن کے سہولت کاروں کو ویسا ہی جواب دیا جس کے وہ مستحق تھے، افغان طالبان سوشل میڈیا کے ذریعے دھمکیاں دے رہے ہیں۔ آج کی بریفنگ کا مقصد تفصیلی آگاہی ہے، 21 اور 22 فروری کی شب دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا، افغان طالبان رجیم دہشت گردوں کی پشت پناہ ہے۔ ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ آپریشن میں 274 خوارج ہلاک 400 زخمی ہو چکے ہیں، 73 پوسٹیں تباہ 18 پر قبضہ کر لیا گیا، 115 ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں بھی تباہ کیں، دہشتگردوں کو چن چن کر مارا گیا، دشمن کے خلاف لڑتے ہوئے پاک فوج کے 12 جوان شہید ہوئے۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری فتنہ الہندوستان، فتنہ الخوارج کے 22 ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا، دہشتگرد اپنے ساتھیوں کی لاشیں چھوڑ کر بھاگ گئے۔ ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ پاکستان کے کسی جگہ پردہشت گردی کا کوئی واقعہ ہوتا ہے تو دہشت گردوں اوران کےتحفظ کرنے والوں کی کوئی جگہ محفوظ نہیں ہوگی، افغان طالبان رجیم دہشت گردوں یا پھر پاکستان کو منتخب کریں، ہماری چوائس کلیئر ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ پاکستان کے عوام مسلح افواج سے اپنی محبت کا اظہار کر رہے ہیں، سبی، ایبٹ آباد اور نوشہرہ میں ڈرون حملوں کو ناکام بنا دیا گیا، پاکستان کے مفادات کا تحفظ ہر قیمت پر کیا جائے گا۔ اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کہیں دہشت گردی ہوئی تو دہشت گردوں کیلئے جائے پناہ نہیں بچے گی، دہشت گردوں کا تحفظ کرنے والوں کیلئے بھی کوئی جگہ محفوظ نہیں ہوگی، معرکہ حق کی طرح آپریشن غضب للحق میں بھی قوم سیسہ پلائی دیواربنی ہے۔ ترجمان پاک فوج نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے ہر واقعہ میں بھارت ملوث ہے، دوران پریس کانفرنس دشمن کےٹھکانوں کو نشانہ بنانےکی ویڈیوزدکھائی گئیں، افواج پاکستان نے پیشہ ورانہ انداز میں صرف عسکری اہداف کونشانہ بنایا۔ دشمن کی جانب سےخواتین اور بچوں کو نشانہ بنانے کا جھوٹا پروپیگنڈا کیا گیا، پاکستان میں دہشتگردی کرنے اور کرانے والے کہیں بھی محفوظ نہیں رہیں گے، افواج پاکستان نے پیشہ ورانہ انداز میں صرف عسکری اہداف کو نشانہ بنایا۔ اُنہوں نے کہا کہ ہمارا مؤثر جواب مسلح افواج کے مکمل چوکس ہونے کا مظہر ہے، قوم کو اپنے نڈراور جانباز جوانوں پر فخر ہے، تمام سیاسی جماعتیں بھی دہشت گردی سے متعلق کلیئرہیں، نیشنل ایکشن پلان کو تمام سیاسی جماعتوں نے مل کربنایا تھا، دہشت گردی کے خلاف جنگ سے متعلق پاکستان میں رتی بھر اختلاف نہیں۔ ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا پولیس کےجوان بہادری سے فرنٹ پر لڑ رہے ہیں، قوم خیبرپختونخوا کے پولیس اہلکاروں کو سلیوٹ کرتی ہے چین نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی اور مذاکرات کا مطالبہ کر دیا ہے۔ ترجمان ماؤ ننگ نے پریس بریفنگ میں کہا کہ حالیہ کشیدگی کے بعد چین صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور دونوں ممالک سے رابطے میں ہے تاکہ تناؤ کو کم کیا جا سکے۔ ماؤ ننگ کا کہنا تھا کہ چین پاکستان اور افغانستان کے درمیان بات چیت اور ثالثی کے عمل میں سہولت کاری کر رہا ہے، بیجنگ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بہتری اور کشیدگی میں کمی کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ مزید کہا کہ چین ہر قسم کی دہشتگردی کے خلاف ہے اور دونوں ممالک پر زور دیتا ہے کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں، اختلافات کو مذاکرات اور مشاورت کے ذریعے حل کریں اور جلد از جلد جنگ بندی کو یقینی بنائیں تاکہ مزید جانی و مالی نقصان سے بچا جا سکے۔ ترجمان کے مطابق چینی وزارتِ خارجہ اور پاکستان و افغانستان میں موجود چینی سفارت خانے متعلقہ حکام سے مسلسل رابطے میں ہیں، دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے اپنے ملکوں میں موجود چینی شہریوں اور تنصیبات کی سکیورٹی کو یقینی بنائیں۔