پاکستان بہترین سفارت کار ، ایران ,امریکہ معاہدے کی امید برقرارPakistan is the best diplomat; Iran and the US hope for an agreement remains (Asghar Ali Mubarak)..
(اصغر علی مبارک )….پاکستان بهترین دیپلمات است، امید ایران و آمریکا برای توافق همچنان پابرجاست (اصغر علی مبارک)….
پاکستان کی حالیہ “برج ڈپلومیسی” نے ایران-امریکہ کشیدگی میں نہایت جامع , کلیدی کرداراداکیا ہے, پاکستان کی برج ڈپلومیسی کا سب سے بڑا چیلنج ایران کی اس شرط کو منوانا ہے کہ مذاکرات سے پہلے امریکی ناکہ بندی ختم کی جائے، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ کا اصرار ہے کہ ناکہ بندی تب ہی ختم ہوگی جب ایران مذاکرات میں “ٹھوس پیش رفت” دکھائے گا۔ یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کی مشترکہ کوششوں نے ملک کو ایک بار پھر عالمی سفارت کاری کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔
پاکستان اس وقت ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک مرکزی ثالث کے طور پر ابھرا ہے سینئر پاکستانی سفارتی تجزیہ کار , صدر ڈپلومیٹک کارسپانڈنٹس فورم آف پاکستان (DCFP) اصغر علی مبارک کے مطابق پاکستان کی “برج ڈپلومیسی” نے غیر جانبدارانہ حیثیت برقرار رکھتے ہوئے فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کلیدی کردار ادا کیا اگرچہ ایران نے ابتدائی طور پر مذاکرات میں شامل ہونے کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا ، لیکن پاکستان کی مسلسل ثالثی , سفارتی مشقوں نے معاہدے کی امید کو برقرار رکھا ہوا ہے,
اس صورتحال کے اہم نکات کو اگر مختصرًا دیکھا جائے تو یہ پاکستان کی بڑی سفارتی جیت محسوس ہوتی ہے:
پاکستان کا مرکزی کردار: پاکستان نے غیر جانبدار رہتے ہوئے تہران اور واشنگٹن کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیابی حاصل کی ہے، جسے عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔
جنگ بندی میں توسیع: 22 اپریل کو ختم ہونے والی دو ہفتوں کی جنگ بندی میں پاکستان کی درخواست پر توسیع، خطے کو ایک بڑی جنگ سے بچانے کی طرف اہم قدم ہے۔
صدر ٹرمپ کا بیان: امریکی صدر کا وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تجاویز کو اہمیت دینا اور ایرانی ناکہ بندی کے خاتمے کی شرط پر مذاکراتی گنجائش پیدا کرنا ایک مثبت پیش رفت ہے۔
معاہدے کی امید: ایران کی معاشی ناکہ بندی اور امرپاکستان بہترین سفارت کار ، ایران ,امریکہ معاہدے کی امید برقرار
(اصغر علی مبارک )….
پاکستان کی حالیہ “برج ڈپلومیسی” نے ایران-امریکہ کشیدگی میں نہایت جامع , کلیدی کرداراداکیا ہے, پاکستان کی برج ڈپلومیسی کا سب سے بڑا چیلنج ایران کی اس شرط کو منوانا ہے کہ مذاکرات سے پہلے امریکی ناکہ بندی ختم کی جائے، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ کا اصرار ہے کہ ناکہ بندی تب ہی ختم ہوگی جب ایران مذاکرات میں “ٹھوس پیش رفت” دکھائے گا۔ یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کی مشترکہ کوششوں نے ملک کو ایک بار پھر عالمی سفارت کاری کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔
پاکستان اس وقت ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک مرکزی ثالث کے طور پر ابھرا ہے سینئر پاکستانی سفارتی تجزیہ کار , صدر ڈپلومیٹک کارسپانڈنٹس فورم آف پاکستان (DCFP) اصغر علی مبارک کے مطابق پاکستان کی “برج ڈپلومیسی” نے غیر جانبدارانہ حیثیت برقرار رکھتے ہوئے فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کلیدی کردار ادا کیا اگرچہ ایران نے ابتدائی طور پر مذاکرات میں شامل ہونے کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا ، لیکن پاکستان کی مسلسل ثالثی , سفارتی مشقوں نے معاہدے کی امید کو برقرار رکھا ہوا ہے,
اس صورتحال کے اہم نکات کو اگر مختصرًا دیکھا جائے تو یہ پاکستان کی بڑی سفارتی جیت محسوس ہوتی ہے:
پاکستان کا مرکزی کردار: پاکستان نے غیر جانبدار رہتے ہوئے تہران اور واشنگٹن کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیابی حاصل کی ہے، جسے عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔
جنگ بندی میں توسیع: 22 اپریل کو ختم ہونے والی دو ہفتوں کی جنگ بندی میں پاکستان کی درخواست پر توسیع، خطے کو ایک بڑی جنگ سے بچانے کی طرف اہم قدم ہے۔
صدر ٹرمپ کا بیان: امریکی صدر کا وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تجاویز کو اہمیت دینا اور ایرانی ناکہ بندی کے خاتمے کی شرط پر مذاکراتی گنجائش پیدا کرنا ایک مثبت پیش رفت ہے۔
معاہدے کی امید: ایران کی معاشی ناکہ بندی اور امریکی “بہترین معاہدے” (Great Deal) کی خواہش کے درمیان پاکستان ایک ایسے پل کا کردار ادا کر رہا ہے جو دونوں فریقین کے لیے قابل قبول حل نکال سکتا ہے۔
دو ہفتے کی جنگ بندی 22 اپریل کو ختم ہو رہی تھی,تعطل کی بڑی وجہ ایران کی وہ پیشگی شرط تھی، جس میں اس نے امریکی پابندیوں کے تحت ایرانی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی کے خاتمے کا مطالبہ کیا تھا پاکستان کی کوششوں سے جنگ بندی میں توسیع ہوئی ہے ، امید ہے دونوں فریق تنازعات کے مستقل خاتمے کے لیے جامع امن ڈیل میں کامیاب ہو جائیں گے۔
پاکستان کی سفارتی کوششوں کے اہم پہلو درج ذیل ہیں:
جنگ بندی میں توسیع:
پاکستان کی درخواست پر امریکہ نے ایران کے ساتھ عارضی جنگ بندی میں توسیع پر رضامندی ظاہر کی ہے, صدر ٹرمپ نے بھی اشارہ دیا ہے کہ وہ ایک “بہترین معاہدے” کی توقع کر رہے ہیں، جو اوباما دور کے معاہدے سے زیادہ جامع ہوگا،
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ پاکستانی قیادت نے ہم سے کہا ہے کہ ایران پر حملہ نہ کریں۔ سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ جنگ بندی میں تب تک توسیع کررہے ہیں جب تک بات چیت کا عمل مکمل نہیں ہوجاتا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ہم سے ایرانی قیادت کی متفقہ تجاویز آنے تک حملے روکنے کا کہا ہے۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میں نے اپنی فوج کو ہدایت دی ہے کہ ناکا بندی جاری رکھے اور ہر لحاظ سے تیار رہے۔وزیر اعظم شہباز شریف کا اپنی اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی طرف سےجنگ بندی میں توسیع کی درخواست قبول کرنے پر صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا ہے۔وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان تنازعات کے مذاکراتی حل کے لیے اپنی بھرپور کوششیں جاری رکھے گا۔ مزید کہا کہ امید ہے دونوں فریق جنگ بندی کی پاسداری جاری رکھیں گے۔ واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ پاکستانی قیادت نے ہم سے کہا ہے کہ ایران پر حملہ نہ کریں۔ سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ جنگ بندی میں تب تک توسیع کررہے ہیں جب تک بات چیت کا عمل مکمل نہیں ہوجاتا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کئی ہفتوں پر محیط جنگ کے خاتمے کے لیے ایک “بہترین معاہدہ” ہونے جا رہا ہے، ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے پاس معاہدہ کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ نے ایران کی بحریہ، فضائیہ اور قیادت کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس کے باعث اب حالات ایران کے لیے پہلے جیسے نہیں رہے۔سینئر تجزیہ کار اصغر علی مبارک کے مطابق پاکستان کی “برج ڈپلومیسی” نے واقعی ایک اہم موڑ پیدا کر دیا ہے۔ اسلام آباد مذاکرات کے اگلے مرحلے سے متعلق تازہ ترین تفصیلات درج ذیل ہیں:
اسلام آباد مذاکرات کا دوسرا مرحلہ اور جے ڈی وینس کا دورہ
دورہ فی الحال ملتوی: تازہ ترین اطلاعات (22 اپریل 2026) کے مطابق، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا پاکستان کا طے شدہ دورہ فی الحال ملتوی (On Hold) کر دیا گیا ہے, وائٹ ہاؤس ایران کی جانب سے ایک “متفقہ تجویز” کا منتظر ہے، جس کے بعد ہی وینس اسلام آباد کے لیے روانہ ہوں گے۔
جنگ بندی میں توسیع: وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست پر صدر ٹرمپ نے جنگ بندی میں اس وقت تک توسیع کر دی ہے جب تک بات چیت کا عمل مکمل نہیں ہو جاتا۔
مذاکرات کا مقام: مذاکرات کا اگلا دور بھی اسلام آباد میں ہی متوقع ہے، پاکستان مسلسل تہران کو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ دوبارہ مذاکرات کی میز پر آئے۔ ایران کی جانب سے مذاکرات میں شامل ہونے کے لیے امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ ایک بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے، تاہم پاکستانی سفارت کار اس تعطل کو ختم کرنے کے لیے متحرک ہیں۔
پاکستان کے اس کردار کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے کیونکہ یہ دہائیوں بعد امریکہ اور ایران کے درمیان بلند ترین سطح کا براہ راست رابطہ ہے۔ اگر ایران آمادہ ہوتا ہے تو جے ڈی وینس کے ساتھ جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف بھی وفد کا حصہ ہوں گے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق، اسلام آباد مذاکرات کے لیے دونوں فریقین نے انتہائی سخت لیکن واضح شرائط سامنے رکھی ہیں۔ پاکستان ان دونوں متضاد موقف کے درمیان “درمیانی راستہ” نکالنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ایران کا 10 نکاتی ایجنڈا (مطالبات)
ایران نے مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے جو نکات پیش کیے ہیں، ان میں سے اہم درج ذیل ہیں:
ناکہ بندی کا خاتمہ: ایرانی بندرگاہوں پر عائد امریکی بحری ناکہ بندی کا فوری خاتمہ۔
پابندیوں کی منسوخی: تمام معاشی اور بینکنگ پابندیوں کا خاتمہ تاکہ ایران تیل فروخت کر سکے۔
سلامتی کی ضمانت: اس بات کی تحریری یقین دہانی کہ امریکہ دوبارہ ایران کی قیادت یا فوجی تنصیبات پر حملہ نہیں کرے گا۔
منجمد اثاثوں کی واپسی: بیرون ملک منجمد ایرانی فنڈز کی فوری واگزاری۔
جوہری حقوق: پرامن مقاصد کے لیے یورینیم کی افزودگی کے حق کو تسلیم کرنا۔
علاقائی سالمیت: امریکی افواج کا خطے سے مرحلہ وار انخلا۔
نقصانات کا ازالہ: حالیہ کشیدگی میں ہونے والے جانی و مالی نقصان کپاکستان بہترین سفارت کار ، ایران ,امریکہ معاہدے کی امید برقرار
(اصغر علی مبارک )….
پاکستان کی حالیہ “برج ڈپلومیسی” نے ایران-امریکہ کشیدگی میں نہایت جامع , کلیدی کرداراداکیا ہے, پاکستان کی برج ڈپلومیسی کا سب سے بڑا چیلنج ایران کی اس شرط کو منوانا ہے کہ مذاکرات سے پہلے امریکی ناکہ بندی ختم کی جائے، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ کا اصرار ہے کہ ناکہ بندی تب ہی ختم ہوگی جب ایران مذاکرات میں “ٹھوس پیش رفت” دکھائے گا۔ یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کی مشترکہ کوششوں نے ملک کو ایک بار پھر عالمی سفارت کاری کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔
پاکستان اس وقت ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک مرکزی ثالث کے طور پر ابھرا ہے سینئر پاکستانی سفارتی تجزیہ کار , صدر ڈپلومیٹک کارسپانڈنٹس فورم آف پاکستان (DCFP) اصغر علی مبارک کے مطابق پاکستان کی “برج ڈپلومیسی” نے غیر جانبدارانہ حیثیت برقرار رکھتے ہوئے فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کلیدی کردار ادا کیا اگرچہ ایران نے ابتدائی طور پر مذاکرات میں شامل ہونے کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا ، لیکن پاکستان کی مسلسل ثالثی , سفارتی مشقوں نے معاہدے کی امید کو برقرار رکھا ہوا ہے,
اس صورتحال کے اہم نکات کو اگر مختصرًا دیکھا جائے تو یہ پاکستان کی بڑی سفارتی جیت محسوس ہوتی ہے:
پاکستان کا مرکزی کردار: پاکستان نے غیر جانبدار رہتے ہوئے تہران اور واشنگٹن کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیابی حاصل کی ہے، جسے عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔
جنگ بندی میں توسیع: 22 اپریل کو ختم ہونے والی دو ہفتوں کی جنگ بندی میں پاکستان کی درخواست پر توسیع، خطے کو ایک بڑی جنگ سے بچانے کی طرف اہم قدم ہے۔
صدر ٹرمپ کا بیان: امریکی صدر کا وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تجاویز کو اہمیت دینا اور ایرانی ناکہ بندی کے خاتمے کی شرط پر مذاکراتی گنجائش پیدا کرنا ایک مثبت پیش رفت ہے۔
معاہدے کی امید: ایران کی معاشی ناکہ بندی اور امریکی “بہترین معاہدے” (Great Deal) کی خواہش کے درمیان پاکستان ایک ایسے پل کا کردار ادا کر رہا ہے جو دونوں فریقین کے لیے قابل قبول حل نکال سکتا ہے۔
دو ہفتے کی جنگ بندی 22 اپریل کو ختم ہو رہی تھی,تعطل کی بڑی وجہ ایران کی وہ پیشگی شرط تھی، جس میں اس نے امریکی پابندیوں کے تحت ایرانی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی کے خاتمے کا مطالبہ کیا تھا پاکستان کی کوششوں سے جنگ بندی میں توسیع ہوئی ہے ، امید ہے دونوں فریق تنازعات کے مستقل خاتمے کے لیے جامع امن ڈیل میں کامیاب ہو جائیں گے۔
پاکستان کی سفارتی کوششوں کے اہم پہلو درج ذیل ہیں:
جنگ بندی میں توسیع:
پاکستان کی درخواست پر امریکہ نے ایران کے ساتھ عارضی جنگ بندی میں توسیع پر رضامندی ظاہر کی ہے, صدر ٹرمپ نے بھی اشارہ دیا ہے کہ وہ ایک “بہترین معاہدے” کی توقع کر رہے ہیں، جو اوباما دور کے معاہدے سے زیادہ جامع ہوگا،
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ پاکستانی قیادت نے ہم سے کہا ہے کہ ایران پر حملہ نہ کریں۔ سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ جنگ بندی میں تب تک توسیع کررہے ہیں جب تک بات چیت کا عمل مکمل نہیں ہوجاتا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ہم سے ایرانی قیادت کی متفقہ تجاویز آنے تک حملے روکنے کا کہا ہے۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میں نے اپنی فوج کو ہدایت دی ہے کہ ناکا بندی جاری رکھے اور ہر لحاظ سے تیار رہے۔وزیر اعظم شہباز شریف کا اپنی اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی طرف سےجنگ بندی میں توسیع کی درخواست قبول کرنے پر صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا ہے۔وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان تنازعات کے مذاکراتی حل کے لیے اپنی بھرپور کوششیں جاری رکھے گا۔ مزید کہا کہ امید ہے دونوں فریق جنگ بندی کی پاسداری جاری رکھیں گے۔ واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ پاکستانی قیادت نے ہم سے کہا ہے کہ ایران پر حملہ نہ کریں۔ سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ جنگ بندی میں تب تک توسیع کررہے ہیں جب تک بات چیت کا عمل مکمل نہیں ہوجاتا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کئی ہفتوں پر محیط جنگ کے خاتمے کے لیے ایک “بہترین معاہدہ” ہونے جا رہا ہے، ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے پاس معاہدہ کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ نے ایران کی بحریہ، فضائیہ اور قیادت کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس کے باعث اب حالات ایران کے لیے پہلے جیسے نہیں رہے۔سینئر تجزیہ کار اصغر علی مبارک خیال میں امریکہ اور ایران دونوں میں اب دوبارہ جنگ شروع کرنے کی طرف مائل نظر نہیں آتے۔ ’دوبارہ جنگ شروع ہونے کے امکانات 99 فیصد ختم ہو چکے ہیں۔ دونوں اطراف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی طلب بالکل نظر نہیں آتی۔ پاکستان کی “برج ڈپلومیسی” نے واقعی ایک اہم موڑ پیدا کر دیا ہے۔ اسلام آباد مذاکرات کے اگلے مرحلے سے متعلق تازہ ترین تفصیلات درج ذیل ہیں:
اسلام آباد مذاکرات کا دوسرا مرحلہ اور جے ڈی وینس کا دورہ
دورہ فی الحال ملتوی: تازہ ترین اطلاعات (22 اپریل 2026) کے مطابق، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا پاکستان کا طے شدہ دورہ فی الحال ملتوی (On Hold) کر دیا گیا ہے, وائٹ ہاؤس ایران کی جانب سے ایک “متفقہ تجویز” کا منتظر ہے، جس کے بعد ہی وینس اسلام آباد کے لیے روانہ ہوں گے۔
جنگ بندی میں توسیع: وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست پر صدر ٹرمپ نے جنگ بندی میں اس وقت تک توسیع کر دی ہے جب تک بات چیت کا عمل مکمل نہیں ہو جاتا۔
مذاکرات کا مقام: مذاکرات کا اگلا دور بھی اسلام آباد میں ہی متوقع ہے، پاکستان مسلسل تہران کو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ دوبارہ مذاکرات کی میز پر آئے۔ ایران کی جانب سے مذاکرات میں شامل ہونے کے لیے امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ ایک بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے، تاہم پاکستانی سفارت کار اس تعطل کو ختم کرنے کے لیے متحرک ہیں۔
پاکستان کے اس کردار کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے کیونکہ یہ دہائیوں بعد امریکہ اور ایران کے درمیان بلند ترین سطح کا براہ راست رابطہ ہے۔ اگر ایران آمادہ ہوتا ہے تو جے ڈی وینس کے ساتھ جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف بھی وفد کا حصہ ہوں گے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق، اسلام آباد مذاکرات کے لیے دونوں فریقین نے انتہائی سخت لیکن واضح شرائط سامنے رکھی ہیں۔ پاکستان ان دونوں متضاد موقف کے درمیان “درمیانی راستہ” نکالنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ایران کا 10 نکاتی ایجنڈا (مطالبات)
ایران نے مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے جو نکات پیش کیے ہیں، ان میں سے اہم درج ذیل ہیں:
ناکہ بندی کا خاتمہ: ایرانی بندرگاہوں پر عائد امریکی بحری ناکہ بندی کا فوری خاتمہ۔
پابندیوں کی منسوخی: تمام معاشی اور بینکنگ پابندیوں کا خاتمہ تاکہ ایران تیل فروخت کر سکے۔
سلامتی کی ضمانت: اس بات کی تحریری یقین دہانی کہ امریکہ دوبارہ ایران کی قیادت یا فوجی تنصیبات پر حملہ نہیں کرے گا۔
منجمد اثاثوں کی واپسی: بیرون ملک منجمد ایرانی فنڈز کی فوری واگزاری۔
جوہری حقوق: پرامن مقاصد کے لیے یورینیم کی افزودگی کے حق کو تسلیم کرنا۔
علاقائی سالمیت: امریکی افواج کا خطے سے مرحلہ وار انخلا۔
نقصانات کا ازالہ: حالیہ کشیدگی میں ہونے والے جانی و مالی نقصان کا معاوضہ۔
سفارتی وقار: ایران کے خلاف “رجیم چینج” کی پالیسی کا باضابطہ خاتمہ۔
پائیدار معاہدہ: کسی بھی معاہدے کو امریکی کانگریس سے منظور کرایا جائے تاکہ اگلی حکومت اسے ختم نہ کر سکے۔
دفاعی خودمختاری: اپنے میزائل پروگرام کو دفاعی حد تک برقرار رکھنے کی آزادی۔
امریکی شرائط (صدر ٹرمپ کا موقف)
صدر ٹرمپ ایک ایسے “بہترین معاہدے” (Great Deal) کے خواہاں ہیں جو ان کے بقول اوباما دور کے معاہدے سے زیادہ سخت ہو:
جوہری پروگرام کی مکمل بندش: ایران مستقل طور پر یورینیم افزودگی بند کرے اور اپنے سینٹری فیوجز کو ختم کرے۔
میزائل پروگرام پر پابندی: بیلسٹک میزائلوں کی تیاری اور تجربات پر مکمل پابندی۔
علاقائی مداخلت کا خاتمہ: یمن، لبنان، شام اور عراق میں ایرانی اثر و رسوخ اور پراکسیز کی حمایت کا خاتمہ۔
دیرپا انسپکشن: IAEA کے انسپکٹرز کو کسی بھی وقت، کسی بھی جگہ (فوجی تنصیبات سمیت) تلاشی کی اجازت۔
نئی ڈیل کی مدت: یہ معاہدہ “غروب آفتاب” (Sunset clauses) کی شرائط کے بغیر مستقل ہونا چاہیے۔
قیدیوں کی رہائی: ایران میں قید تمام امریکی اور دوہری شہریت والے شہریوں کی فوری واپسی۔
اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر نے کہا ہے کہ امریکا اگر ناکہ بندی ختم کر دے اور جنگ بندی کی خلاف ورزی روک دے تو ایران مذاکرات کے اگلے مرحلے کے لیے تیار ہے، جو ممکنہ طور پر اسلام آباد میں منعقد ہوسکتا ہے۔ اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید ایروانی نے ایرانی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ کسی بھی نئے مذاکراتی دور سے قبل امریکا کو جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزی روکنا ہوگی۔ انہوں نے ایرانی اخبار شرق سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جیسے ہی امریکا ناکہ بندی ختم کرے گا، مذاکرات کا اگلا دور اسلام آباد میں منعقد کیا جائے گا۔ ایران ہر ممکن صورتحال کے لیے تیار ہے۔ مزید کہا کہ ایران نے کسی فوجی جارحیت کا آغاز نہیں کیا، اگر امریکا سیاسی حل چاہتا ہے تو ایران اس کے لیے تیار ہے، تاہم اگر جنگ مسلط کی گئی تو ایران اس کے لیے بھی تیار ہے۔ برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی طرف سے ایران پر 2015 کے عالمی جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگایا، جس کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا تھا۔ ایران نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔ مشیر سپیکر ایرانی پارلیمنٹ مہدی محمدی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جنگ بندی میں توسیع کے اعلان کو مسترد کردیا۔ مشیر سپیکر ایرانی پارلیمنٹ مہدی محمدی نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں کہا کہ اس اعلان کی کوئی اہمیت نہیں اور ہارنے والا فریق شرائط کا حکم نہیں دے سکتا۔ مشیر نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ایران کے خلاف جاری ناکہ بندی دراصل بمباری کے مترادف ہے اور اس کا جواب فوجی کارروائی کی صورت میں دیا جانا چاہیے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کی درخواست پر ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کرنے کا اعلان کیا ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رکھے گا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا: ’اس حقیقت کی بنیاد پر کہ حکومتِ ایران شدید طور پر منقسم ہے، جو کہ غیر متوقع نہیں،اور پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ہم سے ایران پر اس وقت تک حملے روکنے کی درخواست کی ہے کہ جب تک کہ وہاں کے رہنما اور نمائندگان ایک متفقہ تجویز پیش نہ کر دیں۔‘ ’چنانچہ میں نے اپنی فوج کو ہدایت دی ہے کہ ناکہ بندی جاری رکھی جائےاس سے پہلے21 اپريل 2026 اسلام آباد میں ایرانی وفد کے ساتھ 21 گھنٹے کی طویل بات چیت کے اختتام پر امریکی نائب صدر جی ڈی وینس نے کہا تھا کہ ’اچھی خبر یہ ہے کہ ہماری اور ایرانی سفارتکاروں کی براہ راست بات چیت ممکن ہوئی ہے۔‘ لیکن پھر جے ڈی وینس نے وہ ’بری خبر‘ دی جس پر انھوں نے اپنا اسلام آباد کا دورہ ختم کیا۔ ’ہمارا ایرانیوں کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہو پایا۔۔۔انھوں نے ہماری پیشکش قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔۔۔ہم بغیر ڈیل کے واپس جا رہے ہیں۔‘ رواں ماہ کی 11 تاریخ کو شروع ہو کر 12 کی صبح ختم ہونے والے اسلام آباد مذاکرات کے بعد امریکی اور ایرانی وفود نے اسلام آباد میں ’مذاکرات کی فضا‘ کو حوصلہ افزا تو قرار دیا لیکن مذاکرات کی ناکامی کے لیے ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرایا۔ جے ڈی وینس کے مطابق ایران جوہری افزودگی کو لمبے عرصے تک ترک کرنے کی امریکی شرط سے متفق نہیں تھا جبکہ تہران نے کہا کہ ’امریکی وفد نے غیرمعقول یا نا مناسب مطالبات سامنے رکھے۔‘ تہران نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ دونوں فریقین کسی معاہدے کے قریب تھے جب ’امریکی وفد نے اس عمل کو سبوتاژ کیا۔‘ جے ڈی وینس کی اسلام آباد میں الوداعی بریفنگ کے ’بری خبر‘ والے حصے کو لے کر ایک عمومی تاثر یہ سامنے آیا کہ شاید دونوں کا مذاکرات کی میز پر دوبارہ واپس آنا مشکل ہوگا۔ تاہم امریکہ ایران مذاکرات کے میزبان پاکستان نے جے ڈی وینس کے ’اچھی خبر‘ والے حصے پر توجہ مرکوز کی اور پاکستانی حکام کے بیانات نے فوری طور پر اس کے لیے راہ ہموار کرنا شروع کی۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ نے اس بیانے کی حوصلہ افزائی کرنا شروع کہ ’مذاکرات اگر کامیاب نہیں ہوئے تو ناکام بھی نہیں ہوئے۔
پھر واشنگٹن اور تہران دونوں کی طرف سے ایک ممکنہ دوسرے راؤنڈ کے حوالے سے مثبت اشارے ملتے ہی پاکستان کی اعلیٰ قیادت خود حرکت میں آئی۔پاکستان کے ذریعے ایران اور امریکہ کے درمیان پیغامات کا تبادلہ ہوا۔ ایرانی حکام نے اس کی تصدیق کی۔ اس کے بعد پاکستانی فوجی اور سویلین قیادت لگ بھگ ایک ہی وقت میں ایران اور مشرق وسطیٰ کے دوروں پر روانہ ہوئی۔ پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کا جہاز گزشتہ ہفتے بدھ کے روز تہران میں اترا۔ دوسری طرف پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اسی روز سعودی عرب، قطر اور ترکی کے دوروں پر روانہ ہو گئے۔ ادھر امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ خود یہ بتاتے سنائی دیے کہ پاکستان کی مدد سے ایران کے ساتھ مذاکرات کا دوسرا دور ہونے کے امکانات ہیں اور اگر ایسا ہوتا ہے تو امریکہ ان مذاکرات کی میزبانی کے لیے پاکستان ہی کا انتخاب کرے گا۔ پاکستانی قیادت کا ایران اور مشرق وسطیٰ میں قیام جاری تھا کہ اس کے دوران خطے میں جنگ سے جڑی اہم پیش رفت سامنے آئی۔‘اسرائیل اور لبنان براہ راست مذاکرات کے دوران دس روزہ جنگ بندی پر راضی ہو گئے۔ ’لبنان میں جنگ بندی‘ ایران اور امریکہ مذاکرات کے پہلے دور کے شروع ہونے سے پہلے ایران کی طرف سے دو دیرینہ مطالبات میں سے ایک کے طور پر سامنے آیا تھا۔ پھر جمعے کے روز ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس پر پیغام میں اعلان کیا کہ ایران نے آبنائے ہرمز ہر قسم کے جہازوں کے لیے کھول دی ہے۔ یہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دیرینہ مطالبہ تھا۔ خیال رہے کہ پاکستان آرمی چیف اس وقت ایران ہی میں موجود تھے۔ اس وقت تک ان کی ایرانی وزیر خارجہ عراقچی اور مذاکرات کے پہلے دور میں ایرانی وفد کی قیادت کرنے والے ایرانی پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف سے ملاقاتیں ہو چکی تھیں اور وہ پاسداران انقلاب کے ہیڈ کوارٹر کا دورہ بھی کر چکے تھے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوری طور پر ٹروتھ سوشل پر اپنے پیغام میں ’ایران کا شکریہ‘ ادا کیا۔ انھوں نے ایک الگ پیغام میں پاکستان، پاکستان کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کا بھی شکریہ ادا کیا کہ ’وہ بہت بہترین کام کر رہے ہیں۔‘ان دونوں معاملات پر پات چیت کا آغاز تو پہلے ہو چکا تھا تاہم ان کو حاصل کرنے کی طرف تحریک پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایران میں موجودگی اور وہاں ان کی سرگرمی کی وجہ سے ملی۔آبنائے ہرمز کے کھولنے کے اعلان نے بنیادی طور پر مزاکرات کے دوسرے دور کے لیے راہ ہموار کی۔ یہ پہلے سے پائپ لائن میں تھے لیکن پاکستانی آرمی چیف کے دورہ ایران نے ان معاملات کو مزید تیز کیا۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران نے ان کے لگ بھگ تمام مطالبات تسلیم کر لیے ہیں اور اب ان کے درمیان ڈیل نہ ہونے کی زیادہ تر وجوہات ختم ہو گئی ہیں۔ تاہم ایران نے اس کی تصدیق نہیں کی۔ ایران میں سخت موقف رکھنے والے حلقے نے ان بیانات کو تنقید کا نشانہ بھی بنایاایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف نے ایران کے پریس ٹی وی سے ایک حالیہ گفتگو کے دوران بتایا کہ اسلام آباد میں امریکہ کے ساتھ ان کے مذاکرات کے دوران انھوں نے امریکی وفد کو یہ واضح طور پر بتا دیا تھا کہ مائنز تباہ کرنے والے امریکی جہاز کی آبنائے ہرمز کے قریب موجودگی کو وہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی تصور کرتے ہیں۔’ہم نے انھیں بتایا کہ اگر آپ کا مائن سویپر جہاز ذرا سا بھی آگے بڑھا تو ہم ضرور اس کو نشانہ بنائیں گے۔‘قالیباف نے بتایا کہ اس کے بعد امریکی وفد نے 15 منٹ کا وقت مانگا کہ وہ جہاز کو پیچھے ہٹنے کے احکامات دلوا رہے ہیں۔پریس ٹی وی پر گفتگو کے دوران بتایا کہ اسلام آباد میں مذاکرات کے پہلے دور میں ایران اور امریکہ کے درمیان موجود عدم اعتماد ختم نہیں ہوا تاہم دونوں کو ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع ملا۔ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے اس دور میں دو بنیادی نکات پر ایرانی اور امریکی وفود کے درمیان اختلافات ہوئے وہ ’آبنائے ہرمز کی بندش اور ایران کے جوہری توانائی کے عزائم کو لے کر ہوئے۔جنگ بندی کے معاہدے اور مذاکرات کے آغاز کے لیے یہ طے کیا گیا تھا کہ لبنان میں جنگ بندی اس معاہدے کا حصہ ہو گی,ایران کے وزیر خارجہ کے آبنائے ہرمز کھولنے کے بیان کے چند ہی منٹ بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کے جواب میں ایران کا شکریہ ادا کیا۔ تاہم ٹرمپ کے ایک ذیلی بیان نے حالات کا رخ ایک مرتبہ پھر موڑ دیا۔انھوں نے کہا کہ امریکہ کی طرف سے ایرانی پورٹس کی بندش اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ایران کے ساتھ صد فیصد معاملات طے نہیں پا جاتے۔اس پر ایران کی بحریہ نے اعلان کیا کہ انھوں نے آبنائے ہرمز ایک مرتبہ پھر بند کر دی ہے ’کیونکہ امریکہ کی طرف سے معاہدے کا پاس نہ کرتے ہوئے ایران پورٹس کی ناکہ بندی جاری ہے۔ دوسرے ہی روز صدر ٹرمپ نے ایک اعلان میں بتایا کہ امریکی نیوی نے آبنائے ہرمز سے گزر کر امریکی ناکہ بندی کی کوشش کرنے والے ایک ایرانی پرچم والے ٹینکر نشانہ بنانے کے بعد قبضے میں لے لیا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق ’اس ٹینکر کو رکنے کا کافی موقع دیا گیا تاہم اس نے ان وارننگز پر دھیان نہیں دیا جس کے بعد امریکی میرینز نے اس ٹینکر کے انجن والے کمرے کو متعدد بار نشانہ بنا کر اسے اسی مقام پر روک دیا اور بعد میں اس پر سوار ہو کر اسے قبضے میں لے لیا ہے۔ ایران نے کہا ہے وہ اس امریکی کارروائی کا جواب دے گا۔ ساتھ ہی ایران کی طرف سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ جب تک امریکی کی طرف سے اس کی بحری ناکہ بندی جاری رہے گی وہ مذاکرات کے دوسرے دور میں حصہ نہیں لے گا۔دوسری جانب پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف مشرق وسطیٰ کے دورے پر پہلے سعودی عرب، وہاں سے قطر اور آخر میں ترکی میں اناطالیہ پہنچے تھے ان دوروں میں انھوں نے ان تین ممالک کی اعلی قیادت سے ملاقات کی شہباز شریف کے ان دوروں کے دو مقاصد تھے ۔ ایک تو وہ چاہتے ہیں کہ جب ایران اور امریکہ کے درمیان کوئی معاہدہ اسلام آباد میں طے پا رہا ہو اس وقت ان ممالک کی نمائندگی وہاں موجود ہو۔اس عمل کے جتنے ریجنل شراکت دار ہوں اتنا اچھا ہے کیونکہ جب یہ تمام شراکت دار اس کی ذمہ داری لیں گے تو کل کو اگر کچھ غلط ہوتا ہے تو اکیلا پاکستان ہی مشکل میں نہیں ہوگا,پاکستانی وزیراعظم کے ان ممالک کے اس موقعے پر دورے سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں ایک نیا اتحاد سامنے آ رہا ہے۔ جنگ کے بعد خطے میں امریکی اتحاد کے خدوخال بدلیں گے اور ان میں پاکستان کے کردار میں اضافہ ہو گا,امریکا کی ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کے بعد آج دنیا بھر میں سونے کی قیمتوں میں اضافہ اور تیل کی قیمتوں میں کمی ہوئی, رپورٹ کے مطابق تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث مہنگائی میں ممکنہ اضافے اور طویل عرصے تک بلند شرحِ سود کے خدشات کم ہو گئے۔ اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.9 فیصد اضافے کے ساتھ 4 ہزار 755 ڈالرز فی اونس تک پہنچ گئی، جبکہ گزشتہ روز یہ 13 اپریل کے بعد اپنی کم ترین سطح پر آ گئی تھی۔ اسی طرح جون کے لیے امریکی گولڈ فیوچرز 1.1 فیصد اضافے کے ساتھ 4 ہزار 772 عشاریہ 90 ڈالرز تک پہنچ گئے۔ دیگر قیمتی دھاتوں میں اسپاٹ چاندی کی قیمت 1.5 فیصد اضافے کے ساتھ 77.84 ڈالرز فی اونس، پلاٹینئم 1.5 فیصد اضافے کے ساتھ 2,067.25 ڈالرز اور پیلیڈیم 1.8 فیصد اضافے کے ساتھ 1,560.31 ڈالرز تک پہنچ گیا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی کے اختتام سے چند گھنٹے قبل اعلان کیا کہ امریکا ایران کے ساتھ جنگ بندی کو غیر معینہ مدت تک بڑھا رہا ہے تاکہ مزید امن مذاکرات کی گنجائش پیدا کی جا سکے۔ واضح رہے کہ 2 ہفتے قبل شروع ہونے والی جنگ بندی میں حالیہ توسیع سے متعلق ٹرمپ کا یہ اعلان بظاہر یک طرفہ تھا اور فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا ایران یا امریکا کے اتحادی اسرائیل بھی اس توسیع پر متفق ہوں گے یا نہیں۔Pakistan is the best diplomat; Iran and the US hope for an agreement remains (Asghar Ali Mubarak)…
Pakistan’s recent “bridge diplomacy” has played a key, comprehensive role in easing Iran-US tensions. The biggest challenge of Pakistan’s bridge diplomacy is accepting Iran’s condition that the US blockade be lifted before negotiations, while the Trump administration insists the blockade will be lifted only when Iran shows “concrete progress” in the negotiations. This progress shows that the joint efforts of Pakistan’s military and political leadership have once again brought the country to the center of global diplomacy.
According to Asghar Ali Mubarak, senior diplomatic analyst and president of the Diplomatic Correspondents Forum of Pakistan (DCFP), Pakistan’s bridge diplomacy is key in de-escalating Iran-US tensions. Pakistan’s efforts have brought both parties to the negotiating table, maintaining neutrality and persistence to keep hope for an agreement alive.
If we look briefly at the key points of this situation, it feels like a major diplomatic victory for Pakistan:
Pakistan’s central role: Pakistan has succeeded in bringing Tehran and Washington to the negotiating table while remaining neutral, which is being recognized globally.
Extension of ceasefire: The extension of the two-week ceasefire, which ended on April 22, at Pakistan’s request, is a major step towards saving the region from a major war.
President Trump’s statement: The US President’s giving importance to the proposals of Prime Minister Shahbaz Sharif and Field Marshal Asim Munir and creating a space for negotiations on the condition of lifting the Iranian blockade is a positive development.
Hope for a deal: Between Iran’s economic blockade and the US desire for a “Great Deal”, Pakistan is playing the role of a bridge that can find a solution acceptable to both sides.
The two-week ceasefire was due to expire on April 22. The main reason for the impasse was Iran’s precondition, demanding the lifting of the blockade imposed on Iranian ports. Due to Pakistan’s efforts, the ceasefire has been extended. It is hoped that both sides will succeed in a comprehensive peace deal to permanently end the conflict.
The key aspects of Pakistan’s diplomatic efforts are as follows:
Extension of ceasefire:
At Pakistan’s request, the US has agreed to extend a temporary ceasefire with Iran. President Trump has also indicated that he is expecting a “great deal”, which will be more comprehensive than the Obama-era agreement.
US President Donald Trump says that the Pakistani leadership has told us not to attack Iran. In a statement released on the social networking platform X, Trump said that he is extending the ceasefire until the negotiations are completed. He said that Prime Minister Shahbaz Sharif and Field Marshal Asim Munir have asked us to stop the attacks until the Iranian leadership comes up with agreed proposals. Trump said that I have instructed my army to continue the blockade and be ready in every way. Prime Minister Shahbaz Sharif thanked President Trump for accepting his and Field Marshal Asim Munir’s request to extend the ceasefire. Prime Minister Shahbaz Sharif said that Pakistan will continue its full efforts for a negotiated solution to the conflict. He added that he hopes both sides will continue to abide by the ceasefire. It should be noted that US President Donald Trump says that the Pakistani leadership has asked us not to attack Iran. In a statement released on the social networking platform X, Trump said that he is extending the ceasefire until the negotiations are completed. US President Donald Trump has said he is confident that a “great deal” is being done to end the weeks-long war between the US and Iran. Trump said Iran has no choice but to make a deal. He said the US has severely damaged Iran’s navy, air force, and leadership, which has made things worse for Iran. Senior analyst Asghar Ali Mubarak believes that both the US and Iran are no longer inclined to start a war again. ‘The chances of a war starting again are 99% gone. There is absolutely no demand from either side to start a war again. Pakistan’s “bridge diplomacy” has indeed created a turning point. The latest details regarding the next phase of the Islamabad talks are as follows:
Second phase of Islamabad talks and JD Vance’s visit
Visit currently postponed: According to the latest reports (April 22, 2026), US Vice President JD Vance’s scheduled visit to Pakistan has been postponed (On Hold), with the White House awaiting a “mutual proposal” from Iran, after which Vance will leave for Islamabad.
Ceasefire extension: At the request of Prime Minister Shehbaz Sharif and Field Marshal Asim Munir, President Trump has extended the ceasefire until the talks are completed.
Venue: The next round of talks is expected to be held in Islamabad, with Pakistan continuously trying to persuade Tehran to return to the negotiating table. Iran’s demand for the lifting of the US naval blockade has been a major obstacle to joining the talks, but Pakistani diplomats are working to break the deadlock.
Pakistan’s role is being appreciated globally as it is the highest-level direct contact between the US and Iran in decades. If Iran is willing, Jared Kushner and Steve Witkoff will also be part of the delegation along with JD Vance.
According to diplomatic sources, both sides have put forward very strict but clear conditions for the Islamabad talks. Pakistan is trying to find a “middle ground” between these two conflicting positions.
Iran’s 10-point agenda (demands)
Among the main points that Iran has put forward to come to the negotiating table are the following:
End of the blockade: Immediate end of the US naval blockade of Iranian ports.
Relief of sanctions: End of all economic and banking sanctions so that Iran can sell oil.
Security guarantees: Written assurances that the US will not attack Iran’s leadership or military facilities again.
Return of frozen assets: Immediate release of Iranian funds frozen abroad.
Nuclear rights: Recognition of the right to enrich uranium for peaceful purposes.
Territorial integrity: Phased withdrawal of US forces from the region.
Reparations: Compensation for the loss of life and property caused by the recent tensions.
Diplomatic prestige: Formal end to the “regime change” policy against Iran.
