شریف فیملی کا دامن صاف،دختر پاکستان ”قوم کی بیٹی ”مریم نواز پاناما کیس مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے بھی سرخرو ھونگی ،
،اصغرعلی مبارک کا کالم ”اندر کی بات”،
،دختر پاکستان ”قوم کی بیٹی ”مریم نواز 5 جولائی کو جوڈیشل اکیڈمی میں پاناما کیس مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے بھی سرخرو ھونگی ،کیونکہ شریف فیملی کا دامن صاف ھے ،،میں کبهی بھی نہ تو مسلم لیگ نون کا سپورٹر تھا اور نہ کبھی مسلم لیگ کو ووٹ دیا ،قومی اسمبلی کے تین الیکشن میں این اے چوون راولپنڈی کنینٹ سے مسلم لیگی امیدوار کے مقابلے میں الیکشن لڑا .٢٠٠٨،میں ایم ایم اے اور ٢٠١٣ الیکشن مذھبی جماعتوں نے حمایت کی ،نواز شریف کی پالیسیوں سے کبھی اس لئے نہ رھا کیونکہ یہ سب قومی مفادات کے لئے ھیں ،قومی نیوز پپرز میں اپنے”اندر کی بات ” کالموں میں ھمیشہ حکومت کے اچھے کاموں کی حوصلہ افزائی کی ،کبھی بھی یہ خیال نہ آیا تھا کہ ہمارے چند نا عا قبت اندیش حزب مخالف سے تعلق رکھنے والے نام نہاد سیاستدانوں کی وجہ سے قوم کی بیٹیوں ،بہنوں کو اس بے توقیر ،بے عزت کیا جا ے گا ،ان نام نہاد سیاستدانوں کو شائد یاد ھوگا کہ انکی اپنی قائد بھی ایک خاتوں رھی ھیں ،مریم نواز شریف کا قصور صرف خاتون ھونا ،میاں نواز شریف کی بیٹی ھونا اور ملک و قوم کی خاطر دن رات کام کرنا ھے ،اب تو بدترین مخالفوں سےبھی یہ کہتے سنا ھے ”یا الله ،یا رسول شریف فیملی ھے بےقصور ”شازشوں میں گھر گئی ھے ”دختر پاکستان ”قوم کی ھے ایک آواز ”بےقصور ھے میاں نواز ”جے آئ ٹی کے نام پر کچھ نادیدہ قووتیں نواز شریف فمیلی کے خلاف حد سے زیادہ مخالفت کی حدیں پار کر چکے ھیں جنکو یہ باور کرانا ھے کہ ھم سب نے الله کو جان دینی ھے ”اتنا جھوٹ نہ بولیں ”کہ عوام آپکی سچی باتوں پر بھی یقین کرنا چھوڑ دیں ،مریم نواز سے میری ایک ملاقات انکی والدہ محترمہ کی موجودگی میں اس وقت ھوئی جب مشرف حکومت میں ظفر علی شاہ کے گھر پریس بریفنگ تھی اسوقت کوئی نی جانتا تھا کہ شریف فیملی اس آزمایش سے سرخرو هو سکے گی ،اسوقت بھی مریم نواز نے شریف فیملی اور قوم کو یکجا کیا حالانکہ اس وقت مریم نواز کا سیاست سے دور دور تک واسطہ نہ تھا ،مریم نواز کی شادی دوران سٹڈی ھو چکی تھی ، شریف فیملی کی جلا وطنی کے بعد بھی انکا تعلق کار کنوں سے کسی نہ کسی حثیت ضرور رہا، شریف فیملی پر جب بھی کڑا وقت آیا مریم نواز ایک کمک کے طور پر موجود رہی ،مریم نواز کی موجودہ سیاسی سرگرمیوں کو دیکھ کر کوئی نی کہہ سکتا کہ مریم نواز کو وازرت عظمیٰ کیلئے تیار کیا جا رہا ھے ،عالمی سطح مریم نواز دنیا بھر میں پاکستان کی نمایندگی کر چکی ھیں ،جس میں خواتین کی ترقی ،تعلیم کے حوا لے انکا کام بہت سراہا گیا اپریل 2016ء میں، مریم نواز، اس کے بھائی حسن نواز شریف اور حسین نواز شریف کےنام پانامہ دستاویزات میں آئے، تاھم بعدازاں سپریم کورٹ کے فیصلے میں انکا نام شامل نہ تھا اسکے وجہ سے پاناما کیس مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی کی جانب سے وزیر اعظم کی بیٹی مریم نواز کو 5 جولائی کو جوڈیشل اکیڈمی میں طلب کئے جانے کے بعد چہ مگوئیاں شروع ھو چکی ھیں ،’ انکی حمایت میں ’ میری آواز، مریم نواز‘‘ ٹوئٹر پر ٹرینڈ بن چکا ہے ۔ پاناما کیس کی تحقیقات کے لئے بنائی گئی جے آئی ٹی مریم نواز کے علاوہ ان کے بھائی حسن نواز کو تین جولائی، حسین نواز 4جولائی کو طلب کیا گیا ہے اس سے قبل وزیراعظم کے کزن طارق شفیع کو 2 جولائی کو جے آئی ٹی نے طلب کرلیا ہے۔پاناما کیس میں سپریم کورٹ کے حکم پر ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے واجد ضیاء کی سربراہی میں قائم کی جانے والی مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی (جے آئی ٹی ) شریف فیملی کا بیان ریکارڈ کر چکی ھے ۔ اکتوبر 1999 میں ایک فوجی بغاوت میں نواز شریف کو طیارہ سازش کیس میں قید کا بھی سامنا کرنا پڑا، مریم اور ان کی والدہ کلثوم نواز نے کھلے عام مشرف جسے فوجی ڈکٹیٹر کا بھر پور دفاع کیا ،مریم نواز نے انگریزی ادب میں جامعہ پنجاب سے ڈگری لی ہے۔ مریم نے ابتدائی طور پر 2012ء میں خاندان کے لیے کام کا آغاز کیا، مریم نواز کو پاکستان مسلم لیگ نے عام انتخابات 2013ء کے دوران میں ضلع لاہور کی انتخابی مہم کا منتظم مقرر کیا۔ انتخابات کے بعد، مریم کو 22 نومبر 2013ء کو وزیراعظم یوتھ پروگرام کاسربرا ہ مقرر کیا گيا، تاہم عدالت عالیہ لاہور میں اس فیصلے پر درخواست کے بعد مریم نواز نے 13 نومبر 2014ء کو استعفا دے دیا۔مریم نواز شریف ایک ٹیلنٹڈ خاتون ھیں ان کی پیدائش لاہورمیں ہوئی۔ان کے والد، نواز شریف، تین باروزیر اعظم پاکستان کے عھدے پر فائز ہوے ہیں، ان کی والدہ، کلثوم نواز شریف، بھائیوں ، حسین نواز، حسن نواز، اور ایک بہن، عاصمہکو سیاست سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ ان کے دادا، میاں محمد شریف، ایک صنعت کار اور اتفاق گروپ کے بانی تھے، جبکہ پرنانا، گاما پہلوان (پیدائشی نام غلام محمد)، ایک پہلوان تھے۔ ننھیال اور دودھیال دونوں امرتسر سے سے تھے، جو تقسیم ہند کے بعد پاکستان ہجرت کر گئے۔ موجودہ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف، ان کے چچا ہیں اور حمزہ شہباز شریف، رکن قومی اسمبلی پاکستان، چچا زاد۔، تہمینہ درانی، مریو نواز کی خالہ ہیں۔اپریل 2016ء میں، مریم نواز، اس کے بھائی حسن نواز شریف اور حسین نواز شریف کےنام پانامہ دستاویزات میں آئے، تاھم بعدازاں سپریم کورٹ کے فیصلے میں انکا نام شامل نہ تھا اسکے باوجود انکو طلب کرنا سمجھ سے بالاتر ھے ، وائٹ ہاؤس میں دختر اول مریم نواز اپنا عالمی سیاسی کیریئر شروع کیا .جبب مریم نے اوباما کی بیوی مشل کے ہمراہ کھڑے ہو کر بچیوں کی تعلیم پر پہلی مرتبہ تقریر کی۔ اس موقع پرمریم نے بتایا کہ انکا کا محور خواتین کی تعلیم ہے.2013 سےمریم کے سیاسی منظر نامے پر آنے کے بعد قیاس آرئیاں تھیں کہ نواز شریف انہیں پارٹی کی قیادت دینے کیلئے گروم کر رہے ہیں،کیونکہ وزیر اعظم کے دنوں بیٹے سیاست میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ با ظاہر نواز شریف مریم کی اُسی طرح گرومنگ کر رہے ہیں جیسے ذوالفقار بھٹو نے بے نظیر کی کی تھی۔پاکستان کی سیاست کو سامنے رکھا جائے تو مریم کی گرومنگ کوئی اچھنبے کی بات نہیں تھی ۔مسلم لیگ ن کے سربراہ اور وزیراعظم نواز شریف کی بیٹی مریم نوازکچھ عرصہ سے قومی سیاست میں بھر پور ایکٹو سیاست حصہ لے رہی ہیں2008 کے انتخابات میں نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز نے بھی این اے 120 سے کاغذات جمع کرائے تھے تاہم انھوں نے انتخاب نہیں لڑا تھا۔ مسلم لیگ ن کے کارکن مریم نواز کا اسی طرح کا استقبال کرتے ہیں جیسے نواز شریف کا استقبال کرتے ہیں،کارکن امید کر رھے ھیں کہ مریم نواز 5 جولائی کو جوڈیشل اکیڈمی میں پاناما کیس مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے بھی سرخرو ھونگی ،کیونکہ شریف فیملی کا دامن صاف ھے ،