یرانی وزیر خارجہ نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ثالثی کی پیشکش کرتے ہوئے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے تمام اختلافات مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر جاری اپنے ایک بیان میں ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ رمضان المبارک تحمل، برداشت اور یکجہتی کا مہینہ ہے۔ انہوں نے تاکید کی کہ پاکستان اور افغانستان کو اچھے پڑوسیوں کی طرح اپنے مسائل باہمی بات چیت سے حل کرنے چاہئیں۔ایرانی وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ ایران دونوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان تعمیری مذاکرات کے لیے ہر ممکن مدد اور سہولت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ مذاکرات کے ذریعے دونوں ممالک باہمی مفاہمت اور تعاون کو فروغ دے کر خطے میں استحکام لا سکتے ہیں۔ واضح رہے پاک افغان سرحد پر افغان طالبان رجیم کی بلااشتعال کارروائیوں کے خلاف پاکستان کا آپریشن غضب للحق جاری ہے، پاک افواج کے حملوں میں افغان طالبان کے 133 کارندے ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوگئے جبکہ 27 افغان چوکیاں بھی مکمل تباہ کر دی گئیں
پاک فضائیہ نے27 فروری 2019 ءآپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کی فتح کے جشن کا دن خوب منایاہے پاکستان کی جانب سے کابل، قندھار پر فضائی حملے کیے گئے ہیں، مسلح افواج بلا اشتعال جارحیت کیخلاف بھرپورجوابی کارروائی کیلئے پرعزم ہیں.دوسری طرف پاک فوج کی جانب سے افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کا بھرپور اور مؤثرانداز میں منہ توڑ جواب جاری ہے پکتیا کے علاقے میں 5 افغان پوسٹوں پر قبضہ کر کے پاکستان کاپرچم لہرا دیاہے،قبضہ کی جانے والی پوسٹس میں دوشوال کے مقابل، دوانگوراڈہ کے مقابل اور زرملان کے مقابل ہیں کارروائی کے دوران پاک فوج نے انگور اڈہ کا افغانی ٹرمینل بھی تباہ کر دیا، افغان طالبان فورسز کو آرٹلری اور کوارڈ کاپٹرسے مؤثر انداز میں نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں انہیں بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا کارروائی کے بعد افغان طالبان نے متعدد بار پوسٹوں پر سفید جھنڈا بھی لہرا کر ہتھیار ڈالنے کا اشارہ دیاوفاقی وزیراطلاعات عطا تارڑ نے بتایا کہ افغان طالبان رجیم کے 133 کارندے ہلاک ہوئے، افغان طالبان رجیم کے 200 سے زائد کارندے زخمی ہوئے، کابل، پکتیا اور قندھار میں افغان طالبان کے دفاعی اہداف کو نشانہ بنایا گیاہے پاکستان کے جوابی حملوں میں افغان طالبان کی مزید ہلاکتوں کا امکان ہے، افغان طالبان رجیم کی 27 پوسٹیں تباہ، 9 پوسٹوں پر قبضہ کرلیا گیا ہے, افغان طالبان رجیم کے 2 کور ہیڈکوارٹرز، 3 بریگیڈ ہیڈکوارٹرز تباہ ہوگئے، افغان طالبان رجیم کے 2 ایمونیشن ڈپو، ایک لاجسٹک بیس تباہ کیا گیا جوابی کارروائی میں افغان طالبان رجیم کے 3 بٹالین ہیڈکوارٹرز کو تباہ کردیا گیا، پاکستان کی جوابی کارروائی میں افغان طالبان رجیم کے 2 سیکٹر ہیڈکوارٹرز بھی تباہ ہوئے۔عطا تارڑ نے کہا کہ افغان طالبان کے 80 سے زائد ٹینکس، آرٹلری گنز اور اے پی سیز تباہ ہوئے، افغان طالبان رجیم کی جارحیت کےخلاف پاکستان کی مؤثر جوابی کارروائی جاری ہےسیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ پاک فضائیہ کی قندھار میں کارروائی جاری ہے، پاکستانی جیٹ طیارے فضائی حملے کے بعد قندھار کی فضا میں گشت کررہے ہیں، پاک فضائیہ نے پکتیا 205 کور ہیڈکوارٹر تباہ کردیا ہے۔ دریں اثنا خیبر پختونخوا کے اضلاع ایبٹ آباد، صوابی اور نوشہرہ میں افغان طالبان کے زیرِ سرپرستی کام کرنے والے ‘فتنہ الخوارج’ کی جانب سے ڈرون حملوں کی کوششوں کو ناکام بنا دیا گیا ہے, دہشت گردوں نے ان علاقوں میں چھوٹے ڈرونز کے ذریعے حملوں کی کوشش کی، تاہم پاکستان کے جدید اینٹی ڈرون ڈیفنس سسٹم نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الخوارج کے تمام ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر کے گرا دیا ان واقعات میں کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا, ان ناکام حملوں نے ایک بار پھر افغان طالبان کی موجودہ حکومت اور پاکستان میں سرگرم دہشت گردوں کے درمیان گٹھ جوڑ کو عالمی سطح پر بے نقاب کر دیا ہے۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ سرحد پار سے ہونے والی ان بزدلانہ کارروائیوں کا بھرپور جواب دیا جائے گا, دوسری جانب ,وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ہمارا صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے، اب ہماری تمہاری کھلی جنگ ہے، اب دما دم مست قلندر ہو گا۔