…..”وفا کی تصویرو تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں” ..ہیلی کاپٹر حادثہ کے شہدا سپرد خاک…………(اندر کی بات ؛کالم نگار؛اصغرعلی مبارک)…………….چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کوئٹہ پہنچ گئے، جہاں انہوں نے ہیلی کاپٹر حادثے میں شہید فوجی افسران کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف نے کوئٹہ گیریژن میں لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی شہید اور بریگیڈیئر محمد خالد شہید کی نماز نمازہ ادا کی۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان میر جان محمد جمالی، وزیر اعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو، صوبائی وزرا اور دیگر اہم و عسکری شخصیات کے علاوہ عزیز و اقارب نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔بعد ازاں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے دونوں فوجی افسران کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔ علاوہ ازیں آرمی چیف زیارت میں شہید ہونے والے لیفٹیننٹ کرنل لیئق بیگ مرزا شہید کے اہل خانہ سے بھی ملے۔نماز جنازہ کے بعد لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی شہید اور بریگیڈیئر محمد خالد شہیدکا جسد خاکی راولپنڈی روانہ کیا گیا۔ واضح رہے کہ ہیلی کاپٹر حادثے میں شہید ہونے والے فوجی افسران لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی، میجر جنرل امجد حنیف اور بریگیڈیئر محمد خالد کی نماز جنازہ شام ساڑھے پانچ بجے آرمی قبرستان راولپنڈی میں بھی ادا کی گئی علاوہ ازیں میجر جنرل طلحہ منان کی نماز جنازہ راولپنڈی میں ادا کردی گئی، جس میں چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل اظہر عباس اور کور کمانڈر راولپنڈی ساحر شمشاد نے بھی شرکت کی۔ دریں اثنا میجر محمد سعید کی نماز جنازہ لاڑکانہ میں ان کے آبائی علاقے میں ادا کی گئی۔ نائیک مدثر فیاض کی نماز جنازہ شکر گڑھ نارووال میں ادا کی گئی۔ تینوں شہدا کی تدفین کے وقت انہیں گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔شہید فوجی افسران کی نماز جنازہ راولپنڈی کے ریس کورس گراؤنڈ میں اصدر پاکستان سمیت اہم شخصیات نے شرکت کی۔واضح رہے کہ بلوچستان میں حادثے کا شکار ہونے والے پاک فوج کے لاپتا ہیلی کاپٹر کا ملبہ گزشتہ روز مل گیا تھا، جس میں سوار کور کمانڈر کوئٹہ سمیت تمام 6 افسران و جوانوں کی شہادت کی تصدیق کی گئی تھی۔ ابتدائی تحقیقات میں بتایا گیا تھا کہ حادثہ خراب موسم کے باعث پیش آیا۔ مزید یہ کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور بلوچستان میں ہیلی کاپٹر حادثے میں فوجی افسران اور جوانوں کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا صدر مملکت نے آرمی چیف سے کور کمانڈر 12 کور لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی، ڈائریکٹر جنرل پاکستان کوسٹ گارڈ میجر جنرل امجد حنیف، 12 کور کے بریگیڈیئر محمد خالد، پائلٹ میجر سعید احمد، معاون پائلٹ میجر محمد طلحہٰ منان اور نائیک مدثر فیاض کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کے لیے بلندی درجات کی دعا کی اور ان کے اہلخانہ کے لیے اظہار تعزیت بھی کیا۔صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ملک و قوم کے لیے شہدا کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ قوم کے فرض شناس بیٹے بلوچستان میں سیلاب سے متعلق امدادی کاموں میں مصروف تھے اور انہوں نے اپنے فرض کی ادائیگی اور قوم کی خدمت کے لیے انتہائی جانفشانی، محنت اور لگن سے کام کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔بے لوث خدمت کے جذبے سے سرشار یہ سپوت قوم کے محسن ہیں۔وزیر اعظم شہباز شریف نے کور کمانڈر کوئٹہ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی سمیت پاک فوج کے 6 افسران اور جوان کی شہادت پر گہرے رنج وغم اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پوری قوم اپنے شہدا کو سلام پیش کرتی ہے۔وطن کے یہ بیٹے قوم کا فخر ہیں جنہوں نے اپنی جانیں سیلاب میں گھرے اپنے ہم وطنوں کی جانیں بچانے کے لیے وار دیں۔لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی اور ان کے ساتھی انسانیت کی خدمت اور فرض کی بجاآوری کی روشن مثال بنے ہیں، لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی ایک بہترین پرفیشنل، فرض شناس اور قابل افسر ہونے کے ساتھ انتہائی ایماندار اور ایک اچھے انسان تھےان کا کہنا تھا کہ پوری قوم اس حادثے پر انتہائی مغموم اور افسردہ ہے، ہم شہدا کے اہلخانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کرتے ہیں، پوری قوم شہدا کے اہل خانہ کے غم میں شریک ہے، اللہ تعالیٰ شہدا کے درجات بلند فرمائے اور اہل خانہ کو صبر جمیل اور اجر عظیم دے۔خیال رہے کہ پیر کی رات ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک ٹوئٹ میں بتایا کہ اوتھل سے کراچی جاتے ہوئے آرمی ایوی ایشن کا ہیلی کاپٹر لاپتا ہوگیا ہے جس میں کور کمانڈر 12 کور سمیت 6 افراد سوار تھے اور ہیلی کاپٹر سے فلڈ ریلیف آپریشن کا معائنہ کررہے تھے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ہیلی کاپٹر کا ائیر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ منقطع ہوگیا وہ علاقہ جہاں سے ہیلی کاپٹر لاپتا ہوا وہ پہاڑی علاقہ ہے، یہاں تک کہ جیپ کے راستے بھی نہیں ہیں، جس کی وجہ سے تلاش اور ریسکیو ٹیموں کے لیے یہ انتہائی مشکل ہے۔اس علاقے میں آپ پیدل یا موٹر سائیکل پر جائیں یا فضائی نگرانی کریں۔دیگر مشکلات میں سیل فون کی کوریج کی کمی اور بجلی نہ ہونا شامل ہیں، یہ بھی بتایا گیا تھا کہ پولیس نے تلاشی مہم میں مدد کے لیے مقامی رضاکاروں کی خدمات حاصل کیں خیال رہے کہ گزشتہ روز بلوچستان کے علاقے لسبیلہ میں بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں مصروف پاک فوج کا ہیلی کاپٹر لاپتا ہوگیا تھا جس میں کور کمانڈر سمیت 6 افراد سوار تھے۔12 کور کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی بلوچستان میں سیلاب سے متعلق امدادی کارروائیوں کی نگرانی کر رہے تھے۔ ایمان، تقویٰ اور جہاد فی سبیل اللہ پاک فوج کا نصب العین ہے. اور سب سے بڑھ کر اپنے ملک و قوم کی مشکل حالات میں مدد کر کے انکی زندگیاں بچانا ھےطن کے لئے پاک فوج کی قربانیاں لازوال ہیں, ھماری آزادی شہداء کے خون کی مرہون منت ہے اور یہی شہداء ہمارا سب سے بڑا اثاثہ ہیں۔پاکستان کے قیام اور سلامتی میں پاک فوج کے لاکھوں شہداء کاخون شامل ہے‘ قیام پاکستان سے لے کر آج تک پاک فوج کے افسران و جوان اپنے ملک وقوم کے تحفظ اور بقاء کے لئے قربانیاں دے رہے ہیں۔ پاک فوج نے زمانہ امن ھو یا جنگ اپنی جان کی قربانی دے ثابت کیا ھے کہ ان کے نزدیک شہادت سے بڑھ کر اور کوئی مقصد نہیں . یہ اﷲ تعالیٰ کا کرم ہے کہ ہماری بہادر افواجِ پاکستان نے اپنے جذبہ ایمانی سے ہر محاذ پر دشمن کو عبرت ناک شکست سے دور چار کیا اور ہر چیلنجز کا مردانہ وار مقابلہ کیا ھے اور پاک فوج کو دنیا کی عظیم فوج بنا دیاھے ہمارے پاک فوج کے افسران ہر اول دستے کے طور پر ہر محاذپر جوانوں کے شانہ بشانہ خدمات دیتے نظر آتے ہیں ملک میں حالیہ طوفانی بارشوں سےمتاثرہ افراد کو ریسکیو کیا اور اپنی ضرورت کا دو یوم کا راشن بھی متاثرین کو عطیہ کرکے اصحاب رسول خدا کی یاد تازہ کردی جس سے جذبہ ایمان تازہ ہوگیاھے ان کوششوں میں مصروف پاک فوج کے ہیلی کاپٹر حادثے میں کور کمانڈر 12کور لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی اور ڈی جی کوسٹ گارڈ کے علاوہ 4 دیگر جوان اور افسران بھی شہید ہوگئے، حادثے کا شکار ہونے والا ہیلی کاپٹر ایکریل ہے جو جدید مگر سائز میں چھوٹا ہوتا ہے۔ اس میں ایک وقت میں صرف چھ افراد ہی بیٹھ سکتے ہیں۔ اس سے قبل یہ ہیلی کاپٹر سنہ 2021 میں سیاچن میں بھی گرا تھا۔ یہ حادثہ ٹین این ایل آئی بٹالین ہیڈکوارٹر کے قریب پیش آیا تھا اور جہاز میں سوار دو افسران اور ایک جوان ہلاک ہوئے تھے۔ ہیلی کاپٹر حادثے میں شہید ہونے والے افسران کا مختصر تعارف کچھ یوں ہےشہید لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی ملک و ملت کا اثاثہ تھے انہوں نے پاکستان آرمی کے کلیدی عہدوں پر کام کیا، لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی کا تعلق 79ویں لانگ کورس سے تھا اور وہ پاکستان آرمی کی سکس آزاد کشمیر رجمنٹ کا حصہ تھے۔ جب موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ 10 کور کمانڈ کر رہے تھے، اس وقت لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی کے پاس بطور بریگیڈیئر ٹرپل ون بریگیڈ کی کمان تھی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں انہیں بہترین کارکردگی پر دو مرتبہ تمغہ بسالت سے نوازا گیا۔ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی نے ٹرپل ون بریگیڈ کے کمانڈر کے طور پر بھی فرائض سرانجام دیے۔ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی کی ایک اہم ترین تعیناتی خفیہ ایجنسی ملٹری انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) کے طور پر تھی۔ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی مشکل وقت میں آئی جی ایف سی بلوچستان بھی رہے۔ان کا تعلق لاہور سے تھا، انہوں نے 1989 میں آزاد کشمیر رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا تھا۔ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی نے سوگواران میں بیوہ، ایک بیٹی اور دو بیٹے چھوڑے ہیں۔ .میجر جنرل امجد حنیف: میجر جنرل امجد حنیف کا تعلق آزاد کشمیر کے شہر راولاکوٹ سے تھا اور وہ ڈائریکٹر جنرل کوسٹ گارڈ کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہے تھے۔میجر جنرل امجد حنیف نے 1994 کے دوران آزاد کشمیر رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا تھا۔میجر جنرل امجد حنیف نے سوگواران میں بیوہ، ایک بیٹے اور دو بیٹیوں کو چھوڑا ہے۔بریگیڈیئر محمد خالد: کمانڈر انجینئر 12 کور بریگیڈیئر محمد خالد کا تعلق فیصل آباد سے تھا۔انہوں نے 1994 میں 20 انجینئر بٹالین میں کمیشن حاصل کیا تھا۔بریگیڈیئر محمد خالد کے سوگواران میں بیوہ، تین بیٹیاں اور تین بیٹے شامل ہیں۔