.بسته شدن مجدد تنگه هرمز؛ علامت سوال در مذاکرات ایران، آمریکا و اسلام آباد….
(اصغر علی مبارک)Re-closure   Strait of Hormuz; Question mark on Iran-US-Islamabad talks….آبنائے ہرمز کی دوبارہ بندش ;ایران امریکااسلام آباد مذاکرات پر سوالیہ نشان ….
(اصغر علی مبارک )….. امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور جلد متوقع ہے، تاہم آبنائے ہرمز کی دوبارہ بندش سے ایران امریکااسلام آباد مذاکرات پر سوالیہ نشان لگ گیاہے . سینئر پاکستانی سفارتی تجزیہ کار , صدر ڈپلومیٹک کرسپانڈنٹس فورم آف پاکستان (DCFP) اصغر علی مبارک کے مطابق دو ہفتے کی جنگ بندی 22 اپریل کو ختم ہو رہی ہے, یاد رہے کہ ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اس اہم بحری گزرگاہ کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے کھولنے کا اعلان کیا تھا تاہم ایران کی سینٹرل ملٹری کمانڈ نے ہفتے کی صبح امریکی بحری ناکہ بندی کے جواب میں آبنائے ہرمز دوبارہ بند کرنے کا اعلان کر دیا دوسری جانب پاکستان اس وقت ان مذاکرات میں کلیدی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران میں تین روزہ مذاکرات مکمل کر کے واپس پہنچ چکے ہیں، جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف بھی قطر، سعودی عرب اور ترکیہ کے دورے مکمل کر چکے ہیں۔ امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والی اس بیٹھک سے ایک ابتدائی مفاہمتی یادداشت سامنے آ سکتی ہے، جس کے بعد ساٹھ دنوں کے اندر مکمل امن معاہدہ طے پا سکتا ہے۔ تاہم تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ آیا رواں ہفتے کے آخر میں دونوں ممالک کے درمیان کوئی براہِ راست اعلیٰ سطح کی ملاقات ہو سکے گی یا نہیں۔ ایٹمی پروگرام اب بھی مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ صدر ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ امریکا ایران سے افزودہ یورینیم کا ذخیرہ نکال لے جائے گا، جبکہ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے دو ٹوک کہا ہے کہ یہ مواد کسی صورت ملک سے باہر منتقل نہیں کیا جائے گا۔ ایران میں جمعہ کے اجتماعات کے دوران سینیئر علماء نے بھی سخت لہجہ اختیار کیا ہے، علامہ احمد خاتمی کا کہنا تھا کہ ہماری قوم ذلت کی بنیاد پر مذاکرات نہیں کرتی۔ ان اختلافات کے باوجود عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں دس فیصد کمی دیکھی گئی ہے پاکستان اس وقت دنیا کی توجہ کا مرکز ہے کیونکہ دو ہفتوں کی جنگ بندی کی مدت ختم ہونے سے پہلے کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا خطے کے امن کے لیے ناگزیر ہے, جس کے لیے اسلام آباد میں تیاریاں عروج پر پہنچ گئی ہیں,
سفارتی ذرائع کے ذریعے انہوں نے بتایا کہ اگرچہ امریکا اور ایران کی حکومتوں نے باضابطہ طور پر اس کی تصدیق نہیں کی ہے، لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے ہی اشارہ دے دیا تھا کہ ہفتے کے اختتام پر مذاکرات ہو سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے ہونے والے اسلام آباد مذاکرات کئی گھنٹے جاری رہنے کے باوجود کسی معاہدے پر ختم نہیں ہو سکے تھے، تاہم اب دوسرے دور سے عالمی سطح پر بڑی امیدیں وابستہ ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ اچھی بات چیت ہورہی ہے، جس میں امریکا نے سخت مؤقف اپنا رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کرنا چاہتا ہے لیکن اب وہ ہمیں بلیک میل نہیں کرسکتا ہے۔ وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم نے ایران کی اعلیٰ قیادت، نیوی اور ایئرفورس کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ کہا کہ ہم ایران سے اب بھی بات چیت کر رہے ہیں، معاہدے کے حوالے سے جو بھی صورتِ حال ہوگی وہ دن کے آخر تک واضح ہوجائے گی، آپ اسے ایک جبری حکومت کی تبدیلی کہہ سکتے ہیں، ایران ہمیں مزید بلیک میل نہیں کرسکتا۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران میں قاسم سلیمانی کو نشانہ بنایا گیا، رجیم کی قیادت کو ختم کیا گیا، سلیمانی بہت سے امریکی فوجیوں کے معذور ہونے اورہلاکتوں کا ذمہ دارتھا، نہ ان کی نیوی بچی، نہ ائیرفورس اور نہ ہی کوئی لیڈر۔ اس دوران پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے آغاز پر ایران نے یومیہ بنیاد پر مخصوص تعداد میں جہازوں کو گزرنے کی اجازت دینے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔ تاہم لبنان میں جنگ بندی پر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث ایران نے اس معاہدے کو معطل کر دیا تھا، جسے اب دوبارہ فعال کر دیا گیا ہے۔ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے اگلے دور کی تاحال منظوری نہیں دی۔ متعلقہ حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ حالیہ صورتِ حال میں کسی نئے مذاکراتی مرحلے پر اتفاق نہیں ہو سکا۔ ذرائع کے مطابق یہ تعطل امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف بحری ناکا بندی کے اعلان اور مذاکرات میں سخت مطالبات کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ دنوں میں پیغامات کا تبادلہ ہوا، تاہم اس کے باوجود کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی دو ہفتوں کی جنگ بندی آئندہ ہفتے 22 اپریل کو ختم ہو رہی ہے، جس کی وجہ سے اسلام آباد مذاکرات انتہائی اہمیت اختیار کر گئے ہیں ,ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ مذاکرات کے تسلسل کے لیے ضروری ہے کہ امریکا غیر ضروری اور حد سے زیادہ مطالبات سے گریز کرے، بصورت دیگر ایران طویل اور غیر نتیجہ خیز مذاکرات میں شامل نہیں ہوگا۔

تسنیم کے مطابق ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ایران نے اپنا مؤقف امریکی حکام تک پاکستان کے ذریعے پہنچا دیا ہے، جب کہ آئندہ صورتِ حال کا دارومدار دونوں جانب کے فیصلوں پر ہوگا۔

اس حوالے سے ایران کے نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ کا کہنا ہے کہ ابھی تک مذاکرات کی کوئی تاریخ طے نہیں ہوئی، اس وقت فریم ورک کو حتمی شکل دینے پر توجہ ہے، نہیں چاہتے کہ ایسے مذاکرات ہوں جو ناکامی کی طرف جائیں، جب تک فریم ورک طے نہیں ہوتا، مذاکرات کی تاریخ نہیں دے سکتے۔ اسلام آباد مذاکرات کے لیے وفاقی دارالحکومت میں سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں اور پورے شہر کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ اسلام آباد پولیس کو پنجاب پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی معاونت حاصل ہے اور شہر بھر میں سات ہزار سے زائد سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں, خاص طور پر ریڈ زون کی سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور شہر کے داخلی و خارجی راستوں کی چیکنگ جا رہی ہے,سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر انتظامیہ نے اندرونِ شہر کے تمام بس اڈے تاحکم ثانی بند کر دیے ہیں دوسری طرف شہرِ اقتدار کو اس اہم سفارتی مشن کے لیے سجایا بھی جا رہا ہے ,ایران کی پہلی شرط کے مطابق اس بحری راستے سے صرف تجارتی جہازوں کو گزرنے کی اجازت ہوگی جب کہ فوجی جہازوں کا داخلہ مکمل طور پر ممنوع ہوگا۔ دشمن ملک کے جہازوں یا ایسے جہاز جن پر دشمن ممالک کا سامان لدا ہوگا، انہیں یہ راستہ استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ دوسری شرط کے مطابق تمام بحری جہاز ایران کے متعین کردہ راستے سے ہی گزرنے کے پابند ہوں گے۔ رپورٹ کے مطابق ایران نے تیسری شرط کے تحت ان جہازوں کے پاسدارانِ انقلاب سے رابطے کو لازمی قرار دیا ہے۔ ایران کے مطابق آبنائے ہرمز کا استعمال کرنے والے جہازوں کو ایرانی فورسز کے ساتھ مستقل رابطے میں رہنا ہوگا۔سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے قریبی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ اگر خطے میں ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کا سلسلہ جاری رہا تو اسے جنگ بندی کی صریح خلاف ورزی تصور کیا جائے گا، جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی آمد و رفت پر دوبارہ پابند ی عائد کی جاسکتی ہے۔اس سے قبل ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق دیے گئے بیان میں واضح کیا تھا کہ یہ راستہ جنگ بندی کے عرصے تک ’تجارتی جہازوں‘ کے لیے کھولا گیا ہے اور ایران کی پورٹس اینڈ میری ٹائم آرگنائزیشن تجارتی جہازوں کے گزرنے کا روٹ بھی وضع کرچکی ہے۔ اس حوالے سے ایران کے نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ کا کہنا ہے کہ ابھی تک مذاکرات کی کوئی تاریخ طے نہیں ہوئی، اس وقت فریم ورک کو حتمی شکل دینے پر توجہ ہے، نہیں چاہتے کہ ایسے مذاکرات ہوں جو ناکامی کی طرف جائیں، جب تک فریم ورک طے نہیں ہوتا، مذاکرات کی تاریخ نہیں دے سکتے۔ سعید خطیب زادہ کے مطابق درحقیقت بڑی اچھی پیش رفت ہوئی تھی، لیکن پھر زیادہ سے زیادہ والی سوچ نے معاہدہ نہ ہونے دیا، بین الاقوامی قوانین سے بالاتر کوئی چیز تسلیم نہیں کریں گے، جو بھی وعدہ کریں گے وہ بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں کریں گے۔ اس سے قبل، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات سے متعلق دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں جھوٹ پر مبنی قرار دیا تھا۔ باقر قالیباف نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں کہا کہ ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام سات دعوے غلط ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جھوٹے بیانات کے ذریعے نہ ماضی میں کوئی نتیجہ حاصل کیا جا سکا اور نہ ہی مستقبل میں ایسا ممکن ہوگا۔ انہوں نے آبنائے ہرمز کی صورتِ حال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پابندیوں کے تسلسل کی صورت میں اس آبی گزرگاہ کو کھلا نہیں رکھا جا سکتا۔ ان کے مطابق اس راستے سے گزرنے کے لیے ایران کی اجازت اور مقررہ ضوابط کی پابندی ضروری ہوگی۔ مزید کہا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق فیصلے زمینی حقائق کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں نہ کہ سوشل میڈیا پر۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ میڈیا کے ذریعے رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کی کوششیں جنگی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ خیال رہے کہ ہفتے کے روز آبنائے ہرمز میں بحری آمد ورفت شدید الجھن اور کشیدگی کا شکار ہو گئی ہے ہزاروں جہاز پھنسے ہوئے ہیں جب کہ کئی جہاز راستہ بدل کر واپس جا رہے ہیں۔ ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے مشترکہ فوجی کمانڈ نے امریکی ناکا بندی کو بنیاد بناتے ہوئے آبنائے ہرمز کا کنٹرول دوبارہ سخت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگرچہ ایران نے ایک روز قبل کہا تھا کہ وہ تجارتی جہازوں کے لیے راستہ کھلا رکھے گا، تاہم متعدد بحری جہاز، جو آبنائے ہرمز کے ذریعے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے، خاص طور پر لراک جزیرے کے قریب پہنچ کر واپس پلٹ گئے۔ کچھ جہاز خلیج عمان کی طرف آگے بڑھنے میں کامیاب ہوئے، تاہم ان میں سے بعض ایسے جہاز بھی شامل تھے جن پر پابندیاں عائد ہیں، بحری ٹریکنگ کے مطابق بڑی تعداد میں جہاز فی الحال راستہ بدل کر مغربی سمت میں واپس جا رہے ہیں، جب کہ ہزاروں بحری جہاز پھنسے ہوئے ہیں اور زیادہ تر کمپنیاں کسی بھی خطرے سے بچنے کے لیے انتظار کی پالیسی اختیار کر رہی ہیں۔ ہفتے کے روز آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے کم از کم دو تجارتی جہازوں پر فائرنگ کی اطلاعات سامنے آئیں۔ یہ معلومات بحری سلامتی اور شپنگ کے تین مختلف ذرائع نے فراہم کیں، ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی مشترکہ فوجی کمانڈ نے امریکی بحریہ کی ناکہ بندی کو قزاقی اور وعدہ خلافی قرار دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کا کنٹرول دوبارہ سخت کر دیا گیا ہے۔ ہفتے کے روز اس راستے سے گزرنے والے دو تجارتی جہازوں پر فائرنگ کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔رپورٹ کے مطابق ایرانی بحریہ کی جانب سے بعض جہازوں کو ریڈیو پیغام بھی موصول ہوا جس میں آبنائے ہرمز کی دوبارہ بندش سے آگاہ کرتے ہوئے خبردار کیا گیا کہ اب کسی بھی جہاز کو اس گزرگاہ کے استعمال کی اجازت نہیں ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کی نیشنل سیکیورٹی کمیشن کے سربراہ ابراہیم عزیزی اس حوالے سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں طنز کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے آپ کو خبردار کیا تھا لیکن آپ نے ہمیں نظرانداز کیا۔ اب آبنائے ہرمز کی بندش کا مزہ لیں‘ اس سے قبل بحری ٹریکنگ ڈیٹا کے ذریعے 8 آئل ٹینکرز پر مشتمل ایک قافلے کی نقل و حرکت دیکھی گئی تھی، جو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد اس راستے پر پہلی بڑی بحری سرگرمی تھی۔
ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ صورتِ حال اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک امریکا ایرانی جہازوں کی نقل و حرکت پر عائد رکاوٹیں ختم نہیں کر دیتا۔دوسری جانب امریکی فوج نے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی جاری رکھنے کی تصدیق کر دی ہے، جس کے بعد خلیج میں کشیدگی مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا ہے کہ امریکا ایران کی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے والے جہازوں کے خلاف اپنی اعلان کردہ ’بحری ناکہ بندی‘ پر عمل درآمد جاری رکھے ہوئے ہے۔ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے بھارتی پرچم بردار دو جہازوں کو آبنائے ہرمز عبور کرنے سے روک دیا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق ایرانی گن بوٹس نے بھارتی جہازوں پر فائرنگ کی، تاہم واقعے میں کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔ بھارت نے اس واقعے پر سخت احتجاج کرتے ہوئے ایرانی سفیر کو طلب کر لیا ہے۔ بھارتی میڈیا نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ہفتے کے روز ایرانی گن بوٹس نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے دو بھارتی بحری جہازوں کو روکا اور ان پر فائرنگ کی، جس کی وجہ سے انہیں واپس لوٹنا پڑا۔ اس واقعے کے فوراً بعد بھارت نے ایرانی سفیر کو طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ بین الاقوامی شپنگ ڈیٹا اور ٹینکر ٹریکنگ سروس کے مطابق بھارت جانے والے دو جہاز ’جگ ارنَو‘ اور ’سنمار ہیرالڈ‘ آبنائے ہرمز کے شمال میں عمان کے قریب پہنچنے کے بعد واپس پلٹ گئے۔ سنمار ہیرالڈ ایک سُپر ٹینکر ہے جس پر 20 لاکھ بیرل عراقی تیل لدا ہوا تھا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق دونوں بحری جہازوں پر موجود عملہ محفوظ ہے، تاہم حملے کی نوعیت اور تفصیلات تاحال واضح نہیں ہوسکی ہیں, واضح رہے کہ ایران نے جمعہ کے روز تین شرائط کے تحت آبنائے ہرمز کو عالمی تجارتی جہازوں کے لیے کھولنے کا اعلان کیا تھا اور خبردار کیا تھا کہ اگر امریکا نے بحری ناکہ بندی جاری رکھی تو اسے جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کرتے ہوئے اس راستے کو دوبارہ بند کیا جا سکتا ہے۔ ایران کی جانب سے جنگ کے عرصے تک تجارتی جہازوں کے لیے آبنائے ہرمز کھولنے کے اعلان کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی بحری ناکہ بندی جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کے ساتھ تمام نکات پر سو فیصد نہ ہونے تک امریکی بحریہ ایرانی سمندری حدود کی مکمل ناکہ بندی جاری رکھے گی۔ دوسری طرف اسرائیل اور لبنان کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کے باوجود صہیونی افواج نے حملے جاری ہیں۔ جنوبی لبنان میں اقوامِ متحدہ کے امن مشن پر حملے میں ایک فرانسیسی فوجی ہلاک اور تین زخمی ہو گئے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز ’ایکس‘ پر جاری بیان میں جنگ بندی کے باوجود جنوبی لبنان میں متعدد حملوں کا اعتراف کیا ہے۔ یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب جنوبی لبنان کے کئی علاقوں پر صیہونی فوج کا قبضہ برقرار ہے۔ بیان میں اِن حملوں کو دفاعی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اُسے جنگ بندی کے باوجود اپنے فوجیوں اور اسرائیلی شہریوں کی حفاظت کے تحت کارروائیاں کرنے کا اختیار حاصل ہے۔مزید حملوں کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے شہریوں اور فوجیوں کو ممکنہ خطرے سے محفوظ رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گی ,
آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے دو تجارتی جہازوں پر فائرنگ کے واقعات کی تصدیق کی تھی۔یاد رہے کہ ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اس اہم بحری گزرگاہ کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے کھولنے کا اعلان کیا تھا تاہم ایران کی سینٹرل ملٹری کمانڈ نے ہفتے کی صبح امریکی بحری ناکہ بندی کے جواب میں آبنائے ہرمز دوبارہ بند کرنے کا اعلان کر دیا۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے نے ہفتے کے روز آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے دو تجارتی جہازوں پر فائرنگ کے واقعات کی تصدیق کی تھی۔ پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے آغاز پر ایران نے یومیہ بنیاد پر مخصوص تعداد میں جہازوں کو گزرنے کی اجازت دینے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔ تاہم لبنان میں جنگ بندی پر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث ایران نے اس معاہدے کو معطل کر دیا تھا، جسے اب دوبارہ فعال کر دیا گیا ہے۔

ایران کی پہلی شرط کے مطابق اس بحری راستے سے صرف تجارتی جہازوں کو گزرنے کی اجازت ہوگی جب کہ فوجی جہازوں کا داخلہ مکمل طور پر ممنوع ہوگا۔ دشمن ملک کے جہازوں یا ایسے جہاز جن پر دشمن ممالک کا سامان لدا ہوگا، انہیں یہ راستہ استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

دوسری شرط کے مطابق تمام بحری جہاز ایران کے متعین کردہ راستے سے ہی گزرنے کے پابند ہوں گے۔ رپورٹ کے مطابق ایران نے تیسری شرط کے تحت ان جہازوں کے پاسدارانِ انقلاب سے رابطے کو لازمی قرار دیا ہے۔ ایران کے مطابق آبنائے ہرمز کا استعمال کرنے والے جہازوں کو ایرانی فورسز کے ساتھ مستقل رابطے میں رہنا ہوگا۔

تسنیم نیوز کے مطابق سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے قریبی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ اگر خطے میں ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کا سلسلہ جاری رہا تو اسے جنگ بندی کی صریح خلاف ورزی تصور کیا جائے گا، جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی آمد و رفت پر دوبارہ پابنید عائد کی جاسکتی ہے۔
اس سے قبل ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق دیے گئے بیان میں واضح کیا تھا کہ یہ راستہ جنگ بندی کے عرصے تک ’تجارتی جہازوں‘ کے لیے کھولا گیا ہے اور ایران کی پورٹس اینڈ میری ٹائم آرگنائزیشن تجارتی جہازوں کے گزرنے کا روٹ بھی وضع کرچکی ہے۔ تاہم اس کے کچھ دیر بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اگرچہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے کھل چکا ہے لیکن ایران پر امریکی بحریہ کی ناکہ بندی اس وقت تک پوری طاقت سے برقرار رہے گی جب تک امریکا کی ایران کے ساتھ ڈیل 100 فیصد مکمل نہیں ہو جاتی۔ ایرانی صدر کے ترجمان نے بھی ٹرمپ کے مستقبل میں آبنائے ہرمز کو بند نہ کرنے کی یقین دہائی کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر امریکا نے معاہدے کی خلاف ورزی کی تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
(Asghar Ali Mubarak)….. The second round of talks between the US and Iran is expected soon; however, the re-closure of the Strait of Hormuz has put a question mark on the Iran-US-Islamabad talks. According to a senior Pakistani diplomatic analyst, President Diplomatic Correspondents Forum of Pakistan (DCFP) Asghar Ali Mubarak, the two-week ceasefire is ending on April 22. Pakistan is currently the center of world attention because reaching a final conclusion before the two-week ceasefire period ends is essential for regional peace, for which preparations in Islamabad have reached a peak.
Through diplomatic sources, he said that although the US and Iranian governments have not officially confirmed it, President Donald Trump had already indicated that talks could take place at the end of the week. It should be noted that the Islamabad talks held last week could not end with an agreement despite continuing for several hours, but now there are high hopes at the global level for the second round. US President Donald Trump says that good talks are taking place with Iran, in which the US has taken a tough stance. He said that Iran wants to close the Strait of Hormuz again, but now it cannot blackmail us. At the White House, President Trump said that we have completely destroyed Iran’s top leadership, navy, and air force. He said that we are still talking to Iran; whatever the situation regarding the agreement will be, it will be clear by the end of the day. You can call it a forced regime change; Iran cannot blackmail us anymore. President Trump said that Qassem Soleimani was targeted in Iran, the leadership of the regime was eliminated, Soleimani was responsible for the incapacitation and deaths of many American soldiers, neither their navy, nor their air force, nor any leader. Meanwhile, Iran had expressed its willingness to allow a certain number of ships to pass through on a daily basis after the ceasefire brokered by Pakistan began. However, due to the non-implementation of the ceasefire in Lebanon, Iran had suspended the agreement, which has now been reactivated. According to Iran’s semi-official Tasnim news agency, Iran has not yet approved the next round of talks with the United States. It has been reported that no agreement could be reached on a new round of talks in the current situation, citing relevant officials. According to sources, the impasse arose due to the announcement of a naval blockade against Iran by the United States and the tough demands made in the talks. There has been an exchange of messages between the two countries in recent days, but despite this, no progress has been made. The two-week ceasefire brokered by Pakistan is ending next week on April 22, which has made the Islamabad talks extremely important. Iranian officials have made it clear that for the continuation of the talks, it is necessary for the US to avoid unnecessary and excessive demands; Iran will not participate in long and fruitless talks.

According to Tasnim, sources further said that Iran has conveyed its position to US officials through Pakistan, while the future situation will depend on the decisions of both sides.

A main event is the tightening control over the Strait of Hormuz, impacting diplomatic negotiations. Saeed Khatibzadeh, Iran’s Deputy Foreign Minister, emphasizes that no date is set for renewed talks as finalizing the negotiation framework is the current priority. Security preparations for pivotal talks in Islamabad are extensive, with heightened police presence and restricted access in sensitive areas. Iran’s conditions for allowing commercial passage through the Strait of Hormuz have been outlined, including a ban on military shipping and mandatory coordination with the Revolutionary Guards. Iranian officials warn that a continued naval blockade against Iran will be interpreted as a ceasefire violation, potentially leading to further restrictions on shipping. Amid new tensions, ship tracking shows hundreds of vessels affected and at least two commercial ships reportedly fired upon. Iranian authorities declare US naval actions as piracy, reinforcing control over the Strait and reflecting the core issue shaping the ongoing diplomatic crisis.
The closure of the Strait of Hormuz by Iran is the central event being commented on by Ebrahim Azizi, head of Iran’s National Security Commission. He references warnings previously given regarding the consequences and points to recent increased maritime activity following US and Israeli actions against Iran.
Iranian officials have made it clear that this situation will continue until the US removes the obstacles imposed on the movement of Iranian ships. On the other hand, the US military has confirmed the continuation of the naval blockade against Iran, after which tensions in the Gulf are likely to increase further. The US Central Command (CENTCOM) has said in a statement on the social media platform ‘X’ that the US is continuing to implement its declared ‘naval blockade’ against ships entering or leaving Iranian ports and coastal areas. The Iranian Revolutionary Guard Corps has prevented two Indian-flagged ships from passing through the Strait of Hormuz. According to Indian media, Iranian gunboats fired on the Indian ships, but there was no loss of life or property in the incident. India has strongly protested the incident and summoned the Iranian ambassador. Indian media has claimed, citing sources, that on Saturday, Iranian gunboats stopped two Indian ships passing through the Strait of Hormuz and opened fire on them, due to which they had to turn back. Immediately after this incident, India summoned the Iranian ambassador and registered a protest. According to the International Shipping Data and Tanker Tracking Service, two ships bound for India, the ‘Jag Arno’ and the ‘Sanmar Herald’, turned back after approaching Oman, north of the Strait of Hormuz. The Sanmar Herald is a supertanker carrying 2 million barrels of Iraqi oil. According to Indian media, the crew on both ships is safe, but the nature and details of the attack are not yet clear. It should be noted that Iran had announced on Friday that it would open the Strait of Hormuz to international commercial ships under three conditions and warned that if the US continued the naval blockade, it would be considered a violation of the ceasefire and the route could be closed again. After Iran announced that it would open the Strait of Hormuz to commercial ships for the duration of the war, US President Donald Trump announced that the naval blockade of Iran would continue. President Trump said in his statement that the US Navy would continue to completely blockade Iranian maritime borders until all points are 100 percent with Iran. On the other hand, despite the 10-day ceasefire between Israel and Lebanon, the Zionist forces continue to attack. A French soldier was killed, and three were injured in an attack on a UN peacekeeping mission in southern Lebanon. The Israeli army, in a statement issued on ‘X’ on Saturday, admitted to multiple attacks in southern Lebanon despite the ceasefire. These attacks were carried out at a time when the Zionist army continued to occupy many areas of southern Lebanon. The statement described the attacks as defensive measures and said that it has the authority to carry out operations to protect its soldiers and Israeli citizens despite the ceasefire. It has hinted at further attacks and said that it will continue to take all necessary measures to protect its citizens and soldiers from possible danger.
It had confirmed the shooting of two commercial ships trying to pass through the Strait of Hormuz. It should be noted that Iran had announced the opening of this important sea passage to all commercial ships after the ceasefire in Lebanon; however, Iran’s Central Military Command announced the closure of the Strait of Hormuz again on Saturday morning in response to the US naval blockade. The international news agency had confirmed the shooting of two commercial ships trying to pass through the Strait of Hormuz on Saturday. The United States and Iran are in secret talks on a three-page deal to end the war, with the biggest deal being to release frozen assets in exchange for Iran’s nuclear stockpile. The US news website Axios reported, citing two US officials and sources familiar with the talks, that under the deal, the US is willing to release $20 billion in frozen Iranian funds on the condition that Iran completely dismantles its stockpile of enriched uranium. Although there has been steady progress in the talks this week, there are still major gaps between the two sides that are being bridged. President Donald Trump said that US and Iranian negotiators will likely meet later this week for a second round of talks to finalize the deal. The talks are expected to take place in Islamabad, as Pakistan is playing the role of mediator in the entire process. According to the report, the Trump administration’s top priority is to prevent Iran from accessing the 2,000 kilograms of enriched uranium, especially the 450 kilograms of material enriched to 60 percent, in its underground nuclear facilities, while Iran is currently in dire need of money to support its economy. The report said that initially, the United States had offered to release $6 billion for humanitarian needs such as food and medicine, but Iran had demanded $27 billion. Now the two sides are talking about $20 billion. The report said that one US official called it a US proposal while another described it as just part of the discussion. The report claims that efforts are being made to find a middle ground on the transfer of nuclear material. The US wanted all the material to be transferred, while Iran was only willing to down-blend it within its country. According to the report, the proposal now under discussion is that some of the material would be transferred to a third country and the rest would be disposed of within Iran under international supervision. In addition, Iran has been asked to voluntarily suspend nuclear enrichment for 20 years, but Iran has agreed to only five years. The first major convoy of oil tankers began passing through the Strait of Hormuz, a key global waterway that has been closed since the US and Israel attacked Iran seven weeks ago. However, the Revolutionary Guards have closed the sea passage again, accusing the US of violating the ceasefire agreement. According to marine traffic data, four large ships carrying liquefied petroleum gas and chemicals were recorded passing through Iranian waters on Saturday, and it was claimed that more tankers were following them from the Gulf. However, shortly after, the Revolutionary Guards announced the closure of the Strait of Hormuz again. The development comes at a time when diplomatic efforts between the United States and Iran for a ceasefire and lasting peace are at a peak. US President Donald Trump, while talking to reporters in Washington, hinted at some “good news” regarding Iran, but he refrained from giving details. Trump said that things are going very well with Iran in the Middle East and that talks are expected to continue over the weekend. He made it clear that our main goal is that Iran does not have nuclear weapons, because this issue takes precedence over everything else. On the other hand, Pakistan is currently playing the role of a key mediator in these talks. Pakistani Army Chief Field Marshal Asim Munir has returned from three days of talks in Tehran, while Prime Minister Shehbaz Sharif has also completed visits to Qatar, Saudi Arabia, and Turkey. An initial memorandum of understanding may emerge from this meeting between the United States and Iran in Islamabad, after which a full peace agreement can be reached within 60 days. However, it is still unclear whether a direct high-level meeting between the two countries will be held this weekend. The nuclear program remains the biggest obstacle in the negotiations. President Trump claims that the United States will remove Iran’s stockpile of enriched uranium, while Iranian Foreign Ministry spokesman Esmail Baqai has categorically stated that the material will not be transferred out of the country under any circumstances. Senior clerics have also taken a tougher tone during Friday gatherings in Iran, with Allama Ahmad Khatami saying that our nation does not negotiate on the basis of humiliation. Despite these differences, oil prices have seen a 10 percent drop in global markets.بسته شدن مجدد تنگه هرمز؛ علامت سوال در مذاکرات ایران، آمریکا و اسلام آباد….