وزیردفاع نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی فوج سمندر پار سے نہیں آئی، ہم تمہارے ہمسائے ہیں، تمہاری اوقات جانتے ہیں، نیٹو افواج کے انخلا کے بعد یہ توقع کی جاتی تھی کہ افغانستان میں امن ہو گا۔طالبان حکومت کے ترجمان نے کابل، پکتیا اور قندھارپربمباری کی تصدیق کی، افغان میڈیا کے مطابق رات تقریباً ایک بج کر 50 منٹ پر کابل میں طالبان کے ایک فوجی مرکز کو فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا, ٹوئٹ میں مزید کہا کہ توقع تھی طالبان افغان عوام کے مفادات اور علاقے میں امن پر توجہ مرکوز کریں گے، مگر طالبان نے افغانستان کو ہندوستان کی کالونی بنا دیاطالبان نے ساری دنیا کے دہشت گردوں کو افغانستان میں اکٹھا کرلیا، طالبان نے دہشت گردی کو ایکسپورٹ کرنا شروع کر دیا۔ طالبان نے اپنےعوام کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم کردیا، طالبان نے خواتین کو جوحقوق اسلام دیتا ہے وہ چھین لیے، پاکستان نے براہ راست اور دوست ممالک کے ذریعے حالات نارمل رکھنے کی کوششیں کیں۔ پاکستان نے بھرپور سفارت کاری کی مگر طالبان ہندوستان کی پراکسی بن گئے، طالبان نے جارحیت کی تو الحمدللہ ہماری افواج اس وقت فیصلہ کن جواب دے رہی ہیں ماضی میں پاکستان کا کردارمثبت رہا ہے، 50 لاکھ افغانیوں کی 50 سال سے مہمان نوازی کی، آج بھی ہماری سرزمین پر لاکھوں کی تعداد میں افغان روزی کما رہے ہیں۔دوسری طرف وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ سات گنا بڑے ملک نے بھی منہ کی کھائی تھی وہ آج تک سر نہیں اٹھا سکا، افغان طالبان کی اتنی جرات نہیں کہ وہ کسی پوسٹ پربھی قبضہ کر سکے۔ وزیرمملکت داخلہ کا کہنا تھا کہ افطاری سے پہلے بارڈر کے ایک طرف حملے کی کوشش کی گئی، پاک فوج کی جانب سے بھرپورجوابی کارروائی کی گئی، ہمسائے ملک کیلئے پاکستان نے وہ کچھ کیا جو انہوں نےخود بھی نہیں کیا ہو گا۔ افغان طالبان رجیم کےخلاف بڑے رسپانس کا آغاز کر دیا گیا ہے دوسری جانب پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کا کہنا ہےکہ پاکستان امن کا حامی ہے لیکن خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں ہوگا, پاک فضائیہ کے سربراہ نے اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار اور امن خواہ ملک ہے، تاہم ہماری خودمختاری کو چیلنج کرنے والوں نے ہمیشہ غلط اندازہ لگایا جس کا پاک فضائیہ نے ہر بار منہ توڑ جواب دیا ہے دشمن نے سات سال قبل تاریکی میں پاکستان کی سلامتی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی، جس کا پاک فضائیہ نے دن کی روشنی میں بھرپور جواب دے کر دشمن کے عزائم خاک میں ملا دیئے۔پاک فضائیہ کے سربراہ نے “معرکہ حق” کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ پاک فضائیہ نے پہلی بار مکمل ملٹی ڈومین آپریشنز کامیابی سے انجام دیئے، جس کے دوران دشمن کے رافیل، سخوئی 30، میراج 2000 اور مگ 29 جیسے جدید طیاروں کو گرایا گیا اور دشمن کی حدود میں دور تک موجود بیسز اور زمینی اثاثوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ایئر چیف نے انکشاف کیا کہ اس آپریشن میں دشمن کے جدید ترین ایس-400 (S-400) فضائی دفاعی نظام اور ان کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز کو بھی مکمل طور پر ناکارہ بنا دیا گیا تھا مزید کہا کہ مالی دباؤ کے باوجود پاک فضائیہ جدت کی جانب گامزن ہے، جس میں بغیر پائلٹ سسٹمز، الیکٹرانک وارفیئر، اسپیس اور سائبر اثاثوں کا حصول شامل ہے۔ مقامی سطح پر تیار کردہ ‘ملٹی ڈومین کِل چین’ کا قیام فضائیہ کی دفاعی صلاحیتوں میں ایک اہم سنگ میل ہے, دوسری طرف دشمن کی بلااشتعال جارحیت کے خلاف سکیورٹی فورسز مؤثر جواب دے رہی ہیں . پاکستان کی جانب سے افغانستان کے شہروں کابل اور قندھار پر فضائی حملے کیے گئے ہیں، فضائی حملوں کے خوف سے طالبان قیادت غاروں میں منتقل ہونا شروع ہوگئی، کرم سیکٹر کے قریب بھی افغان طالبان کے کئی ٹھکانے تباہ کیے گئے ہیں