Durable agreement: Any agreement must be approved by the US Congress so that the next administration cannot terminate it.
Defense autonomy: The freedom to maintain its missile program to a defensive level.
US conditions (President Trump’s position)
President Trump wants a “Great Deal” that he says is tougher than the Obama-era deal:
Complete nuclear shutdown: Iran must permanently halt uranium enrichment and dismantle its centrifuges.
Ban on missile program: A complete ban on the development and testing of ballistic missiles.
End of regional interference: End of Iranian influence and support for proxies in Yemen, Lebanon, Syria, and Iraq.
Enduring inspections: Allow IAEA inspectors to inspect at any time, anywhere (including military facilities).
Duration of the new deal: The deal should be permanent, with no “sunset clauses.”
Prisoner release: Immediate return of all U.S. and dual-national citizens imprisoned in Iran.
Iran’s ambassador to the United Nations has said that if the US lifts the blockade and stops violating the ceasefire, Iran is ready for the next round of talks, which could possibly be held in Islamabad. Iran’s ambassador to the United Nations, Amir Saeed Iravani, said in an interview with Iranian media that the US must stop the alleged violation of the ceasefire before any new round of talks can begin. Speaking to the Iranian newspaper Sharq, he said that as soon as the US lifts the blockade, the next round of talks will be held in Islamabad. Iran is ready for any possible situation. He added that Iran has not launched any military aggression, and if the US wants a political solution, Iran is ready for it, but if war is imposed, Iran is also ready for it. Britain, France, and Germany have accused Iran of violating the 2015 international nuclear deal, which was intended to prevent Iran from developing nuclear weapons. Iran has rejected these allegations. Advisor to the Speaker of the Iranian Parliament, Mehdi Mohammadi, rejected US President Donald Trump’s announcement of an extension of the ceasefire. Advisor to the Speaker of the Iranian Parliament, Mehdi Mohammadi, said in a message on social media that this announcement has no significance and the losing party cannot dictate the terms. The advisor added in his statement that the ongoing blockade against Iran is actually tantamount to bombing and should be responded to in the form of military action. US President Donald Trump has announced an extension of the ceasefire with Iran at the request of Pakistan; however, he says that the US will continue to blockade Iranian ports. He wrote on the social media platform Truth Social: ‘Based on the fact that the Iranian government is deeply divided, which is not unexpected, and Pakistan’s Field Marshal Asim Munir and Prime Minister Shahbaz Sharif have requested us to stop attacking Iran until the leaders and representatives there present a unanimous proposal. “Therefore, I have instructed my army to continue the blockade.” Earlier, on April 21, 2026, at the end of 21 hours of long talks with the Iranian delegation in Islamabad, US Vice President JD Vance had said, “The good news is that direct talks between Iranian diplomats and us have become possible.” But then JD Vance gave the “bad news” on which he ended his visit to Islamabad. ‘We have not reached an agreement with the Iranians…they have refused to accept our offer…we are going back without a deal.’ After the Islamabad talks, which began on the 11th of this month and ended on the morning of the 12th, the US and Iranian delegations described the ‘negotiating atmosphere’ in Islamabad as encouraging but blamed each other for the failure of the talks. According to JD Vance, Iran did not agree to the US condition of giving up nuclear enrichment for a long time, while Tehran said that ‘the US delegation put forward unreasonable or inappropriate demands.’ Tehran also alleged that the two sides were close to an agreement when ‘the US delegation sabotaged the process.’ The general impression that emerged from the ‘bad news’ part of JD Vance’s farewell briefing in Islamabad that it might be difficult for the two to return to the negotiating table again. However, Pakistan, the host of the US-Iran talks, focused on the ‘good news’ part of JD Vance, and statements by Pakistani officials immediately paved the way for this. Pakistani media outlets began to encourage the narrative that ‘the talks, if not successful, did not fail either.’ Then, as soon as positive signals were received from both Washington and Tehran regarding a possible second round, Pakistan’s top leadership took action. Messages were exchanged between Iran and the US through Pakistan. Iranian officials confirmed this. After that, the Pakistani military and civilian leadership left for Iran and the Middle East on tours at almost the same time. Pakistan’s Army Chief Field Marshal Asim Munir’s plane landed in Tehran on Wednesday last week. On the other hand, Pakistani Prime Minister Shehbaz Sharif left for tours to Saudi Arabia, Qatar, and Turkey on the same day. Meanwhile, in the US, President Donald Trump himself was heard saying that there was a possibility of a second round of talks with Iran with Pakistan’s help, and if this happens, the US would choose Pakistan to host these talks. The Pakistani leadership’s stay in Iran and the Middle East was ongoing, during which important developments related to the war in the region came to light. ‘Israel and Lebanon agreed to a ten-day ceasefire during direct talks. ‘Ceasefire in Lebanon’ had emerged as one of the two long-standing demands from Iran before the start of the first round of Iran-US talks. Then on Friday, Iranian Foreign Minister Abbas Araqchi announced in a message on X that Iran had opened the Strait of Hormuz to all types of ships. This was a long-standing demand of US President Donald Trump. It should be noted that the Pakistani army chief was in Iran at the time. By then, he had met with Iranian Foreign Minister Araqchi and Iranian Parliament Speaker Baqir Qalibaf, who led the Iranian delegation in the first round of talks, and had also visited the headquarters of the Revolutionary Guards. US President Donald Trump immediately ‘thanked Iran’ in his message on Truth Social. In a separate message, he also thanked Pakistan, the Prime Minister of Pakistan, and the Field Marshal, saying that “they are doing a very good job.” The talks on both these issues had already begun, but the impetus for them to be achieved was due to the presence of Pakistan’s Army Chief Field Marshal Asim Munir in Iran and his activity there. The announcement of the opening of the Strait of Hormuz basically paved the way for the second round of talks. These were already in the pipeline, but the Pakistani Army Chief’s visit to Iran accelerated these matters further. The US President claimed that Iran had accepted almost all his demands, and now most of the reasons for not making a deal between them were gone. However, Iran did not confirm this. Hard-line circles in Iran also criticized these statements. Iranian Parliament Speaker Baqer Qalibaf told Iran’s Press TV in a recent interview that during his talks with the US in Islamabad, he had clearly told the US delegation that he considered the presence of a US minesweeper near the Strait of Hormuz a violation of the ceasefire agreement. “We told them that if your minesweeper moves even a little further, we will definitely target it.” Qalibaf said that after that, the US delegation asked for 15 minutes to order the ship to retreat. During the interview on Press TV, he said that the distrust between Iran and the US did not end during the first round of talks in Islamabad, but the two had a chance to understand each other. He said that during this round of talks, there were differences between the Iranian and US delegations on two basic points: “The closure of the Strait of Hormuz and Iran’s nuclear energy ambitions.”The ceasefire agreement and the start of negotiations had agreed to include a ceasefire in Lebanon. Minutes after the Iranian Foreign Minister announced the opening of the Strait of Hormuz, US President Donald Trump thanked Iran in response. However, a sub-statement by Trump changed the course of events once again. He said that the US closure of Iranian ports would continue until 100% of the issues with Iran were resolved. The Iranian Navy announced that it had closed the Strait of Hormuz once again because the US was blocking Iranian ports without passing the agreement. The next day, President Trump announced that the US Navy had captured an Iranian-flagged tanker that was trying to pass the US blockade through the Strait of Hormuz. According to Trump, the tanker was given ample opportunity to stop, but it ignored the warnings. The US Marines repeatedly targeted the engine room of the tanker and stopped it at that location, and later boarded it and took it over. Iran has said that it will respond to this American action. At the same time, Iran is also saying that as long as the US continues to blockade it, it will not participate in the second round of negotiations. On the other hand, Pakistani Prime Minister Shehbaz Sharif had visited the Middle East, first to Saudi Arabia, then to Qatar, and finally to Anatolia in Turkey. During these visits, he met with the top leadership of these three countries. Shehbaz Sharif had two objectives for these visits. On the one hand, they want these countries to be represented when an agreement is reached between Iran and the US in Islamabad. The more regional partners there are in this process, the better, because when all these partners take responsibility for it, if something goes wrong tomorrow, Pakistan will not be the only one in trouble. The Pakistani Prime Minister’s visit to these countries on this occasion also shows that a new alliance is emerging in the region. After the war, the features of the US alliance in the region will change, and Pakistan’s role in it will increase. After the US extended the ceasefire with Iran, gold prices increased, and oil prices fell worldwide today. According to the report, the decline in oil prices reduced concerns about a possible increase in inflation and high interest rates for a long time. The price of spot gold rose 0.9 percent to $4,755 per ounce, while yesterday it had fallen to its lowest level since April 13. Similarly, US gold futures for June rose 1.1% to $4,772.90. Among other precious metals, spot silver rose 1.5% to $77.84 an ounce, platinum rose 1.5% to $2,067.25, and palladium rose 1.8% to $1,560.31. US President Donald Trump announced a few hours before the end of the ceasefire that the US was extending the ceasefire with Iran indefinitely to create space for further peace talks. It should be noted that Trump’s announcement regarding the recent extension of the ceasefire that began two weeks ago was apparently unilateral, and it was not immediately clear whether Iran or US ally Israel would also agree to the extension.

پاکستان بهترین دیپلمات است، امید ایران و آمریکا برای توافق همچنان پابرجاست (اصغر علی مبارک)….

“دیپلماسی پل” اخیر پاکستان نقش بسیار جامع و کلیدی در تنش ایران و آمریکا ایفا کرده است. بزرگترین چالش دیپلماسی پل پاکستان، پذیرش شرط ایران مبنی بر لغو محاصره توسط آمریکا قبل از مذاکره است، در حالی که دولت ترامپ اصرار دارد که این محاصره تنها زمانی لغو خواهد شد که ایران “پیشرفت ملموسی” در مذاکرات نشان دهد. این پیشرفت نشان می‌دهد که تلاش‌های مشترک رهبری نظامی و سیاسی پاکستان بار دیگر این کشور را به مرکز دیپلماسی جهانی آورده است.

به گفته اصغر علی مبارک، تحلیلگر ارشد دیپلماتیک پاکستان و رئیس انجمن خبرنگاران دیپلماتیک پاکستان (DCFP)، پاکستان به عنوان یک میانجی کلیدی برای کاهش تنش‌ها بین ایران و آمریکا ظهور کرده است. “دیپلماسی پل” پاکستان نقش کلیدی در آوردن طرفین به پای میز مذاکره در عین حفظ موضع بی‌طرفانه ایفا کرد. اگرچه ایران در ابتدا در مورد پیوستن به مذاکرات ابراز تردید کرد، اما میانجیگری و اقدامات دیپلماتیک مداوم پاکستان، امید به توافق را زنده نگه داشته است.

اگر به طور خلاصه به نکات کلیدی این وضعیت نگاه کنیم، به نظر می‌رسد که یک پیروزی بزرگ دیپلماتیک برای پاکستان است:

نقش محوری پاکستان: پاکستان موفق شده است تهران و واشنگتن را پای میز مذاکره بیاورد و در عین حال بی‌طرف بماند، که این موضوع در سطح جهانی به رسمیت شناخته شده است.

تمدید آتش‌بس: تمدید آتش‌بس دو هفته‌ای که در ۲۲ آوریل به درخواست پاکستان به پایان رسید، گامی بزرگ در جهت نجات منطقه از یک جنگ بزرگ است.

بیانیه رئیس جمهور ترامپ: اهمیت دادن رئیس جمهور آمریکا به پیشنهادات نخست وزیر شهباز شریف و فیلد مارشال عاصم منیر و ایجاد فضایی برای مذاکره به شرط لغو محاصره ایران، یک تحول مثبت است.

امید به توافق: بین محاصره اقتصادی ایران و تمایل ایالات متحده برای یک “معامله بزرگ”، پاکستان نقش پلی را ایفا می‌کند که می‌تواند راه‌حلی قابل قبول برای هر دو طرف پیدا کند.

قرار بود آتش‌بس دو هفته‌ای در ۲۲ آوریل منقضی شود. دلیل اصلی این بن‌بست، پیش‌شرط ایران بود که در آن خواستار لغو محاصره اعمال شده بر بنادر ایران تحت تحریم‌های ایالات متحده شده بود. آتش‌بس به دلیل تلاش‌های پاکستان تمدید شده است. امید است که هر دو طرف در یک توافق جامع صلح برای پایان دادن دائمی به درگیری موفق شوند.

جنبه‌های کلیدی تلاش‌های دیپلماتیک پاکستان به شرح زیر است:

تمدید آتش‌بس:
به درخواست پاکستان، ایالات متحده با تمدید آتش‌بس موقت با ایران موافقت کرده است. رئیس جمهور ترامپ همچنین اعلام کرده است که انتظار یک “توافق بزرگ” را دارد که جامع‌تر از توافق دوران اوباما خواهد بود.

دونالد ترامپ، رئیس جمهور آمریکا، می‌گوید که رهبری پاکستان به ما گفته است که به ایران حمله نکنیم. ترامپ در بیانیه‌ای که در پلتفرم شبکه اجتماعی X منتشر شد، گفت که آتش‌بس را تا زمان تکمیل مذاکرات تمدید می‌کند. او گفت که نخست وزیر شهباز شریف و فیلد مارشال عاصم منیر از ما خواسته‌اند که حملات را تا زمان ارائه پیشنهادهای توافق شده توسط رهبری ایران متوقف کنیم. ترامپ گفت که من به ارتش خود دستور داده‌ام که محاصره را ادامه دهند و از هر نظر آماده باشند. نخست وزیر شهباز شریف از رئیس جمهور ترامپ به خاطر پذیرش درخواست او و فیلد مارشال عاصم منیر برای تمدید آتش‌بس تشکر کرد. نخست وزیر شهباز شریف گفت که پاکستان به تلاش‌های کامل خود برای یافتن راه‌حلی از طریق مذاکره برای این درگیری ادامه خواهد داد. وی افزود که امیدوار است هر دو طرف به رعایت آتش‌بس ادامه دهند. لازم به ذکر است که دونالد ترامپ، رئیس جمهور آمریکا، می‌گوید که رهبری پاکستان از ما خواسته است که به ایران حمله نکنیم. ترامپ در بیانیه‌ای که در پلتفرم شبکه اجتماعی X منتشر شد، گفت که آتش‌بس را تا زمان تکمیل مذاکرات تمدید می‌کند. دونالد ترامپ، رئیس جمهور آمریکا، گفته است که مطمئن است که «توافق بزرگی» برای پایان دادن به جنگ چند هفته‌ای بین آمریکا و ایران در حال انجام است. ترامپ گفت که ایران چاره‌ای جز توافق ندارد. او گفت که ایالات متحده به نیروی دریایی، نیروی هوایی و رهبری ایران آسیب جدی وارد کرده است که اوضاع را برای ایران بدتر کرده است.اصغر علی مبارک، تحلیلگر ارشد، معتقد است که هم ایالات متحده و هم ایران دیگر تمایلی به شروع دوباره جنگ ندارند. «احتمال شروع دوباره جنگ ۹۹٪ از بین رفته است. مطلقاً هیچ درخواستی از هیچ یک از طرفین برای شروع دوباره جنگ وجود ندارد. «دیپلماسی پل» پاکستان در واقع نقطه عطفی ایجاد کرده است. آخرین جزئیات مربوط به مرحله بعدی مذاکرات اسلام آباد به شرح زیر است:

مرحله دوم مذاکرات اسلام آباد و سفر جی دی ونس
این سفر در حال حاضر به تعویق افتاده است: طبق آخرین گزارش‌ها (۲۲ آوریل ۲۰۲۶)، سفر برنامه‌ریزی شده جی دی ونس، معاون رئیس جمهور ایالات متحده، به پاکستان به تعویق افتاده است (در حال تعلیق) و کاخ سفید منتظر «پیشنهاد متقابل» از ایران است و پس از آن ونس به اسلام آباد خواهد رفت.

تمدید آتش‌بس: به درخواست نخست وزیر شهباز شریف و فیلد مارشال عاصم منیر، رئیس جمهور ترامپ آتش‌بس را تا زمان تکمیل مذاکرات تمدید کرده است.

محل برگزاری: انتظار می‌رود دور بعدی مذاکرات در اسلام آباد برگزار شود و پاکستان به طور مداوم در تلاش است تا تهران را به بازگشت به میز مذاکره متقاعد کند. درخواست ایران برای لغو محاصره دریایی آمریکا مانع بزرگی برای پیوستن به مذاکرات بوده است، اما دیپلمات‌های پاکستانی در تلاشند تا این بن‌بست را بشکنند.

نقش پاکستان در سطح جهانی مورد تقدیر قرار گرفته است، زیرا این کشور بالاترین سطح تماس مستقیم بین ایالات متحده و ایران در دهه‌های اخیر را دارد. در صورت تمایل ایران، جرد کوشنر و استیو ویتکاف نیز به همراه جی دی ونس بخشی از این هیئت خواهند بود.

به گفته منابع دیپلماتیک، هر دو طرف شرایط بسیار سختگیرانه اما روشنی را برای مذاکرات اسلام‌آباد مطرح کرده‌اند. پاکستان در تلاش است تا “راه حلی میانه” بین این دو موضع متناقض پیدا کند.

دستور کار (خواسته‌های) 10 ماده‌ای ایران

از جمله نکات اصلی که ایران برای آمدن به میز مذاکره مطرح کرده است، موارد زیر است:

پایان محاصره: پایان فوری محاصره دریایی بنادر ایران توسط ایالات متحده.

کاهش تحریم‌ها: پایان همه تحریم‌های اقتصادی و بانکی به طوری که ایران بتواند نفت بفروشد.

تضمین‌های امنیتی: تضمین‌های کتبی مبنی بر اینکه ایالات متحده دیگر به رهبری یا تأسیسات نظامی ایران حمله نخواهد کرد. بازگرداندن دارایی‌های مسدود شده: آزادسازی فوری وجوه مسدود شده ایران در خارج از کشور.

حقوق هسته‌ای: به رسمیت شناختن حق غنی‌سازی اورانیوم برای اهداف صلح‌آمیز.

تمامیت ارضی: خروج مرحله‌ای نیروهای آمریکایی از منطقه.

غرامت: جبران خسارت جانی و مالی ناشی از تنش‌های اخیر.

پرستیژ دیپلماتیک: پایان رسمی سیاست “تغییر رژیم” علیه ایران.

توافق پایدار: هر توافقی باید توسط کنگره ایالات متحده تصویب شود تا دولت بعدی نتواند آن را فسخ کند.

استقلال دفاعی: آزادی حفظ برنامه موشکی خود در سطح دفاعی.

شرایط ایالات متحده (موضع رئیس جمهور ترامپ)

رئیس جمهور ترامپ خواهان یک “معامله بزرگ” است که به گفته او سخت‌تر از توافق دوران اوباما است:

تعطیلی کامل هسته‌ای: ایران باید غنی‌سازی اورانیوم را به طور دائم متوقف کند و سانتریفیوژهای خود را برچیند.

ممنوعیت برنامه موشکی: ممنوعیت کامل توسعه و آزمایش موشک‌های بالستیک.

پایان دخالت منطقه‌ای: پایان نفوذ و حمایت ایران از نیروهای نیابتی در یمن، لبنان، سوریه و عراق. بازرسی‌های پایدار: به بازرسان آژانس بین‌المللی انرژی اتمی اجازه دهید در هر زمان و هر مکان (از جمله تأسیسات نظامی) بازرسی کنند.

مدت زمان توافق جدید: این توافق باید دائمی باشد و هیچ «بند غروب» نداشته باشد.

آزادی زندانیان: بازگشت فوری همه شهروندان آمریکایی و دو تابعیتی زندانی در ایران.

