ہم حرمین شریفین کیے لیے جان قربان کرنےکو تیار
(اصغر علی مبارک)
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی نہیں ہوگا جو حرمین شریفین کیے لیے جان قربان کرنےکو تیار نہ ہو۔ مکہ دفاعی معاہدے کے تحت قائم اسٹریٹجک پولیٹیکل ڈیفنس کمیٹی (ایس پی ڈی سی) کا اجلاس آئندہ ہفتے ریاض میں ہوگا۔نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ نے کہا کہ 6 سے زائد ممالک مکہ مکرمہ ڈیفنس پیکٹ میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ سعودی عرب پر17 سے 18 حملے ہو چکے ہیں، ہم سعودی عرب کے دفاع کے پابند ہیں،۔ اقوام متحدہ کا چارٹربھی اس طرح کےاتحاد کوکارروائی کی اجازت دیتاہے، نیٹو بھی اسی طرز پر کام کر رہی ہے۔31 اگست کو مکہ معاہدے کے تحت اجلاس ہوا تھا جس میں پہلے جنرل سیکرٹری کا فیصلہ ہوا، ہم نےلیفٹننٹ جنرل (ر) نعمان محمود کا نام دیا جو بڑے اچھے اور پرہیزگار افسر ہیں۔اسحاق ڈار نے سعودی عرب پر حوثیوں کی جانب سے بڑھتے ہوئے حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ ایران نے یمن کے حوثیوں کے سعودی عرب پر حملوں کے معاملے پر فوجی کارروائی کے بجائے مسئلہ بات چیت سے حل کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ اس تجویز پر ’مکہ دفاعی اتحاد‘ کے رکن ممالک کی خصوصی کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں غور کیا جائے گا۔اسلام آباد میں جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر پاکستانی وفد کی مصروفیات کے حوالے سے نیوز بریفنگ کے دوران اسحاق ڈار نے بتایا کہ ایران نے حوثیوں اور عراقی ملیشیاؤں کی حالیہ کارروائیوں سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس بحران کا خاتمہ چاہتا ہے۔ اسحاق ڈار نے مزید بتایا کہ انہوں نے تہران کو ’معاہدہ مکہ‘ کی نوعیت سے آگاہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان اس دفاعی معاہدے کے تحت اپنی تمام تر ذمہ داریاں پوری کرے گا۔اسحاق ڈار کا مزید کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے حوثیوں کے ساتھ سیاسی روابط استوار کرنے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ ایران کی جانب سے تحریری یا حتمی پیشکش نہیں تھی بلکہ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان ہونے والی غیر رسمی مشاورت کے دوران سامنے آنے والی ایک تجویز تھی۔نائب وزیراعظم نے کہا کہ مکہ دفاعی اتحاد کا آئندہ ہفتے ہونے والا اجلاس ہنگامی نوعیت کا ہے۔ ان کے مطابق ریاض میں ہونے والے اس اجلاس میں بالخصوص سعودی عرب کے حوالے سے موجودہ صورت حال اور زمینی حقائق کا جائزہ لیا جائے گا اور تینوں رکن ممالک اس حوالے سے اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ کریں گے۔مکہ دفاعی معاہدے میں مزید ممالک کی شمولیت سے متعلق سوال پر اسحاق ڈار نے کہا کہ کم از کم چھ ممالک ایسے ہیں جو اس معاہدے میں شامل ہونے میں دلچسپی رکھتے ہیں، تاہم انہوں نے ان ممالک کے نام ظاہر نہیں کیے۔ان کے مطابق معاہدے کو مکمل طور پر فعال ہونے میں کم از کم ایک سال لگے گا اور اس کے بعد ہی اس میں مزید ممالک کی شمولیت ممکن ہوگی۔
واضح رہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے رواں سال 7 اگست کو ’معاہدہ مکہ‘ پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت کسی بھی ایک ملک پر مسلح حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔اس معاہدے کے تحت 25 ستمبر کو تینوں ممالک کے عسکری سربراہان کا ریاض میں اہم اجلاس ہوا تھا جس میں یمنی حوثیوں کے سعودی عرب پر حملوں کی شدید مذمت کی گئی تھی۔مکہ دفاعی اتحاد کی ’ایس پی ڈی کمیٹی‘ کا پہلا اجلاس 31 اگست کو استنبول میں ہوا تھا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ اس اتحاد کے سیکریٹریٹ کی سربراہی ابتدائی طور پر تین سال کے لیے پاکستان کے پاس ہوگی۔لیفٹیننٹ ریٹائرڈ جنرل نعمان محمود کو اتحاد کا پہلا سیکریٹری جنرل مقرر کیا گیا ہے۔اسحاق ڈار نے بریفنگ کے دوران بتایا کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے پاکستان آنے کی دعوت قبول کرلی ہے اور وہ اپنے عہدے کی مدت (31 دسمبر) مکمل ہونے سے پہلے پاکستان کا دورہ کرسکتے ہیں۔ایران امریکا تنازع کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ایرانی صدرمسعود پزشکیان اور وزیرخارجہ عباس عراقچی دونوں کی خواہش ہے کہ کسی طرح یہ معاملہ ختم ہو، اس میں فریقین کی کوشش ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ حاصل کریں۔اسحاق نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے کہا کہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت کی کوئی فیس یا سروس چارج نہیں ہونا چاہیے۔صومالی قزاقوں کی جانب سے یرغمال بنائے گئے بحری جہاز پر ریسکیو آپریشن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے نائب وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ صومالیہ کےحکام نے بحری قزاقوں سے لڑکر مغویوں کو رہا کروایا، بدقسمتی سے اس واقعے میں 3 پاکستانی بھی جاں بحق ہوئے۔اسحاق ڈار نے کہا کہ 4 زخمی افراد کل کراچی پہنچ جائیں گے، پوری کوشش ہے کہ رفیع اللہ، کاشف عمر اور محمود انصاری کی میتیں دو تین دن میں لے آئیں۔انہوں نے کہا کہ عمران علی، یاسر علی اور یوسف حسین شپ میں موجود ہیں۔افغانستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ہم افغانستان کے لیے نیک خواہشات رکھتے ہیں، ہم افغانستان سے صرف یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ اپنی سرزمین پاکستان کےخلاف استعمال نہ ہونے دیں، انہیں دکھانا ہوگا کہ کالعدم ٹی ٹی پی، کالعدم بی ایل اے اور فتنہ الہندوستان کیخلاف کارروائی کی گئی ہے۔وزیر اعظم شہباز شریف کے دورہ امریکا پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کے دورہ نیویارک میں انتہائی مفید ملاقاتیں ہوئیں، وزیراعظم نے اقوام متحدہ میں اپنی تقریر میں مدلل انداز میں مختلف موضوعات پر بات کی۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے فلسطین سے متعلق مؤقف دو ٹوک انداز میں پیش کیا جبکہ کشمیر کے بارے میں مؤقف کو بھی وزیراعظم نے دلیرانہ انداز میں پیش کیا۔نائب وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی تقریر میں متعدد بار ہال میں تالیاں بجیں، مجھے کسی رہنما کی کوئی ایسی تقریر دکھائی نہیں دی جس میں متعدد بار تالیاں بجی ہوں۔