سکیورٹی فورسز پوری طاقت سے منہ توڑ جواب دے رہی ہیں جس سے افغان طالبان کے ٹھکانے تباہ ہوگئے جبکہ خوارج بھاگ کھڑے ہوئے، چترال سیکٹر پر ان کی چیک پوسٹ کو نہایت درستگی سے نشانہ بنا کر تباہ کیا گیا افغان طالبان نے پاک افغان سرحد کے مختلف مقامات پر فائرنگ کی جس کے جواب میں پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے ناوگئی سیکٹر باجوڑ، تیراہ خیبر، ضلع مہمند اور ارندو سیکٹر چترال میں بھرپور جواب دیا، باجوڑ میں دشمن کی 2 چوکیاں تباہ کی گئیں۔افغان طالبان رجیم کے 22 اہلکاروں کے ہلاک ہونے کی مصدقہ اطلاعات ہیں، دشمن کی کواڈ کاپٹر کے ذریعے پاکستانی فورسز کی چیک پوسٹوں پر حملے کی کوشش کو ناکام بنا دیا گیا,پاکستان کی سکیورٹی فورسز کی جانب سے چھوٹے اور بڑے ہتھیاروں کے ذریعے گولہ باری جاری ہے جبکہ ڈرونز کے ذریعے بھی چن چن دشمن کی پوسٹوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ افغان طالبان کی جانب سے میڈیا اور سوشل میڈیا پر جھوٹے دعوے اور فیک ویڈیوز پھیلائی جا رہی ہیں,قبل ازیں، وزارت اطلاعات و نشریات نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ افغان طالبان رجیم کی بلا اشتعال کارروائی کا فوری اور موثر جواب دیا گیا ہے، انہوں نے غلط اندازہ لگایا اور متعدد مقامات پر بلا اشتعال پر فائرنگ کی ہے بیان کے مطابق افغان طالبان نے کے پی میں سرحد پار متعدد مقامات پر فائرنگ کی، فورسز نے بلا اشتعال جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا، چترال، خیبر، مہمند، کرم اور باجوڑ سیکٹر میں بھرپور جواب دیا گیا ہےوزارت اطلاعات کا کہنا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق افغان طالبان رجیم کو بھاری جانی و مالی نقصان ہوا ہے، فورسز کی جوابی کارروائی میں افغان طالبان کی متعدد پوسٹیں تباہ ہوگئیں، پاکستان اپنی علاقائی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، پاکستان شہریوں کی حفاظت کیلیے تمام اقدامات کرے گا اس آپریشن کی سب سے نمایاں خصوصیت رفتار اور درستگی تھی, مشن پلاننگ، انٹیلی جنس کوآرڈی نیشن، ایئر ڈیفنس الرٹس اور فضا میں فیصلہ کن کارروائی نے یہ ثابت کیا کہ پاک فضائیہ صرف دفاعی نہیں بلکہ مؤثر جوابی حکمت عملی رکھنے والی ایک جدید فضائی قوت ہے. عالمی عسکری مبصرین نے بھی اس امر کا اعتراف کیا کہ پاک فضائیہ کا ردعمل محدود، متناسب اور اسٹریٹجک ڈیٹرنس کے اصولوں کے عین مطابق تھا, اس آپریشن میں پاک فضائیہ نے ایک جانب پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا تو دوسری جانب طے شدہ جنگی اصول و ضوابط کی مکمل پاسداری بھی کی۔ فضائی کارروائی کے دوران اہداف کا انتخاب اس انداز سے کیا گیا کہ پیغام بھی پہنچے اور غیر ضروری تصادم سے بھی اجتناب رہے۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ پاک فضائیہ نہ صرف عسکری طاقت رکھتی ہے بلکہ اس کے استعمال میں ذمہ داری اور دانش بھی شامل ہے۔ پاک فضائیہ کے پائلٹس کی تربیت، اعصاب کی مضبوطی اور فیصلہ سازی کی صلاحیت اس موقع پر نمایاں ہو کر سامنے آئی۔ ایک محدود وقت میں فضائی برتری قائم کرنا، دشمن کے طیاروں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کرنا اور اپنی فضائی حدود کا مکمل تحفظ یقینی بنانا، یہ سب اس امر کا ثبوت تھا کہ پاکستان کی فضائی دفاعی لائن ہر لمحہ مستعد ہے۔ اس آپریشن نے علاقائی سکیورٹی ڈائنامکس تبدیل کیے اور ایک مضبوط اسٹریٹجک پیغام بھی دیا۔ جنوبی ایشیا ایک حساس خطہ ہے جہاں معمولی عسکری کشیدگی بھی بڑے تصادم کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ ایسے ماحول میں آپریشن سوئفٹ ریٹورٹ نے یہ واضح کیا کہ پاکستان کا دفاعی نظریہ جارحیت پر نہیں بلکہ ڈیٹرنس پر مبنی ہے۔ یعنی ایسا مضبوط اور قابلِ اعتماد دفاعی نظام جو دشمن کو مہم جوئی سے باز رکھے۔ اس کارروائی نے خطے میں طاقت کے توازن کو ازسرِنو واضح کیا۔ یہ پیغام دیا گیا کہ پاکستان نہ صرف اپنی فضائی سرحدوں کا دفاع کر سکتا ہے بلکہ کسی بھی جارحانہ اقدام کا فوری اور مؤثر جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ اس سے اسٹریٹجک استحکام کو تقویت ملی اور یہ ثابت ہوا کہ امن کی ضمانت کمزوری نہیں بلکہ مضبوط دفاع ہے۔آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کا ارتقائی تسلسل ہمیں آپریشن بنیان مرصوص 2025 میں بھی دکھائی دیا۔27 فروری 2019 ء کا آپریشن سوئفٹ ریٹورٹ ایک سنگ میل تھا تو مئی 2025 ء کے آپریشن بنیان مرصوص کو اسی تسلسل کی اگلی کڑی کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔سال 2019 ء سے سال 2025 ء تک کا عرصہ پاک فضائیہ کے لیے تکنیکی اور نظریاتی ارتقاء کا دور رہا۔ جدید لڑاکا طیاروں کی شمولیت، بغیر پائلٹ طیاروں کی بڑھتی ہوئی اہمیت، ایئر ڈیفنس سسٹمز کی اپ گریڈیشن اور پریسیڑن گائیڈڈ امیونیشنز کا استعمال اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان نے بدلتے ہوئے خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی حکمت عملی کو ہم آہنگ کیا۔
فضائی دفاع اب صرف طیاروں تک محدود نہیں رہا۔ اس میں سائبر سکیورٹی، اسپیس بیسڈ سرویلنس، الیکٹرانک وارفیئر اور ڈیٹا انٹیگریشن بھی شامل ہو چکے ہیں۔ آپریشن بنیان مرصوص میں ان تمام عناصر کا مربوط استعمال اس بات کی علامت تھا کہ پاک فضائیہ ایک ملٹی ڈومین آپریٹنگ فورس بن چکی ہے۔
پاک فضائیہ نے کسی بھی لمحے تیاری، تربیت اور ریڈی نیس کے اہم ترین عناصر کو نظر انداز نہیں کیا۔ کسی بھی فضائی آپریشن کی کامیابی صرف ہتھیاروں پر نہیں بلکہ انسانوں پر منحصر ہوتی ہے۔ پاک فضائیہ نے گزشتہ برسوں میں تربیتی نظام، فلائنگ آورز، سمیولیٹر بیسڈ ٹریننگ اور مشترکہ مشقوں کے ذریعے اپنی افرادی قوت کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر چیلنج کے وقت فورس ریڈی نیس ایک عملی حقیقت کے طور پر سامنے آتی ہے۔ سالگرہ کی یہ تقریب دراصل اس پیغام کی تجدید ہے کہ پاکستان کی فضاؤں کا دفاع ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔یہی عزم، یہی تیاری اور یہی ارتقائی سوچ پاک فضائیہ کو ایک جدید، ذمہ دار اور باوقار فضائی قوت کے طور پر نمایاں کرتی ہے۔ آپریشن سوئفٹ ریٹورٹ اور آپریشن بنیان مرصوص دونوں اس امر کی گواہی دیتے ہیں کہ پاک فضائیہ کی تیاری محض کاغذی منصوبہ بندی نہیں بلکہ عملی مشقوں اور مربوط کمانڈ اسٹرکچر کا نتیجہ ہےوفاقی وزیراطلاعات نے افغان طالبان رجیم کے 133 کارندے ہلاک ہونے کی تصدیق کردی ہے جبکہ 200 سے زائد کارندے بھی زخمی ہوئے ہیں یہ یاد رکھیں کہ 27 فروری 2019 ء کی وہ روشن صبح جنوبی ایشیا کی عسکری تاریخ میں ایک فیصلہ کن موڑ کے طور پر ہمیشہ یاد رکھی جائے گی، جب پاکستان کی فضائی سرحدوں کو چیلنج کرنے کی ناپاک جسارت کی گئی تو جواب میں جو حکمت، توازن اور پیشہ ورانہ مہارت سامنے آئی، اس نے نہ صرف طاقت کا توازن واضح کیا بلکہ جارح کو ایک مضبوط اسٹریٹجک پیغام بھی دیا۔ یہ تھا آپریشن “سویفٹ ریٹارٹ” جس نے پاکستان ایئر فورس کی عملی تیاری، رفتار، درستگی اور ڈیٹرنس صلاحیت کو دنیا کے سامنے فخر سے آشکار کیا۔آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کسی جذباتی ردِعمل کا نام نہیں تھا، بلکہ یہ ایک سوچا سمجھا، نپا تلا اور قواعدِ جنگ کے عین مطابق کیا گیا اقدام تھا۔ پاک فضائیہ نے نہ صرف اپنی فضائی حدود کا مؤثر دفاع کیا بلکہ دشمن کو واضح پیغام دیا کہ پاکستان کی خودمختاری اور فضائی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا دونوں آپریشنز کے درمیان ایک واضح نظریاتی اور عملی ربط موجود ہے۔ پہلا آپریشن فوری ردِعمل اور ڈیٹرنس کا مظہر تھا جبکہ دوسرا آپریشن جدید ٹیکنالوجی، بہتر انضمام اور ارتقائی حکمت عملی کی مثال بنا۔ 02 آپریشن بنیان مرصوص میں ٹیکنالوجی کا استعمال زیادہ منظم اور مربوط کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹمز کے تحت کیا گیا۔ انٹیگریٹڈ ایئر ڈیفنس، نیٹ ورک سنٹرک وارفیئر، جدید سرویلنس پلیٹ فارمز اور درست نشانے والے ہتھیاروں نے یہ ظاہر کیا کہ پاک فضائیہ نے صرف ماضی کی کامیابی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اسے بنیاد بنا کر اپنی صلاحیتوں کو مزید وسعت دی ہے۔