سفیر ایران در سازمان ملل متحد گفته است که اگر ایالات متحده محاصره را لغو کند و نقض آتش‌بس را متوقف کند، ایران برای دور بعدی مذاکرات آماده است که احتمالاً می‌تواند در اسلام‌آباد برگزار شود. امیر سعید ایروانی، سفیر ایران در سازمان ملل متحد، در مصاحبه‌ای با رسانه‌های ایرانی گفت که ایالات متحده باید قبل از شروع هر دور جدیدی از مذاکرات، نقض ادعایی آتش‌بس را متوقف کند. او در گفتگو با روزنامه ایرانی شرق گفت که به محض لغو محاصره توسط ایالات متحده، دور بعدی مذاکرات در اسلام‌آباد برگزار خواهد شد. ایران برای هر وضعیت احتمالی آماده است. وی افزود که ایران هیچ تجاوز نظامی انجام نداده است و اگر ایالات متحده خواهان راه حل سیاسی باشد، ایران برای آن آماده است، اما اگر جنگ تحمیل شود، ایران نیز برای آن آماده است. بریتانیا، فرانسه و آلمان ایران را به نقض توافق هسته‌ای بین‌المللی ۲۰۱۵ که برای جلوگیری از توسعه سلاح‌های هسته‌ای ایران در نظر گرفته شده بود، متهم کرده‌اند. ایران این اتهامات را رد کرده است. مهدی محمدی، مشاور رئیس مجلس ایران، اعلام تمدید آتش‌بس توسط دونالد ترامپ، رئیس جمهور آمریکا را رد کرد. مهدی محمدی، مشاور رئیس مجلس ایران، در پیامی در رسانه‌های اجتماعی گفت که این اعلام هیچ اهمیتی ندارد و طرف بازنده نمی‌تواند شرایط را دیکته کند. این مشاور در بیانیه خود افزود که محاصره مداوم علیه ایران در واقع معادل بمباران است و باید به شکل اقدام نظامی به آن پاسخ داده شود. دونالد ترامپ، رئیس جمهور آمریکا، به درخواست پاکستان تمدید آتش‌بس با ایران را اعلام کرده است، با این حال، می‌گوید که ایالات متحده به محاصره بنادر ایران ادامه خواهد داد. او در پلتفرم رسانه‌های اجتماعی Truth Social نوشت: «بر اساس این واقعیت که دولت ایران عمیقاً دچار اختلاف است، که غیرمنتظره نیست،و فیلد مارشال عاصم منیر، فرمانده ارتش پاکستان، و نخست وزیر شهباز شریف از ما خواسته‌اند که تا زمانی که رهبران و نمایندگان آنجا پیشنهادی متفق‌القول ارائه ندهند، حمله به ایران را متوقف کنیم. «بنابراین، من به ارتش خود دستور داده‌ام که محاصره را ادامه دهند.» پیش از این، در ۲۱ آوریل ۲۰۲۶، در پایان ۲۱ ساعت مذاکره طولانی با هیئت ایرانی در اسلام‌آباد، جی. دی. ونس، معاون رئیس جمهور آمریکا، گفته بود: «خبر خوب این است که مذاکرات مستقیم بین ما و دیپلمات‌های ایرانی امکان‌پذیر شده است.» اما سپس جی. دی. ونس «خبر بد» را داد و سفر خود به اسلام‌آباد را با آن به پایان رساند. «ما با ایرانی‌ها به توافق نرسیده‌ایم… آنها از پذیرش پیشنهاد ما خودداری کرده‌اند… ما بدون توافق برمی‌گردیم.» پس از مذاکرات اسلام‌آباد، که در ۱۱ این ماه آغاز شد و صبح ۱۲ به پایان رسید، هیئت‌های آمریکایی و ایرانی «فضای مذاکره» در اسلام‌آباد را دلگرم‌کننده توصیف کردند، اما یکدیگر را به دلیل شکست مذاکرات سرزنش کردند. به گفته جی دی ونس، ایران مدت زیادی با شرط آمریکا برای کنار گذاشتن غنی‌سازی هسته‌ای موافقت نکرد، در حالی که تهران گفت «هیئت آمریکایی خواسته‌های غیرمنطقی یا نامناسبی را مطرح کرد». تهران همچنین ادعا کرد که دو طرف به توافق نزدیک بودند که «هیئت آمریکایی در این روند کارشکنی کرد». برداشت عمومی از بخش «خبر بد» جلسه خداحافظی جی دی ونس در اسلام‌آباد این بود که بازگشت دوباره این دو به میز مذاکره ممکن است دشوار باشد. با این حال، پاکستان، میزبان مذاکرات آمریکا و ایران، بر بخش «خبر خوب» جی دی ونس تمرکز کرد و اظهارات مقامات پاکستانی بلافاصله راه را برای این امر هموار کرد. رسانه‌های پاکستانی شروع به تشویق این روایت کردند که «مذاکرات، اگر موفقیت‌آمیز نبود، شکست هم نخورد». سپس، به محض دریافت سیگنال‌های مثبت از واشنگتن و تهران در مورد دور دوم احتمالی، رهبری ارشد پاکستان وارد عمل شد. پیام‌هایی بین ایران و آمریکا از طریق پاکستان رد و بدل شد. مقامات ایرانی این موضوع را تأیید کردند. پس از آن، رهبران نظامی و غیرنظامی پاکستان تقریباً همزمان برای سفرهایی به ایران و خاورمیانه رفتند. هواپیمای سپهبد عاصم منیر، فرمانده ارتش پاکستان، روز چهارشنبه هفته گذشته در تهران به زمین نشست. از سوی دیگر، شهباز شریف، نخست وزیر پاکستان، در همان روز برای سفرهایی به عربستان سعودی، قطر و ترکیه عازم شد. در همین حال، در ایالات متحده، شنیده شد که خود دونالد ترامپ، رئیس جمهور، گفته است که احتمال دور دوم مذاکرات با ایران با کمک پاکستان وجود دارد و اگر این اتفاق بیفتد، ایالات متحده پاکستان را برای میزبانی این مذاکرات انتخاب خواهد کرد. اقامت رهبری پاکستان در ایران و خاورمیانه ادامه داشت و در طی آن تحولات مهمی مربوط به جنگ در منطقه آشکار شد. «اسرائیل و لبنان در جریان مذاکرات مستقیم با آتش‌بس ده روزه موافقت کردند. «آتش‌بس در لبنان» به عنوان یکی از دو خواسته دیرینه ایران قبل از شروع دور اول مذاکرات ایران و آمریکا مطرح شده بود. سپس روز جمعه، عباس عراقچی، وزیر امور خارجه ایران، در پیامی در X اعلام کرد که ایران تنگه هرمز را برای انواع کشتی‌ها باز کرده است. این یک خواسته دیرینه دونالد ترامپ، رئیس جمهور آمریکا بود. لازم به ذکر است که فرمانده ارتش پاکستان در آن زمان در ایران بود. در آن زمان، او با عراقچی، وزیر امور خارجه ایران و باقر قالیباف، رئیس مجلس ایران که رهبری هیئت ایرانی را در دور اول مذاکرات بر عهده داشت، ملاقات کرده بود و همچنین از مقر سپاه پاسداران بازدید کرده بود. دونالد ترامپ، رئیس جمهور آمریکا، بلافاصله در پیام خود در Truth Social از ایران «تشکر کرد». در پیام جداگانه‌ای، او همچنین از پاکستان، نخست وزیر پاکستان و فیلد مارشال تشکر کرد و گفت که «آنها کار بسیار خوبی انجام می‌دهند». مذاکرات در مورد هر دوی این موضوعات از قبل آغاز شده بود، اما انگیزه دستیابی به آنها به دلیل حضور فیلد مارشال عاصم منیر، رئیس ارتش پاکستان، در ایران و فعالیت او در آنجا بود. اعلام بازگشایی تنگه هرمز اساساً راه را برای دور دوم مذاکرات هموار کرد. این مذاکرات از قبل در جریان بود، اما سفر رئیس ارتش پاکستان به ایران این مسائل را بیشتر تسریع کرد. رئیس جمهور آمریکا ادعا کرد که ایران تقریباً تمام خواسته‌های او را پذیرفته است و اکنون بیشتر دلایل عدم توافق بین آنها از بین رفته است. با این حال، ایران این موضوع را تأیید نکرد. محافل تندرو در ایران نیز از این اظهارات انتقاد کردند. باقر قالیباف، رئیس مجلس ایران، در مصاحبه اخیر خود با پرس تی‌وی ایران گفت که در جریان مذاکراتش با آمریکا در اسلام‌آباد، به صراحت به هیئت آمریکایی گفته است که حضور یک مین‌روب آمریکایی در نزدیکی تنگه هرمز را نقض توافق آتش‌بس می‌داند. «ما به آنها گفتیم که اگر مین‌روب شما حتی کمی جلوتر برود، قطعاً آن را هدف قرار خواهیم داد.» قالیباف گفت که پس از آن، هیئت آمریکایی ۱۵ دقیقه فرصت خواست تا به کشتی دستور عقب‌نشینی بدهد. او در مصاحبه با پرس تی‌وی گفت که بی‌اعتمادی بین ایران و آمریکا در دور اول مذاکرات در اسلام‌آباد پایان نیافت، اما این دو فرصتی برای درک یکدیگر داشتند. او گفت که در طول این دور از مذاکرات، بین هیئت‌های ایرانی و آمریکایی در دو نکته اساسی اختلاف نظر وجود داشت: «بستن تنگه هرمز و جاه‌طلبی‌های انرژی هسته‌ای ایران».توافق آتش‌بس و آغاز مذاکرات شامل آتش‌بس در لبنان نیز می‌شد. دقایقی پس از اعلام وزیر امور خارجه ایران مبنی بر باز شدن تنگه هرمز، دونالد ترامپ، رئیس جمهور آمریکا، در پاسخ از ایران تشکر کرد. با این حال، اظهارات ترامپ بار دیگر روند وقایع را تغییر داد. او گفت که بستن بنادر ایران توسط آمریکا تا حل ۱۰۰٪ مسائل با ایران ادامه خواهد یافت. نیروی دریایی ایران اعلام کرد که تنگه هرمز را بار دیگر بسته است زیرا آمریکا بدون تصویب توافق، بنادر ایران را مسدود کرده است. روز بعد، رئیس جمهور ترامپ اعلام کرد که نیروی دریایی آمریکا یک نفتکش با پرچم ایران را که سعی در عبور از محاصره آمریکا از تنگه هرمز داشت، توقیف کرده است. به گفته ترامپ، به این نفتکش فرصت کافی برای توقف داده شد، اما این نفتکش هشدارها را نادیده گرفت و پس از آن، تفنگداران دریایی آمریکا بارها موتورخانه نفتکش را هدف قرار داده و آن را در آن محل متوقف کردند و بعداً سوار آن شده و آن را تصرف کردند. ایران گفته است که به این اقدام آمریکا پاسخ خواهد داد. در عین حال، ایران نیز می‌گوید تا زمانی که ایالات متحده به محاصره خود ادامه دهد، در دور دوم مذاکرات شرکت نخواهد کرد. از سوی دیگر، شهباز شریف، نخست وزیر پاکستان، به خاورمیانه سفر کرده بود، ابتدا به عربستان سعودی، سپس به قطر و در نهایت به آناتولی در ترکیه. در طول این سفرها، او با رهبران ارشد این سه کشور دیدار کرد. شهباز شریف از این سفرها دو هدف داشت. از یک سو، آنها می‌خواهند این کشورها هنگام دستیابی به توافق بین ایران و ایالات متحده در اسلام آباد نماینده داشته باشند. هرچه شرکای منطقه‌ای بیشتری در این فرآیند وجود داشته باشند، بهتر است، زیرا وقتی همه این شرکا مسئولیت آن را بر عهده بگیرند، اگر فردا مشکلی پیش بیاید، پاکستان تنها کشوری نخواهد بود که دچار مشکل می‌شود. سفر نخست وزیر پاکستان به این کشورها در این مناسبت همچنین نشان می‌دهد که یک اتحاد جدید در منطقه در حال ظهور است. پس از جنگ، ویژگی‌های اتحاد ایالات متحده در منطقه تغییر خواهد کرد و نقش پاکستان در آن افزایش خواهد یافت. پس از تمدید آتش‌بس با ایران توسط ایالات متحده، قیمت طلا افزایش و قیمت نفت امروز در سراسر جهان کاهش یافت. بر اساس این گزارش، کاهش قیمت نفت نگرانی‌ها در مورد افزایش احتمالی تورم و نرخ بهره بالا را برای مدت طولانی کاهش داد. قیمت طلای نقدی ۰.۹ درصد افزایش یافت و به ۴۷۵۵ دلار در هر اونس رسید، در حالی که دیروز به پایین‌ترین سطح خود از ۱۳ آوریل رسیده بود. به طور مشابه، معاملات آتی طلای آمریکا برای ماه ژوئن ۱.۱ درصد افزایش یافت و به ۴۷۷۲.۹۰ دلار رسید. در میان سایر فلزات گرانبها، نقره نقدی ۱.۵ درصد افزایش یافت و به ۷۷.۸۴ دلار در هر اونس، پلاتین ۱.۵ درصد افزایش یافت و به ۲۰۶۷.۲۵ دلار و پالادیوم ۱.۸ درصد افزایش یافت و به ۱۵۶۰.۳۱ دلار رسید. دونالد ترامپ، رئیس جمهور آمریکا، چند ساعت قبل از پایان آتش‌بس اعلام کرد که ایالات متحده آتش‌بس با ایران را به طور نامحدود تمدید می‌کند تا فضایی برای مذاکرات صلح بیشتر ایجاد کند. لازم به ذکر است که اعلام ترامپ در مورد تمدید اخیر آتش‌بس که دو هفته پیش آغاز شد، ظاهراً یکجانبه بود و بلافاصله مشخص نبود که آیا ایران یا متحد آمریکا، اسرائیل، نیز با این تمدید موافقت خواهند کرد یا خیر.