(اصغر علی مبارک)….. دور دوم مذاکرات بین آمریکا و ایران به زودی برگزار خواهد شد، با این حال، بسته شدن مجدد تنگه هرمز علامت سوال در مذاکرات ایران، آمریکا و اسلام آباد ایجاد کرده است. به گفته اصغر علی مبارک، تحلیلگر ارشد دیپلماتیک پاکستانی و رئیس انجمن خبرنگاران دیپلماتیک پاکستان (DCFP)، آتش بس دو هفته‌ای در ۲۲ آوریل به پایان می‌رسد. پاکستان در حال حاضر مرکز توجه جهانی است زیرا رسیدن به نتیجه نهایی قبل از پایان دوره آتش بس دو هفته‌ای برای صلح منطقه‌ای ضروری است، صلحی که مقدمات آن در اسلام آباد به اوج خود رسیده است.

وی از طریق منابع دیپلماتیک گفت که اگرچه دولت‌های آمریکا و ایران رسماً آن را تأیید نکرده‌اند، اما دونالد ترامپ، رئیس جمهور، پیش از این اعلام کرده بود که مذاکرات می‌تواند در پایان هفته برگزار شود. لازم به ذکر است که مذاکرات اسلام آباد که هفته گذشته برگزار شد، با وجود ادامه چند ساعته، نتوانست با توافقی به پایان برسد، اما اکنون امیدهای زیادی در سطح جهانی برای دور دوم وجود دارد. دونالد ترامپ، رئیس جمهور آمریکا، می‌گوید مذاکرات خوبی با ایران در حال انجام است که در آن آمریکا موضع سختی اتخاذ کرده است. او گفت که ایران می‌خواهد دوباره تنگه هرمز را ببندد، اما اکنون نمی‌تواند ما را باج‌گیری کند. رئیس جمهور ترامپ در کاخ سفید گفت که ما رهبری ارشد، نیروی دریایی و نیروی هوایی ایران را کاملاً نابود کرده‌ایم. او گفت که ما هنوز با ایران در حال مذاکره هستیم، هر چه وضعیت در مورد توافق باشد، تا پایان روز مشخص خواهد شد، می‌توانید آن را تغییر اجباری رژیم بنامید، ایران دیگر نمی‌تواند ما را باج‌گیری کند. رئیس جمهور ترامپ گفت که قاسم سلیمانی در ایران هدف قرار گرفت، رهبری رژیم از بین رفت، سلیمانی مسئول ناتوانی و مرگ بسیاری از سربازان آمریکایی بود، نه نیروی دریایی آنها، نه نیروی هوایی آنها و نه هیچ رهبری. در همین حال، ایران پس از شروع آتش‌بس با میانجیگری پاکستان، تمایل خود را برای اجازه عبور روزانه تعداد مشخصی از کشتی‌ها ابراز کرده بود. با این حال، به دلیل عدم اجرای آتش‌بس در لبنان، ایران توافق را به حالت تعلیق درآورده بود که اکنون دوباره فعال شده است. به گزارش خبرگزاری نیمه رسمی تسنیم، ایران هنوز دور بعدی مذاکرات با ایالات متحده را تأیید نکرده است. به نقل از مقامات مربوطه، گزارش شده است که در شرایط فعلی هیچ توافقی برای دور جدید مذاکرات حاصل نشده است. به گفته منابع، این بن‌بست به دلیل اعلام محاصره دریایی علیه ایران توسط ایالات متحده و خواسته‌های سختگیرانه مطرح شده در مذاکرات ایجاد شده است. در روزهای اخیر تبادل پیام‌هایی بین دو کشور صورت گرفته است، اما با وجود این، هیچ پیشرفتی حاصل نشده است. آتش‌بس دو هفته‌ای که با میانجیگری پاکستان برقرار شده بود، هفته آینده در ۲۲ آوریل به پایان می‌رسد که مذاکرات اسلام‌آباد را بسیار مهم کرده است. مقامات ایرانی تصریح کرده‌اند که برای ادامه مذاکرات، لازم است ایالات متحده از خواسته‌های غیرضروری و بیش از حد خودداری کند، در غیر این صورت ایران در مذاکرات طولانی و بی‌نتیجه شرکت نخواهد کرد.

به گزارش تسنیم، منابع همچنین گفتند که ایران موضع خود را از طریق پاکستان به مقامات آمریکایی منتقل کرده است، در حالی که وضعیت آینده به تصمیمات هر دو طرف بستگی دارد.

در همین راستا، سعید خطیب‌زاده، معاون وزیر امور خارجه ایران، گفت که هنوز تاریخی برای مذاکرات تعیین نشده است. در حال حاضر تمرکز بر نهایی کردن چارچوب مذاکرات است. آنها نمی‌خواهند چنین مذاکراتی به شکست منجر شود. تا زمانی که چارچوب نهایی نشود، نمی‌توانند تاریخی برای مذاکرات اعلام کنند. تمهیدات امنیتی فوق‌العاده‌ای در پایتخت فدرال برای مذاکرات اسلام‌آباد در نظر گرفته شده و کل شهر در حالت آماده‌باش قرار گرفته است. پلیس اسلام‌آباد توسط پلیس پنجاب و سایر سازمان‌های اجرای قانون پشتیبانی می‌شود و بیش از ۷۰۰۰ پرسنل امنیتی در سراسر شهر مستقر شده‌اند. امنیت به ویژه در منطقه قرمز تشدید شده و مسیرهای ورودی و خروجی شهر در حال بررسی است. به دلایل امنیتی، دولت تمام ایستگاه‌های اتوبوس در شهر را تا اطلاع ثانوی بسته است. از سوی دیگر، شهر قدرت نیز برای این مأموریت مهم دیپلماتیک تزئین شده است. طبق شرط اول ایران، فقط کشتی‌های تجاری اجازه عبور از این مسیر دریایی را خواهند داشت، در حالی که ورود کشتی‌های نظامی کاملاً ممنوع خواهد بود. کشتی‌های کشورهای دشمن یا کشتی‌های حامل کالاهای دشمن اجازه استفاده از این مسیر را نخواهند داشت. طبق شرط دوم، همه کشتی‌ها موظف خواهند بود از مسیری که ایران مشخص کرده عبور کنند. طبق این گزارش، ایران طبق شرط سوم، تماس این کشتی‌ها با سپاه پاسداران را الزامی کرده است. به گفته ایران، کشتی‌هایی که از تنگه هرمز استفاده می‌کنند باید در تماس مداوم با نیروهای ایرانی باشند. منابع نزدیک به شورای عالی امنیت ملی تصریح کرده‌اند که اگر محاصره دریایی علیه ایران در منطقه ادامه یابد، نقض آشکار آتش‌بس تلقی خواهد شد که می‌تواند منجر به اعمال مجدد محدودیت‌هایی برای کشتی‌های عبوری از تنگه هرمز شود. پیش از این، عباس عراقچی، وزیر امور خارجه ایران، در بیانیه‌ای در مورد بازگشایی تنگه هرمز تصریح کرده بود که این مسیر برای «کشتی‌های تجاری» در طول مدت آتش‌بس باز شده است و سازمان بنادر و دریانوردی ایران نیز مسیری را برای عبور کشتی‌های تجاری ترسیم کرده است.در همین راستا، سعید خطیب‌زاده، معاون وزیر امور خارجه ایران، گفت که هنوز تاریخی برای مذاکرات تعیین نشده است، تمرکز بر نهایی کردن چارچوب است، آنها مذاکراتی را که منجر به شکست شود، نمی‌خواهند، تا زمانی که چارچوب نهایی نشود، نمی‌توانند تاریخی برای مذاکرات تعیین کنند. به گفته سعید خطیب‌زاده، در واقع پیشرفت بزرگی حاصل شد، اما پس از آن، طرز فکر حداکثری اجازه توافق نداد، آنها چیزی فراتر از قوانین بین‌المللی را نمی‌پذیرند، هر وعده‌ای که بدهند در چارچوب قوانین بین‌المللی خواهد بود. پیش از این، محمدباقر قالیباف، رئیس مجلس ایران، ادعاهای دونالد ترامپ، رئیس جمهور آمریکا، در مورد مذاکرات بین ایران و آمریکا را رد کرده و آنها را مبتنی بر دروغ خوانده بود. باقر قالیباف در پیام خود در شبکه‌های اجتماعی گفت که هر هفت ادعای مطرح شده توسط ترامپ نادرست است و هیچ ارتباطی با واقعیت ندارد. وی گفت که هیچ نتیجه‌ای در گذشته از طریق اظهارات نادرست حاصل نشده و در آینده نیز ممکن نخواهد بود. وی با اشاره به وضعیت تنگه هرمز گفت که اگر تحریم‌ها ادامه یابد، نمی‌توان این آبراه را باز نگه داشت. به گفته وی، اجازه ایران و رعایت مقررات تعیین‌شده برای عبور از این مسیر ضروری خواهد بود. وی افزود که تصمیمات مربوط به تنگه هرمز بر اساس واقعیت‌های میدانی گرفته می‌شود و نه بر اساس رسانه‌های اجتماعی. در عین حال، او همچنین گفت که تلاش‌ها برای تأثیرگذاری بر افکار عمومی از طریق رسانه‌ها بخشی از یک استراتژی جنگی است. لازم به ذکر است که روز شنبه، ترافیک دریایی در تنگه هرمز به شدت آشفته و پرتنش شد و هزاران کشتی سرگردان شدند، در حالی که بسیاری از کشتی‌ها مسیر خود را تغییر داده و بازمی‌گردند. فرماندهی مشترک نظامی سپاه پاسداران ایران اعلام کرده است که با تکیه بر محاصره آمریکا، دوباره کنترل تنگه هرمز را تشدید خواهد کرد. بر اساس این گزارش، اگرچه ایران یک روز قبل گفته بود که مسیر را برای کشتی‌های تجاری باز نگه می‌دارد، چندین کشتی که سعی در عبور از تنگه هرمز داشتند، به ویژه هنگامی که به جزیره لارک نزدیک شدند، برگشتند. برخی از کشتی‌ها موفق به حرکت به سمت خلیج عمان شدند، اما برخی از آنها نیز محدود شدند. طبق ردیابی کشتی‌ها، تعداد زیادی از کشتی‌ها در حال حاضر مسیر خود را تغییر داده و به سمت غرب بازمی‌گردند، در حالی که هزاران کشتی سرگردان هستند و اکثر شرکت‌ها برای جلوگیری از هرگونه خطری، سیاست انتظار و مشاهده را اتخاذ می‌کنند. گزارش شده است که حداقل دو کشتی تجاری که سعی در عبور از تنگه هرمز داشتند، روز شنبه مورد اصابت گلوله قرار گرفته‌اند. این اطلاعات توسط سه منبع مختلف امنیتی دریایی و کشتیرانی ارائه شده است. فرماندهی مشترک نظامی سپاه پاسداران انقلاب اسلامی ایران، محاصره نیروی دریایی ایالات متحده را دزدی دریایی و نقض عهد اعلام کرده و اعلام کرده است که کنترل تنگه هرمز دوباره تشدید شده است. همچنین گزارش‌هایی مبنی بر تیراندازی به دو کشتی تجاری که از این مسیر عبور می‌کردند، روز شنبه منتشر شده است. بر اساس این گزارش، برخی از کشتی‌ها همچنین یک پیام رادیویی از نیروی دریایی ایران دریافت کردند که آنها را از بسته شدن مجدد تنگه هرمز مطلع می‌کرد و هشدار می‌داد که اکنون هیچ کشتی اجازه استفاده از این گذرگاه را ندارد.