Pakistan is a responsible country that seeks peace with dignity. The launch of Operation Ghazb-ul-Haq against the Afghan Taliban regime on the occasion of the victory celebration of Operation Swift Retaliation is a reiteration of Pakistan’s commitment to protecting national sovereignty.
Military and political leadership are ready to protect Pakistan at all times. Prime Minister Shehbaz Sharif says that a zero-tolerance policy should be adopted for the Fitna al-Khawarij, Afghan Taliban regime nexus. Prime Minister Shehbaz Sharif visited GHQ, where he received a detailed briefing on the situation from the military leadership. He said that the actions of the Afghan Taliban regime, Fitna al-Khawarij, against Pakistan are unacceptable, and the Pakistani forces under the leadership of Field Marshal Asim Munir are always ready to protect the country.
Shehbaz Sharif said that Pakistan knows very well how to defend itself against any aggression. It should be noted that Pakistan’s Operation Ghazb al-Haqq is ongoing against the unprovoked actions of the Afghan Taliban regime on the Pak-Afghan border. 133 Afghan Taliban operatives were killed, and more than 200 were injured in the attacks by the Pakistani forces, while 27 Afghan posts were also completely destroyed.

Some time ago, DG ISPR Lieutenant General Ahmed Sharif Chaudhry stated in a press conference that the terrorists had received the response they should have received, as if the entire nation was standing united in the fight for justice. The same scenes were seen yesterday as well.

He said that in the befitting reply, 274 Khawarij were killed and more than 400 were injured, more than 73 posts of the Afghan Taliban regime have been completely destroyed, 18 posts of the Taliban regime have been captured, 115 enemy tanks and armored vehicles have been destroyed and captured.

The spokesperson of the Pakistan Army said that the Afghan Taliban also brought small and large weapons and quadcopters. Wherever the attack was launched, the Pakistan Army gave such a befitting reply that the world saw that the terrorists who facilitated them were selectively targeted.

DG ISPR had said that 22 air target-based operations were carried out in Kabul, Kandahar, Paktia, Khost, and Paktika. No civilians were killed in these areas in the targeted-based operations; brigade, battalion headquarters, sector headquarters, and weapons depots were targeted.

He said that in the attacks, the cowardly Afghan Taliban fled, leaving their checkpoints and bodies behind. While fighting against the enemy, 12 soldiers have been martyred so far, 27 soldiers were injured in the operation, and one soldier is missing.

The Pakistan Army spokesperson said that the nations of Pakistan are standing in front of the Pakistan Army, behind it, right and left. It should be noted that Pakistan’s Operation Ghazbad-ul-Haqq is ongoing against the unprovoked actions of the Afghan Taliban regime on the Pak-Afghan border. In the attacks of the Pakistani forces, 133 Afghan Taliban operatives were killed, and more than 200 were injured, while 27 Afghan checkpoints were also completely destroyed.

Pakistan Air Force has celebrated the victory day of Operation Swift Retaliation on February 27, 2019. Pakistan has carried out airstrikes on Kabul and Kandahar. The armed forces are determined to give a strong response to the unprovoked aggression. On the other hand, the Pakistan Army is giving a strong and effective response to the unprovoked aggression of the Afghan Taliban. It has captured 5 Afghan posts in the Paktia region and hoisted the Pakistani flag. The captured posts are opposite Doshwaal, opposite Dwangorada, and opposite Zarmalan. During the operation, the Pakistan Army also destroyed the Afghan terminal of Angoor Adda. The Afghan Taliban forces were effectively targeted with artillery and quadcopters, as a result of which they suffered heavy losses. After the operation, the Afghan Taliban also waved the white flag on the posts several times, indicating to surrender. Federal Minister for Information Atta Tarar said that 133 operatives of the Afghan Taliban regime were killed. More than 200 Afghan Taliban regime operatives were injured, and Afghan Taliban defense targets were targeted in Kabul, Paktia, and Kandahar. More Afghan Taliban casualties are likely in Pakistan’s counterattacks. 27 posts of the Afghan Taliban regime were destroyed, 9 posts were captured. 2 corps headquarters, 3 brigade headquarters of the Afghan Taliban regime were destroyed, 2 ammunition depots of the Afghan Taliban regime, and a logistics base were destroyed. 3 battalion headquarters of the Afghan Taliban regime were destroyed in the counterattack. 2 sector headquarters of the Afghan Taliban regime were also destroyed in Pakistan’s counterattack. Atta Tarar said that more than 80 tanks, artillery guns, and APCs of the Afghan Taliban were destroyed. Pakistan’s effective counterattack is underway against the aggression of the Afghan Taliban regime. Security sources said that the Pakistan Air Force is operating in Kandahar. After the airstrike, Pakistani jets patrolling the airspace of Kandahar, the Pakistan Air Force has destroyed the Paktia 205 Corps headquarters. Meanwhile, drone attacks by the Afghan Taliban-backed ‘Fatana al-Khawarij’ have been foiled in the Abbottabad, Swabi, and Nowshera districts of Khyber Pakhtunkhwa. The terrorists tried to launch attacks in these areas using small drones; however, Pakistan’s modern anti-drone defense system took timely action and destroyed all the drones of the Fitna al-Khawarij in the air. There was no loss of life or property in these incidents. These failed attacks have once again exposed the nexus between the current Afghan Taliban government and terrorists operating in Pakistan on a global scale. Sources further say that these cowardly acts from across the border will be responded to with full force. On the other hand, Defense Minister Khawaja Asif has said that our patience has run out, now we have an open war with you, now there will be a full-scale war. The Defense Minister tweeted on the social media platform X that the Pakistani army did not come from across the sea, we are your neighbors, we know your times. It was expected that there would be peace in Afghanistan after the withdrawal of NATO forces. The Taliban government spokesman confirmed the bombing of Kabul, Paktia, and Kandahar. According to Afghan media, an airstrike targeted a Taliban military base in Kabul at around 1:50 am. He added in the tweet that it was expected that the Taliban would focus on the interests of the Afghan people and peace in the region, but the Taliban turned Afghanistan into a colony of India. The Taliban gathered terrorists from all over the world in Afghanistan, and the Taliban started exporting terrorism. The Taliban deprived its people of basic human rights, the Taliban took away the rights that Islam gives to women, Pakistan tried to normalize the situation directly and through friendly countries. Pakistan did a lot of diplomacy, but the Taliban became a proxy for India. The Taliban committed aggression, so thank God our forces are giving a decisive response. Pakistan’s role in the past has been positive; it has hosted 5 million Afghans for 50 years, and even today, millions of Afghans are earning a living on our land. On the other hand, Minister of State for Interior Talal Chaudhry said that even a country seven times bigger than it had to face hardships, it could not raise its head till today; the Afghan Taliban did not have the courage to occupy any post. The Minister of State for Interior said that before Iftar, an attack was attempted on one side of the border, the Pakistan Army retaliated vigorously, and Pakistan did something for its neighbor that it would not have done itself. A major response has been launched against the Afghan Taliban regime.On the other hand, Pakistan Air Force Chief Air Chief Marshal Zaheer Ahmed Babar Sidhu said that Pakistan is a supporter of peace, but there will be no compromise on sovereignty. Addressing a ceremony in Islamabad, the Pakistan Air Force Chief said that Pakistan is a responsible and peace-loving country; however, those who challenge our sovereignty have always misjudged it, to which the Pakistan Air Force has given a befitting reply every time. The enemy had tried to target Pakistan’s security in the dark seven years ago, to which the Pakistan Air Force gave a befitting reply in broad daylight and thwarted the enemy’s intentions. Referring to the “Battle of Truth”, the Pakistan Air Force Chief said that for the first time, the Pakistan Air Force successfully carried out complete multi-domain operations, during which modern enemy aircraft like Rafale, Sukhoi 30, Mirage 2000, and MiG-29 were shot down, and bases and ground assets located far within the enemy’s territory were targeted. The Air Chief revealed that the enemy’s most advanced S-400 air defense system and their command and control centers were also completely disabled in this operation, adding that despite financial pressure, the Pakistan Air Force is moving towards