میجر سعید: پائلٹ میجر سعید کا تعلق لاڑکانہ سے تھا، انہوں نے بیوہ، ایک بیٹی اور ایک بیٹے کو سوگوار چھوڑا ہے۔میجر طلحہ منان: معاون پائلٹ میجر محمد طلحہ منان نے بیوہ اور دو بیٹوں کو سوگوار چھوڑا ہےچیف نائیک مدثر فیاض: چیف نائیک مدثر فیاض کا تعلق نارووال سے تھا.بلوچستان میں سیلاب زدگان کےلیے ریلیف آپریشن کا جائزہ لینے کے بعد اوتھل سے کراچی آتے ہوئے حادثے کا شکار ہونے والے آرمی ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹرمیں سوار کور کمانڈر کوئٹہ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی سمیت 6 فوجی افسران کی شہادت پر کھلاڑیوں اور شوبز شخصیات نے بھی گہرے دکھ اور افسوس کا اظہا ر کیا ہے۔شوبز شخصیات اور کھلاڑیوں نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہا ر کیا ہے۔پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور سماجی رہنما شاہد آفریدی نےاپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ کیا بشر کی بساط، آج کل نہیں، دو روز پہلے جنرل سرفراز سے بلوچستان میں سیلاب کے بعد امدادی کارروائیوں کے بارے میں بات چیت ہوئی تھی۔شاہد آفریدی نے تمام شہدا کیلیے دعائے مغفرت بھی کی۔اداکارہ حریم فاروق نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ بلوچستان میں سیلاب زدگان کے ریلیف آپریشن کے دوران ہیلی کاپٹر حادثے کیلیے سوگوار خاندانوں کے لیے دعائیں ، کتنی بہادر روحیں لقمہ اجل بنی ہیں، آئیے انہیں اور ان کے کام کو عزت دیں، پاک فوج زندہ باد۔کرکٹر عماد وسیم،اداکار فیصل قریشی اور فیروز خان بھی حادثے میں شہید ہونےو الے افسران اور جوانوں کیلیے تعزیت کا اظہار کیا۔ وطن کے یہ بیٹے قوم کا فخر ہیں، پوری قوم شہدا کے اہل خانہ کے غم میں شریک ہے۔ اللہ شہدا کے درجات بلند کرے اور اہل خانہ کو صبر جمیل اور اجر عظیم عطا فرمائےوطن کے بیٹوں نے اپنی جانیں ہم وطنوں کی زندگیاں بچانے کے لیے وار دیں۔ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی اور ساتھی فرض کی بجا آوری کی روشن مثال بنے۔ قوم پاک فوج کے لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی سمیت 6 افسران کی شہادت پر غم میں ہے۔پاک فوج کے افسران متاثرین کو ریلیف دینے کا فریضہ سر انجام دے رہے تھے۔ ہم اس دھرتی کے فرزندوں کے ہمیشہ مقروض رہیں گے۔بلاشبہ شہید کا رتبہ عظیم تر ہے پاک فوج جاگتی ہے تو پوری قوم چین کی نیند سوتی ہے پاک آرمی کو پوری قوم سلیوٹ کرتی ہے

اے راہِ حق کے شہیدو ، وفا کی تصویرو

تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں

لگانے آگ جو آئے تھے آشیانے کو

وہ شعلے اپنے لہو سے بجھا لیے تم نے

بچا لیا ہے یتیمی سے کتنے پھولوں کو

سہاگ کتنی بہاروں کے رکھ لیے تم نے

تمہیں چمن کی فضائیں سلام کہتی ہیں

اے راہِ حق کے شہیدو

چلے جو ہو گے شہادت کا جام پی کر تم

رسولِ پاک نے بانہوں میں لے لیا ہو گا

علی تمہاری شجاعت پہ جھومتے ہوں گے

حسین پاک نے ارشاد یہ کیا ہو گا

تمہیں خدا کی رضائیں سلام کہتی ہیں

جنابِ فاطمہ جگرِ رسول کے آگے

شہید ہو کے کیا ماں کو سرخرو تم نے

جنابِ حضرتِ زینب گواہی دیتی ہیں

شہیدو رکھی ہے بہنوں کی آبرو تم نے

وطن کی بیٹیاں مائیں سلام کہتی ہیں

اے راہِ حق کے شہیدو ، وفا کی تصویرو

تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں