ماہ رمضان المبار ک کا آخری جمعہ جسے جمعۃ الوداع کہتے ہیں دنیا بھر میں فلسطین کے نا م سے منسوب ہے۔ اس دن کو ”یوم القدس“ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ اس دن کو یوم القدس کا لقب ایران میں اسلامی انقلاب کے بانی اورروحانی پیشوا امام خمینی نے دیا تھا۔لہٰذا رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو یوم القدس قرار دیا گیااور پھر دیکھتے ہی دیکھتے فلسطین سمیت دنیا کے دیگر ممالک میں اقوام عالم نے اس دن کو فلسطینیوں کے دن کے طورپر منانا شروع کر دیا۔آج بھی یوم القدس پوری دنیا بشمول فلسطین میں فلسطین کی آزادی اور بیت المقدس کی بازیابی کا دن منایا جاتا ہے۔امام خمینی کے اس اقدام سے واضح ہوتا ہے کہ امام خمینی کی جدوجہد صرف ایران تک محدود نہیں بلکہ وہ پوری دنیا کے مسلمانوں اور انسانوں کی ظالم طاقتوں کے مقابلہ میں کامیابی کے خواہاں تھے۔ فلسطین کاز کی حمایت اور فلسطینیوں کے لئے جدوجہد بھی امام خمینی کی زندگی کا بے مثال نمونہ ہےسب سے پہلے جمہوریہ ایران کے پہلے وزیر خارجہ ابراہیم یزدی نے ہر سال ایک صیہونی مخالف دن منانے کی تجویز ایرانی انقلاب کے رہنما روح اللہ خمینی کے سامنے پیش کی تھی۔ اس وقت اسرائیل اور لبنان میں سخت کشیدگی جاری تھی اور دونوں ملکوں کے درمیان یہی تناؤ اس تجویز کا باعث تھا۔ خمینی کو یزدی کی یہ تجویز پسند آئی اور 7 اگست 1979ء میں انھوں نے اعلان کر دیا کہ ہر سال رمضان کے آخری جمعہ یعنی جمعۃ الوداع کو یوم القدس منایا جائے گا اور اس دن دنیا بھر کے مسلمان اسرائیل کے مظالم کے خلاف اور فلسطینوں کے حق میں احتجاج اور اتحاد کا مظاہرہ کریں گے۔ نیز آیت اللہ روح اللہ خمینی نے یہ بھی اعلان کیا کہ یروشلم کی آزادی تمام مسلمانوں کا مذہبی فریضہ ہے۔ اس دن انھوں نے اعلان کیا کہ دنیا بھر کے مسلمانوں سے اپیل ہے کہ وہ ماہ رمضان کے آخری جمعے کو یوم القدس قرار دیں اور اس دن فلسطین کے مسلمان عوام کے قانونی حقوق کی حمایت میں اپنے اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔آیت اللہ روح اللہ خمینی نے کہا کہ ” میں عرصہ دراز سے تمام مسلمانوں کو غاصب اسرائیل کے خطرے سے آگاہ کر رہا ہوں، جس نے ان دنوں ہمارے فلسطینی بہن بھائیوں پر اپنے مظالم میں اضافہ کر دیا ہے اور خاص طور پر جنوبی لبنان میں فلسطینی مجاہدین کے خاتمے کے لیے ان کے گھروں پر مسلسل بمباری کر رہا ہے”۔ آیت اللہ روح اللہ خمینی نے کہا کہ میں پورے عالم اسلام کے مسلمانوں اور اسلامی حکومتوں سے درخواست کرتا ہوں کہ اس غاصب اور اس کے حامیوں کے ہاتھ کاٹنے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ متحد ہو جائیں اور تمام مسلمانوں کو دعوت دیتا ہوں کہ رمضان المبارک کے آخری جمعے کے دن جو ایام قدر میں سے بھی ہے اور فلسطینی عوام کی تقدیر کو واضح کرنے کا دن بھی ہو سکتا ہے، اس کو ‘یوم القدس’ قرار دیں اور کسی پروگرام کے ذریعے بین الاقوامی طور پر ان مسلمان عوام کے ساتھ تمام مسلمانوں کی ہمدردی کا اعلان کریں۔ اللہ تعالٰی سے دعا کرتا ہوں کہ وہ مسلمانوں کو کافروں پر فتح عنایت کرے۔ یوم القدس کے موقع پر اسرائیل کے خلاف اس طرح کے مظاہرے مشرقی وسطیٰ کے بہت سے ممالک حتیٰ کہ کچھ یورپی ممالک اور امریکی ریاستوں میں بھی ہوتے ہیں۔ سنہ 2018ء میں لندن کے مظاہرے میں تین ہزار افراد جبکہ برلن میں سولہ سو افراد نے شرکت کی۔ نیز سنہ 2017ء میں یوم القدس کی مناسبت سے امریکا کے کم از کم اٹھارہ شہروں میں ریلیاں نکالی گئیں, یوم القدس کا آغاز اس لیے کیا گیا تھا کہ اسرائیل کی مخالفت میں تمام مسلمانوں کو متحد کیا جائے اس دن کی تقریبات میں عوامی ریلیاں اور مظاہرے ہی قابل ذکر ہیں۔ اس موقع پر ایران کے متعدد رہنما ایران کے دشمنوں، اسرائیل اور امریکا وغیرہ کے خلاف خوب خوب اشتعال انگیز تقریریں کرتے اور ان کی مذمت کرتے ہیں۔ جواب میں عوام بھی چیخ چیخ کر “اسرائیل مردہ باد” اور “امریکا مردہ باد” کے نعرے لگاتے ہیں, یوم القدس کے موقع پر اسرائیل کے خلاف اس طرح کے مظاہرے مشرقی وسطیٰ کے بہت سے ممالک حتیٰ کہ کچھ یورپی ممالک اور امریکی ریاستوں میں بھی ہوتے ہیں۔ سنہ 2018ء میں لندن کے مظاہرے میں تین ہزار افراد جبکہ برلن میں سولہ سو افراد نے شرکت کی۔ نیز سنہ 2017ء میں یوم القدس کی مناسبت سے امریکا کے کم از کم اٹھارہ شہروں میں ریلیاں نکالی گئیں۔دوسری جانب فلسطینی مسلمان اقوام کی طرف سوالیہ نظروں سے بھی دیکھ رہے ہیں کہ کب تک ہم اپنی روز مرہ کی نمازوں اور عبادات میں مشغول رہیں گے؟ کب تک ہم مساجد میں بیٹھ کر فقط دعائیں کرنے پر اکتفا کریں گے؟ افسوس کہ مسلمان اقوام کے پاس فلسطینیوں کے سوالوں کے جواب نہیں ہے۔فلسطینی عوام اپنے فیصلوں پر کاربند ہیں۔