در بیانیه‌ای که در پلتفرم رسانه اجتماعی «X» منتشر شد، ابراهیم عزیزی، رئیس کمیسیون امنیت ملی مجلس ایران، این وضعیت را به سخره گرفت و گفت: «ما به شما هشدار دادیم، اما شما ما را نادیده گرفتید.» اکنون از بسته شدن تنگه هرمز لذت ببرید.» پیش از این، داده‌های ردیابی دریایی حرکت کاروانی متشکل از ۸ نفتکش را نشان داده بود که اولین فعالیت دریایی عمده در این مسیر پس از حملات آمریکا و اسرائیل به ایران بود.

مقامات ایرانی تصریح کرده‌اند که این وضعیت تا زمانی که آمریکا موانع اعمال شده بر حرکت کشتی‌های ایرانی را برطرف نکند، ادامه خواهد داشت. از سوی دیگر، ارتش آمریکا ادامه محاصره دریایی علیه ایران را تأیید کرده است و پس از آن احتمالاً تنش‌ها در خلیج فارس بیشتر افزایش خواهد یافت. فرماندهی مرکزی ایالات متحده (CENTCOM) در بیانیه‌ای در پلتفرم رسانه اجتماعی «X» اعلام کرده است که ایالات متحده همچنان به اجرای «محاصره دریایی» اعلام شده خود علیه کشتی‌هایی که وارد یا از بنادر و مناطق ساحلی ایران می‌شوند، ادامه می‌دهد. سپاه پاسداران انقلاب اسلامی ایران از عبور دو کشتی با پرچم هند از تنگه هرمز جلوگیری کرده است. به گفته رسانه‌های هندی، قایق‌های توپدار ایرانی به کشتی‌های هندی شلیک کردند، اما این حادثه هیچ خسارت جانی یا مالی نداشته است. هند به شدت به این حادثه اعتراض کرده و سفیر ایران را احضار کرده است. رسانه‌های هندی به نقل از منابعی مدعی شده‌اند که روز شنبه، قایق‌های توپدار ایرانی دو کشتی هندی را که از تنگه هرمز عبور می‌کردند، متوقف کرده و به سمت آنها آتش گشودند که به دلیل آن، کشتی‌ها مجبور به بازگشت شدند. بلافاصله پس از این حادثه، هند سفیر ایران را احضار و مراتب اعتراض خود را اعلام کرد. طبق گزارش سرویس بین‌المللی داده‌های کشتیرانی و ردیابی نفتکش‌ها، دو کشتی عازم هند، «جاگ آرنو» و «سنمار هرالد»، پس از نزدیک شدن به عمان، در شمال تنگه هرمز، بازگشتند. سنمار هرالد یک ابرنفتکش حامل ۲ میلیون بشکه نفت عراق است. به گفته رسانه‌های هندی، خدمه هر دو کشتی در سلامت هستند، اما ماهیت و جزئیات حمله هنوز مشخص نیست.لازم به ذکر است که ایران روز جمعه اعلام کرده بود که تنگه هرمز را تحت سه شرط به روی کشتی‌های تجاری بین‌المللی باز خواهد کرد و هشدار داده بود که اگر ایالات متحده به محاصره دریایی ادامه دهد، این اقدام نقض آتش‌بس تلقی شده و ممکن است این مسیر دوباره بسته شود. پس از آنکه ایران اعلام کرد که تنگه هرمز را برای کشتی‌های تجاری در طول جنگ باز خواهد کرد، دونالد ترامپ، رئیس جمهور آمریکا، اعلام کرد که محاصره دریایی ایران ادامه خواهد یافت. رئیس جمهور ترامپ در بیانیه خود گفت که نیروی دریایی ایالات متحده به محاصره کامل مرزهای دریایی ایران ادامه خواهد داد تا زمانی که همه نقاط به طور ۱۰۰ درصد با ایران باشد. از سوی دیگر، با وجود آتش‌بس ۱۰ روزه بین اسرائیل و لبنان، نیروهای صهیونیستی همچنان به حملات خود ادامه می‌دهند. یک سرباز فرانسوی در حمله به یک مأموریت صلح‌بانی سازمان ملل در جنوب لبنان کشته و سه نفر دیگر زخمی شدند. ارتش اسرائیل، در بیانیه‌ای که روز شنبه در تاریخ «X» منتشر شد، به حملات متعدد در جنوب لبنان علیرغم آتش‌بس اعتراف کرد. این حملات در زمانی انجام شد که ارتش صهیونیستی همچنان مناطق زیادی از جنوب لبنان را اشغال می‌کند. این بیانیه این حملات را به عنوان اقدامات دفاعی توصیف کرد و گفت که علیرغم آتش‌بس، اختیار انجام عملیات برای محافظت از سربازان و شهروندان اسرائیلی خود را دارد. این بیانیه به حملات بیشتر اشاره کرده و گفته است که به اتخاذ تمام اقدامات لازم برای محافظت از شهروندان و سربازان خود در برابر خطرات احتمالی ادامه خواهد داد.

این بیانیه تیراندازی به دو کشتی تجاری که سعی در عبور از تنگه هرمز داشتند را تأیید کرده بود. لازم به ذکر است که ایران پس از آتش‌بس در لبنان، از بازگشایی این گذرگاه مهم دریایی به روی همه کشتی‌های تجاری خبر داده بود، با این حال، فرماندهی مرکزی ارتش ایران صبح شنبه در پاسخ به محاصره دریایی آمریکا، دوباره از بستن تنگه هرمز خبر داد. این خبرگزاری بین‌المللی تیراندازی به دو کشتی تجاری که سعی در عبور از تنگه هرمز داشتند را در روز شنبه تأیید کرده بود.