innovation, which includes acquiring unmanned systems, electronic warfare, space, and cyber assets. The establishment of a locally developed ‘multi-domain kill chain’ is a major milestone in the air force’s defense capabilities; on the other hand, the security forces are responding effectively to the enemy’s unprovoked aggression. Pakistan has launched airstrikes on the Afghan cities of Kabul and Kandahar. Fearing airstrikes, the Taliban leadership has started moving into caves. Several Afghan Taliban hideouts have also been destroyed near the Kurram sector. The security forces are responding with full force, which has destroyed the hideouts of the Afghan Taliban, while the Khawarij have fled. Their check post in the Chitral sector was targeted with great precision and destroyed. The Afghan Taliban opened fire at various places on the Pak-Afghan border, in response to which the Pakistani security forces responded vigorously in the Naugai sector of Bajaur, Tirah Khyber, Mohmand district, and Arandu sector of Chitral. Two enemy posts were destroyed in Bajaur. There are confirmed reports of the death of 22 Afghan Taliban regime personnel. An attempt to attack the check posts of the Pakistani forces using a quadcopter was foiled. The Pakistani security forces are continuing to shell with small and large weapons, while drones are also targeting a number of enemy posts. The Afghan Taliban are spreading false claims and fake videos in the media and on social media. Earlier, the Ministry of Information and Broadcasting said in a statement issued on the social media platform X that the Afghan Taliban regime’s unprovoked action has been responded to promptly and effectively. They misjudged and opened fire at several places without provocation. According to the statement, the Afghan Taliban fired at several places across the border in KP. The forces responded befittingly to the unprovoked aggression. A full response has been given in Chitral, Khyber, Mohmand, Kurram, and Bajaur sectors. The Ministry of Information said that according to initial reports, the Afghan Taliban regime has suffered heavy casualties and material losses. Several posts of the Afghan Taliban were destroyed in the retaliatory action of the forces. Pakistan will not compromise on its territorial integrity. Pakistan will take all measures to protect its citizens. The most prominent feature of this operation was speed and accuracy. Mission planning, intelligence coordination, air defense alerts, and decisive action in the air proved that the Pakistan Air Force is not only defensive but also effective. It is a modern air force with a response strategy. International military observers also acknowledged that the response of the Pakistan Air Force was limited, proportionate, and in line with the principles of strategic deterrence. In this operation, the Pakistan Air Force, on the one hand, demonstrated professionalism and, on the other hand, fully adhered to the agreed rules and regulations of war. During the air operation, targets were selected in such a way that the message was conveyed and unnecessary clashes were avoided. This proved that the Pakistan Air Force not only possesses military power but also involves responsibility and wisdom in its use. The training, nerve strength, and decision-making ability of the Pakistan Air Force pilots came to the fore on this occasion. Establishing air superiority in a limited time, forcing the enemy aircraft to retreat, and ensuring complete protection of its airspace, all this was evidence that Pakistan’s air defense line was ready at all times. This operation changed the regional security dynamics and also sent a strong strategic message. South Asia is a sensitive region where even minor military tensions can become a prelude to a major conflict. In such an environment, Operation Swift Retort made it clear that Pakistan’s defense doctrine is not based on aggression but on deterrence. That is, a strong and reliable defense system that prevents the enemy from venturing into adventure. This operation redefined the balance of power in the region. The message was given that Pakistan can not only defend its air borders but is fully capable of responding quickly and effectively to any aggressive action. This strengthened strategic stability and proved that the guarantee of peace is not weakness but a strong defense. We also saw the evolutionary continuation of Operation Swift Retort in Operation Banyan Marsus 2025.If Operation Swift Retort of February 27, 2019, was a milestone, Operation Banyan Marsus of May 2025 can be seen as the next link in this continuum. The period from 2019 to 2025 was a period of technological and ideological evolution for the Pakistan Air Force. The induction of modern fighter aircraft, the growing importance of unmanned aerial vehicles, the upgrading of air defense systems, and the use of precision-guided munitions are proof that Pakistan has adapted its strategy, keeping in mind the changing threats.
Air defense is no longer limited to aircraft alone. It has also included cyber security, space-based surveillance, electronic warfare, and data integration. The coordinated use of all these elements in Operation Banyan Marsus was a sign that the Pakistan Air Force has become a multi-domain operating force.
The Pakistan Air Force has not neglected the most important elements of preparation, training, and readiness at any moment. The success of any air operation depends not only on weapons but also on people. Over the years, the Pakistan Air Force has kept its manpower in tune with modern requirements through training systems, flying hours, simulator-based training, and joint exercises. This is why force readiness emerges as a practical reality at the time of every challenge.
Both Operation Swift Retort and Operation Banyan Marsus testify to the fact that the readiness of the Pakistan Air Force is not just a paper plan but the result of practical exercises and a coherent command structure.